نیمۂ شعبان کے اعمال
*نیمۂ شعبان کے اعمال*
*یہ بڑی بابرکت رات ہے. امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ امام محمد باقرؑ سے نیمۂ شعبان کی رات کی فضیلت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: یہ رات شب قدر کے علاوہ تمام راتوں سے افضل ہے۔ پس اس رات تقرب الٰہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے۔ اس رات خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر فضل و کرم فرماتا ہے اور ان کے گناہ معاف کرتا ہے۔ حق تعالیٰ نے اپنی ذاتِ مقدس کی قسم کھائی ہے کہ اس رات وہ کسی سائل کو خالی نہ لوٹائے گا سوائے اس کے جو معصیت و نافرمانی سے متعلق سوال کرے۔ خدا نے یہ رات ہمارے لیے خاص کی ہے جیسے شب قدر کو رسول اکرمؐ کے لیے مخصوص فرمایا۔ پس اس شب میں زیادہ سے زیادہ حمد و ثنائے الٰہی کرنا اس سے دعا و مناجات میں مصروف رہنا چاہیئے۔*
اس رات کی عظیم بشارت سلطان عصر حضرت امام مہدی ﴿عج﴾ کی آمد ہے جو ۲۵۵ھ میں بوقت صبح صادق سامرہ میں ہوئی جس سے اس رات کو فضیلت نصیب ہوئی۔
اس رات کے چند ایک اعمال ہیں:
﴿۱﴾ غسل کرنا کہ جس سے گناہ کم ہو جاتے ہیں۔
﴿۲﴾ نماز اور دعا و استغفار کے لیے شب بیداری کرے کہ امام زین العابدینؑ کا فرمان ہے کہ جو شخص اس رات بیدار رہے تو اس کے دل کو اس دن موت نہیں آئے گی جس دن لوگوں کے قلوب مردہ ہو جائیں گے۔
﴿۳﴾ اس رات کا سب سے بہترین عمل امام حسینؑ کی زیارت ہے کہ جس سے گناہ معاف ہوتے ہیں۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی ارواح اس سے مصافحہ کریں تو وہ کبھی اس رات یہ زیارت ترک نہ کرے۔ حضرتؑ کی چھوٹی سے چھوٹی زیارت بھی ہے کہ اپنے گھر کی چھت پر جائے اپنے دائیں بائیں نظر کرے، پھر اپنا سر آسمان کی طرف بلند کر کے یہ کلمات کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا اَبَا عَبْدِ ﷲِ
سلام ہو آپ پر اے ابوعبداؑ للہ
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ وَرَحْمَۃُ ﷲِ وَبَرَكَاتُہٗ
سلام ہو آپ پر اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں
کوئی شخص جہاں بھی اور جب بھی امام حسینؑ کی یہ مختصر زیارت پڑھے تو امید ہے کہ اس کو حج و عمرہ کا ثواب ملے گا۔نیز اس رات کی مخصوص زیارت انشاء اللہ باب زیارات میں آئیگی۔
﴿۴﴾ شیخ و سید نے اس رات یہ دعا پڑھنے کا ذکر فرمایا ہے، جو امام زمانہؑ کی زیارت کے مثل ہے اور وہ یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ بِحَقِّ لَیْلَتِنَا ھٰذِہٖ وَمَوْلُوْدِھَا
اے معبود! واسطہ ہماری اس رات کا اور اس کے مولود کا
وَحُجَّتِكَ وَمَوْعُوْدِھَا
اور تیری حجتؑ اور اس کے موعودؑ کا
الَّتِیْ قَرَنْتَ اِلٰی فَضْلِھَا فَضْلًا
جس کو تو نے فضیلت پر فضیلت عطا کی
فَتَمَّتْ كَلِمَتُكَ صِدْقًا وَعَدْلًا
اور تیرا کلمہ صدق و عدل کے لحاظ سے پورا ہو گیا
لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِكَ وَلَا مُعَقِّبَ لِاٰیَاتِكَ
تیرے کلموں کو بدلنے والا کوئی نہیں اور نہ کوئی تیری آیتوں کا مقابلہ کرنے والا ہے
نُوْرُكَ الْمُتَٲَلِّقُ، وَضِیَاؤُكَ الْمُشْرِقُ
وہ ﴿مہدی موعودؑ ﴾ تیرا نور تاباں اور جھلملاتی روشنی ہے
وَالْعَلَمُ النُّوْرُ فِیْ طَخْیَاءِ الدَّیْجُوْرِ الْغَائِبُ الْمَسْتُوْرُ
وہ نور کا ستون، سیاہ رات کی تاریکی میں پنہاں و پوشیدہ ہے
جَلَّ مَوْلِدُھٗ، وَكَرُمَ مَحْتِدُھٗ
شان والی ہے اس کی ولادت، بلند مرتبہ ہے اس کی اصل
وَالْمَلَائِكَۃُ شُہَّدُھٗ، وَﷲُ نَاصِرُھٗ وَمُؤَیِّدُھٗ
فرشتے اس کے گواہ ہیں اور اللہ اس کا مددگار و حامی ہے
اِذَا اٰنَ مِیْعَادُھٗ وَالْمَلَائِكَۃُ ٲَمْدَادُھٗ
جب اس کے وعدے کا وقت آئے گا اور فرشتے اس کے معاون ہیں
سَیْفُ ﷲِ الَّذِیْ لَا یَنْبُوْ
وہ خدا کی تلوار ہے جو کند نہیں ہوتی
وَنُوْرُھُ الَّذِیْ لَا یَخْبُوْ
اور اس کا ایسا نور ہے جو ماند نہیں پڑتا
وَذُو الْحِلْمِ الَّذِیْ لَا یَصْبُوْ
وہ ایسا بردبار ہے جو حد سے نہیں نکلتا
مَدَارُ الدَّھْرِ، وَنَوَامِیْسُ الْعَصْرِ، وَوُلَاۃُ الْاَمْرِ
وہ ہر زمانے کا سہارا ہے، یہ معصومینؑ ہر عہد کی عزت اور والیان امر ہیں
وَالْمُنَزَّلُ عَلَیْھِمْ مَا یَتَنَزَّلُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ
جو کچھ شبِ قدر میں نازل کیا جاتا ہے انہی پر نازل ہوتا ہے
وَٲَصْحَابُ الْحَشْرِ وَالنَّشْرِ
وہی حشر و نشر میں ساتھ دینے والے
تَرَاجِمَۃُ وَحْیِہٖ، وَوُلَاۃُ ٲَمْرِھٖ وَنَھْیِہٖ ۔
اس کی وحی کے ترجمان اور اس کے امر و نہی کے نگران ہیں
اَللّٰھُمَّ فَصَلِّ عَلٰی خَاتِمِھِمْ وَقَائِمِھِمُ
اے معبود! پس ان کے خاتم اور ان کے قائم پر رحمت فرما
الْمَسْتُوْرِ عَنْ عَوَالِمِھِمْ ۔
جو اس کائنات سے پوشیدہ ہیں
اَللّٰھُمَّ وَٲَدْرِكْ بِنَا ٲَیَّامَہٗ وَظُھُوْرَھٗ وَقِیَامَہٗ
اے معبود! ہمیں اس کا زمانۂ اس کا ظہور اور قیام دیکھنا نصیب فرما
وَاجْعَلْنَا مِنْ ٲَنْصَارِھٖ
اور ہمیں اس کے مددگاروں میں قرار دے
وَاقْرِنْ ثٲْرَنَا بِثَٲْرِھٖ
ہمارا اور اس کا انتقام ایک کر دے
وَاكْتُبْنَا فِیْ ٲَعْوَانِہٖ وَخُلَصَائِہٖ
اور ہمیں اس کے مددگاروں اور مخلصوں میں لکھ دے
وَٲَحْیِنَا فِیْ دَوْلَتِہٖ نَاعِمِیْنَ
ہمیں اس کی حکومت میں زندگی کی نعمت عطا کر
وَبِصُحْبَتِہٖ غَانِمِیْنَ، وَبِحَقِّہٖ قَائِمِیْنَ
اور اس کی صحبت سے بہرہ یاب فرما اس کے حق میں قیام کرنے والے
وَمِنَ السُّوْءِ سَالِمِیْنَ، یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ
اور برائی سے محفوظ رہنے کی توفیق دے، اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ
اور حمد اللہ ہی کیلئے ہے جو جہانوں کا پروردگار ہے
وَصَلَوَاتُہٗ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ وَالْمُرْسَلِیْنَ
اور اس کی رحمتیں ہوں ہمارے سردار محمدؐ پر جو نبیوں اور رسولوں کے خاتم ہیں
وَعَلٰی ٲَھْلِ بَیْتِہِ الصَّادِقِیْنَ، وَعِتْرَتِہِ النَّاطِقِیْنَ
اور ان کے اہل پر جو ہر حال میں سچ بولنے والے ہیں اور ان کے اہل خاندان پر جو حق کے ترجمان ہیں
وَالْعَنْ جَمِیْعَ الظَّالِمِیْنَ
اور لعنت کر تمام ظلم کرنے والوں پر
وَاحْكُمْ بَیْنَنَا وَبَیْنَھُمْ یَا ٲَحْكَمَ الْحَاكِمِیْنَ ۔
اور فیصلہ کر ہمارے اور ان کے درمیان اے سب سے بڑھ کر فیصلہ کرنے والے۔
﴿۵﴾ شیخ نے اسماعیل بن فضل ہاشمی سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: امام جعفر صادقؑ نے پندرہ شعبان کی رات کو پڑھنے کیلئے مجھے یہ دعا تعلیم فرمائی:
اَللّٰھُمَّ ٲَنْتَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ
اے معبود! تو زندہ و پائندہ،
الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ الْخَالِقُ الرَّازِقُ
بلند تر، بزرگ تر، خلق کرنے والا، رزق دینے والا،
الْمُحْیِی الْمُمِیْتُ الْبَدِیْءُ الْبَدِیْعُ
زندہ کرنے والا، موت دینے والا، آغاز کرنے اور ایجاد کرنے والا ہے
لَكَ الْجَلَالُ وَلَكَ الْفَضْلُ
تیرے لیے جلالت اور تیرے ہی لیے بزرگی ہے
وَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الْمَنُّ
تیری ہی حمد ہے اور تو ہی احسان کرتا ہے
وَلَكَ الْجُوْدُ وَلَكَ الْكَرَمُ
اور تو ہی سخاوت والا ہے تو ہی صاحب کرم
وَلَكَ الْاَمْرُ وَلَكَ الْمَجْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ
اور تو ہی امر کا مالک ہے تو ہی شان والا اور تو ہی لائق شکر ہے
وَحْدَكَ لَا شَرِیْكَ لَكَ
تو یکتا ہے تیرا کوئی شریک نہیں ہے
یَا وَاحِدُ یَا ٲَحَدُ یَا صَمَدُ
اے یکتا، اے یگانہ، اے بے نیاز،
یَا مَنْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ
اے وہ جس نے نہ کسی کو جنا اور نہ وہ جنا گیا
وَلَمْ یَكُنْ لَہٗ كُفُوًا ٲَحَدٌ
اور نہ کوئی اس کا ہمسر ہو سکتا ہے
صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ
حضرت محمدؐ اور آل محمدؐ پر رحمت فرما
وَاغْفِرْ لِیْ وَارْحَمْنِیْ وَاكْفِنِیْ مَا ٲَھَمَّنِیْ
اور مجھے بخش دے مجھ پر رحمت فرما کٹھن کاموں میں میری کفایت فرما
وَاقْضِ دَیْنِیْ، وَوَسِّعْ عَلَیَّ فِیْ رِزْقِیْ
میرا قرض ادا کر دے میرے رزق میں کشائش فرما
فَاِنَّكَ فِیْ ہٰذِھِ اللَّیْلَۃِ كُلَّ ٲَمْرٍ حَكِیْمٍ تَفْرُقُ
کہ تو اسی رات میں ہر حکمت والے کام کی تدبیر کرتا ہے
وَمَنْ تَشَاءُ مِنْ خَلْقِكَ تَرْزُقُ
اور اپنی مخلوق میں سے جسے چاہے رزق و روزی دیتا ہے
فَارْزُقْنِیْ وَٲَنْتَ خَیْرُ الرَّازِقِیْنَ
پس مجھے بھی رزق دے کیونکہ تو ہی سب سے بہتر رزق دینے والا ہے
فَاِنَّكَ قُلْتَ وَٲَنْتَ خَیْرُ الْقَائِلِیْنَ النَّاطِقِیْنَ
یقیناً یہ تیرا ہی فرمان ہے اور تو بہتر ہے سب کہنے والوں بولنے والوں میں
وَاسْٲَلُوا ﷲَ مِنْ فَضْلِہٖ
کہ مانگو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل میں سے
فَمِنْ فَضْلِكَ ٲَسْٲَلُ وَاِیَّاكَ قَصَدْتُ
پس میں تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں اور بس تیرا ہی ارادہ رکھتا ہوں
وَابْنَ نَبِیِّكَ اعْتَمَدْتُ، وَلَكَ رَجَوْتُ
تیرے نبیؐ کے فرزند کو اپنا سہارا بناتا ہوں اور تجھی سے امید رکھتا ہوں
فَارْحَمْنِیْ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔
پس مجھ پر رحم فرما اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
﴿۶﴾ یہ دعا پڑھے کہ رسول اکرم اس رات یہ دعا پڑھتے تھے۔
اَللّٰھُمَّ اقْسِمْ لَنَا مِنْ خَشْیَتِكَ
اے معبود! ہمیں اپنے خوف کا اتنا حصہ دے
مَا یَحُوْلُ بَیْنَنَا وَبَیْنَ مَعْصِیَتِكَ
جو ہمارے اور ہماری طرف سے تیری نافرمانی کے درمیان رکاوٹ بن جائے
وَمِنْ طَاعَتِكَ مَا تُبَلِّغُنَا بِہٖ رِضْوَانَكَ
اور فرمانبرداری سے اتنا حصہ دے کہ اس سے ہم تیری خوشنودی حاصل کر سکیں
وَمِنَ الْیَقِیْنِ مَا یَھُوْنُ عَلَیْنَا بِہٖ مُصِیْبَاتُ الدُّنْیَا ۔
اور اتنا یقین عطا کر کہ جس کی بدولت دنیا کی تکلیفیں ہمیں سبک معلوم ہوں
اَللّٰھُمَّ ٲَمْتِعْنَا بِٲَسْمَاعِنَا وَٲَبْصَارِنَا وَقُوَّتِنَا مَا ٲَحْیَیْتَنَا
اے معبود! جب تک تو ہمیں زندہ رکھے ہمیں ہمارے کانوں، آنکھوں اور قوت سے مستفید فرما
وَاجْعَلْہُ الْوَارِثَ مِنَّا
اور اس قائمؑ کو ہمارا وارث بنا
وَاجْعَلْ ثَٲْرَنَا عَلٰی مَنْ ظَلَمَنَا
اور ان سے بدلہ لینے والا قرار دے جنہوں نے ہم پر ظلم کیا
وَانْصُرْنَا عَلٰی مَنْ عَادَانَا
ہمارے دشمنوں کے خلاف ہماری مدد فرما
وَلَا تَجْعَلْ مُصِیْبَتَنَا فِیْ دِیْنِنَا
اور ہمارے دین میں ہمارے لیے کوئی مصیبت نہ لا
وَلَا تَجْعَلِ الدُّنْیَا ٲَكْبَرَ ھَمِّنَا وَلَا مَبْلَغَ عِلْمِنَا
اور ہماری ہمت اور ہمارے علم کے لیے دنیا کو بڑا مقصد قرار نہ دے
وَلَا تُسَلِّطْ عَلَیْنَا مَنْ لَا یَرْحَمُنَا
اور ہم پر اس شخص کو غالب نہ کر جو ہم پر رحم نہ کرے
بِرَحْمَتِكَ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ
واسطہ تیری رحمت کا اے سب سے زیادہ رحم والے۔
یہ دعا جامع و کامل ہے، پس اسے دیگر اوقات میں بھی پڑھیں، جیسا کہ عوالی اللئالی میں مذکور ہے کہ رسولؐ اللہ یہ دعا ہمیشہ پڑھا کرتے تھے۔
﴿۷﴾ وہ صلوٰت پڑھے جو ہر روز بوقت زوال پڑھا جاتا ہے۔
﴿۸﴾ اس رات دعائے کمیل پڑھنے کی بھی روایت ہوئی ہے اور یہ دعا باب اول میں ذکر ہوچکی ہے۔
﴿۹﴾ یہ تسبیحات سو مرتبہ پڑھے تا کہ حق تعالیٰ اس کے پچھلے گناہ معاف کر دے اور دنیا و آخرت کی حاجات پوری فرما دے:
سُبْحَانَ ﷲِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَﷲُ اَكْبَرُ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا ﷲ
اللہ پاک تر ہے، اور حمد اللہ ہی کی ہے، اللہ بزرگ تر ہے، اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
﴿۱۰﴾ مصباح میں شیخ نے ابو یحییٰ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے شعبان کی پندرھویں رات کی فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے امام جعفر صادقؑ سے پوچھا کہ اس رات کیلئے بہترین دعا کون سی ہے؟ حضرت نے فرمایا اس رات نمازِعشا کے بعد دو رکعت نماز پڑھے جس کی پہلی رکعت میں سورۂ الحمد اور سورۂ کافرون اور دوسری رکعت میں سورۂ الحمد اور سورۂ توحید پڑھے۔ نماز کا سلام دینے کے بعد 33 مرتبہ سبحان اللہ، 33 مرتبہ الحمد للہ اور 34 مرتبہ اللہ اکبر کہے۔ بعد میں یہ دعا پڑھے:
یَا مَنْ اِلَیْہِ مَلْجَٲُ الْعِبَادِ فِی الْمُھِمَّاتِ
اے وہ جو مشکل کاموں میں بندوں کی پناہ گاہ ہے
وَاِلَیْہِ یَفْزَعُ الْخَلْقُ فِی الْمُلِمّاتِ
اور جس کی طرف لوگ ہر مصیبت کے وقت فریادی ہوتے ہیں
یَا عَالِمَ الْجَھْرِ وَالْخَفِیّاتِ
اے سب چھپی اور کھلی چیزوں کے جاننے والے
یَا مَنْ لَا تَخْفٰی عَلَیْہِ خَوَاطِرُ الْاَوْھَامِ وَتَصَرُّفُ الْخَطَرَاتِ
اے وہ جس پر لوگوں کے وہم و خیال اور دلوں میں گردش کرنے والے اندیشے بھی پوشیدہ نہیں
یَا رَبَّ الْخَلَائِقِ وَالْبَرِیَّاتِ
اے مخلوقات و موجودات کے پروردگار
یَا مَنْ بِیَدِھٖ مَلَكُوْتُ الْاَرَضِیْنَ وَالسَّمَاوَاتِ
اے وہ ذات کہ زمینوں اور آسمانوں کی حکمرانی جس کے قبضۂ قدرت میں ہے
ٲَنْتَ ﷲُ لَا اِلٰہَ اِلَّا ٲَنْتَ
تو ہی معبود ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں
ٲَمُتُّ اِلَیْكَ بِلَا اِلٰہَ اِلَّا ٲَنْتَ
میں تیری طرف متوجہ ہوں اس لیے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں
فَیَا لَا اِلٰہَ اِلَّا ٲَنْتَ
پس اے ﴿اللہ﴾ تیرے سوا کوئی معبود نہیں
اجْعَلْنِیْ فِیْ ہٰذِھِ اللَّیْلَۃِ
اس رات میں مجھے ان لوگوں میں قرار دے
مِمَّنْ نَظَرْتَ اِلَیْہِ فَرَحِمْتَہٗ
جن پر تو نے نظر کرم فرمائی تو نے ان پر مہربانی کی
وَسَمِعْتَ دُعَائَہٗ فَٲَجَبْتَہٗ
ان کی دعا سنی تو نے اور اسے شرف قبولیت بخشا
وَعَلِمْتَ اسْتِقَالَتَہٗ فَٲَقَلْتَہٗ
تو ان کی پشیمانی سے آگاہ ہوا تو انہیں معاف کر دیا
وَتَجَاوَزْتَ عَنْ سَالِفِ خَطِیْئَتِہٖ وَعَظِیْمِ جَرِیْرَتِہٖ
اور ان کے سب پچھلے گناہوں اور بڑے بڑے جرائم پر عفو ودرگذر سے کام لیا
فَقَدِ اسْتَجَرْتُ بِكَ مِنْ ذُنُوْبِیْ
پس میں اپنے گناہوں سے تیری پناہ کا طالب ہوں
وَلَجَٲْتُ اِلَیْكَ فِیْ سَتْرِ عُیُوْبِیْ۔
اور اپنے عیبوں کی پردہ پوشی کے لیے تجھ سے التجا کرتا ہوں
اَللّٰھُمَّ فَجُدْ عَلَیَّ بِكَرَمِكَ وَفَضلِكَ
اے معبود! مجھ پر اپنے فضل و کرم سے عطا و بخشش فرما
وَاحْطُطْ خَطَایَایَ بِحِلْمِكَ وَعَفْوِكَ
اور اپنی نرم خوئی اور درگزر کے ذریعے میری خطائیں بخش دے
وَتَغَمَّدْنِیْ فِیْ ہٰذِھِ اللَّیْلَۃِ بِسَابِغِ كَرَامَتِكَ
اس رات میں مجھ کو اپنے انتہائی کرم کے سائے تلے لے لے
وَاجْعَلْنِیْ فِیْہَا مِنْ ٲَوْلِیَائِكَ
اور اس شب میں مجھے اپنے ان پیاروں میں قرار دے
الَّذِیْنَ اجْتَبَیْتَھُمْ لِطَاعَتِكَ، وَاخْتَرْتَھُمْ لِعِبَادَتِكَ
جن کو تو نے اپنی فرمانبرداری کیلئے پسند کیا اپنی عبادت کے لیے چنا
وَجَعَلْتَھُمْ خَالِصَتَكَ وَصِفْوَتَكَ ۔
اور ان کو اپنے خاص الخاص اور برگزیدہ بنایا ہے
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِمَّنْ سَعَدَ جَدُّھٗ
اے معبود! مجھے ان لوگوں میں قرار دے جن کا نصیب اچھا
وَتَوَفَّرَ مِنَ الْخَیْرَاتِ حَظُّہٗ
اور نیک کاموں میں جن کا حصہ زیادہ ہے
وَاجْعَلْنِیْ مِمَّنْ سَلِمَ فَنَعِمَ، وَفَازَ فَغَنِمَ
اور مجھے ان لوگوں میں رکھ جو تندرست، نعمت یافتہ، کامران اور فائدہ پانے والے ہیں
وَاكْفِنِیْ شَرَّ مَا ٲَسْلَفْتُ
اور جو کچھ میں نے کیا اس کے شر سے بچا
وَاعْصِمْنِیْ مِنَ الْاِزْدِیَادِ فِیْ مَعْصِیَتِكَ
مجھے اپنی نافرمانی میں بڑھ جانے سے محفوظ رکھ
وَحَبِّبْ اِلَیَّ طَاعَتَكَ
مجھے اپنی فرمانبرداری کا شوق دے
وَمَا یُقَرِّبُنِیْ مِنْكَ وَیُزْلِفُنِیْ عِنْدَكَ ۔
اور اس کا جو مجھے تیرے قریب کرے اور مجھے تیرا پسندیدہ بنائے
سَیِّدِیْ اِلَیْكَ یَلْجَٲُ الْہَارِبُ
میرے سردار، بھاگنے والا تیرے ہاں پناہ لیتا ہے
وَمِنْكَ یَلْتَمِسُ الطَّالِبُ
طلبگار تیرے حضور عرض کرتا ہے
وَعَلٰی كَرَمِكَ یُعَوِّلُ الْمُسْتَقِیْلُ التَّائِبُ
اور پشیمان ہونے اور توبہ کرنے والا تیرے فضل و کرم پر بھروسہ کرتا ہے
ٲَدَّبْتَ عِبَادَكَ بِالتَّكَرُّمِ، وَٲَنْتَ ٲَكْرَمُ الْاَكْرَمِیْنَ
تو اپنی کریمی و مہربانی سے بندوں کی پرورش کرتا ہے اور تو سب سے زیادہ کرم کرنے والا ہے
وَٲَمَرْتَ بِالْعَفْوِ عِبَادَكَ وَٲَنْتَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ ۔
تو نے اپنے بندوں کو معاف کرنے کا حکم دیا اور تو بہت بخشنے والا رحم کرنے والا ہے
اَللّٰھُمَّ فَلَا تَحْرِمْنِیْ مَا رَجَوْتُ مِنْ كَرَمِكَ
اے معبود! پس میں نے تیرے کرم کی جو امید لگا رکھی ہے اس سے محروم نہ کر
وَلَا تُؤْیِسْنِیْ مِنْ سَابِغِ نِعَمِكَ
مجھے اپنی کثیر نعمتوں سے ناامید نہ ہونے دے
وَلَا تُخَیِّبْنِیْ مِنْ جَزِیْلِ قِسَمِكَ
اور اس بیشتر عطا سے محروم نہ کر
فِیْ ھٰذِہِ اللَّیْلَۃِ لِاَھْلِ طَاعَتِكَ
جو آج کی رات تو نے اپنے فرمانبرداروں کیلئے مقرر کی ہوئی ہے
وَاجْعَلْنِیْ فِیْ جُنَّۃٍ مِنْ شِرَارِ بَرِیَّتِكَ
اور مجھے اپنی مخلوق کی اذیتوں سے امان میں قرار رکھ
رَبِّ اِنْ لَمْ ٲَكُنْ مِنْ ٲَھْلِ ذٰلِكَ
میرے پروردگار! اگر میں اس سلوک کے لائق نہیں
فَٲَنْتَ ٲَھْلُ الْكَرَمِ وَالْعَفْوِ وَالْمَغْفِرَۃِ
پس تو مہربانی کرنے، معافی دینے اور بخش دینے کا اہل ہے
وَجُدْ عَلَیَّ بِمَا ٲَنْتَ ٲَھْلُہٗ لَا بِمَا ٲَسْتَحِقُّہٗ
اور مجھ پر ایسی بخشش فرما جو تیرے لائق ہے نہ وہ کہ جس کامیں حقدار ہوں
فَقَدْ حَسُنَ ظَنِّیْ بِكَ، وَتَحَقَّقَ رَجَائِیْ لَكَ
پس میں تجھ سے اچھا گمان رکھتا ہوں میری امید تجھی سے لگی ہوئی ہے
وَعَلِقَتْ نَفْسِیْ بِكَرَمِكَ
اور میرا نفس تیرے کرم سے تعلق جوڑے ہوئے ہے
فَٲَنْتَ ٲَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ وَٲَكْرَمُ الْاَكْرَمِیْنَ
جبکہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا اور سب سے بڑھ کر مہربانی کرنے والا ہے
اَللّٰھُمَّ وَاخْصُصْنِیْ مِنْ كَرَمِكَ بِجَزِیْلِ قِسَمِكَ
اے معبود! مجھے اپنی مہربانی و بخشش سے زیادہ حصہ دینے میں خصوصیت عطا فرما
وَٲَعُوْذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوْبَتِكَ
اور میں تیرے عذاب سے، تیرے عفو کی پناہ لیتا ہوں
وَاغْفِرْلِیَ الذَّنْبَ الَّذِیْ یَحْبِسُ عَلَیَّ الْخُلُقَ
میرا وہ گناہ بخش دے کہ جس نے مجھ کو بدخلقی میں پھنسا دیا
وَیُضَیِّقُ عَلَیَّ الرِّزْقَ
اور میری روزی میں تنگی کا باعث ہے
حَتّٰی ٲَقُوْمَ بِصَالِحِ رِضَاكَ
تاکہ میں تیری بہترین رضا حاصل کر سکوں
وَٲَنْعَمَ بِجَزِیْلِ عَطَائِكَ
تو اپنی مہربانی سے مجھے نعمتیں عنایت فرما
وَٲَسْعَدَ بِسَابِغِ نَعْمَائِكَ
اور اپنی کثیر نعمتوں سے مجھے بہرہ مند کر دے
فَقَدْ لُذْتُ بِحَرَمِكَ وَتَعَرَّضْتُ لِكَرَمِكَ
کیونکہ میں نے تیرے آستان پر پناہ لی اور تیری بخشش کی امید لگائے ہوں
وَاسْتَعَذْتُ بِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوْبَتِكَ
اور میں تیرے عذاب سے عفو کی پناہ لیتا ہوں
وَبِحِلْمِكَ مِنْ غَضَبِكَ
اور تیرے غضب سے تیری نرم خوئی کی پناہ لیتا ہوں
فَجُدْ بِمَا سَٲَلْتُكَ، وَٲَنِلْ مَا الْتَمَسْتُ مِنْكَ
پس مجھے وہ دے جس کا میں نے تجھ سے سوال کیا ہے، اس میں کامیاب کر جس کی تجھ سے خواہش کی ہے
ٲَسْٲَلُكَ بِكَ لَا بِشَیْءٍ ھُوَ ٲَعْظَمُ مِنْكَ
میں تجھ سے تیرے ہی ذریعے سوال کرتا ہوں کہ تجھ سے بزرگ تر کوئی چیز نہیں ہے۔
پھر سجدے میں جا کر بیس مرتبے کہے:
یَا رَبِّ
اے پروردگار
سات مرتبہ:
یَا اَللّٰه
اے معبود
سات مرتبہ:
لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰهِ
نہیں کوئی طاقت و قوت مگر وہ جو اللہ سے ہے
دس مرتبہ
مَا شَاءَ ﷲ
جو کچھ خدا چاہے
اور دس مرتبہ کہے:
لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰهِ
نہیں کوئی قوت مگر خدا کی
پھر رسول اللہ اور ان کی آل پر درود بھیجے اور بعد میں اپنی حاجات طلب کرے۔ قسم بخدا اگر کسی کی حاجات بارش کے قطروں جتنی ہوں تو بھی حق تعالیٰ اپنے وسیع فضل و کرم اور اس عمل کی برکت سے وہ تمام حاجات برلائے گا۔
﴿۱۱﴾ شیخ طوسی اور کفعمی نے فرمایا ہے کہ اس رات یہ دعا پڑھے:
اِلٰھِیْ تَعَرَّضَ لَكَ فِیْ ہٰذَا اللَّیْلِ الْمُتَعَرِّضُوْنَ
میرے معبود! طلب کرنے والوں نے آج رات خود کو تیرے ہی سامنے پیش کیا ہے
وَقَصَدَكَ الْقَاصِدُوْنَ
ارادہ کرنے والوں نے تیری ہی بارگاہ کا ارادہ کیا ہے
وَٲَمَّلَ فَضْلَكَ وَمَعْرُوْفَكَ الطّالِبُوْنَ
اور حاجتمندوں نے تیری ہی فضل و احسان سے امید باندھی ہوئی ہے
وَلَكَ فِیْ ہٰذَا اللَّیْلِ نَفَحَاتٌ وَجَوَائِزُ وَعَطَایَا وَمَوَاھِبُ
آج کی رات تیری مہربانیاں، تیری بخشش، تیری عطائیں اور تیرے ہی انعام ہیں
تَمُنُّ بِہَا عَلٰی مَنْ تَشَاءُ مِنْ عِبَادِكَ
کہ تو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے ان سے احسان فرمائے
وَتَمْنَعُہَا مَنْ لَمْ تَسْبِقْ لَہُ الْعِنَایَۃُ مِنْكَ
اور جس پر تیری توجہ اور عنایت نہ ہوئی ہو اس سے روک لے
وَھَا ٲَنَا ذَا عُبَیْدُكَ الْفَقِیْرُ اِلَیْكَ
اور یہ میں ہوں تیرا حقیر بندہ کہ تیرا محتاج ہوں
الْمُؤَمِّلُ فَضْلَكَ وَمَعْرُوْفَكَ
اور تیرے فضل و احسان کا امید وار ہوں
فَاِنْ كُنْتَ یَا مَوْلَایَ تَفَضَّلْتَ فِیْ ھٰذِھِ اللَّیْلَۃِ
پس اے میرے مولا! اگر آج کی رات میں تو فضل و کرم کرے
عَلٰی ٲَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ
اپنی مخلوق میں کسی پر
*وَعُدْتَ عَلَیْہِ بِعَائِدَۃٍ مِنْ عَطْفِكَ*
اور اس کو انعام عطا فرمائے اور وہ انعام عطا فرمائے جو تیری مہربانی کے ساتھ ہو
*فَصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ*
تو محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
*الطَّیِّبِیْنَ الطَّاھِرِیْنَ الْخَیِّرِیْنَ الْفَاضِلِیْنَ*
جو پاکیزہ ہیں، نیکوکار ہیں اور با فضیلت ہیں
*وَجُدْ عَلَیَّ بِطَوْ لِكَ وَمَعْرُوْفِكَ یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ*
اور اپنے فضل اور احسان سے مجھ پر بخشش کر اے جہانوں کے پالنے والے
*وَصَلَّی ﷲُ عَلٰی مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ*
اور محمدؐ پر اللہ کی رحمت ہو جو نبیوں میں آخری نبیؐ ہیں
*وَاٰلِہِ الطَّاھِرِیْنَ وَسَلَّمَ تَسْلِیْمًا*
اور ان کی آلؑ پر جو پاکیزہ ہیں اور سلام ہو بہت سلام
*اِنَّ ﷲَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ* ۔
بے شک اللہ خوبی والا اور شان والا ہے
*اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ٲَدْعُوْكَ كَمَا ٲَمَرْتَ*
اے معبود! میں تجھ سے دعا کرتا ہوں جیسے تو نے حکم دیا
*فَاسْتَجِبْ لِیْ كَمَا وَعَدْتَ*
تو اپنے وعدے کے مطابق اسے قبول فرما
*اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ* ۔
کیونکہ تو اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
یہ وہ دعا ہے جو نماز شفع کے بعد بھی پڑھی جاتی ہے۔
﴿۱۲﴾ *اس رات نماز تہجد کی ہر دو رکعت کے بعد اور نماز شفع* اور وتر کے بعد وہ دعا پڑھے کہ جو شیخ و سید نے نقل فرمائی ہے۔
﴿۱۳﴾ *سجدے اور دعائیں جو رسول اللہ سے مروی ہیں* وہ بجا لائے ؛ حضورؐ سجدے میں یہ دعا پڑھا کرتے تھے ہیں۔
*سَجَدَ لَكَ سَوَادِیْ وَخَیَالِیْ، وَاٰمَنَ بِكَ فُؤَادِیْ*
سجدہ کیا تیرے آگے میرے بدن اور میرے خیال نے اور ایمان لایا ہے تجھ پر میرا دل
*ہٰذِھِ یَدَایَ وَمَا جَنَیْتُہٗ عَلٰی نَفْسِیْ*
یہ ہیں میرے دونوں ہاتھ اور جو ستم میں نے خود پر کیا ہے
*یَا عَظِیْمُ تُرْجٰی لِكُلِّ عَظِیْمٍ*
اے بڑائی والے جس سے امید ہے بڑے کام کی
*اغْفِرْ لِیَ الْعَظِیْمَ*
تو میرے بڑے بڑے گناہ بخش دے
*فَاِنَّہٗ لَا یَغْفِرُ الذَّنْبَ الْعَظِیْمَ اِلَّا الرَّبُّ الْعَظِیْمُ* ۔
کیونکہ بڑے گناہوں کو سوائے بڑائی والے پروردگار کے کوئی بخش نہیں سکتا۔
پھر آنحضرت سجدے سے سر اٹھا کر دوبارہ سجدے میں گئے اور کہا:
ٲَعُوْذُ بِنُوْرِ وَجْھِكَ
پناہ لیتا ہوں میں تیرے نورِ ذات کی
*الَّذِیْ ٲَضَائَتْ لَہُ السَّمَاوَاتُ وَالْاَرَضُوْنَ*
جس سے آسمانوں اور زمینوں نے روشنی حاصل کی
*وَانْكَشَفَتْ لَہُ الظُّلُمَاتُ*
اور جس سے تاریکیاں چھٹ گئیں
*وَصَلَحَ عَلَیْہِ ٲَمْرُ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ*
اور اس کی بدولت اولین اور آخرین کا کام بن گیا
*مِنْ فُجْٲَۃِ نَقِمَتِكَ، وَمِنْ تَحْوِیْلِ عَافِیَتِكَ*
کہ وہ تیرے ناگہانی عذاب سے امن کے چھن جانے
*وَمِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ* ۔
اور تیری نعمتوں کے زائل ہو جانے کی سختیوں سے بچ گئے
*اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِیْ قَلْبًا تَقِیًّا نَقِیًّا*
اے معبود!مجھے پاک اور پرہیزگار دل دے
*وَمِنَ الشِّرْكِ بَرِیْئًا لَا كَافِرًا وَلَا شَقِیًّا*
کہ جو شرک سے پاک ہو اور نہ حق سے انکاری ہو نہ بے رحم ہو۔
پس آپ نے اپنے چہرے کو دونوں طرف سے خاک پر رکھا اور یہ پڑھا:
*عَفَّرْتُ وَجْھِیْ فِیْ التُّرَابِ*
میں نے اپنے چہرے کو خاک پر رکھا ہے
*وَحُقَّ لِّیْٓ اَنْ اَسْجُدَ لَكَ*
اور میرے لیے ضروری ہے کہ تیرے آگے سجدہ کروں
جونہی رسول اکرم اٹھے تو بی بی عائشہ آپؐ کو پہچان کر جھٹ سے اپنے بستر پر آلیٹیں۔ جب آنحضرتؐ اپنے بستر پر آئے تو آپؐ نے دیکھا کہ ان بی بی کا سانس تیز تیز چل رہاہے، اس پر آپؐ نے فرمایا: تمہارا سانس کیوں اکھڑا ہوا ہے؟ آیا تمہیں نہیں معلوم کہ آج کون سی رات ہے؟ یہ پندرہ شعبان کی رات ہے۔ اس میں روزی تقسیم ہوتی ہے، زندگی کی میعاد مقرر ہوتی ہے، حج پر جانے والوں کے نام لکھے جاتے ہیں، قبیلہ بنی کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ تعداد میں گناہگار افراد بخشے جاتے ہیں اور ملائکہ آسمان سے زمین مکہ پر نازل ہوتے ہیں۔
﴿۱۴﴾ *اس رات نماز جعفر طیارؑ بجا لائے، جو شیخ نے امام علی رضاؑ* سے روایت کی ہے۔
نماز حضرت جعفر طیارؑ
یہ نماز اکسیر اعظم اور کبریت احمر ہے اور بہت معتبر اسناد اور بڑی فضیلت کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ اس کا خاص فائدہ یہ ہے کہ اس کے بجا لانے سے بڑے بڑے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ اس کا افضل وقت روز جمعہ کا پہلہ حصّہ ہے۔ یہ چار رکعت نماز ہے جو دو دو کر کے پڑھی جاتی ہے۔ پہلی رکعت میں سُورۂ حمد کے بعد سُورۂ زلزال، دوسری رکعت میں سُورۂ حمدکے بعد سُورۂ عادیات، تیسری رکعت میں حمد کے بعد سُورۂ نصر اور چو تھی رکعت میں حمد کے بعد سُورۂ توحید پڑھیں۔ نیز ہر رکعت میں سورتیں پڑھنے کے بعد پندرہ مرتبہ کہیں
سُبْحَانَ ﷲِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا ﷲُ وَﷲُ اَكْبَرُ
خدا پاک ہے اور حمد اسی کیلئے ہے اور خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور خدا بزرگ تر ہے
یہی تسبیحات ہر رکوع، رکوع سے سر اُٹھانے کے بعد، پہلے سجدے میں، سجدے سے سر اُٹھانے کے بعد، دوسرے سجدے میں اور سجدے سے سر اُٹھا نے کے بعد اٹھنے سے پہلے دس دس مرتبہ پڑھیں۔ جب چاروں رکعتوں میں یہ عمل بجا لا ئیں تو یہ کل تین سو تسبیحات ہو جائیں گی۔
شیخ کلینیؒ نے ابو سعید مدائنی سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادقؑ نے مجھے فرمایا: کیا تمہیں ایسی چیز تعلیم نہ کروں جسے تم نمازِ جعفر طیار میں پڑھا کرو۔ میں نے عرض کی ہاں ضرور تعلیم فرمائیں۔ تب آپ نے فرما یا کہ ان چار رکعتوں کے آخری سجدے میں تسبیحات اربعہ کے بعد یہ دعا پڑھو:
سُبْحَانَ مَنْ لَبِسَ الْعِزَّ وَالْوَقَارَ
پاک ہے وہ جس نے عزت و وقار کا لباس پہنا ہوا ہے
سُبْحَانَ مَنْ تَعَطَّفَ بِالْمَجْدِ وَتَكَرَّمَ بِہٖ
پاک ہے وہ جو بزرگی پر ناز کرتا ہے اور بزرگی ظاہر فرماتا ہے
سُبْحَانَ مَنْ لَا یَنْبَغِی التَّسْبِیْحُ اِلَّا لَہٗ
پاک ہے وہ جس کے علاوہ کوئی اور لائق تسبیح نہیں
سُبْحَانَ مَنْ ٲَحْصٰی كُلَّ شَیْءٍ عِلْمُہٗ
پاک ہے وہ جو ہر چیز کی تعداد کا علم رکھتا ہے
سُبْحَانَ ذِی الْمَنِّ وَالنِّعَمِ
پاک ہے وہ جو صاحب احسان و نعمت ہے
سُبْحَانَ ذِی الْقُدْرَۃِ وَالْكَرَمِ
پاک ہے وہ جو صاحب قدرت و بزرگی ہے
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ٲَسْٲَلُكَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِكَ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تیرے عرش کے بلند مقامات،
وَمُنْتَھَی الرَّحْمَۃِ مِنْ كِتَابِكَ
تیری کتاب کی انتہائے رحمت،
وَاسْمِكَ الْاَعْظَمِ وَكَلِمَاتِكَ التَّامَّۃِ
اور تیرے اسم اعظم اور تیرے کامل کلمات،
الَّتِیْ تَمَّتْ صِدْقًا وَعَدْلًا
جو صدق وعدل میں پورے ہیں، ﴿ان﴾ کے واسطے سوال کرتا ہوں
صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَٲَھْلِ بَیْتِہٖ
کہ تو حضرت محمدؐ اور ان کے اہلبیتؑ پر رحمت فرما
وَافْعَلْ بِیْ كَذَا وَكَذَا
اور میری فلاں فلاں حاجت بر لا۔
اِفْعَلْ بِیْ كَذَا وَكَذَا کے بجائے اپنی حاجات طلب کرے۔
شیخ و سید نے مفضل بن عمر سے روایت کی ہے کہ ایک دن میں نے دیکھا کہ امام جعفر صادقؑ نے نمازِ جعفر طیار پڑھی، پھر اپنے ہاتھ اُٹھائے اور یہ دعا پڑھنے لگے: ایک سانس کی مقدار کہا
یَا رَبِّ یَا رَبّ
اے میرے رب، اے میرے رب
پھر ایک سانس کے برابر کہا
یَا رَبَّاہُ یَا رَبَّاہُ
اے پروردگار، اے پروردگار
بقدر ایک سانس کہا
رَبِّ رَبِّ
میرے رب، میرے رب
بقدر ایک سانس
یَا اَللّٰہُ یَا اَللّٰہُ
اے اللہ، اے اللہ
بقدر ایک سانس
یَا حَیُّ یَا حَیُّ
اے زندہ، اے زندہ
بقدر ایک سانس
یَا رَحِیْمُ یَا رَحِیْمُ
اے مہربان، اے مہربان
سات مرتبہ
یَا رَحْمٰنُ یَا رَحْمٰنُ
اے بڑے رحم والے اے بڑے رحم والے
اور سات مرتبہ کہا
یَا اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنِ
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے
اور اس کے بعد یہ دعا پڑھی:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ٲَفْتَتِحُ الْقَوْلَ بِحَمْدِكَ
اے معبود میں تیری حمد کے ساتھ آغاز سخن کرتا ہوں
وَٲَنْطِقُ بِالثَّنَاءِ عَلَیْكَ وَاُمَجِّدُكَ
اور تیری ثنا کرتے ہوئے بولتا ہوں تیری بزرگی بیان کرتا ہوں
وَلَا غَایَۃَ لِمَدْحِكَ، وَٲُثْنِیْ عَلَیْكَ
تیری تعریف کی کوئی انتہا نہیں، میں تیرا ثنا خواں ہوں
وَمَنْ یَبْلُغُ غَایَۃَ ثَنَائِكَ وَٲَمَدَ مَجْدِكَ
اور کون تیری ثنا کی حد اور تیری بزرگی کی انتہا تک پہنچ سکتا ہے
وَٲَنّٰی لِخَلِیْقَتِكَ كُنْہُ مَعْرِفَۃِ مَجْدِكَ
تیرے پیدا کیے ہوئے کیونکر تیری بزرگی تک پہنچ سکتے ہیں
وَٲَیُّ زَمَنٍ لَمْ تَكُنْ مَمْدُوْحًا بِفَضْلِكَ
وہ کون سا زمانہ ہے جس میں تو اپنے فضل کے باعث لائق مدح،
مَوْصُوْفًا بِمَجْدِكَ
اپنی بزرگی میں قابل ذکر
عَوَّادًا عَلَی الْمُذْنِبِیْنَ بِحِلْمِكَ
اور اپنے حلم کی بدولت گناہگاروں پر کرم نہ کرتا تھا
تَخَلَّفَ سُكَّانُ ٲَرْضِكَ عَنْ طَاعَتِكَ
تیری زمین پر رہنے والوں نے تیری فرمانبرداری سے منہ موڑا
فَكُنْتَ عَلَیْھِمْ عَطُوْفًا بِجُوْدِكَ
لیکن تو ان کیلئے اپنی بخشش سے مہربان،
جَوَادًا بِفَضْلِكَ، عَوَّادًا بِكَرَمِكَ
اپنے فضل سے سخی اور اپنے کرم سے توجہ فرما رہا ہے
یَا لَا اِلٰہَ اِلَّا ٲَنْتَ الْمَنَّانُ ذُوالْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ
اے وہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تو احسان کرنے والا، صاحب جلالت اور شان والا ہے
پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: اے مفضل جب تمہیں کوئی بڑی اور ضروری حاجت پیش آئے تو نمازِ جعفر طیار پڑھو اور اس دُعا کے بعد اپنی حاجت طلب کرو تو انشاء اللہ وہ پوری ہو جائے گی۔
مولّف کہتے ہیں: شیخ طُوسی نے حاجت برآری کیلئے امام جعفر صادقؑ کا ایک اور فرمان بھی نقل کیا ہے کہ بدھ، جمعرات اور جمعہ کو روزہ رکھیں، جمعرات کی شام دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو ۷۵۰ گرام غلہ صدقہ دیں، جمعہ کے روز غسل کریں اور صحرا و بیابان میں جا کر نمازِ جعفر طیّار بجا لائیں، پھر اپنے زانو برہنہ کر کے زمین پر رکھیں اور کہیں:
یَا مَنْ ٲَظْھَرَ الْجَمِیْلَ وَسَتَرَ الْقَبِیْحَ
اے وہ جس نے زیبا کو ظاہر کیا اور زشت کو چھپایا
یَا مَنْ لَمْ یُؤَاخِذْ بِالْجَرِیْرَۃِ، وَلَمْ یَھْتِكِ السِّتْرَ
اے وہ جو گناہ پر گرفت نہیں کرتا اور پردہ فاش نہیں کرتا
یَا عَظِیْمَ الْعَفْوِ، یَا حَسَنَ التَّجَاوُزِ
اے بہت معاف کرنے والے، اے بہترین درگزر کرنے والے
یَا وَاسِعَ الْمَغْفِرَۃِ، یَا بَاسِطَ الْیَدَیْنِ بِالرَّحْمَۃِ
اے وسیع بخشش والے، اے کھلے ہاتھوں رحمت کرنے والے
یَا صَاحِبَ كُلِّ نَجْوٰی، وَمُنْتَھٰی كُلِّ شَكْوٰی
اے ہر راز کے جاننے والے اور ہر شکایت ختم کرنے والے
یَا مُقِیْلَ الْعَثَرَاتِ، یَا كَرِیْمَ الصَّفْحِ
اے خطائیں معاف کرنے والے، اے چشم پوشی کرنے والے کریم
یَا عَظِیْمَ الْمَنِّ، یَا مُبْتَدِئًا بِالنِّعَمِ قَبْلَ اسْتِحْقَاقِھَا
اے بہت احسان کرنے والے، اے حق داری سے پہلے نعمتیں عطا فرمانے والے
دس مرتبہ
یَا رَبَّاہُ یَا رَبَّاہُ یَا رَبَّاہُ
اے پالنے والے، اے پالنے والے، اے پالنے والے
دس مرتبہ
یَا اَللّٰہُ یَا اَللّٰہُ یَا اَللّٰہُ
اے خدا، اے خدا، اے خدا
دس مرتبہ
یَا سَیِّدَاہُ یَا سَیِّدَاہُ
اے آقا و مولا، اے آقا و مولا
دس مرتبہ
یَا مَوْلَایَاہُ یَا مَوْلَایَاہُ
اے میرے مولا، اے میرے مولا
دس مرتبہ
یَا رَجَآءَاہُ
اے میری امید
دس مرتبہ
یَا غِیَاثَاہُ
اے پناہ دینے والے
دس مرتبہ
یَا غَایَۃَ رَغْبَتَاہُ
اے میری رغبت کی انتہا
دس مرتبہ
یَا رَحْمٰنُ
اے بڑے مہربان
دس مرتبہ
یَا رَحِیْمُ
اے رحم والے
دس مرتبہ
یَا مُعْطِیَ الْخَیْرَات
اے بھلائیاں عطا کرنے والے
دس مرتبہ
صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ كَثِیْرًا طَیِّبًا
محمدؐ وآل محمدؐ پر زیادہ و پاکیزہ رحمت فرما
كَاَفْضَلِ مَا صَلَّیْتَ عَلٰی اَحدٍ مِنْ خَلْقِكَ
جیسی بہترین رحمت تو نے اپنی مخلوق میں کسی پر کی ہے
اور پھر اپنی حاجت طلب کرے۔
مؤلّف کہتے ہیں مذکورہ بالا تین دنوں کے روزے رکھنے اور جمعہ کے دن زوال کے قریب دو رکعت نماز بجا لانے کے متعلق کافی روایات ہیں اور اس عمل سے تمام حاجتیں پوری ہو جاتی ہیں۔
مفاتیح الجنان مع اردو ترجمہ
🌸شہر بانو✍️🌸
﴿۱۵﴾ *اس رات کی مخصوص نمازیں* پڑھے جو کئی ایک ہیں، ان میں سے ایک وہ نماز ہے جو ابو یحییٰ صنعانی نے حضرت امام محمد باقر اور حضرت امام جعفر صادقؑ سے، نیز دیگر تیس معتبر اشخاص نے بھی ان سے روایت کی ہے۔ کہ فرمایا: *پندرہ شعبان کی رات چار رکعت نماز بجا لائے کہ ہر رکعت میں سورۂ الحمد کے بعد سو مرتبہ سورۂ توحید پڑھے* اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد کہے:
*اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اِلَیْكَ فَقِیْرٌ*
اے معبود! میں تیرا محتاج ہوں
*وَمِنْ عَذَابِكَ خَائِفٌ مُسْتَجِیْرٌ ۔*
اور تیرے عذاب سے خوف کھاتا ہوں اور اس سے پناہ ڈھونڈتا ہوں
*اَللّٰھُمَّ لَا تُبَدِّلِ اسْمِیْ، وَلَا تُغَیِّرْ جِسْمِیْ*
اے معبود! میرا نام تبدیل نہ کر اور میرے جسم کو دگرگوں نہ فرما
*وَلَا تَجْھَدْ بَلَائِیْ، وَلَا تُشْمِتْ بِیْ ٲَعْدَائِیْ*
میری آزمائش کو سخت نہ بنا اور میرے دشمنوں کو مجھ پر خوشی نہ دے
*ٲَعُوْذُ بِعَفْوِكَ مِنْ عِقَابِكَ*
میں پناہ لیتا ہوں تیرے عفو کی، تیرے عذاب سے
*وَٲَعُوْذُ بِرَحْمَتِكَ مِنْ عَذَابِكَ*
میں پناہ لیتا ہوں تیری رحمت کی، تیری سزا سے
*وَٲَعُوْذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ*
*میں پناہ لیتا ہوں تیری رضا کی، تیری ناراضگی سے*
*وَٲَعُوْذُ بِكَ مِنْكَ*
*اور چاہتا ہوں تجھ سے تیرے ہی ذریعے سے*
*جَلَّ ثَنَاؤُكَ ٲَنْتَ كَمَا ٲَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِكَ*
*کہ تیری تعریف روشن ہے جیسا کہ تو نے خود ہی اپنی تعریف کی ہے*
*وَفَوْقَ مَا یَقُوْلُ الْقَائِلُوْنَ* ۔
*جو تعریف کرنے والوں کے قول سے بلند تر ہے۔*
*یاد رہے کہ اس رات سو رکعت نماز بجا لانے کی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے، اس کی ہر رکعت میں سورۂ الحمد کے بعد دس مرتبہ سورۂ توحید پڑھے۔*
التماس دعا 🤲🏻
🌟شہربانو ✍️🌟
Comments
Post a Comment