Posts

Showing posts from February, 2025

ستائیس رجب کی رات

  ستائیسویں   رجب کی  رات کے اعمال ستائیس رجب کی رات یہ بڑی متبرک راتوں میں سے ہے کیونکہ یہ رسول اللہ کے مبعث ﴿مامور بہ تبلیغ ہونے﴾ کی رات ہے اور اس میں چند ایک اعمال ہیں: ۱ مصباح میں شیخ نے امام ابو جعفر جوادؑ سے نقل کیا ہے کہ فرمایا: ماہ رجب میں ایک رات ہے کہ وہ ان سب چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج چمکتا ہے اور وہ ستائیسویں رجب کی رات ہے کہ جس کی صبح رسول اعظمؐ مبعوث بہ رسالت ہوئے۔ ہمارے پیروکاروں میں جو اس رات عمل کرے گا تو اس کو ساٹھ سال کے عمل کا ثواب حاصل ہو گا۔ میں نے عرض کیا اس رات کا عمل کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: نماز عشا کے بعد سوجائے اور پھر آدھی رات سے پہلے اٹھ کر بارہ رکعت نماز دو دو رکعت کر کے پڑھے اور ہر رکعت میں سورۂ حمد کے بعد قرآن کی آخری مفصل سورتوں ﴿سورۂ محمد سے سورۂ ناس﴾ میں سے کوئی ایک سورہ پڑھے۔ نماز کا سلام دینے کے بعد سورۂ حمد، سورۂ فلق سورۂ ناس، سورۂ توحید، سورۂ کافرون اور سورۂ قدر میں سے ہر ایک سات سات مرتبہ، نیز آیۃ الکرسی بھی سات مرتبہ پڑھے اور ان سب کو پڑھنے کے بعد یہ دعا پڑھے: الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا حمد ہے اس خد...

ستائیسویں رجب کے دن کے اعمال

 ستائیسویں رجب کے  دن کے اعمال ستائیس رجب کا دن یہ عیدوں میں سے بہت بڑی عید کا دن ہے کہ اسی دن حضورؐ مبعوث بہ رسالت ہوئے اور اسی دن جبرائیلؑ احکام رسالت کے ساتھ حضور پر نازل ہوئے، اس دن کیلئے چند ایک عمل ہیں: ۱ غسل کرنا۔ ۲ روزہ رکھنا، یہ دن سال بھر میں ان چار دنوں میں سے ایک ہے کہ جن میں روزہ رکھنے کی ایک خاص امتیازی حیثیت ہے، اور اس دن کا روزہ ستر سال کے روزے کا ثواب رکھتا ہے۔ ۳ کثرت سے درود شریف پڑھنا۔ ۴ حضرت رسول اللہ اور امیر المؤمنینؑ کی زیارت کرنا۔ زیارت امیر المومنینؑ شب و روز مبعث تیسری مخصوص زیارت بعثت کی رات اور دن کیلئے ہے۔ روز مبعث یعنی حضرت رسولؐ اللہ کے مبعوث ہونے کا دن ۲۷ رجب ہے اس رات اور دن میں تین زیارتیں ہیں اور وہ یہ ہیں۔ پہلی زیارت رجبیہ اس زیارت کا آغاز اَلْحَمْدُ ﷲِالَّذِیْ اَشْھَدَنَا مَشْھَدَ اَوْلِیَائِہٖ سے ہوتا ہے جو ماہ رجب کے اعمال مشترکہ میں زیارت رجبیہ کے عنوان سے ذکر ہو چکی ہے۔ یہ زیارت ماہِ رجب میں ہر امام کے روضۂ مبارک پر پڑھی جا سکتی ہے، لیکن صاحب مزار قدیم اور شیخ محمد بن مشہدی نے اسے شبِ مبعث کی مخصوص زیارات میں قرار دیا ہے۔ جب کوئی شخص اس...

نیمۂ شعبان کے اعمال

  *نیمۂ شعبان کے اعمال*    *یہ بڑی بابرکت رات ہے. امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ امام محمد باقرؑ سے نیمۂ شعبان کی رات کی فضیلت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: یہ رات شب قدر کے علاوہ تمام راتوں سے افضل ہے۔ پس اس رات تقرب الٰہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے۔ اس رات خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر فضل و کرم فرماتا ہے اور ان کے گناہ معاف کرتا ہے۔ حق تعالیٰ نے اپنی ذاتِ مقدس کی قسم کھائی ہے کہ اس رات وہ کسی سائل کو خالی نہ لوٹائے گا سوائے اس کے جو معصیت و نافرمانی سے متعلق سوال کرے۔ خدا نے یہ رات ہمارے لیے خاص کی ہے جیسے شب قدر کو رسول اکرمؐ کے لیے مخصوص فرمایا۔ پس اس شب میں زیادہ سے زیادہ حمد و ثنائے الٰہی کرنا اس سے دعا و مناجات میں مصروف رہنا چاہیئے۔*  اس رات کی عظیم بشارت سلطان عصر حضرت امام مہدی ﴿عج﴾ کی آمد ہے جو ۲۵۵ھ میں بوقت صبح صادق سامرہ میں ہوئی جس سے اس رات کو فضیلت نصیب ہوئی۔ اس رات کے چند ایک اعمال ہیں: ﴿۱﴾ غسل کرنا کہ جس سے گناہ کم ہو جاتے ہیں۔ ﴿۲﴾ نماز اور دعا و استغفار کے لیے شب بیداری کرے کہ امام زین العابدینؑ کا فرمان ہے کہ جو شخص اس رات بیدار رہے تو اس کے دل ک...