تیرھویں رجب کی رات کے اعمال

تیرھویں رجب کی  رات کے اعمال




🚩🕋💛 *💫13 رجب کی رات شب* *بیداری 💫* 

 نماز حضرت جعفر طیار  اور نماز شب. 

 ز یارت آمین اللہ. 

 کثرت سے صلوات

کثرت سے استغفار. 

 ز یارت عاشورا

مرحومین کر ہدیہ کریں.

💫13 رجب کی رات 🌃💫


*تیرھویں رجب کی رات کے اعمال*


ماہ رجب ، شعبان اور ماہ رمضان کی تیرھویں شب میں دو رکعت نماز مستحب ہے کہ اسکی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ایک ایک بار سورہ یٰس ، سورہ ملک اور سورہ قل ھواللہ پڑھے

 چودھویں شب میں چار رکعت نماز دو دو رکعت کر کے اسیطرح پڑھے

 اور پندرھویں شب میں چھ رکعت نماز دو دو کرکے اسی طرح سے پڑھے

 امام جعفر صادق ع کا ارشاد ہے کہ اس طریقے سے یہ تین نمازیں بجالانے والا ان تینوں مہینوں کی تمام فضیلتیں حاصل کرے گا اور سوائے شرک کے اسکے سبھی گناہ معاف ہو جائینگے ۔


🌹 *نوٹ: یہ نمازیں بیٹھ کر بھی پڑھی جا سکتی ہیں*


*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹


السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹


 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹



 




زیارت امین اللہ




یہ زیارت امین اللہ کے نام سے معروف ہے اور انتہائی معتبر زیارت ہے جو زیارات کی تمام کتب اور مصابیح میں منقول ہے علامہ مجلسی فرماتے ہیں یہ متن اور سند کے لحاظ سے بہترین زیارت ہے اور اسے تمام مبارک روضوں میں پڑھنا چاہیے ﴿زائرین حضرات کو چاہیے کہ امیر المؤمنینؑ کے علاوہ اگر کسی اور امام کی زیارت کر رہے ہیں تو امیر المؤمنین علیہ السلام کے بجائے اس معصوم امامؑ کا نام لے مثلًا امام علی رضاؑ کی زیارت کر رہا ہے تو کہے: السلام علیك یا علی ابن موسی رضا ۔ مترجم﴾



اس کی کیفیت یہ ہے کہ معتبر اسناد کے ساتھ جابر نے امام محمد باقر علیہ السلام کے ذریعے امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آنجناب نے قبر امیر المؤمنین علیہ السلام کے قریب کھڑے ہو کر روتے ہوئے ان کلمات کے ساتھ آپ کی زیارت کی:



اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا ٲَمِیْنَ ﷲِ فِیْ ٲَرْضِہٖ1


آپ پر سلام ہو اے خدا کی زمین میں اس کے امین


وَحُجَّتَہٗ عَلٰی عِبَادِہٖ2


اور اس کے بندوں پر اس کی حجت


اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا ٲَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ3


سلام ہو آپ پر اے مومنوں کے سردار


ٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ جَاھَدْتَ فِی ﷲِ حَقَّ جِھَادِہٖ4


میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیا


وَعَمِلْتَ بِكِتَابِہٖ وَاتَّبَعْتَ سُنَنَ نَبِیِّہٖ صَلَّی ﷲُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ5


اس کی کتاب پر عمل کیا اور اس کے نبیؐ کی سنتوں کی پیروی کی خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آلؑ پر


حَتّٰی دَعَاكَ ﷲُ اِلٰی جِوَارِہٖ6


پھر خدا نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا


فَقَبَضَكَ اِلَیْہِ بِاخْتِیَارِہٖ7


اپنے اختیار سے آپ کی جان قبض کر لی


وَٲَلْزَمَ ٲَعْدَائَكَ الْحُجَّۃَ مَعَ مَا لَكَ8


اور آپ کے دشمنوں پر حجت قائم کی


مِنَ الْحُجَجِ الْبَالِغَۃِ عَلٰی جَمِیْعِ خَلْقِہٖ۔9


جبکہ تمام مخلوق کے لئے آپ کے وجود میں بہت سی کامل حجتیں ہیں


اَللّٰھُمَّ فَاجْعَلْ نَفْسِیْ مُطْمَئِنَّۃً بِقَدَرِكَ10


اے اللہ میرے نفس کو ایسا بنا کہ تیری تقدیر پر مطمئن ہو


رَاضِیَۃً بِقَضَائِكَ، مُوْلَعَۃً بِذِكْرِكَ وَدُعَائِكَ11


تیرے فیصلے پر راضی و خوش رہے تیرے ذکر کا مشتاق اور دعا میں حریص ہو


مُحِبَّۃً لِصَفْوَۃِ ٲَوْلِیَائِكَ12


تیرے برگزیدہ دوستوں سے محبت کرنے والا


مَحْبُوْبَۃً فِیْ ٲَرْضِكَ وَسَمَائِكَ13


تیرے زمین و آسمان میں محبوب و منظور ہو


صَابِرَۃً عَلٰی نُزُوْلِ بَلَائِكَ14


تیری طرف سے مصائب کی آمد پر صبر کرنے والا ہو


شَاكِرَۃً لِفَوَاضِلِ نَعْمَائِكَ15


تیری بہترین نعمتوں پر شکر کرنے والا


ذَاكِرَۃً لِسَوَابِغِ اٰلَائِكَ16


تیری کثیر مہربانیوں کو یاد کرنے والا ہو


مُشْتَاقَۃً اِلٰی فَرْحَۃِ لِقَائِكَ17


تیری ملاقات کی خوشی کا خواہاں


مُتَزَوِّدَۃً التَّقْوٰی لِیَوْمِ جَزَائِكَ18


یوم جزا کے لئے تقوی کو زاد راہ بنانے والا ہو


مُسْتَنَّۃً بِسُنَنِ ٲَوْلِیَائِكَ19


تیرے دوستوں کے نقش قدم پر چلنے والا


مُفَارِقَۃً لِاَخْلَاقِ ٲَعْدَائِكَ20


تیرے دشمنوں کے طور طریقوں سے متنفر و دور


مَشْغُوْلَۃً عَنِ الدُّنْیَا بِحَمْدِكَ وَثَنَائِكَ۔21


اور دنیا سے بچ بچا کر تیری حمد و ثناء میں مشغول رہنے والا ہو۔


پھر اپنا رخسار قبر مبارک پر رکھا اور فرمایا:



اَللّٰھُمَّ اِنَّ قُلُوْبَ الْمُخْبِتِیْنَ اِلَیْكَ وَالِھَۃٌ22


اے معبود!بے شک ڈرنے والوں کے قلوب تیرے لئے بے تاب ہیں


وَسُبُلَ الرَّاغِبِیْنَ اِلَیْكَ شَارِعَۃٌ23


شوق رکھنے والوں کے لئے راستے کھلے ہوئے ہیں


وَٲَعْلَامَ الْقَاصِدِیْنَ اِلَیْكَ وَاضِحَۃٌ24


تیرا قصد کرنے والوں کی نشانیاں واضح ہیں


وَٲَفْئِدَۃَ الْعَارِفِیْنَ مِنْكَ فَازِعَۃٌ25


معرفت رکھنے والوں کے دل تجھ سے کانپتے ہیں


وَٲَصْوَاتَ الدَّاعِیْنَ اِلَیْكَ صَاعِدَۃٌ26


تیری بارگاہ میں دعا کرنے والوں کی آوازیں بلند ہیں


وَٲَبْوَابَ الْاِجَابَۃِ لَھُمْ مُفَتَّحَۃٌ27


اور ان کے لئے دعا کی قبولیت کے دروازے کھلے ہیں


وَدَعْوَۃَ مَنْ نَاجَاكَ مُسْتَجَابَۃٌ28


تجھ سے راز و نیاز کرنے والوں کی دعا قبول ہے


وَتَوْبَۃَ مَنْ ٲَنَابَ اِلَیْكَ مَقْبُوْلَۃٌ29


جو تیری طرف پلٹ آئے اس کی توبہ منظور و مقبول ہے


وَعَبْرَۃَ مَنْ بَكٰی مِنْ خَوْفِكَ مَرْحُوْمَۃٌ30


تیرے خوف میں رونے والے کے آنسوؤں پر رحمت ہوتی ہے


وَالْاِغَاثَۃَ لِمَنِ اسْتَغَاثَ بِكَ مَوْجُوْدَۃٌ31


جو تجھ سے فریاد کرے اس کے لئے داد رسی موجود ہے


وَالْاِعَانَۃَ لِمَنِ اسْتَعَانَ بِكَ مَبْذُوْلَۃٌ32


جو تجھ سے مدد طلب کرے اس کو مدد ملتی ہے


وَعِدَاتِكَ لِعِبَادِكَ مُنْجَزَۃٌ33


اپنے بندوں سے کیے گئے تیرے وعدے پورے ہوتے ہیں


وَزَلَلَ مَنِ اسْتَقَالَكَ مُقَالَۃٌ34


تیرے ہاں عذر خواہوں کی خطائیں معاف


وَٲَعْمَالَ الْعَامِلِیْنَ لَدَیْكَ مَحْفُوْظَۃٌ35


اور عمل کرنے والوں کے اعمال محفوظ ہوتے ہیں


وَٲَرْزَاقَكَ اِلَی الْخَلَائِقِ مِنْ لَدُنْكَ نَازِلَۃٌ36


مخلوقات کے لئے رزق و روزی تیری جانب سے ہی آتی ہے


وَعَوَائِدَ الْمَزِیْدِ اِلَیْھِمْ وَاصِلَۃٌ37


اور ان کو مزید عطائیں حاصل ہوتی ہیں


وَذُنُوْبَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ مَغْفُوْرَۃٌ38


طالبانِ بخشش کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں


وَحَوَائِجَ خَلْقِكَ عِنْدَكَ مَقْضِیَّۃٌ39


ساری مخلوق کی حاجتیں تیرے ہاں سے پوری ہوتی ہیں


وَجَوَائِزَ السَّائِلِیْنَ عِنْدَكَ مُوَفَّرَۃٌ40


تجھ سے سوال کرنے والوں کو بہت زیادہ ملتا ہے


وَعَوَائِدَ الْمَزِیْدِ مُتَوَاتِرَۃٌ41


اور پے در پے عطائیں ہوتی ہیں


وَمَوَائِدَ الْمُسْتَطْعِمِیْنَ مُعَدَّۃٌ42


کھانے والوں کیلئے دستر خوان تیار ہے


وَمَنَاھِلَ الظِّمَاءِ مُتْرَعَۃٌ۔43


اور پیاسوں کی خاطر چشمے بھرے ہوئے ہیں


اَللّٰھُمَّ فَاسْتَجِبْ دُعَائِیْ، وَاقْبَلْ ثَنَائِیْ44


اے معبود ! میری دعائیں قبول کر لے اس ثنا کو پسند فرما


وَاجْمَعْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ ٲَوْ لِیَائِیْ45


مجھے میرے اولیاء کے ساتھ جمع کر دے


بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَفَاطِمَۃَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ46


کہ واسطہ دیتا ہوں محمدؐ و علیؑ و فاطمہؑ و حسنؑ و حسینؑ کا


اِنَّكَ وَلِیُّ نَعْمَائِیْ، وَمُنْتَھٰی مُنَایَ47


بے شک تو ہے مجھے نعمتیں دینے والا، میری آرزوؤں کی انتہا،


وَغَایَۃُ رَجَائِیْ فِیْ مُنْقَلَبِیْ وَمَثْوَایَ۔48


دنیا و آخرت میں میری امیدوں کا مرکز۔


کامل الزیارۃ میں اس زیارت کے بعد ان جملوں کا اضافہ ہے:



ٲَنْتَ اِلٰھِیْ وَسَیِّدِیْ وَمَوْلَایَ، اغْفِرْ لِاَوْلِیَائِنَا49


تو میرا معبود میرا آقا اور میرا مالک ہے ہمارے دوستوں کو معاف فرما


وَكُفَّ عَنَّا ٲَعْدَائَنَا، وَاشْغَلْھُمْ عَنْ ٲَذَانَا50


دشمنوں کو ہم سے دور کر ان کو ہمیں ایذا دینے سے باز رکھ


وَٲَظْھِرْ كَلِمَۃَ الْحَقِّ وَاجْعَلْھَا الْعُلْیَا51


کلمہ حق کا ظہور فرما اور اسے بلند قرار دے


وَٲَدْحِضْ كَلِمَۃَ الْبَاطِلِ وَاجْعَلْھَا السُّفْلی52


کلمہ باطل کو دبا دے اور اس کو پست قرار دے


اِنَّكَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۔53


کہ بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔


اس کے بعد امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہمارے شیعوں میں سے جو بھی اس زیارت اور دعا کو ضریح امیر المؤمنین علیہ السلام کے نزدیک یا ان کے جانشین ائمہ میں سے کسی مزار کے پاس پڑھے گا تو حق تعالیٰ اس کی پڑھی ہوئی اس زیارت و دعا کو ایک نورانی نوشتہ میں عالم بالا تک پہنچا کر اس پر حضرت رسولؐ کی مہر ثبت کرائے گا۔ وہ نوشتہ اسی صورت میں محفوظ رہے گا اور ظہور قائم آل محمد علیہ السلام کے وقت ان کے حوالے کر دیا جائے گا۔ آنجناب علیہ السلام جنت کی بشارت، سلام خاص اور عزت کے ساتھ اس کا استقبال فرمائیں گے انشاء اللہ۔



مؤلف کہتے ہیں کہ یہ باشرف زیارت زیاراتِ مطلقہ میں بھی شمار ہوتی ہے اور روز غدیر کی زیارات مخصوصہ میں بھی شمار ہوتی ہے۔ نیز یہ زیارت جامعہ کے طور پر بھی معروف ہے کہ جو سبھی ائمہ کے مزارات پر پڑھی جاتی ہے۔




*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲


 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹


شہر بانو✍️


*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹


السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹


 اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹



 



 زیارت عاشورہ 




صالح ابن عقبہ اور سیف ابن عمیرہ کا بیان ہے کہ علقمہ ابن محمد خضرمی نے کہا ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقرؑ  سے عرض کی کہ مجھے ا یسی دعا تعلیم فرمائیں جسے میں دسویں محرم کے دن امام حسینؑ کی نزدیک سے زیارت کرتے وقت پڑھوں اور ایسی دعا بھی تعلیم فرمائیں کہ جو میں اس وقت پڑھوں جب نزدیک سے حضرت کی زیارت نہ کر سکوں اور میں دور کے شہروں اور اپنے گھر سے اشارے کیساتھ امام حسینؑ کو سلام پیش کروں۔ آپ نے فرمایا کہ اے عقلمہ! جب تم دو رکعت نماز ادا کر لو اور اس کے بعد سلام کیلئے حضرت کی طرف اشارہ کرو تو اشارہ کرتے وقت تکبیر کہنے کے بعدمندرجہ ذیل دعا پڑھو۔ کیونکہ جب تم یہ دعا پڑھو گے تو بے شک تم نے ان الفاظ میں دعا کی ہے کہ جن الفاظ میں وہ فرشتے دعا کرتے ہیں جو امام حسینؑ کی زیارت کرنے آتے ہیں‘ چنانچہ خدا تمہارے لیے دس لاکھ درجے لکھے گا اور تم اس شخص کی مانند ہو گے جو حضرت کے ہمراہ شہید ہوا ہو اور تم اس کے درجات میں حصہ دار بن جاؤ گے نیز تم ان افراد میں شمار کیے جاؤ گے جو امام حسینؑ کے ساتھ شہید ہوئے ہیں نیز تمہارے لیے ہر نبی و رسول اور امام مظلوم کے ہر اس زائر کا ثواب لکھا جائے گا جس نے اس دن سے کہ جب سے آپ شہید ہوئے ہیں آپکی زیارت کی ہو۔ آپ پر سلام ہواور آپکے خاندان پر پس وہ زیارت عاشورہ یہ ہے:



1: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَباعَبْدِ اللہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللہِ،



آپ پر سلام ہو اے ابا عبد اللہؑ آپ پر سلام ہو اے رسول خداؐ کے فرزند



2: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَ ابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ،



سلام ہوآپ پر اے امیر المومنین کے فرزند اور اوصیاءکے سردار کے فرزند



3: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِساءِ الْعالَمِینَ ،



سلام ہوآپ پر اے فرزند فاطمہ ؑ جو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں



4: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ثارَ اللہِ وَ ابْنَ ثارِہِ وَ الْوِتْرَ الْمَوْتُورَ،



آپ پر سلام ہو اے قربان خدا اور قربان خدا کے فرزنداور وہ خون جس کا بدلہ لیا جانا ہےاور تن و تنہا رہ جانے والے



5: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی الْاَرْواحِ الَّتِی حَلَّتْ بِفِنائِکَ



آپ پر سلام ہواور ان روحوں پر جو آپ کے آستانوں میں اتری ہیں



6: عَلَیْکُمْ مِنِّی جَمِیعاً سَلامُ اللہِ أَبَداً مَا بَقِیتُ وَ بَقِیَ اللَّیْلُ وَ النَّھارُ



آپ سب پرمیری طرف سے خدا کا سلام ہمیشہ جب تک میں باقی ہوں اور رات دن باقی ہیں



7: یَا أَباعَبْدِ اللہِ،لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِیَّۃُ وَجَلَّتْ وَ عَظُمَتِ الْمُصِیبَۃُ بِکَ عَلَیْنا وَ عَلٰی جَمِیعِ أَھْلِ الْاِسْلامِ وَ جَلَّتْ وَ عَظُمَتْ مُصِیبَتُکَ فِی السَّمٰوَاتِ عَلٰی جَمِیعِ أَھْلِ السَّمٰوَاتِ



اے ابا عبداللہؑ آپ کا سوگ بہت بھاری اور بہت بڑا ہے اور آپ کی مصیبت بہت بڑی ہے ہمارے لیے اور تمام اہل اسلام کے لیے اور بہت بڑی اور بھاری ہے آپ کی مصیبت آسمانوں میں تمام آسمان والوں کے لیے



8: فَلَعَنَ اللہُ ٲُمَّةً أَسَّسَتْ أَسَاسَ الظُّلْمِ وَ الْجَوْرِ عَلَیْکُمْ أَھْلَ الْبَیْتِ،



پس خدا کی لعنت ہو اس گروہ پرجس نے آپ پر ظلم و ستم کرنے کی بنیاد ڈالی اے اہلبیت



9: وَ لَعَنَ اللہُ ٲُمَّةً دَفَعَتْکُمْ عَنْ مَقامِکُمْ وَ أَزالَتْکُمْ عَنْ مَراتِبِکُمُ الَّتِی رَتَّبَکُمُ اللہُ فِیھا،



اور خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکو آپکے مقام سے ہٹایا اور آپ کو اس مرتبے سے گرایا جو خدا نے آپ کو دیا



10: وَ لَعَنَ اللہُ ٲُمَّةً قَتَلَتْکُمْ، وَ لَعَنَ اللہُ الْمُمَھِّدِینَ لَھُمْ بِالتَّمْکِینِ مِنْ قِتالِکُمْ



خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپ کو قتل کیا اور خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے انکو آپکے ساتھ جنگ کرنے کی قوت فراہم کی



11: بَرِئْتُ إلَی اللہِ وَ إلَیْکُمْ مِنْھُمْ وَ أَشْیاعِھِمْ وَ أَتْباعِھِمْ وَ أَوْلِیائِھِمْ،



میں بری ہوں خدا کیسامنے اور آپکے سامنے ان سے انکے مددگاروں انکے پیروکاروں اور انکے ساتھیوں سے



12: یَا أَباعَبْدِاللہِ، إنِّی سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ، وَ حَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ إلٰی یَوْمِ الْقِیامَةِ،



اے ابا عبداللہ میری صلح ہے آپ سے صلح کرنے والے سے اور میری جنگ ہے آپ سے جنگ کرنے والے سے روز قیامت تک



13: وَ لَعَنَ اللہُ آلَ زِیادٍ وَ آلَ مَرْوانَ، وَ لَعَنَ اللہُ بَنِی ٲُمَیَّةَ قاطِبَةً، وَ لَعَنَ اللہُ ابْنَ مَرْجانَةَ، وَ لَعَنَ اللہُ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ، وَ لَعَنَ اللہُ شِمْراً، وَ لَعَنَ اللہُ ٲُمَّةً أَسْرَجَتْ وَ أَلْجَمَتْ وَ تَنَقَّبَتْ لِقِتالِکَ،



اور خدا لعنت کرے اولاد زیاد اور اولاد مروان پر خدا اظہار بیزاری کرے تمام بنی امیہ سے خدا لعنت کرے ابن مرجانہ پر خدا لعنت کرے عمر بن سعد پر خدا لعنت کرے شمر پر اور خدا لعنت کرے جنہوں نے زین کسا لگام دی گھوڑوں کو اور لوگوں کو آپ سے لڑنے کیلئے ابھارا



14: بِأَبِی أَنْتَ وَ ٲُمِّی، لَقَدْ عَظُمَ مُصابِی بِکَ،



میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یقینا آپکی خاطر میرا غم بڑھ گیا ہے



15: فَأَسْأَلُ اللہَ الَّذِی أَکْرَمَ مَقامَکَ، وَ أَکْرَمَنِی بِکَ، أَنْ یَرْزُقَنِی طَلَبَ ثارِکَ مَعَ إمامٍ مَنْصُورٍ مِنْ أَھْلِبَیْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ۔



پس سوال کرتا ہوں خدا سے جس نے آپکو شان عطا کی اور آپکے ذریعے مجھے عزت دی یہ کہ وہ مجھے آپ کے خون کا بدلہ لینے کا موقع دے ان امام منصور ؑ کے ساتھ جو اہل بیت محمدؐ میں سے ہوں گے



16: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی عِنْدَکَ وَجِیھاً بِالْحُسَیْنِ فِی الدُّنْیا وَ الْآخِرَةِ



اے معبود! مجھ کو اپنے ہاں آبرومند بنا حسین ؑ کے واسطے سے دنیا و آخرت میں



17: یَا أَباعَبْدِاللہِ إنِّی أَتَقَرَّبُ إلَی اللہِ، وَ إلٰی رَسُولِہِ، وَ إلٰی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَ إلٰی فاطِمَةَ، وَ إلَی الْحَسَنِ، وَ إلَیْکَ بِمُوَالاتِکَ وَ بِالْبَرائَةِ مِمَّنْ قَاتَلَکَ وَ نَصَبَ لَکَ الْحَرْبَ، وَ بِالْبَرائَةِ مِمَّنْ أَسَّسَ أَسَاسَ الْظُلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَیْکُمْ



اے ابا عبداللہ بے شک میں قرب چاہتا ہوں خدا کا اس کے رسولؐ کا امیر المومنینؑ کا فاطمۃ زہرا ؑ کا حسن مجتبیٰ ؑ کا اور آپ کا قرب آپکی حبداری سے اور اس سے بیزاری کے ذریعے جس نے آپکو قتل کیا اور آتش جنگ بھڑکائی اور اس سے بیزاری کے ذریعے جس نے تم پر ظلم وستم کی بنیاد رکھی



18: وَ أَبْرَٲُ إلَی اللہِ وَ إلٰی رَسُولِہِ مِمَّنْ أَسَّسَ أَساسَ ذٰلِکَ وَ بَنیٰ عَلَیْہِ بُنْیانَہُ، وَ جَریٰ فِی ظُلْمِہِ وَ جَوْرِہِ عَلَیْکُمْ وَ عَلٰی أَشْیاعِکُمْ، بَرِئْتُ إلَی اللہِ وَ إلَیْکُمْ مِنْھُمْ،



اور میں بری الذمہ ہوں اللہ اور اس کے رسول کے سامنے اس سے جس نے ایسی بنیاد قائم کی اور اس پر عمارت اٹھائی اور پھر ظلم و ستم کرنا شروع کیا اور آپ پر اور آپ کے پیروکاروں پر میں بیزاری ظاہر کرتا ہوں خدا اور آپ کے سامنے ان ظالموں سے



19: وَ أَتَقَرَّبُ إلَی اللہِ ثُمَّ إلَیْکُمْ بِمُوالاتِکُمْ وَ مُوالاةِ وَلِیِّکُمْ، وَ بِالْبَرائَةِ مِنْ أَعْدائِکُمْ، وَ النَّاصِبِینَ لَکُمُ الْحَرْبَ، وَ بِالْبَرائَةِ مِنْ أَشْیَاعِھِمْ وَ أَتْبَاعِھِمْ،



اور قرب چاہتا ہوں خدا کا پھر آپ کا آپ سے محبت کی وجہ سے اور آپ کے ولیوں سے محبت کے ذریعے آپکے دشمنوں اور آپکے خلاف جنگ برپا کرنے والوں سے بیزاری کے ذریعے اور انکے طرف داروں اورپیروکاروں سے بیزاری کے ذریعے



20: إنِّی سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ، وَ حَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ، وَ وَلِیٌّ لِمَنْ وَالَاکُمْ، وَ عَدُوٌّ لِمَنْ عَاداکُمْ،



میری صلح ہے آپ سے صلح کرنے والے سے اور میری جنگ ہے آپ سے جنگ کرنے والے سے میں آپکے دوست کا دوست اور آپکے دشمن کا دشمن ہوں



21: فَأَسْأَلُ اللہَ الَّذِی أَکْرَمَنِی بِمَعْرِفَتِکُمْ، وَ مَعْرِفَةِ أَوْلِیَائِکُمْ، وَرَزَقَنِی الْبَرائَةَ مِنْ أَعْدائِکُمْ،



پس سوال کرتا ہوں خدا سے جس نے عزت دی مجھے آپ کی پہچان اور آپکے ولیوں کی پہچان کے ذریعے اور مجھے آپ کے دشمنوں سے بیزاری کی توفیق دی



22: أَنْ یَجْعَلَنِی مَعَکُمْ فِی الدُّنْیا وَ الْاَخِرَةِ، وَ أَنْ یُثَبِّتَ لِی عِنْدَکُمْ قَدَمَ صِدْقٍ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ،



یہ کہ مجھے آپ کے ساتھ رکھے دنیا اور آخرت میں اور یہ کہ مجھے آپ کے حضور سچائی کے ساتھ ثابت قدم رکھے دنیا اور آخرت میں



23: وَ أَسْأَلُہُ أَنْ یُبَلِّغَنِی الْمَقامَ الْمَحْمُودَ لَکُمْ عِنْدَ اللہِ، وَ أَنْ یَرْزُقَنِی طَلَبَ ثارِی مَعَ إمامِ ھُدیً ظَاھِرٍ نَاطِقٍ بِالْحَقِّ مِنْکُمْ،



اور اس سے سوال کرتا ہے کہ مجھے بھی خدا کے ہاں آپ کے پسندیدہ مقام پر پہنچائے نیز مجھے نصیب کرے آپکے خون کا بدلہ لینا اس امام کیساتھ جو ہدایت دینے والا مدد گار رہبرحق بات زبان پر لانے والا ہے تم میں سے



24: وَ أَسْأَلُ اللہَ بِحَقِّکُمْ وَ بِالشَّأْنِ الَّذِی لَکُمْ عِنْدَہُ أَنْ یُعْطِیَنِی بِمُصابِی بِکُمْ أَفْضَلَ مَا یُعْطِی مُصاباً بِمُصِیبَتِہِ، مُصِیبَةً مَا أَعْظَمَھا وَ أَعْظَمَ رَزِیَّتَھا فِی الْاِسْلامِ وَ فِی جَمِیعِ السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضِ۔



اور سوال کرتا ہوں خدا سے آپکے حق کے واسطے اور آپکی شان کے واسطے جوآپ اسکے ہاں رکھتے ہیں یہ کہ وہ مجھ کو عطا کرے آپکی سوگواری پر ایسا بہترین اجر جو اس نے آپکے کسی سوگوار کو دیاہواس مصیبت پر کہ جو بہت بڑی مصیبت ہے اور اسکا رنج و غم بہت زیادہ ہے اسلام میں اور تمام آسمانوں میں اور زمین میں



25: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی فِی مَقَامِی ھٰذَا مِمَّنْ تَنالُہُ مِنْکَ صَلَواتٌ وَ رَحْمَۃٌ وَ مَغْفِرَۃٌ۔



اے معبود قرار دے مجھے اس جگہ پر ان فراد میں سے جن کو نصیب ہوں تیرے درود تیری رحمت اور بخشش



26: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ مَحْیایَ مَحْیا مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمَماتِی مَماتَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ۔



اے معبود قرار دے میرا جینا محمدؐ و آل محمدؐ کا سا جینا اور میری موت کو محمد ؐو آل محمدؐ کی موت کی مانند بنا



27: اَللّٰھُمَّ إنَّ ھٰذَا یَوْمٌ تَبَرَّکَتْ بِہِ بَنُو ٲُمَیَّةَ وَابْنُ آکِلَةِ الْاَکْبادِ، اللَّعِینُ ابْنُ اللَّعِینِ عَلٰی لِسانِکَ وَلِسانِ نَبِیِّکَ فِی کُلِّ مَوْطِنٍ وَمَوْقِفٍ وَقَفَ فِیہِ نَبِیُّکَ۔



اے معبود بے شک یہ وہ دن ہے کہ جس کو نبی امیہ اور کلیجے کھانے والی کے بیٹے نے بابرکت جانتا جو ملعون ابن ملعون ہے تیری زبان پراور تیرے نبی اکرمؐ کی زبان پر ہر شہر میں جہاں رہے اور ہر جگہ کہ جہاں تیرانبی اکرمؐ ٹھہرے



28: اَللّٰھُمَّ الْعَنْ أَباسُفْیانَ وَ مُعَاوِیَةَ وَ یَزِیدَ بْنَ مُعَاوِیَةَ عَلَیْھِمْ مِنْکَ اللَّعْنَۃُ أَبَدَ الْاَبِدِینَ،



اے معبود اظہار بیزاری کر ابو سفیان اور معاویہ اور یزید بن معاویہ سے کہ ان سے اظہار بیزاری ہو تیری طرف سے ہمیشہ ہمیشہ



29: وَھٰذَا یَوْمٌ فَرِحَتْ بِہِ آلُ زِیادٍ وَآلُ مَرْوانَ بِقَتْلِھِمُ الْحُسَیْنَ صَلَواتُ اللہِ عَلَیْہِ،



اور یہ وہ دن ہے جس میں خوش ہوئی اولاد زیاد اور اولاد مروان کہ انہوں نے قتل کیا حسین صلوات اللہ علیہ کو



30: اَللّٰھُمَّ فَضاعِفْ عَلَیْھِمُ اللَّعْنَ مِنْکَ وَالْعَذابَ الْاَلِیمَ۔



اے معبود پس توزیادہ کر دے ان پر اپنی طرف سے لعنت اور عذاب کو



31: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَتَقَرَّبُ إلَیْکَ فِی ھٰذَا الْیَوْمِ وَ فِی مَوْقِفِی ھٰذَا، وَ أَیَّامِ حَیَاتِی بِالْبَرَائَةِ مِنْھُمْ، وَاللَّعْنَةِ عَلَیْھِمْ، وَبِالْمُوَالاةِ لِنَبِیِّکَ وَآلِ نَبِیِّکَ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمُ السَّلَامُ۔



اے معبود بے شک میں تیرا قرب چاہتا ہوں کہ آج کے دن میں اس جگہ پر جہاں کھڑا ہوں اور اپنی زندگی کے دنوں میں ان سے بیزاری کرنے کے ذریعے اور ان پر نفرین بھیجنے کے ذریعے اور بوسیلہ اس دوستی کے جو مجھے تیرے نبیؐ کی آل ؑ سے ہے سلام ہو تیرے نبی ؐاور ان کی آل ؑ پر



پھر سو مرتبہ کہے:



32: اَللّٰھُمَّ الْعَنْ أَوَّلَ ظَالِمٍ ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَ آخِرَ تَابِعٍ لَہُ عَلٰی ذٰلِکَ۔



اے معبود محروم کر اپنی رحمت سے اس پہلے ظالم کو جس نے ضائع کیا محمد ؐو آل محمد ؐکا حق اوراسکو بھی جس نے آخر میں اس کی پیروی کی



33: اَللّٰھُمَّ الْعَنِ الْعِصَابَةَ الَّتِی جاھَدَتِ الْحُسَیْنَ وَشایَعَتْ وَبایَعَتْ وَتابَعَتْ عَلٰی قَتْلِہِ



اے معبود لعنت کر اس جماعت پر جنہوں نے جنگ کی حسین ؑ سے نیز ان پربھی جو قتل حسین ؑ میں ان کے شریک اور ہم رائے تھے



34: اَللّٰھُمَّ الْعَنْھُمْ جَمِیعاً



اے معبود ان سب پر لعنت بھیج



اب سو مرتبہ کہے:



35: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَباعَبْدِ اللہِ وَ عَلَی الْاَرْواحِ الَّتِی حَلَّتْ بِفِنائِکَ،



سلام ہو آپ پراے ابا عبد اللہ اور سلام ان روحوں پر جو آپ کے روضے پر آتی ہیں



36: عَلَیْکَ مِنِّی سَلامُ اللہِ أَبَداً مَابَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّھارُ، وَلَا جَعَلَہُ اللہُ آخِرَ الْعَھْدِ مِنِّی لِزِیارَتِکُمْ،



آپ پر میری طرف سے خدا کا سلام ہو ہمیشہ جب تک زندہ ہوں اور جب تک رات دن باقی ہیں اورخدا قرار نہ دے اس کو میرے لیے آپ کی زیارت کا آخری موقع



37: اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ، وَعَلٰی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ، وَعَلٰی أَوْلادِ الْحُسَیْنِ،وَ عَلٰی أَصْحابِ الْحُسَیْنِ۔



سلام ہو حسینؑ پر اور شہزادہ علیؑ فرزند حسینؑ پر سلام ہو حسینؑ کی اولاد اور حسینؑ کے اصحاب پر



پھر کہے:



38: اَللّٰھُمَّ خُصَّ أَنْتَ أَوَّلَ ظالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنِّی، وَابْدَأْ بِہِ أَوَّلاً، ثُمَّ الْعَنِ الثَّانِیَ وَالثَّالِثَ وَالرَّابِعَ۔



اے معبود!تو مخصوص فرما پہلے ظالم کومیری طرف سے لعنت کیساتھ تو اب اسی لعنت کا آغاز فرماپھرلعنت بھیج دوسرے اور تیسرے اور پھر چوتھے پر لعنت بھیج



39: اَللّٰھُمَّ الْعَنْ یَزِیدَ خامِساً، وَ الْعَنْ عُبَیْدَ اللہِ بْنَ زِیادٍ وَ ابْنَ مَرْجانَةَ وَعُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَشِمْراً وَ آلَ أَبِی سُفْیانَ وَ آلَ زِیادٍ وَ آلَ مَرْوَانَ إلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ۔



اے معبود! لعنت کر یزید پر جو پانچواں ہے اور لعنت کرعبیداللہ فرزند زیاد پر اور فرزند مرجانہ پر عمر فرزند سعد پر اور شمر پر اور اولاد ابوسفیان کواور اولاد زیاد کو اور اولاد مروان کو رحمت سے دور کر قیامت کے دن تک



اسکےبعد سجدے میں جائے اور کہے:



40: اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشَّاکِرِینَ لَکَ عَلٰی مُصَابِھِمْ، اَلْحَمْدُ لِلہِ عَلٰی عَظِیمِ رَزِیَّتِی،



اے معبود! تیرے لیے حمد ہے شکر کرنے والوں کی حمد ،حمد ہے خدا کے لیے جس نے مجھے عزاداری نصیب کی۔



41: اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی شَفاعَةَ الْحُسَیْنِ یَوْمَ الْوُرُودِ، وَثَبِّتْ لِی قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَکَ مَعَ الْحُسَیْنِ وَ أَصْحابِ الْحُسَیْنِ الَّذِینَ بَذَلُوا مُھَجَھُمْ دُونَ الْحُسَیْنِ۔



اے معبود حشر میں آنے کے دن مجھے حسین ؑ کی شفاعت سے بہرہ مند فرما اور میرے قدم کو سیدھا اور پکا بنا جب میں تیرے پاس آؤں حسین ؑ کے ساتھ اور اصحاب حسین ؑ کے ساتھ جنہوں نے حسینؑ کیلئے اپنی جانیں قربان کر دیں۔



علقمہ کابیان ہے کہ امام محمد باقر ؑ نے فرمایا: اگر ممکن ہو تو یہی زیارت ہر روز اپنے گھر میں بیٹھ کرپڑھے، اور اسے وہ سارے ثواب ملیں گے جن کا پہلے ذکر ہوا ہے۔ محمد ابن خالد طیالسی نے سیف ابن عمیر سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا: میں صفوان ابن مہران اور اپنے بعض ساتھیوں کے ہمراہ نجف اشرف کی طرف نکلا جب کہ امام جعفر صادق ؑ حیرہ سے مدینہ روانہ ہو چکے تھے وہاں جب ہم امیر المومنینؑ کی زیارت سے فارغ ہوئے تو صفوان نے اپنا رخ ابو عبد اللہ الحسینؑ کے روضہ مبارک کیطرف کیا اور کہنے لگے اس مقام یعنی امیر المومنینؑ کے سر اقدس کے قریب سے امام حسینؑ کی زیارت کرو۔ کیونکہ امام جعفر صادق ؑ نے اسی جگہ سے اشارہ کرتے ہوئے حضرت کو سلام پیش کیا تھا جب کہ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ سیف کا کہنا ہے کہ صفوان نے وہی زیارت پڑھی جو علقمہ ابن محمد حضرمی نے امام محمد باقر ؑ سے روز عاشورہ کے لیے روایت کی تھی چنانچہ اس نے امیر المومنینؑ کے سرہانے دو رکعت نماز اد اکی اور اس کے بعد حضرت سے وداع کیا۔






دعائے علقمہ



زیارت عاشورا کے بعد کی دعا (دعائے علقمہ)


یہ روایت جو نقل کی جا رہی ہے اس کے سلسلہ بیان میں یہ بھی ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب ؑ سے وداع کے بعد صفوان نے حضرت امام حسینؑ کو سلام پیش کیا۔ جب کہ اس نے اپنا چہرہ ان کے روضہ اقدس کی سمت کیا ہوا تھا زیارت کے بعد اس نے حضرت کا وداع بھی کیا اور جو دعائیں اس نے نماز کے بعد پڑھیں ان میں سے ایک دعا یہ تھی:



یَا اَللہُ یَا اللہُ یَا اَللہُ، یَا مُجِیبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّینَ، یَا کاشِفَ کُرَبِ الْمَکْرُوبِینَ، یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ، یَا صَرِیخَ الْمُسْتَصْرِخِینَ،



اے اللہ اے اللہ اے اللہ اے بے چاروں کی دعا قبول کرنے والے اے مشکلوں والوں کی مشکلیں حل کرنے والے اے داد خواہوں کی داد رسی کرنے والے اے فریادیوں کی فریاد کو پہنچنے والے



وَ یَا مَنْ ھُوَ أَقْرَبُ إلَیَّ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیدِ، وَیَا مَنْ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِہِ، وَیَا مَنْ ھُوَ بِالْمَنْظَرِ الْاَعْلٰی، وَبِالْاُفُقِ الْمُبِینِ،



اور اے وہ جو شہ رگ سے بھی زیادہ میرے قریب ہے اے وہ جو انسان اور اسکے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور وہ جو نظر سے بالا تر جگہ اور روشن تر کنارے میں ہے۔



وَ یَا مَنْ ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیمُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰ، وَ یَا مَنْ یَعْلَمُ خَائِنَةَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُورُ،



اے وہ جو بڑامہربان نہایت رحم والا عرش پرحاوی ہے اے وہ جو آنکھوں کی ناروا حرکت اور دلوں کی باتوں کو جانتا ہے



وَیَا مَنْ لَا یَخْفیٰ عَلَیْہِ خافِیَۃٌ، یَا مَنْ لَا تَشْتَبِہُ عَلَیْہِ الْاَصْواتُ وَیَا مَنْ لَا تُغَلِّطُہُ الْحاجاتُ،



اے وہ جس پر کوئی راز پوشیدہ نہیں اے وہ جس پر آوازیں گڈمڈ نہیں ہوئیں اے وہ جس کو حاجتوں میں بھول نہیں پڑتی



وَیَا مَنْ لَا یُبْرِمُہُ إلْحَاحُ الْمُلِحِّینَ، یَا مُدْرِکَ کُلِّ فَوْتٍ، وَیَا جامِعَ کُلِّ شَمْلٍ،



اے وہ جس کو مانگنے والوں کا اصرار بیزار نہیں کرتا اے ہر گمشدہ کو پالینے والے اے بکھروں کو اکٹھاکرنے والے



وَ یَا بارِءَ النُّفُوسِ بَعْدَ الْمَوْتِ، یَا مَنْ ھُوَ کُلَّ یَوْمٍ فِی شَأْنٍ،



اور اے لوگوں کو موت کے بعد زندہ کرنے والے اے وہ جس کی ہر روز نئی شان ہے



یَاقَاضِیَ الْحاجاتِ، یَا مُنَفِّسَ الْکُرُباتِ، یَا مُعْطِیَ السُّؤُلاتِ، یَا وَلِیَّ الرَّغَباتِ، یَا کافِیَ الْمُھِمَّاتِ،



اے حاجتوں کے پورا کرنے والے اے مصیبتوں کو دور کرنے والے اے سوالوں کے پورا کرنے والے اے خواہشوں پر مختار اے مشکلوں میں مددگار



یَا مَنْ یَکْفِی مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَلَا یَکْفِی مِنْہُ شَیْئٌ فِی السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضِ،



اے وہ جو ہر امر میں مدد گار ہے اور جس کے سوا زمین اور آسمانوں میں کوئی چیز مدد نہیں کرتی



أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَ عَلِیٍّ أَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ، وَبِحَقِّ فاطِمَةَ بِنْتِ نَبِیِّکَ، وَبِحَقِّ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ،



سوال کرتا ہوں تجھ سے نبیوں کے خاتم محمد ؐکے حق کے واسطے اور مومنوں کے امیر علی مرتضی ؑ کے حق کے واسطے تیرے نبیؐ کی دختر فاطمہ ؑ کے حق کے واسطے اور حسن ؑ و حسین ؑ کے حق کے واسطے



فَإنِّی بِھِمْ أَتَوَجَّہُ إلَیْکَ فِی مَقامِی ھٰذَا، وَبِھِمْ أَتَوَسَّلُ،وَبِھِمْ أَتَشَفَّعُ إلَیْکَ،



کیونکہ میں نے انہی کے وسیلے سے تیری طرف رخ کیا اس جگہ جہاں کھڑا ہوں انکو اپناوسیلہ بنایا انہی کو تیرے ہاں سفارشی بنایا



وَ بِحَقِّھِمْ أَسْأَلُکَ وَٲُقْسِمُ وَأَعْزِمُ عَلَیْکَ، وَ بِالشَّأْنِ الَّذِی لَھُمْ عِنْدَکَ وَ بِالْقَدْرِ الَّذِی لَھُمْ عِنْدَکَ، وَ بِالَّذِی فَضَّلْتَھُمْ عَلَی الْعَالَمِینَ،



اور انکے حق کے واسطے تیرا سوالی ہوں اسی کی قسم دیتا ہوں اور تجھ سے طلب کرتا ہوں انکی شان کے واسطے جووہ تیرے ہاں رکھتے ہیں اس مرتبے کا واسطہ جو وہ تیرے حضور رکھتے ہیں کہ جس سے تو نے انکو جہانوں میں بڑائی دی



وَ بِاسْمِکَ الَّذِی جَعَلْتَہُ عِنْدَھُمْ، وَبِہِ خَصَصْتَھُمْ دُونَ الْعَالَمِینَ، وَ بِہِ أَبَنْتَھُمْ وَأَبَنْتَ فَضْلَھُمْ مِنْ فَضْلِ الْعَالَمِینَ حَتّٰی فَاقَ فَضْلُھُمْ فَضْلَ الْعَالَمِینَ جَمِیعاً،



اورتیرے اس نام کے واسطے سے جو تو نے انکے ہاں قرار دیا اور اسکے ذریعے ان کو جہانوں میں خصوصیت عطا فرمائی ان کو ممتاز کیا اور انکی فضیلت کو جہانوں میں سب سے بڑھا دیا یہاں تک کہ ان کی فضلیت تمام جہانوں میں سب سے زیادہ ہو گئی



أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَنْ تَکْشِفَ عَنِّی غَمِّی وَ ھَمِّی وَ کَرْبِی،



سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل کر اور یہ کہ دور فرما دے میرا ہر غم ہر اندیشہ اور ہر دکھ



وَ تَکْفِیَنِی الْمُھِمَّ مِنْ ٲُمُورِی، وَ تَقْضِیَ عَنِّی دَیْنِی، وَ تُجِیرَنِی مِنَ الْفَقْرِ، وَ تُجِیرَنِی مِنَ الْفاقَةِ، وَتُغْنِیَنِی عَنِ الْمَسْأَلَةِ إلَی الْمَخْلُوقِینَ،



اور میری مدد کر ہر دشوار کام میں میرا قرضہ ادا کر دے پناہ دے مجھ کو تنگدستی سے بچا مجھ کو ناداری سے اور بے نیاز کر دے مجھ کو لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے



وَ تَکْفِیَنِی ھَمَّ مَنْ أَخافُ ھَمَّہُ، وَ عُسْرَ مَنْ أَخافُ عُسْرَہُ، وَ حُزُونَةَ مَنْ أَخافُ حُزُونَتَہُ، وَ شَرَّ مَنْ أَخافُ شَرَّہُ، وَ مَکْرَ مَنْ أَخافُ مَکْرَہُ، وَ بَغْیَ مَنْ أَخافُ بَغْیَہُ، وَجَوْرَ مَنْ أَخافُ جَوْرَہُ، وَسُلْطانَ مَنْ أَخافُ سُلْطانَہُ، وَ کَیْدَ مَنْ أَخافُ کَیْدَہُ، وَ مَقْدُرَةَ مَنْ أَخافُ مَقْدُرَتَہُ عَلَیَّ، وَ تَرُدَّ عَنِّی کَیْدَ الْکَیَدَةِ، وَ مَکْرَ الْمَکَرَةِ۔



اور میری مدد فرما اس اندیشے میں جس سے میں ڈرتا ہوں، اور اس تنگی میں جس سے پریشان ہوں، اس غم میں جس سے گھبراتا ہوں، اس تکلیف میں جس سے خوف کھاتا ہوں، اس بری تدبیر سے جس سے ڈرتا رہتا ہوں، اس ظلم سے جس سے سہما ہوا ہوں، اس بے گھر ہونے سے جس سے ترساں ہوں، اسکے تسلط سے جس سے ہراساں ہوں، اس فریب سے جس سے خائف ہوں، اس کی قدرت سے جس سے ڈرتا ہوں، دور کر مجھ سے دھوکہ دینے والوں کے دھوکے اور فریب کاروں کے فریب کو



اَللّٰھُمَّ مَنْ أَرادَنِی فَأَرِدْہُ، وَ مَنْ کادَنِی فَکِدْہُ، وَاصْرِفْ عَنِّی کَیْدَہُ وَمَکْرَہُ وَبَأْسَہُ وَأَمانِیَّہُ



اے معبود جو میرے لیے جیسا قصد کرے تو اسکے ساتھ ویسا قصد کر جو مجھے دھوکہ دے تو اسے دھوکہ دے اور دور کر دے مجھ سے اس کے دھوکے فریب سختی اور اسکی بد اندیشی کو



وَامْنَعْہُ عَنِّی کَیْفَ شِئْتَ وَأَنَّیٰ شِئْتَ۔



روک دے اسے مجھ سے جسطرح تو چاہے اور جہاں چاہے



اَللّٰھُمَّ اشْغَلْہُ عَنِّی بِفَقْرٍ لَاتَجْبُرُہُ، وَبِبَلآءِِ لَاتَسْتُرُہُ وَ بِفاقَةٍ لَاتَسُدُّھا، وَ بِسُقْمٍ لَاتُعافِیہِ، وَذُلٍّ لَاتُعِزُّہُ، وَ بِمَسْکَنَةٍ لَاتَجْبُرُھا۔



اے معبود اس کو میرا خیال بھلا دے ایسے فاقے سے جو دور نہ ہو ایسی مصیبت سے جسے تو نہ ٹالے ایسی تنگدستی سے جسے تو نہ ہٹائے ایسی بیماری سے جس سے تو نہ بچائے ایسی ذلت سے جس میں توعزت نہ دے اور ایسی بے کسی سے جسے تو دور نہ کرے۔



اَللّٰھُمَّ اضْرِبْ بِالذُّلِّ نَصْبَ عَیْنَیْہِ، وَ أَدْخِلْ عَلَیْہِ الْفَقْرَ فِی مَنْزِلِہِ وَالْعِلَّةَ وَ السُّقْمَ فِی بَدَنِہِ حَتّٰی تَشْغَلَہُ عَنِّی بِشُغْلٍ شاغِلٍ لَا فَراغَ لَہُ،



اے معبود میرے دشمن کی خواری اسکے سامنے ظاہر کر دے اسکے گھر میں فقر و فاقہ کو داخل کردے اور اسکے بدن میں دکھ اور بیماری پیدا کر دے یہاں تک کہ مجھے بھول کر اسے اپنی ہی پڑ جائے کہ اسے برائی کاموقع نہ ملے۔



وَأَنْسِہِ ذِکْرِی کَما أَنْسَیْتَہُ ذِکْرَکَ وَ خُذْ عَنِّی بِسَمْعِہِ وَبَصَرِہِ وَ لِسانِہِ وَ یَدِہِ وَ رِجْلِہِ وَ قَلْبِہِ وَ جَمِیعِ جَوارِحِہِ،



اسے میری یاد بھلا دے جیسے اس نے تیری یاد بھلا رکھی ہے اور میری طرف سے اس کے کان اس کی آنکھیں اس کی زبان اس کے ہاتھ اس کے پاؤں اس کا دل اور اس کے تمام اعضاءکو روک دے۔



وَ أَدْخِلْ عَلَیْہِ فِی جَمِیعِ ذٰلِکَ السُّقْمَ وَ لَاتَشْفِہِ حَتّٰی تَجْعَلَ ذٰلِکَ لَہُ شُغْلاً شاغِلاً بِہِ عَنِّی وَعَنْ ذِکْرِی،



اور وارد کر دے ان سب پر بیماری اور اس سے اسے شفا نہ دے یہاں تک کہ بنا دے اس کے لیے ایسی سختی جس میں وہ پڑا رہے کہ مجھ سے اور میری یاد سے غافل ہو جائے



وَ اکْفِنِی یَا کافِیَ مَا لَا یَکْفِی سِواکَ فَإنَّکَ الْکافِی لَا کافِیَ سِواکَ، وَمُفَرِّجٌ لَا مُفَرِّجَ سِواکَ، وَمُغِیثٌ لَا مُغِیثَ سِواکَ، وَجارٌ لَا جارَ سِواکَ،



اور میری مدد کر اے مدد گار کہ تیرے سواکوئی مدد گار نہیں کیونکہ تو میرے لیے کافی ہے تیرے سوا کوئی کافی نہیں تو کشائش دینے والا ہے تیرے سوا کشائش دینے والا نہیں تو فریاد رس ہے تیرے سوا فریاد رس نہیں تو پناہ دینے والا ہے کوئی اور نہیں



خابَ مَنْ کانَ جَارُہُ سِواکَ، وَمُغِیثُہُ سِواکَ وَمَفْزَعُہُ إلٰی سِواکَ وَمَھْرَبُہُ إلٰی سِواکَ وَمَلْجَأہُ إلٰی غَیْرِکَ، وَمَنْجَاہُ مِنْ مَخْلُوقٍ غَیْرِکَ،



نا امید ہوا جسکا تو پناہ دینے والا نہیں جس کا فریاد رس تو نہیں وہ تیرے علاوہ کس سے فریاد کرے اورتیرے علاوہ کس کی طرف بھاگے جو سوائے تیرے کس کی پناہ لے اور جسے بچانے والا سوائے تیرے کوئی اور ہو



فَأَنْتَ ثِقَتِی وَ رَجائِی وَ مَفْزَعِی وَ مَھْرَبِی وَ مَلْجَأی وَ مَنْجایَ،



کیونکہ تو ہی میرا سہارا میری امید گاہ میری جائے فریاد میرے قرار کی جگہ اور میری پناہ گاہ ہے تو مجھے نجات دینے والا ہے



فَبِکَ أَسْتَفْتِحُ،وَ بِکَ أَسْتَنْجِحُ، وَ بِمُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أَتَوَجَّہُ إلَیْکَ، وَ أَتَوَسَّلُ وَأَتَشَفَّعُ،



پس تجھی سے نجات کا طالب ہوں اور کامیابی چاہتا ہوں میں محمد ؐو آل محمد ؐکے واسطے سے تیری طرف آیا اور انہیں وسیلہ بنانا اور شفاعت چاہتا ہوں



فأَسْأَلُکَ یَااَللہُ یَااَللہُ یَااَللہُ،فَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْرُ وَإلَیْکَ الْمُشْتَکَیٰ وَأَنْتَ الْمُسْتَعانُ،



پس سوال ہے تجھ سے اے اللہ اے اللہ اے اللہ پس حمد و شکر تیرے ہی لیے ہے تجھی سے شکایت کی جاتی ہے اور تو ہی مدد کرنے والا ہے



فأَسْأَلُکَ یَااَللہُ یَااَللہُ یَااَللہُ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أَنْ تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ



پس سوال کرتا ہوں تجھ سے اے اللہ اے اللہ اے اللہ محمدؐ و آل محمدؐ کے واسطے سے کہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما



وَأَنْ تَکْشِفَ عَنِّی غَمِّی وَھَمِّی وَکَرْبِی فِی مَقامِی ھٰذَا کَما کَشَفْتَ عَنْ نَبِیِّکَ ھَمَّہُ وَغَمَّہُ وَکَرْبَہُ، وَکَفَیْتَہُ ھَوْلَ عَدُوِّہِ،



اور دور کر دے تومیرا غم میرا اندیشہ اور میرا دکھ اس جگہ جہاں کھڑا ہوں جیسے تو نے دور کیا تھا اپنے نبیؐ کا اندیشہ ان کا غم اور ان کی تنگی اور دشمن سے خوف میں ان کی مدد فرمائی تھی



فَاکْشِفْ عَنِّی کَما کَشَفْتَ عَنْہُ، وَفَرِّجْ عَنِّی کَما فَرَّجْتَ عَنْہُ، وَاکْفِنِی کَما کَفَیْتَہُ،



پس دور کر میری مشکل جیسے ان کی مشکل دور کی تھی اور کشائش دے مجھ کو جیسے ان کو کشائش دی تھی اور میری مدد کر جیسے ان کی مدد فرمائی تھی



وَاصْرِفْ عَنِّی ھَوْلَ مَا أَخافُ ھَوْلَہُ،وَمَؤُنَةَ مَا أَخافُ مَؤُنَتَہُ، وَھَمَّ مَا أَخافُ ھَمَّہُ،بِلَا مَؤُونَةٍ عَلٰی نَفْسِی مِنْ ذٰلِکَ،



میرا خوف دور کر جیسے ان کا خوف دور فرمایا تھا میری تکلیف دور کر جیسے انکی تکلیف دور فرمائی تھی اور وہ اندیشہ مٹا جس سے ڈرتا ہوں بغیر اس کے کہ اس سے مجھے کوئی زحمت اٹھانی پڑے



وَاصْرِفْنِی بِقَضآءِ حَوآئِجِی، وَکِفَایَةِ مَا أَھَمَّنِی ھَمُّہُ مِنْ أَمْرِ آخِرَتِی وَدُنْیَایَ



مجھے پلٹا جبکہ میری حاجات پوری ہو جائیں جس امر کا اندیشہ ہے اس میں مدد دے میرے دنیا و آخرت کے تمام تر معاملات میں



یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَ یَا أَبا عَبْدِ اللہِ،عَلَیْکُما مِنِّی سَلامُ اللہِ أَبَداً مَا بَقِیتُ وَ بَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّھارُ وَ لَاجَعَلَہُ اللہُ آخِرَ الْعَھْدِ مِنْ زِیارَتِکُما وَلَافَرَّقَ اللہُ بَیْنِی وَ بَیْنَکُما۔



اے مومنوں کے امیر اور اے ابا عبداللہؑ آپ پر میری طرف سے خدا کا سلام ہمیشہ ہمیشہ جب تک زندہ ہوں اور رات دن باقی ہیں اور خدا میری اس زیارت کو آپ دونوں کے لیے میری آخری زیارت نہ بنائے اور میرے اور آپ کے درمیان جدائی نہ ڈالے



اَللّٰھُمَّ أَحْیِنِی حَیَاةَ مُحَمَّدٍ وَ ذُرِّیَّتِہِ، وَ أَمِتْنِی مَمَاتَھُمْ، وَتَوَفَّنِی عَلٰی مِلَّتِھِمْ، وَاحْشُرْنِی فِی زُمْرَتِھِمْ، وَلَا تُفَرِّقْ بَیْنِی وَبَیْنَھُمْ طَرْفَةَ عَیْنٍ أَبَداً فِی الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ،



اے معبود مجھے زندہ رکھ محمدؐ اور ان کی اولاد کی طرح مجھے انہی جیسی موت دے مجھے ان کی روش پر وفات دے مجھے ان کے گروہ میں محشور فرما اور میرے اور ان کے درمیان جدائی نہ ڈال ایک پل کی کبھی بھی دنیا اور آخرت میں



یَا أَمِیرَالْمُؤْمِنِینَ وَیَاأَباعَبْدِاللہِ،أَتَیْتُکُما زآئِراً وَمُتَوَسِّلاً إلَی اللہِ رَبِّی وَرَبِّکُما وَمُتَوَجِّھاً إلَیْہِ بِکُما وَمُسْتَشْفِعاً بِکُما إلَی اللہِ تَعالٰی فِی حاجَتِی ھٰذِہِ،



اے امیر المومنین ؑ اور اے ابا عبداللہ ؑ میں آپ دونوں کی زیارت کو آیا کہ اس کو خدا کے ہاں وسیلہ بناؤں جو میرا اور آپ کا رب ہے میں آپ کے ذریعے اس کی طرف متوجہ ہوا ہوں اور آپ دونوں کو خدا کے ہاں سفارشی بناتا ہوں اپنی حاجت کے بارے میں



فَاشْفَعا لِی فَإنَّ لَکُما عِنْدَ اللہِ الْمَقامَ الْمَحْمُودَ، وَالْجاہَ الْوَجِیہَ، وَالْمَنْزِلَ الرَّفِیعَ وَالْوَسِیلَةَ،



پس میری شفاعت کریں کہ آپ دونوں خدا کے حضور پسندیدہ مقام بہت زیادہ آبرو بہت اونچا مرتبہ اور محکم تعلق رکھتے ہیں



إنِّی أَنْقَلِبُ عَنْکُما مُنْتَظِراً لِتَنَجُّزِ الْحاجَةِ وَقَضآئِھا وَنَجاحِھا مِنَ اللہِ بِشَفاعَتِکُما لِی إلَی اللہِ فِی ذٰلِکَ فَلَا أَخِیبُ،



بے شک میں پلٹ رہا ہوں آپ دونوں کے ہاں سے اس انتظار میں کہ میری حاجت پوری ہو اور مراد برآئے خدا کے ہاں آپکی شفاعت کے ذریعے جو میرے حق میں آپ خدا کے ہاں ندا کریں گے لہذا میں مایوس نہیں



وَلَایَکونُ مُنْقَلَبِی مُنْقَلَباً خائِباً خاسِراً، بَلْ یَکُونُ مُنْقَلَبِی مُنْقَلَباً راجِحاً مُفْلِحاً مُنْجِحاً مُسْتَجاباً بِقَضاءِ جَمِیعِ حَوائِجِی وَتَشَفَّعا لِی إلَی اللہِ۔



اور میری واپسی ایسی واپسی نہیں ہے جس میں ناامیدی و ناکامی ہو بلکہ میری واپسی ایسی جو بہترین نفع مند کامیاب قبول دعا کی حامل میری تمام حاجتیں پوری ہونے کے ساتھ ہے جبکہ آپ خدا کے ہاں میرے سفارشی ہیں



اِنْقَلَبْتُ عَلٰی مَا شاءَ اللہُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إلَّا بِاللہِ، مُفَوِّضاً أَمْرِی إلَی اللہِ، مُلْجِئاً ظَھْرِی إلَی اللہِ، مُتَوَکِّلاً عَلَی اللہِ،



میں پلٹ رہا ہوں اس امر پر جو خدا چاہے اور نہیں طاقت و قوت مگر جو خدا سے ملتی ہے میں نے اپنا معاملہ خدا کے سپردکر دیا اس کا سہارا لے کر خدا پر ہی بھروسہ رکھتا ہوں



وَأَقُولُ حَسْبِیَ اللہُ وَکَفیٰ،سَمِعَ اللہُ لِمَنْ دَعا،لَیْسَ لِی وَراءَ اللہِ وَوَرائَکُمْ یَا سادَتِی مُنْتَھیٰ،



اور کہتا ہوں خدا میرا ذمہ دار اور مجھے کافی ہے خدا سنتا ہے جو اسے پکارے میرا کوئی ٹھکانہ نہیں سوائے خدا کے اور سوائے آپ کے اے میرے سردار



مَا شاءَ رَبِّی کانَ وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُنْ، وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إلَّا بِاللہِ أَسْتَوْدِعُکُمَا اللہَ،وَلَاجَعَلَہُ اللہُ آخِرَ الْعَھْدِ مِنِّی إلَیْکُما،



جو میرا رب چاہے وہ ہوتا ہے اور جو وہ نہ چاہے نہیں ہوتا اور نہیں ہے طاقت و قوت مگر جو خدا سے ملتی ہے میں آپ دونوں کو سپرد خدا کرتا ہوں اور خدا اسکوآپکے ہاں میری آخری حاضری قرار نہ دے



اِنْصَرَفْتُ یَا سَیِّدِی یَا أَمِیرَالْمُؤْمِنِینَ وَمَوْلایَ وَ أَنْتَ یَا أَبا عَبْدِ اللہِ یَاسَیِّدِی،



میں واپس جاتا ہوں اے میرے آقا اے مومنوں کے امیر اورمیرے مدد گار اور آپ ہیں اے ابا عبداللہ ؑ اے میرے سردار




*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲


 *آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹


شہر بانو✍️



Comments

Popular posts from this blog

 👈 دعائے کمیل (مفاتیح الجنان مع اردو ترجمہ)

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ

ماہِ صفر میں پیش آنے والے اہم واقعات اور مناسبتیں: