13 رجب شب و روز اعمال
- Get link
- X
- Other Apps
13 رجب شب و روز اعمال
🚩🕋💛 *💫13 رجب کی رات شب* *بیداری 💫*
نماز حضرت جعفر طیار اور نماز شب.
ز یارت آمین اللہ.
کثرت سے صلوات
کثرت سے استغفار.
ز یارت عاشورا
مرحومین کر ہدیہ کریں.
💫13 رجب کی رات 🌃💫
*تیرھویں رجب کی رات کے اعمال*
ماہ رجب ، شعبان اور ماہ رمضان کی تیرھویں شب میں دو رکعت نماز مستحب ہے کہ اسکی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد ایک ایک بار سورہ یٰس ، سورہ ملک اور سورہ قل ھواللہ پڑھے
چودھویں شب میں چار رکعت نماز دو دو رکعت کر کے اسیطرح پڑھے
اور پندرھویں شب میں چھ رکعت نماز دو دو کرکے اسی طرح سے پڑھے
امام جعفر صادق ع کا ارشاد ہے کہ اس طریقے سے یہ تین نمازیں بجالانے والا ان تینوں مہینوں کی تمام فضیلتیں حاصل کرے گا اور سوائے شرک کے اسکے سبھی گناہ معاف ہو جائینگے ۔
🌹 *نوٹ: یہ نمازیں بیٹھ کر بھی پڑھی جا سکتی ہیں*
● ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻧﻤﺎﺯ
ﺩﺱ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ، ﺩﻭ ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﮐﺮﮐﮯ ﭘﮍﮬﯿﮟ، ﺟس ﮑﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺤﻤﺪ کےبعد ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭﻩ ﻋﺎﺩﯾﺎﺕ
ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺳﻮﺭﻩ ﺍﻟﺘﮑﺎﺛﺮ ﭘﮍﮬﯿﮟ.
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺍﺱ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﻌﺎﻑ کر دیگا، ﭘﻞ ﺻﺮﺍﻁ ﭘﺮ ﺗﯿﺰﯼ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﮔﺎ، ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻧﺎﻣﮧ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﮬﺎﺗﮫ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺎ ﺟﺎئیگا، ﺍﺳﮑﺎ ﻣﯿﺰﺍﻥ ﺑﮭﺎﺭﯼ ﮬﻮﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺖ ﺍﻟﻔﺮﺩﻭﺱ ﻣﯿﮟ ﮨﺰﺍﺭ ﺷﮩﺮ ﻋﻄﺎ فرمائے گا.
📚 الإقبال، ص654.
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹
زیارت امین اللہ
یہ زیارت امین اللہ کے نام سے معروف ہے اور انتہائی معتبر زیارت ہے جو زیارات کی تمام کتب اور مصابیح میں منقول ہے علامہ مجلسی فرماتے ہیں یہ متن اور سند کے لحاظ سے بہترین زیارت ہے اور اسے تمام مبارک روضوں میں پڑھنا چاہیے ﴿زائرین حضرات کو چاہیے کہ امیر المؤمنینؑ کے علاوہ اگر کسی اور امام کی زیارت کر رہے ہیں تو امیر المؤمنین علیہ السلام کے بجائے اس معصوم امامؑ کا نام لے مثلًا امام علی رضاؑ کی زیارت کر رہا ہے تو کہے: السلام علیك یا علی ابن موسی رضا ۔ مترجم﴾
اس کی کیفیت یہ ہے کہ معتبر اسناد کے ساتھ جابر نے امام محمد باقر علیہ السلام کے ذریعے امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آنجناب نے قبر امیر المؤمنین علیہ السلام کے قریب کھڑے ہو کر روتے ہوئے ان کلمات کے ساتھ آپ کی زیارت کی:
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا ٲَمِیْنَ ﷲِ فِیْ ٲَرْضِہٖ1
آپ پر سلام ہو اے خدا کی زمین میں اس کے امین
وَحُجَّتَہٗ عَلٰی عِبَادِہٖ2
اور اس کے بندوں پر اس کی حجت
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا ٲَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ3
سلام ہو آپ پر اے مومنوں کے سردار
ٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ جَاھَدْتَ فِی ﷲِ حَقَّ جِھَادِہٖ4
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیا
وَعَمِلْتَ بِكِتَابِہٖ وَاتَّبَعْتَ سُنَنَ نَبِیِّہٖ صَلَّی ﷲُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ5
اس کی کتاب پر عمل کیا اور اس کے نبیؐ کی سنتوں کی پیروی کی خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آلؑ پر
حَتّٰی دَعَاكَ ﷲُ اِلٰی جِوَارِہٖ6
پھر خدا نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا
فَقَبَضَكَ اِلَیْہِ بِاخْتِیَارِہٖ7
اپنے اختیار سے آپ کی جان قبض کر لی
وَٲَلْزَمَ ٲَعْدَائَكَ الْحُجَّۃَ مَعَ مَا لَكَ8
اور آپ کے دشمنوں پر حجت قائم کی
مِنَ الْحُجَجِ الْبَالِغَۃِ عَلٰی جَمِیْعِ خَلْقِہٖ۔9
جبکہ تمام مخلوق کے لئے آپ کے وجود میں بہت سی کامل حجتیں ہیں
اَللّٰھُمَّ فَاجْعَلْ نَفْسِیْ مُطْمَئِنَّۃً بِقَدَرِكَ10
اے اللہ میرے نفس کو ایسا بنا کہ تیری تقدیر پر مطمئن ہو
رَاضِیَۃً بِقَضَائِكَ، مُوْلَعَۃً بِذِكْرِكَ وَدُعَائِكَ11
تیرے فیصلے پر راضی و خوش رہے تیرے ذکر کا مشتاق اور دعا میں حریص ہو
مُحِبَّۃً لِصَفْوَۃِ ٲَوْلِیَائِكَ12
تیرے برگزیدہ دوستوں سے محبت کرنے والا
مَحْبُوْبَۃً فِیْ ٲَرْضِكَ وَسَمَائِكَ13
تیرے زمین و آسمان میں محبوب و منظور ہو
صَابِرَۃً عَلٰی نُزُوْلِ بَلَائِكَ14
تیری طرف سے مصائب کی آمد پر صبر کرنے والا ہو
شَاكِرَۃً لِفَوَاضِلِ نَعْمَائِكَ15
تیری بہترین نعمتوں پر شکر کرنے والا
ذَاكِرَۃً لِسَوَابِغِ اٰلَائِكَ16
تیری کثیر مہربانیوں کو یاد کرنے والا ہو
مُشْتَاقَۃً اِلٰی فَرْحَۃِ لِقَائِكَ17
تیری ملاقات کی خوشی کا خواہاں
مُتَزَوِّدَۃً التَّقْوٰی لِیَوْمِ جَزَائِكَ18
یوم جزا کے لئے تقوی کو زاد راہ بنانے والا ہو
مُسْتَنَّۃً بِسُنَنِ ٲَوْلِیَائِكَ19
تیرے دوستوں کے نقش قدم پر چلنے والا
مُفَارِقَۃً لِاَخْلَاقِ ٲَعْدَائِكَ20
تیرے دشمنوں کے طور طریقوں سے متنفر و دور
مَشْغُوْلَۃً عَنِ الدُّنْیَا بِحَمْدِكَ وَثَنَائِكَ۔21
اور دنیا سے بچ بچا کر تیری حمد و ثناء میں مشغول رہنے والا ہو۔
پھر اپنا رخسار قبر مبارک پر رکھا اور فرمایا:
اَللّٰھُمَّ اِنَّ قُلُوْبَ الْمُخْبِتِیْنَ اِلَیْكَ وَالِھَۃٌ22
اے معبود!بے شک ڈرنے والوں کے قلوب تیرے لئے بے تاب ہیں
وَسُبُلَ الرَّاغِبِیْنَ اِلَیْكَ شَارِعَۃٌ23
شوق رکھنے والوں کے لئے راستے کھلے ہوئے ہیں
وَٲَعْلَامَ الْقَاصِدِیْنَ اِلَیْكَ وَاضِحَۃٌ24
تیرا قصد کرنے والوں کی نشانیاں واضح ہیں
وَٲَفْئِدَۃَ الْعَارِفِیْنَ مِنْكَ فَازِعَۃٌ25
معرفت رکھنے والوں کے دل تجھ سے کانپتے ہیں
وَٲَصْوَاتَ الدَّاعِیْنَ اِلَیْكَ صَاعِدَۃٌ26
تیری بارگاہ میں دعا کرنے والوں کی آوازیں بلند ہیں
وَٲَبْوَابَ الْاِجَابَۃِ لَھُمْ مُفَتَّحَۃٌ27
اور ان کے لئے دعا کی قبولیت کے دروازے کھلے ہیں
وَدَعْوَۃَ مَنْ نَاجَاكَ مُسْتَجَابَۃٌ28
تجھ سے راز و نیاز کرنے والوں کی دعا قبول ہے
وَتَوْبَۃَ مَنْ ٲَنَابَ اِلَیْكَ مَقْبُوْلَۃٌ29
جو تیری طرف پلٹ آئے اس کی توبہ منظور و مقبول ہے
وَعَبْرَۃَ مَنْ بَكٰی مِنْ خَوْفِكَ مَرْحُوْمَۃٌ30
تیرے خوف میں رونے والے کے آنسوؤں پر رحمت ہوتی ہے
وَالْاِغَاثَۃَ لِمَنِ اسْتَغَاثَ بِكَ مَوْجُوْدَۃٌ31
جو تجھ سے فریاد کرے اس کے لئے داد رسی موجود ہے
وَالْاِعَانَۃَ لِمَنِ اسْتَعَانَ بِكَ مَبْذُوْلَۃٌ32
جو تجھ سے مدد طلب کرے اس کو مدد ملتی ہے
وَعِدَاتِكَ لِعِبَادِكَ مُنْجَزَۃٌ33
اپنے بندوں سے کیے گئے تیرے وعدے پورے ہوتے ہیں
وَزَلَلَ مَنِ اسْتَقَالَكَ مُقَالَۃٌ34
تیرے ہاں عذر خواہوں کی خطائیں معاف
وَٲَعْمَالَ الْعَامِلِیْنَ لَدَیْكَ مَحْفُوْظَۃٌ35
اور عمل کرنے والوں کے اعمال محفوظ ہوتے ہیں
وَٲَرْزَاقَكَ اِلَی الْخَلَائِقِ مِنْ لَدُنْكَ نَازِلَۃٌ36
مخلوقات کے لئے رزق و روزی تیری جانب سے ہی آتی ہے
وَعَوَائِدَ الْمَزِیْدِ اِلَیْھِمْ وَاصِلَۃٌ37
اور ان کو مزید عطائیں حاصل ہوتی ہیں
وَذُنُوْبَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ مَغْفُوْرَۃٌ38
طالبانِ بخشش کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں
وَحَوَائِجَ خَلْقِكَ عِنْدَكَ مَقْضِیَّۃٌ39
ساری مخلوق کی حاجتیں تیرے ہاں سے پوری ہوتی ہیں
وَجَوَائِزَ السَّائِلِیْنَ عِنْدَكَ مُوَفَّرَۃٌ40
تجھ سے سوال کرنے والوں کو بہت زیادہ ملتا ہے
وَعَوَائِدَ الْمَزِیْدِ مُتَوَاتِرَۃٌ41
اور پے در پے عطائیں ہوتی ہیں
وَمَوَائِدَ الْمُسْتَطْعِمِیْنَ مُعَدَّۃٌ42
کھانے والوں کیلئے دستر خوان تیار ہے
وَمَنَاھِلَ الظِّمَاءِ مُتْرَعَۃٌ۔43
اور پیاسوں کی خاطر چشمے بھرے ہوئے ہیں
اَللّٰھُمَّ فَاسْتَجِبْ دُعَائِیْ، وَاقْبَلْ ثَنَائِیْ44
اے معبود ! میری دعائیں قبول کر لے اس ثنا کو پسند فرما
وَاجْمَعْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ ٲَوْ لِیَائِیْ45
مجھے میرے اولیاء کے ساتھ جمع کر دے
بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَفَاطِمَۃَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ46
کہ واسطہ دیتا ہوں محمدؐ و علیؑ و فاطمہؑ و حسنؑ و حسینؑ کا
اِنَّكَ وَلِیُّ نَعْمَائِیْ، وَمُنْتَھٰی مُنَایَ47
بے شک تو ہے مجھے نعمتیں دینے والا، میری آرزوؤں کی انتہا،
وَغَایَۃُ رَجَائِیْ فِیْ مُنْقَلَبِیْ وَمَثْوَایَ۔48
دنیا و آخرت میں میری امیدوں کا مرکز۔
کامل الزیارۃ میں اس زیارت کے بعد ان جملوں کا اضافہ ہے:
ٲَنْتَ اِلٰھِیْ وَسَیِّدِیْ وَمَوْلَایَ، اغْفِرْ لِاَوْلِیَائِنَا49
تو میرا معبود میرا آقا اور میرا مالک ہے ہمارے دوستوں کو معاف فرما
وَكُفَّ عَنَّا ٲَعْدَائَنَا، وَاشْغَلْھُمْ عَنْ ٲَذَانَا50
دشمنوں کو ہم سے دور کر ان کو ہمیں ایذا دینے سے باز رکھ
وَٲَظْھِرْ كَلِمَۃَ الْحَقِّ وَاجْعَلْھَا الْعُلْیَا51
کلمہ حق کا ظہور فرما اور اسے بلند قرار دے
وَٲَدْحِضْ كَلِمَۃَ الْبَاطِلِ وَاجْعَلْھَا السُّفْلی52
کلمہ باطل کو دبا دے اور اس کو پست قرار دے
اِنَّكَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۔53
کہ بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
اس کے بعد امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہمارے شیعوں میں سے جو بھی اس زیارت اور دعا کو ضریح امیر المؤمنین علیہ السلام کے نزدیک یا ان کے جانشین ائمہ میں سے کسی مزار کے پاس پڑھے گا تو حق تعالیٰ اس کی پڑھی ہوئی اس زیارت و دعا کو ایک نورانی نوشتہ میں عالم بالا تک پہنچا کر اس پر حضرت رسولؐ کی مہر ثبت کرائے گا۔ وہ نوشتہ اسی صورت میں محفوظ رہے گا اور ظہور قائم آل محمد علیہ السلام کے وقت ان کے حوالے کر دیا جائے گا۔ آنجناب علیہ السلام جنت کی بشارت، سلام خاص اور عزت کے ساتھ اس کا استقبال فرمائیں گے انشاء اللہ۔
مؤلف کہتے ہیں کہ یہ باشرف زیارت زیاراتِ مطلقہ میں بھی شمار ہوتی ہے اور روز غدیر کی زیارات مخصوصہ میں بھی شمار ہوتی ہے۔ نیز یہ زیارت جامعہ کے طور پر بھی معروف ہے کہ جو سبھی ائمہ کے مزارات پر پڑھی جاتی ہے۔
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹
زیارت عاشورہ
صالح ابن عقبہ اور سیف ابن عمیرہ کا بیان ہے کہ علقمہ ابن محمد خضرمی نے کہا ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقرؑ سے عرض کی کہ مجھے ا یسی دعا تعلیم فرمائیں جسے میں دسویں محرم کے دن امام حسینؑ کی نزدیک سے زیارت کرتے وقت پڑھوں اور ایسی دعا بھی تعلیم فرمائیں کہ جو میں اس وقت پڑھوں جب نزدیک سے حضرت کی زیارت نہ کر سکوں اور میں دور کے شہروں اور اپنے گھر سے اشارے کیساتھ امام حسینؑ کو سلام پیش کروں۔ آپ نے فرمایا کہ اے عقلمہ! جب تم دو رکعت نماز ادا کر لو اور اس کے بعد سلام کیلئے حضرت کی طرف اشارہ کرو تو اشارہ کرتے وقت تکبیر کہنے کے بعدمندرجہ ذیل دعا پڑھو۔ کیونکہ جب تم یہ دعا پڑھو گے تو بے شک تم نے ان الفاظ میں دعا کی ہے کہ جن الفاظ میں وہ فرشتے دعا کرتے ہیں جو امام حسینؑ کی زیارت کرنے آتے ہیں‘ چنانچہ خدا تمہارے لیے دس لاکھ درجے لکھے گا اور تم اس شخص کی مانند ہو گے جو حضرت کے ہمراہ شہید ہوا ہو اور تم اس کے درجات میں حصہ دار بن جاؤ گے نیز تم ان افراد میں شمار کیے جاؤ گے جو امام حسینؑ کے ساتھ شہید ہوئے ہیں نیز تمہارے لیے ہر نبی و رسول اور امام مظلوم کے ہر اس زائر کا ثواب لکھا جائے گا جس نے اس دن سے کہ جب سے آپ شہید ہوئے ہیں آپکی زیارت کی ہو۔ آپ پر سلام ہواور آپکے خاندان پر پس وہ زیارت عاشورہ یہ ہے:
1: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَباعَبْدِ اللہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللہِ،
آپ پر سلام ہو اے ابا عبد اللہؑ آپ پر سلام ہو اے رسول خداؐ کے فرزند
2: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَ ابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ،
سلام ہوآپ پر اے امیر المومنین کے فرزند اور اوصیاءکے سردار کے فرزند
3: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِساءِ الْعالَمِینَ ،
سلام ہوآپ پر اے فرزند فاطمہ ؑ جو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں
4: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ثارَ اللہِ وَ ابْنَ ثارِہِ وَ الْوِتْرَ الْمَوْتُورَ،
آپ پر سلام ہو اے قربان خدا اور قربان خدا کے فرزنداور وہ خون جس کا بدلہ لیا جانا ہےاور تن و تنہا رہ جانے والے
5: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی الْاَرْواحِ الَّتِی حَلَّتْ بِفِنائِکَ
آپ پر سلام ہواور ان روحوں پر جو آپ کے آستانوں میں اتری ہیں
6: عَلَیْکُمْ مِنِّی جَمِیعاً سَلامُ اللہِ أَبَداً مَا بَقِیتُ وَ بَقِیَ اللَّیْلُ وَ النَّھارُ
آپ سب پرمیری طرف سے خدا کا سلام ہمیشہ جب تک میں باقی ہوں اور رات دن باقی ہیں
7: یَا أَباعَبْدِ اللہِ،لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِیَّۃُ وَجَلَّتْ وَ عَظُمَتِ الْمُصِیبَۃُ بِکَ عَلَیْنا وَ عَلٰی جَمِیعِ أَھْلِ الْاِسْلامِ وَ جَلَّتْ وَ عَظُمَتْ مُصِیبَتُکَ فِی السَّمٰوَاتِ عَلٰی جَمِیعِ أَھْلِ السَّمٰوَاتِ
اے ابا عبداللہؑ آپ کا سوگ بہت بھاری اور بہت بڑا ہے اور آپ کی مصیبت بہت بڑی ہے ہمارے لیے اور تمام اہل اسلام کے لیے اور بہت بڑی اور بھاری ہے آپ کی مصیبت آسمانوں میں تمام آسمان والوں کے لیے
8: فَلَعَنَ اللہُ ٲُمَّةً أَسَّسَتْ أَسَاسَ الظُّلْمِ وَ الْجَوْرِ عَلَیْکُمْ أَھْلَ الْبَیْتِ،
پس خدا کی لعنت ہو اس گروہ پرجس نے آپ پر ظلم و ستم کرنے کی بنیاد ڈالی اے اہلبیت
9: وَ لَعَنَ اللہُ ٲُمَّةً دَفَعَتْکُمْ عَنْ مَقامِکُمْ وَ أَزالَتْکُمْ عَنْ مَراتِبِکُمُ الَّتِی رَتَّبَکُمُ اللہُ فِیھا،
اور خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکو آپکے مقام سے ہٹایا اور آپ کو اس مرتبے سے گرایا جو خدا نے آپ کو دیا
10: وَ لَعَنَ اللہُ ٲُمَّةً قَتَلَتْکُمْ، وَ لَعَنَ اللہُ الْمُمَھِّدِینَ لَھُمْ بِالتَّمْکِینِ مِنْ قِتالِکُمْ
خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپ کو قتل کیا اور خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے انکو آپکے ساتھ جنگ کرنے کی قوت فراہم کی
11: بَرِئْتُ إلَی اللہِ وَ إلَیْکُمْ مِنْھُمْ وَ أَشْیاعِھِمْ وَ أَتْباعِھِمْ وَ أَوْلِیائِھِمْ،
میں بری ہوں خدا کیسامنے اور آپکے سامنے ان سے انکے مددگاروں انکے پیروکاروں اور انکے ساتھیوں سے
12: یَا أَباعَبْدِاللہِ، إنِّی سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ، وَ حَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ إلٰی یَوْمِ الْقِیامَةِ،
اے ابا عبداللہ میری صلح ہے آپ سے صلح کرنے والے سے اور میری جنگ ہے آپ سے جنگ کرنے والے سے روز قیامت تک
13: وَ لَعَنَ اللہُ آلَ زِیادٍ وَ آلَ مَرْوانَ، وَ لَعَنَ اللہُ بَنِی ٲُمَیَّةَ قاطِبَةً، وَ لَعَنَ اللہُ ابْنَ مَرْجانَةَ، وَ لَعَنَ اللہُ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ، وَ لَعَنَ اللہُ شِمْراً، وَ لَعَنَ اللہُ ٲُمَّةً أَسْرَجَتْ وَ أَلْجَمَتْ وَ تَنَقَّبَتْ لِقِتالِکَ،
اور خدا لعنت کرے اولاد زیاد اور اولاد مروان پر خدا اظہار بیزاری کرے تمام بنی امیہ سے خدا لعنت کرے ابن مرجانہ پر خدا لعنت کرے عمر بن سعد پر خدا لعنت کرے شمر پر اور خدا لعنت کرے جنہوں نے زین کسا لگام دی گھوڑوں کو اور لوگوں کو آپ سے لڑنے کیلئے ابھارا
14: بِأَبِی أَنْتَ وَ ٲُمِّی، لَقَدْ عَظُمَ مُصابِی بِکَ،
میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یقینا آپکی خاطر میرا غم بڑھ گیا ہے
15: فَأَسْأَلُ اللہَ الَّذِی أَکْرَمَ مَقامَکَ، وَ أَکْرَمَنِی بِکَ، أَنْ یَرْزُقَنِی طَلَبَ ثارِکَ مَعَ إمامٍ مَنْصُورٍ مِنْ أَھْلِبَیْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ۔
پس سوال کرتا ہوں خدا سے جس نے آپکو شان عطا کی اور آپکے ذریعے مجھے عزت دی یہ کہ وہ مجھے آپ کے خون کا بدلہ لینے کا موقع دے ان امام منصور ؑ کے ساتھ جو اہل بیت محمدؐ میں سے ہوں گے
16: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی عِنْدَکَ وَجِیھاً بِالْحُسَیْنِ فِی الدُّنْیا وَ الْآخِرَةِ
اے معبود! مجھ کو اپنے ہاں آبرومند بنا حسین ؑ کے واسطے سے دنیا و آخرت میں
17: یَا أَباعَبْدِاللہِ إنِّی أَتَقَرَّبُ إلَی اللہِ، وَ إلٰی رَسُولِہِ، وَ إلٰی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَ إلٰی فاطِمَةَ، وَ إلَی الْحَسَنِ، وَ إلَیْکَ بِمُوَالاتِکَ وَ بِالْبَرائَةِ مِمَّنْ قَاتَلَکَ وَ نَصَبَ لَکَ الْحَرْبَ، وَ بِالْبَرائَةِ مِمَّنْ أَسَّسَ أَسَاسَ الْظُلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَیْکُمْ
اے ابا عبداللہ بے شک میں قرب چاہتا ہوں خدا کا اس کے رسولؐ کا امیر المومنینؑ کا فاطمۃ زہرا ؑ کا حسن مجتبیٰ ؑ کا اور آپ کا قرب آپکی حبداری سے اور اس سے بیزاری کے ذریعے جس نے آپکو قتل کیا اور آتش جنگ بھڑکائی اور اس سے بیزاری کے ذریعے جس نے تم پر ظلم وستم کی بنیاد رکھی
18: وَ أَبْرَٲُ إلَی اللہِ وَ إلٰی رَسُولِہِ مِمَّنْ أَسَّسَ أَساسَ ذٰلِکَ وَ بَنیٰ عَلَیْہِ بُنْیانَہُ، وَ جَریٰ فِی ظُلْمِہِ وَ جَوْرِہِ عَلَیْکُمْ وَ عَلٰی أَشْیاعِکُمْ، بَرِئْتُ إلَی اللہِ وَ إلَیْکُمْ مِنْھُمْ،
اور میں بری الذمہ ہوں اللہ اور اس کے رسول کے سامنے اس سے جس نے ایسی بنیاد قائم کی اور اس پر عمارت اٹھائی اور پھر ظلم و ستم کرنا شروع کیا اور آپ پر اور آپ کے پیروکاروں پر میں بیزاری ظاہر کرتا ہوں خدا اور آپ کے سامنے ان ظالموں سے
19: وَ أَتَقَرَّبُ إلَی اللہِ ثُمَّ إلَیْکُمْ بِمُوالاتِکُمْ وَ مُوالاةِ وَلِیِّکُمْ، وَ بِالْبَرائَةِ مِنْ أَعْدائِکُمْ، وَ النَّاصِبِینَ لَکُمُ الْحَرْبَ، وَ بِالْبَرائَةِ مِنْ أَشْیَاعِھِمْ وَ أَتْبَاعِھِمْ،
اور قرب چاہتا ہوں خدا کا پھر آپ کا آپ سے محبت کی وجہ سے اور آپ کے ولیوں سے محبت کے ذریعے آپکے دشمنوں اور آپکے خلاف جنگ برپا کرنے والوں سے بیزاری کے ذریعے اور انکے طرف داروں اورپیروکاروں سے بیزاری کے ذریعے
20: إنِّی سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ، وَ حَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ، وَ وَلِیٌّ لِمَنْ وَالَاکُمْ، وَ عَدُوٌّ لِمَنْ عَاداکُمْ،
میری صلح ہے آپ سے صلح کرنے والے سے اور میری جنگ ہے آپ سے جنگ کرنے والے سے میں آپکے دوست کا دوست اور آپکے دشمن کا دشمن ہوں
21: فَأَسْأَلُ اللہَ الَّذِی أَکْرَمَنِی بِمَعْرِفَتِکُمْ، وَ مَعْرِفَةِ أَوْلِیَائِکُمْ، وَرَزَقَنِی الْبَرائَةَ مِنْ أَعْدائِکُمْ،
پس سوال کرتا ہوں خدا سے جس نے عزت دی مجھے آپ کی پہچان اور آپکے ولیوں کی پہچان کے ذریعے اور مجھے آپ کے دشمنوں سے بیزاری کی توفیق دی
22: أَنْ یَجْعَلَنِی مَعَکُمْ فِی الدُّنْیا وَ الْاَخِرَةِ، وَ أَنْ یُثَبِّتَ لِی عِنْدَکُمْ قَدَمَ صِدْقٍ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ،
یہ کہ مجھے آپ کے ساتھ رکھے دنیا اور آخرت میں اور یہ کہ مجھے آپ کے حضور سچائی کے ساتھ ثابت قدم رکھے دنیا اور آخرت میں
23: وَ أَسْأَلُہُ أَنْ یُبَلِّغَنِی الْمَقامَ الْمَحْمُودَ لَکُمْ عِنْدَ اللہِ، وَ أَنْ یَرْزُقَنِی طَلَبَ ثارِی مَعَ إمامِ ھُدیً ظَاھِرٍ نَاطِقٍ بِالْحَقِّ مِنْکُمْ،
اور اس سے سوال کرتا ہے کہ مجھے بھی خدا کے ہاں آپ کے پسندیدہ مقام پر پہنچائے نیز مجھے نصیب کرے آپکے خون کا بدلہ لینا اس امام کیساتھ جو ہدایت دینے والا مدد گار رہبرحق بات زبان پر لانے والا ہے تم میں سے
24: وَ أَسْأَلُ اللہَ بِحَقِّکُمْ وَ بِالشَّأْنِ الَّذِی لَکُمْ عِنْدَہُ أَنْ یُعْطِیَنِی بِمُصابِی بِکُمْ أَفْضَلَ مَا یُعْطِی مُصاباً بِمُصِیبَتِہِ، مُصِیبَةً مَا أَعْظَمَھا وَ أَعْظَمَ رَزِیَّتَھا فِی الْاِسْلامِ وَ فِی جَمِیعِ السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضِ۔
اور سوال کرتا ہوں خدا سے آپکے حق کے واسطے اور آپکی شان کے واسطے جوآپ اسکے ہاں رکھتے ہیں یہ کہ وہ مجھ کو عطا کرے آپکی سوگواری پر ایسا بہترین اجر جو اس نے آپکے کسی سوگوار کو دیاہواس مصیبت پر کہ جو بہت بڑی مصیبت ہے اور اسکا رنج و غم بہت زیادہ ہے اسلام میں اور تمام آسمانوں میں اور زمین میں
25: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی فِی مَقَامِی ھٰذَا مِمَّنْ تَنالُہُ مِنْکَ صَلَواتٌ وَ رَحْمَۃٌ وَ مَغْفِرَۃٌ۔
اے معبود قرار دے مجھے اس جگہ پر ان فراد میں سے جن کو نصیب ہوں تیرے درود تیری رحمت اور بخشش
26: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ مَحْیایَ مَحْیا مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمَماتِی مَماتَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ۔
اے معبود قرار دے میرا جینا محمدؐ و آل محمدؐ کا سا جینا اور میری موت کو محمد ؐو آل محمدؐ کی موت کی مانند بنا
27: اَللّٰھُمَّ إنَّ ھٰذَا یَوْمٌ تَبَرَّکَتْ بِہِ بَنُو ٲُمَیَّةَ وَابْنُ آکِلَةِ الْاَکْبادِ، اللَّعِینُ ابْنُ اللَّعِینِ عَلٰی لِسانِکَ وَلِسانِ نَبِیِّکَ فِی کُلِّ مَوْطِنٍ وَمَوْقِفٍ وَقَفَ فِیہِ نَبِیُّکَ۔
اے معبود بے شک یہ وہ دن ہے کہ جس کو نبی امیہ اور کلیجے کھانے والی کے بیٹے نے بابرکت جانتا جو ملعون ابن ملعون ہے تیری زبان پراور تیرے نبی اکرمؐ کی زبان پر ہر شہر میں جہاں رہے اور ہر جگہ کہ جہاں تیرانبی اکرمؐ ٹھہرے
28: اَللّٰھُمَّ الْعَنْ أَباسُفْیانَ وَ مُعَاوِیَةَ وَ یَزِیدَ بْنَ مُعَاوِیَةَ عَلَیْھِمْ مِنْکَ اللَّعْنَۃُ أَبَدَ الْاَبِدِینَ،
اے معبود اظہار بیزاری کر ابو سفیان اور معاویہ اور یزید بن معاویہ سے کہ ان سے اظہار بیزاری ہو تیری طرف سے ہمیشہ ہمیشہ
29: وَھٰذَا یَوْمٌ فَرِحَتْ بِہِ آلُ زِیادٍ وَآلُ مَرْوانَ بِقَتْلِھِمُ الْحُسَیْنَ صَلَواتُ اللہِ عَلَیْہِ،
اور یہ وہ دن ہے جس میں خوش ہوئی اولاد زیاد اور اولاد مروان کہ انہوں نے قتل کیا حسین صلوات اللہ علیہ کو
30: اَللّٰھُمَّ فَضاعِفْ عَلَیْھِمُ اللَّعْنَ مِنْکَ وَالْعَذابَ الْاَلِیمَ۔
اے معبود پس توزیادہ کر دے ان پر اپنی طرف سے لعنت اور عذاب کو
31: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَتَقَرَّبُ إلَیْکَ فِی ھٰذَا الْیَوْمِ وَ فِی مَوْقِفِی ھٰذَا، وَ أَیَّامِ حَیَاتِی بِالْبَرَائَةِ مِنْھُمْ، وَاللَّعْنَةِ عَلَیْھِمْ، وَبِالْمُوَالاةِ لِنَبِیِّکَ وَآلِ نَبِیِّکَ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمُ السَّلَامُ۔
اے معبود بے شک میں تیرا قرب چاہتا ہوں کہ آج کے دن میں اس جگہ پر جہاں کھڑا ہوں اور اپنی زندگی کے دنوں میں ان سے بیزاری کرنے کے ذریعے اور ان پر نفرین بھیجنے کے ذریعے اور بوسیلہ اس دوستی کے جو مجھے تیرے نبیؐ کی آل ؑ سے ہے سلام ہو تیرے نبی ؐاور ان کی آل ؑ پر
پھر سو مرتبہ کہے:
32: اَللّٰھُمَّ الْعَنْ أَوَّلَ ظَالِمٍ ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَ آخِرَ تَابِعٍ لَہُ عَلٰی ذٰلِکَ۔
اے معبود محروم کر اپنی رحمت سے اس پہلے ظالم کو جس نے ضائع کیا محمد ؐو آل محمد ؐکا حق اوراسکو بھی جس نے آخر میں اس کی پیروی کی
33: اَللّٰھُمَّ الْعَنِ الْعِصَابَةَ الَّتِی جاھَدَتِ الْحُسَیْنَ وَشایَعَتْ وَبایَعَتْ وَتابَعَتْ عَلٰی قَتْلِہِ
اے معبود لعنت کر اس جماعت پر جنہوں نے جنگ کی حسین ؑ سے نیز ان پربھی جو قتل حسین ؑ میں ان کے شریک اور ہم رائے تھے
34: اَللّٰھُمَّ الْعَنْھُمْ جَمِیعاً
اے معبود ان سب پر لعنت بھیج
اب سو مرتبہ کہے:
35: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَباعَبْدِ اللہِ وَ عَلَی الْاَرْواحِ الَّتِی حَلَّتْ بِفِنائِکَ،
سلام ہو آپ پراے ابا عبد اللہ اور سلام ان روحوں پر جو آپ کے روضے پر آتی ہیں
36: عَلَیْکَ مِنِّی سَلامُ اللہِ أَبَداً مَابَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّھارُ، وَلَا جَعَلَہُ اللہُ آخِرَ الْعَھْدِ مِنِّی لِزِیارَتِکُمْ،
آپ پر میری طرف سے خدا کا سلام ہو ہمیشہ جب تک زندہ ہوں اور جب تک رات دن باقی ہیں اورخدا قرار نہ دے اس کو میرے لیے آپ کی زیارت کا آخری موقع
37: اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ، وَعَلٰی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ، وَعَلٰی أَوْلادِ الْحُسَیْنِ،وَ عَلٰی أَصْحابِ الْحُسَیْنِ۔
سلام ہو حسینؑ پر اور شہزادہ علیؑ فرزند حسینؑ پر سلام ہو حسینؑ کی اولاد اور حسینؑ کے اصحاب پر
پھر کہے:
38: اَللّٰھُمَّ خُصَّ أَنْتَ أَوَّلَ ظالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنِّی، وَابْدَأْ بِہِ أَوَّلاً، ثُمَّ الْعَنِ الثَّانِیَ وَالثَّالِثَ وَالرَّابِعَ۔
اے معبود!تو مخصوص فرما پہلے ظالم کومیری طرف سے لعنت کیساتھ تو اب اسی لعنت کا آغاز فرماپھرلعنت بھیج دوسرے اور تیسرے اور پھر چوتھے پر لعنت بھیج
39: اَللّٰھُمَّ الْعَنْ یَزِیدَ خامِساً، وَ الْعَنْ عُبَیْدَ اللہِ بْنَ زِیادٍ وَ ابْنَ مَرْجانَةَ وَعُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَشِمْراً وَ آلَ أَبِی سُفْیانَ وَ آلَ زِیادٍ وَ آلَ مَرْوَانَ إلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ۔
اے معبود! لعنت کر یزید پر جو پانچواں ہے اور لعنت کرعبیداللہ فرزند زیاد پر اور فرزند مرجانہ پر عمر فرزند سعد پر اور شمر پر اور اولاد ابوسفیان کواور اولاد زیاد کو اور اولاد مروان کو رحمت سے دور کر قیامت کے دن تک
اسکےبعد سجدے میں جائے اور کہے:
40: اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشَّاکِرِینَ لَکَ عَلٰی مُصَابِھِمْ، اَلْحَمْدُ لِلہِ عَلٰی عَظِیمِ رَزِیَّتِی،
اے معبود! تیرے لیے حمد ہے شکر کرنے والوں کی حمد ،حمد ہے خدا کے لیے جس نے مجھے عزاداری نصیب کی۔
41: اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی شَفاعَةَ الْحُسَیْنِ یَوْمَ الْوُرُودِ، وَثَبِّتْ لِی قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَکَ مَعَ الْحُسَیْنِ وَ أَصْحابِ الْحُسَیْنِ الَّذِینَ بَذَلُوا مُھَجَھُمْ دُونَ الْحُسَیْنِ۔
اے معبود حشر میں آنے کے دن مجھے حسین ؑ کی شفاعت سے بہرہ مند فرما اور میرے قدم کو سیدھا اور پکا بنا جب میں تیرے پاس آؤں حسین ؑ کے ساتھ اور اصحاب حسین ؑ کے ساتھ جنہوں نے حسینؑ کیلئے اپنی جانیں قربان کر دیں۔
علقمہ کابیان ہے کہ امام محمد باقر ؑ نے فرمایا: اگر ممکن ہو تو یہی زیارت ہر روز اپنے گھر میں بیٹھ کرپڑھے، اور اسے وہ سارے ثواب ملیں گے جن کا پہلے ذکر ہوا ہے۔ محمد ابن خالد طیالسی نے سیف ابن عمیر سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا: میں صفوان ابن مہران اور اپنے بعض ساتھیوں کے ہمراہ نجف اشرف کی طرف نکلا جب کہ امام جعفر صادق ؑ حیرہ سے مدینہ روانہ ہو چکے تھے وہاں جب ہم امیر المومنینؑ کی زیارت سے فارغ ہوئے تو صفوان نے اپنا رخ ابو عبد اللہ الحسینؑ کے روضہ مبارک کیطرف کیا اور کہنے لگے اس مقام یعنی امیر المومنینؑ کے سر اقدس کے قریب سے امام حسینؑ کی زیارت کرو۔ کیونکہ امام جعفر صادق ؑ نے اسی جگہ سے اشارہ کرتے ہوئے حضرت کو سلام پیش کیا تھا جب کہ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ سیف کا کہنا ہے کہ صفوان نے وہی زیارت پڑھی جو علقمہ ابن محمد حضرمی نے امام محمد باقر ؑ سے روز عاشورہ کے لیے روایت کی تھی چنانچہ اس نے امیر المومنینؑ کے سرہانے دو رکعت نماز اد اکی اور اس کے بعد حضرت سے وداع کیا۔
دعائے علقمہ
زیارت عاشورا کے بعد کی دعا (دعائے علقمہ)
یہ روایت جو نقل کی جا رہی ہے اس کے سلسلہ بیان میں یہ بھی ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب ؑ سے وداع کے بعد صفوان نے حضرت امام حسینؑ کو سلام پیش کیا۔ جب کہ اس نے اپنا چہرہ ان کے روضہ اقدس کی سمت کیا ہوا تھا زیارت کے بعد اس نے حضرت کا وداع بھی کیا اور جو دعائیں اس نے نماز کے بعد پڑھیں ان میں سے ایک دعا یہ تھی:
یَا اَللہُ یَا اللہُ یَا اَللہُ، یَا مُجِیبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّینَ، یَا کاشِفَ کُرَبِ الْمَکْرُوبِینَ، یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ، یَا صَرِیخَ الْمُسْتَصْرِخِینَ،
اے اللہ اے اللہ اے اللہ اے بے چاروں کی دعا قبول کرنے والے اے مشکلوں والوں کی مشکلیں حل کرنے والے اے داد خواہوں کی داد رسی کرنے والے اے فریادیوں کی فریاد کو پہنچنے والے
وَ یَا مَنْ ھُوَ أَقْرَبُ إلَیَّ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیدِ، وَیَا مَنْ یَحُولُ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ قَلْبِہِ، وَیَا مَنْ ھُوَ بِالْمَنْظَرِ الْاَعْلٰی، وَبِالْاُفُقِ الْمُبِینِ،
اور اے وہ جو شہ رگ سے بھی زیادہ میرے قریب ہے اے وہ جو انسان اور اسکے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور وہ جو نظر سے بالا تر جگہ اور روشن تر کنارے میں ہے۔
وَ یَا مَنْ ھُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیمُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰ، وَ یَا مَنْ یَعْلَمُ خَائِنَةَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُورُ،
اے وہ جو بڑامہربان نہایت رحم والا عرش پرحاوی ہے اے وہ جو آنکھوں کی ناروا حرکت اور دلوں کی باتوں کو جانتا ہے
وَیَا مَنْ لَا یَخْفیٰ عَلَیْہِ خافِیَۃٌ، یَا مَنْ لَا تَشْتَبِہُ عَلَیْہِ الْاَصْواتُ وَیَا مَنْ لَا تُغَلِّطُہُ الْحاجاتُ،
اے وہ جس پر کوئی راز پوشیدہ نہیں اے وہ جس پر آوازیں گڈمڈ نہیں ہوئیں اے وہ جس کو حاجتوں میں بھول نہیں پڑتی
وَیَا مَنْ لَا یُبْرِمُہُ إلْحَاحُ الْمُلِحِّینَ، یَا مُدْرِکَ کُلِّ فَوْتٍ، وَیَا جامِعَ کُلِّ شَمْلٍ،
اے وہ جس کو مانگنے والوں کا اصرار بیزار نہیں کرتا اے ہر گمشدہ کو پالینے والے اے بکھروں کو اکٹھاکرنے والے
وَ یَا بارِءَ النُّفُوسِ بَعْدَ الْمَوْتِ، یَا مَنْ ھُوَ کُلَّ یَوْمٍ فِی شَأْنٍ،
اور اے لوگوں کو موت کے بعد زندہ کرنے والے اے وہ جس کی ہر روز نئی شان ہے
یَاقَاضِیَ الْحاجاتِ، یَا مُنَفِّسَ الْکُرُباتِ، یَا مُعْطِیَ السُّؤُلاتِ، یَا وَلِیَّ الرَّغَباتِ، یَا کافِیَ الْمُھِمَّاتِ،
اے حاجتوں کے پورا کرنے والے اے مصیبتوں کو دور کرنے والے اے سوالوں کے پورا کرنے والے اے خواہشوں پر مختار اے مشکلوں میں مددگار
یَا مَنْ یَکْفِی مِنْ کُلِّ شَیْئٍ وَلَا یَکْفِی مِنْہُ شَیْئٌ فِی السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضِ،
اے وہ جو ہر امر میں مدد گار ہے اور جس کے سوا زمین اور آسمانوں میں کوئی چیز مدد نہیں کرتی
أَسْأَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ خَاتَمِ النَّبِیِّینَ، وَ عَلِیٍّ أَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ، وَبِحَقِّ فاطِمَةَ بِنْتِ نَبِیِّکَ، وَبِحَقِّ الْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ،
سوال کرتا ہوں تجھ سے نبیوں کے خاتم محمد ؐکے حق کے واسطے اور مومنوں کے امیر علی مرتضی ؑ کے حق کے واسطے تیرے نبیؐ کی دختر فاطمہ ؑ کے حق کے واسطے اور حسن ؑ و حسین ؑ کے حق کے واسطے
فَإنِّی بِھِمْ أَتَوَجَّہُ إلَیْکَ فِی مَقامِی ھٰذَا، وَبِھِمْ أَتَوَسَّلُ،وَبِھِمْ أَتَشَفَّعُ إلَیْکَ،
کیونکہ میں نے انہی کے وسیلے سے تیری طرف رخ کیا اس جگہ جہاں کھڑا ہوں انکو اپناوسیلہ بنایا انہی کو تیرے ہاں سفارشی بنایا
وَ بِحَقِّھِمْ أَسْأَلُکَ وَٲُقْسِمُ وَأَعْزِمُ عَلَیْکَ، وَ بِالشَّأْنِ الَّذِی لَھُمْ عِنْدَکَ وَ بِالْقَدْرِ الَّذِی لَھُمْ عِنْدَکَ، وَ بِالَّذِی فَضَّلْتَھُمْ عَلَی الْعَالَمِینَ،
اور انکے حق کے واسطے تیرا سوالی ہوں اسی کی قسم دیتا ہوں اور تجھ سے طلب کرتا ہوں انکی شان کے واسطے جووہ تیرے ہاں رکھتے ہیں اس مرتبے کا واسطہ جو وہ تیرے حضور رکھتے ہیں کہ جس سے تو نے انکو جہانوں میں بڑائی دی
وَ بِاسْمِکَ الَّذِی جَعَلْتَہُ عِنْدَھُمْ، وَبِہِ خَصَصْتَھُمْ دُونَ الْعَالَمِینَ، وَ بِہِ أَبَنْتَھُمْ وَأَبَنْتَ فَضْلَھُمْ مِنْ فَضْلِ الْعَالَمِینَ حَتّٰی فَاقَ فَضْلُھُمْ فَضْلَ الْعَالَمِینَ جَمِیعاً،
اورتیرے اس نام کے واسطے سے جو تو نے انکے ہاں قرار دیا اور اسکے ذریعے ان کو جہانوں میں خصوصیت عطا فرمائی ان کو ممتاز کیا اور انکی فضیلت کو جہانوں میں سب سے بڑھا دیا یہاں تک کہ ان کی فضلیت تمام جہانوں میں سب سے زیادہ ہو گئی
أَسْأَلُکَ أَنْ تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَنْ تَکْشِفَ عَنِّی غَمِّی وَ ھَمِّی وَ کَرْبِی،
سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل کر اور یہ کہ دور فرما دے میرا ہر غم ہر اندیشہ اور ہر دکھ
وَ تَکْفِیَنِی الْمُھِمَّ مِنْ ٲُمُورِی، وَ تَقْضِیَ عَنِّی دَیْنِی، وَ تُجِیرَنِی مِنَ الْفَقْرِ، وَ تُجِیرَنِی مِنَ الْفاقَةِ، وَتُغْنِیَنِی عَنِ الْمَسْأَلَةِ إلَی الْمَخْلُوقِینَ،
اور میری مدد کر ہر دشوار کام میں میرا قرضہ ادا کر دے پناہ دے مجھ کو تنگدستی سے بچا مجھ کو ناداری سے اور بے نیاز کر دے مجھ کو لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے سے
وَ تَکْفِیَنِی ھَمَّ مَنْ أَخافُ ھَمَّہُ، وَ عُسْرَ مَنْ أَخافُ عُسْرَہُ، وَ حُزُونَةَ مَنْ أَخافُ حُزُونَتَہُ، وَ شَرَّ مَنْ أَخافُ شَرَّہُ، وَ مَکْرَ مَنْ أَخافُ مَکْرَہُ، وَ بَغْیَ مَنْ أَخافُ بَغْیَہُ، وَجَوْرَ مَنْ أَخافُ جَوْرَہُ، وَسُلْطانَ مَنْ أَخافُ سُلْطانَہُ، وَ کَیْدَ مَنْ أَخافُ کَیْدَہُ، وَ مَقْدُرَةَ مَنْ أَخافُ مَقْدُرَتَہُ عَلَیَّ، وَ تَرُدَّ عَنِّی کَیْدَ الْکَیَدَةِ، وَ مَکْرَ الْمَکَرَةِ۔
اور میری مدد فرما اس اندیشے میں جس سے میں ڈرتا ہوں، اور اس تنگی میں جس سے پریشان ہوں، اس غم میں جس سے گھبراتا ہوں، اس تکلیف میں جس سے خوف کھاتا ہوں، اس بری تدبیر سے جس سے ڈرتا رہتا ہوں، اس ظلم سے جس سے سہما ہوا ہوں، اس بے گھر ہونے سے جس سے ترساں ہوں، اسکے تسلط سے جس سے ہراساں ہوں، اس فریب سے جس سے خائف ہوں، اس کی قدرت سے جس سے ڈرتا ہوں، دور کر مجھ سے دھوکہ دینے والوں کے دھوکے اور فریب کاروں کے فریب کو
اَللّٰھُمَّ مَنْ أَرادَنِی فَأَرِدْہُ، وَ مَنْ کادَنِی فَکِدْہُ، وَاصْرِفْ عَنِّی کَیْدَہُ وَمَکْرَہُ وَبَأْسَہُ وَأَمانِیَّہُ
اے معبود جو میرے لیے جیسا قصد کرے تو اسکے ساتھ ویسا قصد کر جو مجھے دھوکہ دے تو اسے دھوکہ دے اور دور کر دے مجھ سے اس کے دھوکے فریب سختی اور اسکی بد اندیشی کو
وَامْنَعْہُ عَنِّی کَیْفَ شِئْتَ وَأَنَّیٰ شِئْتَ۔
روک دے اسے مجھ سے جسطرح تو چاہے اور جہاں چاہے
اَللّٰھُمَّ اشْغَلْہُ عَنِّی بِفَقْرٍ لَاتَجْبُرُہُ، وَبِبَلآءِِ لَاتَسْتُرُہُ وَ بِفاقَةٍ لَاتَسُدُّھا، وَ بِسُقْمٍ لَاتُعافِیہِ، وَذُلٍّ لَاتُعِزُّہُ، وَ بِمَسْکَنَةٍ لَاتَجْبُرُھا۔
اے معبود اس کو میرا خیال بھلا دے ایسے فاقے سے جو دور نہ ہو ایسی مصیبت سے جسے تو نہ ٹالے ایسی تنگدستی سے جسے تو نہ ہٹائے ایسی بیماری سے جس سے تو نہ بچائے ایسی ذلت سے جس میں توعزت نہ دے اور ایسی بے کسی سے جسے تو دور نہ کرے۔
اَللّٰھُمَّ اضْرِبْ بِالذُّلِّ نَصْبَ عَیْنَیْہِ، وَ أَدْخِلْ عَلَیْہِ الْفَقْرَ فِی مَنْزِلِہِ وَالْعِلَّةَ وَ السُّقْمَ فِی بَدَنِہِ حَتّٰی تَشْغَلَہُ عَنِّی بِشُغْلٍ شاغِلٍ لَا فَراغَ لَہُ،
اے معبود میرے دشمن کی خواری اسکے سامنے ظاہر کر دے اسکے گھر میں فقر و فاقہ کو داخل کردے اور اسکے بدن میں دکھ اور بیماری پیدا کر دے یہاں تک کہ مجھے بھول کر اسے اپنی ہی پڑ جائے کہ اسے برائی کاموقع نہ ملے۔
وَأَنْسِہِ ذِکْرِی کَما أَنْسَیْتَہُ ذِکْرَکَ وَ خُذْ عَنِّی بِسَمْعِہِ وَبَصَرِہِ وَ لِسانِہِ وَ یَدِہِ وَ رِجْلِہِ وَ قَلْبِہِ وَ جَمِیعِ جَوارِحِہِ،
اسے میری یاد بھلا دے جیسے اس نے تیری یاد بھلا رکھی ہے اور میری طرف سے اس کے کان اس کی آنکھیں اس کی زبان اس کے ہاتھ اس کے پاؤں اس کا دل اور اس کے تمام اعضاءکو روک دے۔
وَ أَدْخِلْ عَلَیْہِ فِی جَمِیعِ ذٰلِکَ السُّقْمَ وَ لَاتَشْفِہِ حَتّٰی تَجْعَلَ ذٰلِکَ لَہُ شُغْلاً شاغِلاً بِہِ عَنِّی وَعَنْ ذِکْرِی،
اور وارد کر دے ان سب پر بیماری اور اس سے اسے شفا نہ دے یہاں تک کہ بنا دے اس کے لیے ایسی سختی جس میں وہ پڑا رہے کہ مجھ سے اور میری یاد سے غافل ہو جائے
وَ اکْفِنِی یَا کافِیَ مَا لَا یَکْفِی سِواکَ فَإنَّکَ الْکافِی لَا کافِیَ سِواکَ، وَمُفَرِّجٌ لَا مُفَرِّجَ سِواکَ، وَمُغِیثٌ لَا مُغِیثَ سِواکَ، وَجارٌ لَا جارَ سِواکَ،
اور میری مدد کر اے مدد گار کہ تیرے سواکوئی مدد گار نہیں کیونکہ تو میرے لیے کافی ہے تیرے سوا کوئی کافی نہیں تو کشائش دینے والا ہے تیرے سوا کشائش دینے والا نہیں تو فریاد رس ہے تیرے سوا فریاد رس نہیں تو پناہ دینے والا ہے کوئی اور نہیں
خابَ مَنْ کانَ جَارُہُ سِواکَ، وَمُغِیثُہُ سِواکَ وَمَفْزَعُہُ إلٰی سِواکَ وَمَھْرَبُہُ إلٰی سِواکَ وَمَلْجَأہُ إلٰی غَیْرِکَ، وَمَنْجَاہُ مِنْ مَخْلُوقٍ غَیْرِکَ،
نا امید ہوا جسکا تو پناہ دینے والا نہیں جس کا فریاد رس تو نہیں وہ تیرے علاوہ کس سے فریاد کرے اورتیرے علاوہ کس کی طرف بھاگے جو سوائے تیرے کس کی پناہ لے اور جسے بچانے والا سوائے تیرے کوئی اور ہو
فَأَنْتَ ثِقَتِی وَ رَجائِی وَ مَفْزَعِی وَ مَھْرَبِی وَ مَلْجَأی وَ مَنْجایَ،
کیونکہ تو ہی میرا سہارا میری امید گاہ میری جائے فریاد میرے قرار کی جگہ اور میری پناہ گاہ ہے تو مجھے نجات دینے والا ہے
فَبِکَ أَسْتَفْتِحُ،وَ بِکَ أَسْتَنْجِحُ، وَ بِمُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أَتَوَجَّہُ إلَیْکَ، وَ أَتَوَسَّلُ وَأَتَشَفَّعُ،
پس تجھی سے نجات کا طالب ہوں اور کامیابی چاہتا ہوں میں محمد ؐو آل محمد ؐکے واسطے سے تیری طرف آیا اور انہیں وسیلہ بنانا اور شفاعت چاہتا ہوں
فأَسْأَلُکَ یَااَللہُ یَااَللہُ یَااَللہُ،فَلَکَ الْحَمْدُ وَلَکَ الشُّکْرُ وَإلَیْکَ الْمُشْتَکَیٰ وَأَنْتَ الْمُسْتَعانُ،
پس سوال ہے تجھ سے اے اللہ اے اللہ اے اللہ پس حمد و شکر تیرے ہی لیے ہے تجھی سے شکایت کی جاتی ہے اور تو ہی مدد کرنے والا ہے
فأَسْأَلُکَ یَااَللہُ یَااَللہُ یَااَللہُ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ أَنْ تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ
پس سوال کرتا ہوں تجھ سے اے اللہ اے اللہ اے اللہ محمدؐ و آل محمدؐ کے واسطے سے کہ محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
وَأَنْ تَکْشِفَ عَنِّی غَمِّی وَھَمِّی وَکَرْبِی فِی مَقامِی ھٰذَا کَما کَشَفْتَ عَنْ نَبِیِّکَ ھَمَّہُ وَغَمَّہُ وَکَرْبَہُ، وَکَفَیْتَہُ ھَوْلَ عَدُوِّہِ،
اور دور کر دے تومیرا غم میرا اندیشہ اور میرا دکھ اس جگہ جہاں کھڑا ہوں جیسے تو نے دور کیا تھا اپنے نبیؐ کا اندیشہ ان کا غم اور ان کی تنگی اور دشمن سے خوف میں ان کی مدد فرمائی تھی
فَاکْشِفْ عَنِّی کَما کَشَفْتَ عَنْہُ، وَفَرِّجْ عَنِّی کَما فَرَّجْتَ عَنْہُ، وَاکْفِنِی کَما کَفَیْتَہُ،
پس دور کر میری مشکل جیسے ان کی مشکل دور کی تھی اور کشائش دے مجھ کو جیسے ان کو کشائش دی تھی اور میری مدد کر جیسے ان کی مدد فرمائی تھی
وَاصْرِفْ عَنِّی ھَوْلَ مَا أَخافُ ھَوْلَہُ،وَمَؤُنَةَ مَا أَخافُ مَؤُنَتَہُ، وَھَمَّ مَا أَخافُ ھَمَّہُ،بِلَا مَؤُونَةٍ عَلٰی نَفْسِی مِنْ ذٰلِکَ،
میرا خوف دور کر جیسے ان کا خوف دور فرمایا تھا میری تکلیف دور کر جیسے انکی تکلیف دور فرمائی تھی اور وہ اندیشہ مٹا جس سے ڈرتا ہوں بغیر اس کے کہ اس سے مجھے کوئی زحمت اٹھانی پڑے
وَاصْرِفْنِی بِقَضآءِ حَوآئِجِی، وَکِفَایَةِ مَا أَھَمَّنِی ھَمُّہُ مِنْ أَمْرِ آخِرَتِی وَدُنْیَایَ
مجھے پلٹا جبکہ میری حاجات پوری ہو جائیں جس امر کا اندیشہ ہے اس میں مدد دے میرے دنیا و آخرت کے تمام تر معاملات میں
یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ وَ یَا أَبا عَبْدِ اللہِ،عَلَیْکُما مِنِّی سَلامُ اللہِ أَبَداً مَا بَقِیتُ وَ بَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّھارُ وَ لَاجَعَلَہُ اللہُ آخِرَ الْعَھْدِ مِنْ زِیارَتِکُما وَلَافَرَّقَ اللہُ بَیْنِی وَ بَیْنَکُما۔
اے مومنوں کے امیر اور اے ابا عبداللہؑ آپ پر میری طرف سے خدا کا سلام ہمیشہ ہمیشہ جب تک زندہ ہوں اور رات دن باقی ہیں اور خدا میری اس زیارت کو آپ دونوں کے لیے میری آخری زیارت نہ بنائے اور میرے اور آپ کے درمیان جدائی نہ ڈالے
اَللّٰھُمَّ أَحْیِنِی حَیَاةَ مُحَمَّدٍ وَ ذُرِّیَّتِہِ، وَ أَمِتْنِی مَمَاتَھُمْ، وَتَوَفَّنِی عَلٰی مِلَّتِھِمْ، وَاحْشُرْنِی فِی زُمْرَتِھِمْ، وَلَا تُفَرِّقْ بَیْنِی وَبَیْنَھُمْ طَرْفَةَ عَیْنٍ أَبَداً فِی الدُّنْیا وَالْآخِرَةِ،
اے معبود مجھے زندہ رکھ محمدؐ اور ان کی اولاد کی طرح مجھے انہی جیسی موت دے مجھے ان کی روش پر وفات دے مجھے ان کے گروہ میں محشور فرما اور میرے اور ان کے درمیان جدائی نہ ڈال ایک پل کی کبھی بھی دنیا اور آخرت میں
یَا أَمِیرَالْمُؤْمِنِینَ وَیَاأَباعَبْدِاللہِ،أَتَیْتُکُما زآئِراً وَمُتَوَسِّلاً إلَی اللہِ رَبِّی وَرَبِّکُما وَمُتَوَجِّھاً إلَیْہِ بِکُما وَمُسْتَشْفِعاً بِکُما إلَی اللہِ تَعالٰی فِی حاجَتِی ھٰذِہِ،
اے امیر المومنین ؑ اور اے ابا عبداللہ ؑ میں آپ دونوں کی زیارت کو آیا کہ اس کو خدا کے ہاں وسیلہ بناؤں جو میرا اور آپ کا رب ہے میں آپ کے ذریعے اس کی طرف متوجہ ہوا ہوں اور آپ دونوں کو خدا کے ہاں سفارشی بناتا ہوں اپنی حاجت کے بارے میں
فَاشْفَعا لِی فَإنَّ لَکُما عِنْدَ اللہِ الْمَقامَ الْمَحْمُودَ، وَالْجاہَ الْوَجِیہَ، وَالْمَنْزِلَ الرَّفِیعَ وَالْوَسِیلَةَ،
پس میری شفاعت کریں کہ آپ دونوں خدا کے حضور پسندیدہ مقام بہت زیادہ آبرو بہت اونچا مرتبہ اور محکم تعلق رکھتے ہیں
إنِّی أَنْقَلِبُ عَنْکُما مُنْتَظِراً لِتَنَجُّزِ الْحاجَةِ وَقَضآئِھا وَنَجاحِھا مِنَ اللہِ بِشَفاعَتِکُما لِی إلَی اللہِ فِی ذٰلِکَ فَلَا أَخِیبُ،
بے شک میں پلٹ رہا ہوں آپ دونوں کے ہاں سے اس انتظار میں کہ میری حاجت پوری ہو اور مراد برآئے خدا کے ہاں آپکی شفاعت کے ذریعے جو میرے حق میں آپ خدا کے ہاں ندا کریں گے لہذا میں مایوس نہیں
وَلَایَکونُ مُنْقَلَبِی مُنْقَلَباً خائِباً خاسِراً، بَلْ یَکُونُ مُنْقَلَبِی مُنْقَلَباً راجِحاً مُفْلِحاً مُنْجِحاً مُسْتَجاباً بِقَضاءِ جَمِیعِ حَوائِجِی وَتَشَفَّعا لِی إلَی اللہِ۔
اور میری واپسی ایسی واپسی نہیں ہے جس میں ناامیدی و ناکامی ہو بلکہ میری واپسی ایسی جو بہترین نفع مند کامیاب قبول دعا کی حامل میری تمام حاجتیں پوری ہونے کے ساتھ ہے جبکہ آپ خدا کے ہاں میرے سفارشی ہیں
اِنْقَلَبْتُ عَلٰی مَا شاءَ اللہُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إلَّا بِاللہِ، مُفَوِّضاً أَمْرِی إلَی اللہِ، مُلْجِئاً ظَھْرِی إلَی اللہِ، مُتَوَکِّلاً عَلَی اللہِ،
میں پلٹ رہا ہوں اس امر پر جو خدا چاہے اور نہیں طاقت و قوت مگر جو خدا سے ملتی ہے میں نے اپنا معاملہ خدا کے سپردکر دیا اس کا سہارا لے کر خدا پر ہی بھروسہ رکھتا ہوں
وَأَقُولُ حَسْبِیَ اللہُ وَکَفیٰ،سَمِعَ اللہُ لِمَنْ دَعا،لَیْسَ لِی وَراءَ اللہِ وَوَرائَکُمْ یَا سادَتِی مُنْتَھیٰ،
اور کہتا ہوں خدا میرا ذمہ دار اور مجھے کافی ہے خدا سنتا ہے جو اسے پکارے میرا کوئی ٹھکانہ نہیں سوائے خدا کے اور سوائے آپ کے اے میرے سردار
مَا شاءَ رَبِّی کانَ وَمَا لَمْ یَشَأْ لَمْ یَکُنْ، وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إلَّا بِاللہِ أَسْتَوْدِعُکُمَا اللہَ،وَلَاجَعَلَہُ اللہُ آخِرَ الْعَھْدِ مِنِّی إلَیْکُما،
جو میرا رب چاہے وہ ہوتا ہے اور جو وہ نہ چاہے نہیں ہوتا اور نہیں ہے طاقت و قوت مگر جو خدا سے ملتی ہے میں آپ دونوں کو سپرد خدا کرتا ہوں اور خدا اسکوآپکے ہاں میری آخری حاضری قرار نہ دے
اِنْصَرَفْتُ یَا سَیِّدِی یَا أَمِیرَالْمُؤْمِنِینَ وَمَوْلایَ وَ أَنْتَ یَا أَبا عَبْدِ اللہِ یَاسَیِّدِی،
میں واپس جاتا ہوں اے میرے آقا اے مومنوں کے امیر اورمیرے مدد گار اور آپ ہیں اے ابا عبداللہ ؑ اے میرے سردار
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*تیرھویں رجب کے دن کے اعمال*
یہ ایام بیض کا پہلا دن ہے اس دن اور اسکے بعد کے دو دنوں میں *روزہ رکھنے کا بہت زیادہ اجر و ثواب ہے*، اگر کوئی شخص عمل ام داؤد بجالانا چاہتا ہے تو اس کیلئے 13 رجب کا روزہ رکھنا ضروری ہے
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
*بنا بر مشہور عام الفیل کے تیس سال بعد اسی روز کعبہ معظمہ میں امیرالمومنین ع کی ولادت باسعادت ہوئی*
*💫13 رجب کا دن💫*
1️⃣روزہ اور عمل ام داؤد بجا لاۓ.
2️⃣ زیارت آل یٰس پڑھے اور زیارت جا معہ کبیرہ.
📒 مفاتیح الجنان
💫ایمان کی دولت میں
اضا فہ اور صالح عمل کی توفیق کیلئے
پا نچ بار صلوات💫
اللھم ارزقنی شفاعت الحسین یوم الورود😭
الہی بحق الحسین علیہ السلام
عجل لولیک الفرج🙏🏻
التماس دعا شھادت🤲🏻
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
💛💫💛💫💛
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹
🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
السَّلام ُ عَلیکَ یَا صَاحِبَ الْعَصْرِ وَالزَّمَانِ🚩
یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻
زیارت آل یٰس
اس ضمن میں آپ ﴿عج﴾ نے یہ بھی فرمایا کہ جب تم لوگ ہمیں وسیلہ بنا کر خدا کی طرف یا ہماری طرف متوجہ ہونا چاہو تو اس طرح کہو جیسا کہ خدائے تعالیٰ نے فرمایا ہے۔
سَلَامٌ عَلٰی اٰلِ یٰسٓ1
سلام ہو اولاد پیغمبرؐ پر
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا دَاعِیَ ﷲِ وَرَبَّانِیَّ اٰیَاتِہٖ2
آپ پر سلام ہو اے خدا کے داعی اور اس کے کلام کے نگہبان
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا بَابَ ﷲِ وَدَیَّانَ دِیْنِہٖ3
سلام ہو آپ پر اے خدا کے باب اور اس کے دین کی حفاظت کرنے والے
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا خَلِیْفَۃَ ﷲِ وَنَاصِرَ حَقِّہٖ4
آپ پر سلام ہو اے خدا کے نائب اور حق کے مددگار
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا حُجَّۃَ ﷲِ وَدَلِیْلَ اِرَادَتِہٖ5
آپ پر سلام ہو اے خدا کی حجت اور اس کے ارادے کے مظہر
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا تَالِیَ كِتَابِ ﷲِ وَتَرْجُمَانِہٖ6
سلام ہو آپ پراے قرآن کے قاری اور اس کی تشریح کرنے والے
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ فِیْ اٰنَاءِ لَیْلِكَ وَٲَطْرَافِ نَہَارِكَ7
آپ پر سلام ہو رات کے اوقات میں اور دن کی ہر گھڑی میں
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا بَقِیَّۃَ ﷲِ فِیْ ٲَرْضِہٖ8
آپ پر سلام ہو اے خدا کی زمین میں اس کے نمائندہ
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا مِیْثَاقَ ﷲِ الَّذِیْ ٲَخَذَھٗ وَوَكَّدَھٗ9
آپ پر سلام ہو اے خدا کے وہ عہد جو اس نے باندھا اور پکّا کیا
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا وَعْدَ ﷲِ الَّذِیْ ضَمِنَہٗ10
آپ پر سلام ہو اے خدا کے وعدہ جس کا وہ ضامن ہے
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ ٲَیُّھَا الْعَلَمُ الْمَنْصُوْبُ11
آپ پر سلام ہو کہ آپ ہیں گاڑا ہوا علم،
وَالْعِلْمُ الْمَصْبُوْبُ، وَالْغَوْثُ12
[آپ] ہیں سپرد شدہ دانش، دادرس،
وَالرَّحْمَۃُ الْوَاسِعَۃُ، وَعْدًا غَیْرَ مَكْذُوْبٍ13
کشادہ تر رحمت اور وہ وعدہ ہیں جو جھوٹا نہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیكَ حِیْنَ تَقُوْمُ14
آپ پر سلام ہوجب آپ قیام کریں گے
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ حِیْنَ تَقْعُدُ15
آپ پر سلام ہو جب منتظر بیٹھے ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ حِیْنَ تَقْرَٲُ وَتُبَیِّنُ16
آپ پر سلام ہو جب آپ قرآن پڑھیں اور تفسیر کریں
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ حِیْنَ تُصَلِّیْ وَتَقْنُتُ17
آپ پر سلام ہو جب آپ نماز گزاریں اور قنوت پڑھیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ حِیْنَ تَرْكَعُ وَتَسْجُدُ18
آپ پر سلام ہو جب آپ رکوع اور سجدہ کرتے ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ حِیْنَ تُھَلِّلُ وَتُكَبِّرُ19
آپ پر سلام ہو جب آپ ذکر الہیٰ کریں
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ حِیْنَ تَحْمَدُ وَتَسْتَغْفِرُ20
آپ پر سلام ہوجب حمد و استغفار کریں
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ حِیْنَ تُصْبِحُ وَتُمْسِیْ21
آپ پر سلام ہوجب آپ صبح اور شام کریں اور تسبیح بجا لائیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ فِی اللَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی22
آپ پر سلام ہو رات میں جب وہ چھا جائے
وَالنَّہَارِ اِذَا تَجَلّٰی23
اور دن میں جب روشن ہو جائے
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ ٲَیُّھَا الْاِمَامُ الْمَٲْمُوْنُ24
آپ پر سلام ہو اے محفوظ امام
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ ٲَیُّھَا الْمُقَدَّمُ الْمَٲْمُوْلُ25
آپ پر سلام ہو جس کے آنے کی آرزو ہے
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ بِجَوَامِعِ السَّلَامِ26
آپ پر سلام ہو ہر طبقے کی طرف سے سلام
ٲُشْھِدُكَ یَا مَوْلَایَ27
میں آپ کو گواہ قرار دیتا ہوں اے میرے آقا
ٲَنِّیْ ٲَشْھَدُ ٲَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا ﷲُ28
اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں
وَحْدَھٗ لَا شَرِیْكَ لَہٗ29
وہ یگانہ ہے اس کا کوئی شریک نہیں
وَٲَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُھٗ وَرَسُوْلُہٗ30
اور یہ کہ حضرت محمدؐ اس کے بندے اور رسول ہیں
لَا حَبِیْبَ اِلَّا ھُوَ وَٲَھْلُہٗ31
سوائے ان کے کوئی حبیب نہیں اور ان کے اہلبیتؑ کے
وَٲُشْھِدُكَ یَا مَوْلَایَ ٲَنَّ عَلِیًّا ٲَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ حُجَّتُہٗ32
آپ کو گواہ بناتا ہوں اے میرے آقا اس پر کہ علیؑ امیر المؤمنین اور اس کی حجت ہیں
وَالْحَسَنَ حُجَّتُہٗ وَالْحُسَیْنَ حُجَّتُہٗ33
حسنؑ اس کی حجت ہیں، حسینؑ اس کی حجت ہیں
وَعَلِیَّ بْنَ الْحُسَیْنِ حُجَّتُہٗ34
اور علیؑ ابن الحسینؑ اس کی حجت
وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ حُجَّتُہٗ35
اور محمدؑ ابن علیؑ اس کی حجت
وَجَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ حُجَّتُہٗ36
اور جعفرؑ ابن محمدؑ اس کی حجت ہیں
وَمُوْسَی بْنَ جَعْفَرٍ حُجَّتُہٗ37
موسیٰؑ بن جعفرؑ اس کی حجت ہیں
وَعَلِیَّ بْنَ مُوْسٰی حُجَّتُہٗ38
علیؑ بن موسیٰؑ اس کی حجت ہیں
وَمُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ حُجَّتُہٗ39
محمدؑ بن علیؑ اس کی حجت ہیں
وَعَلِیَّ بْنَ مُحَمَّدٍ حُجَّتُہٗ40
علیؑ بن محمدؑ اس کی حجت ہیں
وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِیٍّ حُجَّتُہٗ41
حسنؑ بن علیؑ اس کی حجت ہیں
وَٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ حُجَّۃُ ﷲِ42
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپؑ خدا کی حجت ہیں
ٲَنْتُمُ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ43
آپؑ ہی ہیں اول و آخر
وَٲَنَّ رَجْعَتَكُمْ حَقٌّ لَا رَیْبَ فِیْہَا44
اور آپؑ کی رجعت حق ہے اس میں کوئی شک نہیں
یَوْمَ لَا یَنْفَعُ نَفْسًا اِیْمَانُہَا45
اس دن ایمان لانا کچھ نفع نہ دے گا
لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ ٲَوْ كَسَبَتْ فِیْ اِیْمَانِہَا خَیْرًا46
جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو گا یا ایمان کے تحت نیکی کے کام نہ کیے ہوں
وَٲَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ47
اور یقیناً موت حق ہے
وَٲَنَّ نَاكِرًا وَنَكِیْرًا حَقٌّ48
منکر و نکیر حق ہیں
وَٲَشْھَدُ ٲَنَّ النَّشْرَ حَقٌّ49
میں گواہی دیتا ہوں کہ قبر سے باہر آنا حق
وَالْبَعْثَ حَقٌّ، وَٲَنَّ الصِّرَاطَ حَقٌّ50
اور مردوں کا اٹھنا حق ہے، بے شک صراط سے گزرنا حق
وَالْمِرْصَادَ حَقٌّ، وَالْمِیْزَانَ حَقٌّ51
نگرانی ہونا حق اور اعمال کا تولا جانا حق ہے
وَالْحَشْرَ حَقٌّ، وَالْحِسَابَ حَقٌّ52
حشر حق ہے، حساب کتاب حق ہے
وَالْجَنَّۃَ وَالنَّارَ حَقٌّ53
جنت و جہنم حق ہے
وَالْوَعْدَ وَالْوَعِیْدَ بِھِمَا حَقٌّ۔54
ان کے بارے میں وعدہ اور وعید حق ہے
یَا مَوْلَایَ شَقِیَ مَنْ خَالَفَكُمْ55
اے میرے سردار آپؑ کا مخالف بد بخت ہے
وَسَعِدَ مَنْ ٲَطَاعَكُمْ56
اور آپؑ کا پیروکار نیک بخت ہے
فَاشْھَدْ عَلٰی مَا ٲَشْھَدْتُكَ عَلَیْہِ57
پس میں گواہی دیتا ہوں اس کی جس کی آپ نے گواہی دی
وَٲَنَا وَلِیٌّ لَكَ، بَرِیْءٌ مِنْ عَدُوِّكَ58
میں آپؑ کا حبدار اور آپؑ کے دشمن سے بیزار ہوں
فَالْحَقُّ مَا رَضِیْتُمُوْھُ59
پس حق وہ ہے جسے آپؑ پسند کریں
وَالْبَاطِلُ مَا ٲَسْخَطْتُمُوْھُ60
او رباطل وہ ہے جس سے آپؑ ناخوش ہوں
وَالْمَعْرُوْفُ مَا ٲَمَرْتُمْ بِہٖ61
نیکی وہ ہے جس کا آپؑ حکم دیں
وَالْمُنْكَرُ مَا نَھَیْتُمْ عَنْہُ62
اور برائی وہ ہے جس سے آپؑ منع کریں
فَنَفْسِیْ مُؤْمِنَۃٌ بِاللّٰهِ وَحْدَھٗ لَا شَرِیْكَ لَہٗ63
پس میرا دل ایمان رکھتا ہے خدا پر جو یگانہ ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے
وَبِرَسُوْلِہٖ وَبِٲَمِیْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ64
اور اس کے رسولؐ پر اور امیر المؤمنینؑ پر
وَبِكُمْ یَامَوْلَایَ ٲَوَّلِكُمْ وَاٰخِرِكُمْ65
اور آپؑ پر اے میرے آقا ایمان رکھتا ہوں اسی طرح آپؑ کے پہلے اور آخری پر
وَنُصْرَتِیْ مُعَدَّۃٌ لَكُمْ66
اور میری نصرت آپؑ کے لیے حاضر ہے
وَمَوَدَّتِیْ خَالِصَۃٌ لَكُمْ اٰمِیْنَ اٰمِیْنَ67
میری دوستی آپؑ کے لیے خالص ہے۔ قبول فرما، قبول فرما۔
دعا بعدِ زیارت
اس زیارت کے بعد یہ دعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ ٲَسْٲَلُكَ ٲَنْ تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ68
اے معبود یقیناً میں سوال کرتا ہوں تجھ سے کہ اپنے نبی محمدؐپر رحمت فرما
نَبِیِّ رَحْمَتِكَ وَكَلِمَۃِ نُوْرِكَ69
جو رحمت و برکت والے اور تیرا نورانی کلمہ ہیں
وَٲَنْ تَمْلَأَ قَلْبِیْ نُوْرَ الْیَقِیْنِ70
اور یہ کہ میرے دل کو نور یقین سے بھر دے
وَصَدْرِیْ نُوْرَ الْاِیْمَانِ71
اور سینے کو نور ایمان سے بھردے
وَفِكْرِیْ نُوْرَ النِّیَّاتِ72
اور میرے ذہن کو روشن نیتوں سے،
وَعَزْمِیْ نُوْرَ الْعِلْمِ73
میرے ارادے کو نور علم سے،
وَقُوَّتِیْ نُوْرَ الْعَمَلِ74
میری قوت کو نور عمل سے،
وَلِسَانِیْ نُوْرَ الصِّدْقِ75
میری زبان کو نور صداقت سے
وَدِیْنِیْ نُوْرَ الْبَصَائِرِ مِنْ عِنْدِكَ76
اور میرے دین کو اپنی طرف سے بصیرتوں کے نور سے پُر کر دے
وَبَصَرِیْ نُوْرَ الضِّیَاءِ77
میری آنکھ کو نور ضیاء سے،
وَسَمْعِیْ نُوْرَ الْحِكْمَۃِ78
میرے کان کو نور دانش
وَمَوَدَّتِیْ نُوْرَ الْمُوَالَاۃِ لِمُحَمَّدٍ وَاٰلِہٖ عَلَیْھِمُ اَلسَّلَامُ79
اور میری دوستی کو محمد و آل محمد کی محبت کے نور سے بھر دے
حَتّٰی ٲَلْقَاكَ، وَقَدْ وَفَیْتُ بِعَھْدِكَ وَمِیْثَاقِكَ80
حتی کہ تجھ سے ملاقات کروں جبکہ تیرے عہد و پیماں کو پورا کیا ہو
فَتُغَشِّیْنِیْ رَحْمَتَكَ یَا وَلِیُّ یَا حَمِیْدُ۔81
پس تیری رحمت مجھے گھیر لے اے ولی اے تعریف والے
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ حُجَّتِكَ فِیْ ٲَرْضِكَ82
اے معبود محمد مہدیؑ پر درود و رحمت فرما جو تیری زمین میں تیری حجت،
وَخَلِیْفَتِكَ فِیْ بِلَادِكَ83
تیرے شہروں میں تیرے خلیفہ،
وَالدَّاعِیْ اِلٰی سَبِیْلِكَ84
تیرے راستے کی طرف بلانے والے،
وَالْقَائِمِ بِقِسْطِكَ، وَالثَّائِرِ بِٲَمْرِكَ85
تیری عدالت پر قائم رہنے والے، تیرے حکم سے بدلہ لینے والے،
وَلِیِّ الْمُؤْمِنِیْنَ، وَبَوَارِ الْكَافِرِیْنَ86
مومنوں کے ولی، کافروں کے لیے پیام موت،
وَمُجَلِّی الظُّلْمَۃِ، وَمُنِیْرِ الْحَقِّ87
تاریکی میں روشنی کرنے والے، حق کو عیاں کرنے والے
وَالنَّاطِقِ بِالْحِكْمَۃِ وَالصِّدْقِ88
حکمت و سچائی سے کلام کرنے والے
وَكَلِمَتِكَ التَّآمَّۃِ فِیْ ٲَرْضِكَ89
جو تیری زمین میں تیرا کلمۂ کامل
الْمُرْتَقِبِ الْخَائِفِ، وَالْوَلِیِّ النَّاصِحِ90
وہ تیرے فرامین کے نگہبان اور تیرے جبروت سے خوف زدہ ہیں، خیر خواہ ولی،
سَفِیْنَۃِ النَّجَاۃِ، وَعَلَمِ الْھُدٰی91
نجات دلانے والی کشتی، ہدایت کے پرچم
وَنُوْرِ ٲَبْصَارِ الْوَرٰی92
اور لوگوں کی آنکھوں کا نور ہیں
وَخَیْرِ مَنْ تَقَمَّصَ وَارْتَدٰی، وَمُجَلِّی الْعَمٰی93
قمیص اور چادر پہننے والوں میں بہترین اور اندھوں کو آنکھیں دینے والے ہیں
الَّذِیْ یَمْلَاُ الْاَرْضَ عَدْلًا وَقِسْطًا94
جو زمین کو عدل و انصاف سے پُر کریں گے
كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا95
جیسے وہ ظلم و جور سے بھری ہوئی ہو گی
اِنَّكَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔96
بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی وَلِیِّكَ وَابْنِ ٲَوْلِیَائِكَ97
اے معبود اپنے ولی اور اپنے اولیاء کے ﴿نسل در نسل﴾ فرزند پر رحمت نازل فرما
الَّذِیْنَ فَرَضْتَ طَاعَتَھُمْ وَٲَوْجَبْتَ حَقَّھُمْ98
جن کی اطاعت تو نے لازم فرمائی ان کا حق واجب کیا
وَٲَذْھَبْتَ عَنْھُمُ الرِّجْسَ وَطَہَّرْتَھُمْ تَطْھِیْرًا۔99
اور ان سے پلیدی کو دور کیا انہیں پاک رکھا اور خوب پاک۔
اَللّٰھُمَّ انْصُرْھُ وَانْتَصِرْ بِہٖ لِدِیْنِكَ100
اے معبود امام زمانؑ کی مدد کر ان کے ذریعے اپنے دین کو غلبہ دے
وَانْصُرْ بِہٖ ٲَوْلِیَائَكَ وَٲَوْلِیَائَہٗ101
اور ان کے ذریعے قوت دے اپنے دوستوں، ان کے دوستوں،
وَشِیْعَتَہٗ وَٲَنْصَارَھٗ، وَاجْعَلْنَا مِنْھُمْ۔102
شیعوں اور مددگاروں کو، اور ہمیں ان میں سے قرار دے
اَللّٰھُمَّ ٲَعِذْھُ مِنْ شَرِّ كُلِّ بَاغٍ وَطَاغٍ103
اے معبود بچائے رکھ ان کو ہر باغی اور سرکش کے شر سے
وَمِنْ شَرِّ جَمِیْعِ خَلْقِكَ104
اور اپنی مخلوقات کے شر سے ان کو محفوظ رکھ
وَاحْفَظْہُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ105
ان کی نگہبانی کر ان کے آگے سے،
وَمِنْ خَلْفِہٖ وَعَنْ یَمِیْنِہٖ وَعَنْ شِمَالِہٖ106
ان کے پیچھے سے ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے
وَاحْرُسْہُ وَامْنَعْہُ مِنْ ٲَنْ یُوْصَلَ اِلَیْہِ بِسُوْءٍ107
ان کو بچائے رکھ اس سے کہ انہیں کوئی اذیت پہنچے
وَاحْفَظْ فِیْہِ رَسُوْلَكَ وَاٰلَ رَسُوْلِكَ108
ان کی حفاظت کر کے اپنے رسولؐ اور ان کی آلؑ کی حفاطت کر
وَٲَظْھِرْ بِہِ الْعَدْلَ109
ان امام آخرؑ کے ذریعے عدل کو ظاہر کر
وَٲَیِّدْھُ بِالنَّصْرِ110
اور نصرت دے کر ان کو قوی بنا
وَانْصُرْ نَاصِرِیْہِ111
ان کے ناصروں کی مدد فرما
وَاخْذُلْ خَاذِلِیْہِ112
ان کو چھوڑ دے جو ان کو چھوڑ گئے
وَاقْصِمْ قَاصِمِیْہِ113
ان کو کمزور کرنے والوں کی کمر توڑ دے
وَاقْصِمْ بِہٖ جَبَابِرَۃَ الْكُفْرِ114
ان کے ہاتھوں کفر کے سرداروں کو زیر کر
وَاقْتُلْ بِہِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِیْنَ وَجَمِیْعَ الْمُلْحِدِیْنَ115
ان کی تلوار سے کافروں، منافقوں اور سارے بے دینوں کو قتل کرا دے
حَیْثُ كَانُوْا مِنْ مَشَارِقِ الْاَرْضِ وَمَغَارِبِہَا116
وہ جہاں جہاں ہیں زمین کے مشرقوں اور اس کے مغربوں میں
بَرِّہَا وَبَحْرِہَا117
میدانوں اور سمندروں میں
وَامْلَأْ بِہِ الْاَرْضَ عَدْلًا118
ان کے ذریعے زمین کو عدل سے بھر دے
وَٲَظْھِرْ بِہٖ دِیْنَ نَبِیِّكَ صَلَّی ﷲُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمْ119
اور اپنے نبی کے دین کو غالب کر دے
وَاجْعَلْنِیْ اَللّٰھُمَّ مِنْ ٲَنْصَارِھٖ وَٲَعْوَانِہٖ120
اور اے معبود مجھے امام مہدیؑ کے مددگاروں، ان کے ساتھیوں،
وَٲَتْبَاعِہٖ وَشِیْعَتِہٖ121
ان کے پیروکاروں اور ان کے شیعوں میں سے قرار دے
وَٲَرِنِیْ فِیْ اٰلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْھِمُ اَلسَّلَامُ مَا یَٲْمُلُوْنَ122
اور میرے لیے آشکار فرما آلؑ محمدؐ کے بارے میں جس کی وہ تمنا رکھتے ہیں
وَفِیْ عَدُوِّھِمْ مَا یَحْذَرُوْنَ123
اور ان کے دشمنوں میں جس سے وہ دور رہتے ہیں
اِلٰہَ الْحَقِّ اٰمِیْنَ124
اے سچے معبود ایسا ہی ہوا
یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔125
اے صاحب جلال و بزرگی اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
*بسْمِ ﷲِ الرَّحْمَنِ اارَّحِيم*🌹
السَـلاَمُ عَلَيكُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكـَـاتُۃ 🌹
اللهم صل على محمد وآل محمد 🌹
نوٹ یہ لکھنی ہے ابھی
🌹بسم اللہ الرحمٰن الرحیم🌹
السَّلام ُ عَلیکَ یَا صَاحِبَ الْعَصْرِ وَالزَّمَانِ🚩
یا علی علیہ السلام مدد🙏🏻🙏🏻🙏🏻
زیارت جامعہ کبیرہ
شیخ صدوق (رح)نے من لایحضرہ الفقیہ اور عیون میں موسیٰ ابن عبد اللہ نخعی سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا میں نے امام علی نقیؑ سے عرض کی اے فرزند رسول(ص) مجھے ایک ایسی زیارت تعلیم فرمائیے کہ جب میں آپ حضرات معصومینؑ میں سے کسی کی زیارت کرنا چاہوں تو ہر مقام پر اسے پڑھ سکوں آپؑ نے فرمایا کہ جب بھی تم کسی امامؑ کی زیارت کے لیے وہاں پہنچو تو غسل کرنے کے بعد کھڑے ہو کر شہادتیں پڑھتے ہوئے کہو:
1: أَشْھَدُ أَنْ لاَ إلہَ إلاَّ اللہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ عَبْدُہُ وَرَسُولُہُ
میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں معبود سوائے اللہ کے وہ یگانہ ہے کوئی اس کا شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد اس کے بندہ و رسول ہیں۔
جب حرم میں داخل ہو جاؤ اور قبر مبارک پر نظر پڑے تو رک جاؤ اور تیس مرتبہ کہو
اللہ اکبر
آہستہ آہستہ قدم رکھتے ہوئے سکون و وقار کے ساتھ آگے چلو اور کچھ آگے جا کر ٹھہر جاؤ اور تیس مرتبہ کہو
اللہ اکبر
اس کے بعد قبر مبارک کے نزدیک پہنچ کر چالیس مرتبہ کہو
اللہ اکبر
یہاں تک کہ سوتکبیر مکمل ہو جائے۔ جیسا کہ علامہ مجلسی(رح) نے فرمایا ہے ممکن ہے اس طرح سو مرتبہ اللہ اکبر کہنے سے غرض یہ ہو کہ اکثر لوگ جو اہل بیت(ع) کی محبت میں غلو کرتے ہیں وہ ان بزرگواروں کی زیارت کرنے میں کسی ناجائز عمل کی طرف مائل نہ ہونے پائیں یا خدائے تعالیٰ کی عظمت و بزرگی سے غافل نہ ہو جائیں۔ لہذا اس موقع پر ان کو تکبیر کہنے کا حکم دیا گیا تاکہ انہیں باری تعالیٰ کی کبریائی کی یاد دلائی جائے جب سو مرتبہ تکبیر کہہ چکے تو صاحب مزار امام(ع) کی زیارت اس طرح پڑھے:
2: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا أَھْلَ بَیْتِ النُّبُوَّةِ وَمَوْضِعَ الرِّسالَةِ وَمُخْتَلَفَ الْمَلائِکَةِ وَمَھْبِطَ الْوَحْیِ
آپ پر سلام ہو اے خاندان نبوت اے پیغام الہی کے آنے کی جگہ اور ملائکہ کے آنے جانے کے مقام وحی نازل ہونے کی جگہ نزول
3: وَمَعْدِنَ الرَّحْمَةِ وَخُزَّانَ الْعِلْمِ وَمُنْتَھَی الْحِلْمِ وَٲُصُولَ الْکَرَمِ وَقادَةَ الْاَُمَمِ وَ أَوْلِیاءَ النِّعَمِ
رحمت کے مرکز علوم کے خزینہ دار حد درجہ کے بردباراور بزرگواری کے حامل ہیں آپ قوموں کے پیشوا ،نعمتوں کے بانٹنے والے
4: وَعَناصِرَ الْاَبْرارِ وَ دَعائِمَ الْاَخْیارِ وَساسَةَ الْعِبادِ وَ أَرْکانَ الْبِلادِ وَ أَبْوابَ الْاِیمانِ وَ ٲُمَناءَ الرَّحْمنِ
سرمایۂ نیکو کاران، پارساؤں کے ستون، بندوں کے لیے تدبیر کار، آبادیوں کے سردار، ایمان و اسلام کے دروازے،اور خدا کے امانتدار ہیں
5: وَ سُلالَةَ النَّبِیِّینَ وَ صَفْوَةَ الْمُرْسَلِینَ وَ عِتْرَةَ خِیَرَةِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَ رَحْمَۃُ اللهِ وَبَرَکاتُہُ۔
اور آپ نبیوں کی نسل و اولاد رسولوں کے پسندیدہ اور جہانوں کے رب کے پسند شد گان کی اولاد ہیں آپ(ع) پر سلام خدا کی رحمت ہو
6: اَلسَّلَامُ عَلَی أَئِمَّةِ الْھُدَیٰ وَمَصابِیحِ الدُّجَیٰ وَأَعْلامِ التُّقَیٰ وَذَوِی النُّھَیٰ وَٲُولِی الْحِجَیٰ
اور اس کی برکات ہوں آپ(ع) پر جو ہدایت دینے والے امام(ع) ہیں تاریکیوں کے چراغ ہیں پرہیز گاری کے نشان صاحبان عقل و خرد اورمالکان دانش ہیں آپ،
7: وَکَھْفِ الْوَرَیٰ وَوَرَثَةِ الْاَنْبِیاءِ وَالْمَثَلِ الْاَعْلَیٰ وَالدَّعْوَةِ الْحُسْنَیٰ وَحُجَجِ اللهِ عَلَی أَھْلِ الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ وَالْاُولَی وَرَحْمَۃُ اللهِ وَبَرَکاتُہُ۔
لوگوں کی پناہ گاہ نبیوں کے وارث بلندترین نمونہ عمل اور بہترین دعوت دینے والے ہیں آپ دنیا والوں پر خدا کی حجتیں ہیں آغاز و انجام میں آپ(ع) پر سلام خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں
8: اَلسَّلَامُ عَلَی مَحالِّ مَعْرِفَةِ اللهِ وَمَساکِنِ بَرَکَةِ اللهِ وَ مَعَادِنِ حِکْمَةِ اللهِ وَ حَفَظَةِ سِرِّ اللهِ وَحَمَلَةِ کِتابِ اللهِ
سلام ہو خد اکی معرفت کے ذریعوں پر جو خدا کی برکت کے مقام اور خدا کی حکمت کی کانیں ہیں خدا کے رازوں کے نگہبان خدا کی کتاب کے حامل
9: وَأَوْصِیاءِ نَبِیِّ اللهِ وَذُرِّیَّةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وآلِہِ وَرَحْمَۃُ اللهِ وَبَرَکاتُہُ۔
خدا کے آخری نبیؐ کے جانشین اور خدا کے رسول(ص) کی اولاد ہیں خدا ان پر اور ان کی آل(ع) پر درود بھیجے اور خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں
10: اَلسَّلَامُ عَلَی الدُّعاةِ إلَی اللهِ وَالْاَدِلاّءِ عَلَی مَرْضاةِ اللهِ وَالْمُسْتَقِرِّینَ فِی أَمْرِ اللهِ وَالتَّامِّینَ فِی مَحَبَّةِ اللهِ
سلام ہو خدا کی طرف بلانے والوں پر اور خدا کی رضاؤں سے آگاہ کرنے والوں پر جو خدا کے معاملے میں ایستادہ خدا کی محبت میں سب سے کامل
11: وَالْمُخْلِصِینَ فِی تَوْحِیدِ اللهِ وَالْمُظْھِرِینَ لِأَمْرِ اللّٰهِ وَنَهْيِهِ وَعِبادِهِ الْمُکْرَمِینَ
اور خدا کی توحید کے عقیدے میں کھرے ہیں وہ خدا کے امرونہی کو بیان کرنے والے اور اس کے گرامی قدر بندے ہیں
12: الَّذِینَ لاَ یَسْبِقُونَہُ بِالْقَوْلِ وَھُمْ بأَمْرِہِ یَعْمَلُونَ وَرَحْمَۃُ اللهِ وَبَرَکاتُہُ۔
کہ جو اسکے آگے بولنے میں پہل نہیں کرتے اور اسکے حکم پر عمل کرتے ہیں ان پر خدا کی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں
13: اَلسَّلَامُ عَلَی الْاَئِمَّةِ الدُّعاةِ و َالْقادَةِ الْھُداةِ وَ السَّادَةِ الْوُلاةِ وَالذَّادَةِ الْحُماةِ وَأَھْلِ الذِّکْرِ
سلام ہو ان پر جو دعوت دینے والے امام ہیں ہدایت دینے والے راہنما صاحب ولایت سردار حمایت کرنے والے نگہدار ذکر الہی کرنے والے
14: وَٲُولِی الْاَمْرِ وَبَقِیَّةِ اللهِ وَخِیَرَتِہِ وَحِزْبِہِ وَعَیْبَةِ عِلْمِہِ وَحُجَّتِہِ وَصِراطِہِ وَنُورِہِ وَبُرْھَانِہِ وَرَحْمَۃُ اللهِ وَبَرَکاتُہُ۔
اور والیانِ امر ہیں وہ خدا کا سرمایہ اس کے پسندیدہ اس کی جماعت اور اس کے علوم کا خزانہ ہیں وہ خدا کی حجت اس کا راستہ اس کا نور اور اسکی نشانی ہیں خداکی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں
15: أَشْھَدُ أَنْ لاَ إلہَ إلاَّ اللہُ وَحْدَہُ لاَ شَرِیکَ لَہُ کَما شَھِدَ اللہُ لِنَفْسِہِ وَشَھِدَتْ لَہُ مَلائِکَتُہُ وَٲُولُو الْعِلْمِ مِنْ خَلْقِہِ لاَ إلہَ إلاَّ ھُوَالْعَزِیزُ الْحَکِیمُ
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو یکتا ہے کوئی اسکا شریک نہیں جیسا کہ خدا نے اپنے لیے گواہی دی اسکے ساتھ اسکے فرشتے اور اسکی مخلوق میں سے صاحبان علم بھی گواہ ہیں کہ کوئی معبود نہیں مگر وہی
16: وَ أَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُہُ الْمُنْتَجَبُ وَ رَسُولُہُ الْمُرْتَضَی أَرْسَلَہُ بِالْھُدَی وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکوُنَ
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ص)اسکے برگزیدہ بندے اور اسکے پسند کردہ رسول(ص) ہیں جن کو اس نے ہدایت اور سچے دین کیساتھ بھیجاتا کہ وہ اسے تمام دینوں پر غالب کر دیں اگر چہ مشرک پسند نہ بھی کریں
17: وَ أَشْھَدُ أَنَّکُمُ الْاَئِمَّۃُ الرَّاشِدُونَ الْمَھْدِیُّونَ الْمَعْصُومُونَ الْمُکَرَّمُونَ الْمُقَرَّبُونَ الْمُتَّقُونَ الصَّادِقُونَ الْمُصْطَفُونَ
اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امام ہیں ہدایت والے سنورے ہوئے گناہ سے بچائے ہوئے بزرگیوں والے اس سے نزدیک تر پرہیز گار صدق والے چنے ہوئے
18: الْمُطِیعُونَ لِلہِ الْقَوَّامُونَ بِأَمْرِہِ الْعامِلونَ بِإِرَادَتِہِ الْفائِزُونَ بِکَرَامَتِہِ اصْطَفاکُمْ بِعِلْمِہِ وَارْتَضاکُمْ لِغَیْبِہِ وَاخْتارَکُمْ لِسِرِّہِ وَاجْتَباکُمْ بِقُدْرَتِہِ وَأَعَزَّکُمْ بِھُداہُ
خدا کے اطاعت گزار اس کے حکم پر کمر بستہ اس کے ارادے پر عمل کرنیوالے اور اس کی مہربانی سے کامیاب ہیں کہ اس نے اپنے علم کیلئے آپ (ع)کو چنا اپنے غیب کیلئے آپکو پسند کیا اپنے راز کیلئے آپکو منتخب کیا اپنی قدرت سے آپکو اپنا بنایا اپنی ہدایت سے عزت دی
19: وَخَصَّکُمْ بِبُرْھَانِہِ وَانْتَجَبَکُمْ لِنُورِہِ وَأَیَّدَکُمْ بِرُوحِہِ وَرَضِیَکُمْ خُلَفاءَ فِی أَرْضِہِ
اور اپنی دلیل کیلئے خاص کیااس نے آپکو اپنے نور کیلئے چنا روح القدس سے آپکو قوت دی اپنی زمین میں آپ کو اپنا نائب قرار دیا
20: وَحُجَجاً عَلَی بَرِیَّتِہِ وَأَنْصاراً لِدِینِہِ وَحَفَظَةً لِسِرِّہِ وَخَزَنَةً لِعِلْمِہِ وَمُسْتَوْدَعاً لِحِکْمَتِہِ
اپنی مخلوق پر اپنی حجتیں بنایا اپنے دین کے ناصر اور اپنے راز کے نگہدار اور اپنے علم کے خزینہ دار بنایا اپنی حکمت انکے سپرد کی
21: وَتَرَاجِمَةً لِوَحْیِہِ وَأَرْکاناً لِتَوْحِیدِہِ وَشُھَداءَ عَلَی خَلْقِہِ وَ أَعْلاماً لِعِبادِہِ وَمَناراً فِی بِلادِہِ
آپ (ع)کو اپنی وحی کے ترجمان اور اپنی توحید کا مبلغ بنایا اس نے آپکو اپنی مخلوق پر گواہ قرار دیا اپنے بندوں کیلئے نشان منزل اپنے شہروں کی روشنی
22: وَ أَدِلَّاءَ عَلَی صِرَاطِہِ عَصَمَکُمُ اللہُ مِنَ الزَّلَلِ وَآمَنَکُمْ مِنَ الْفِتَنِ وَطَهَّرَکُمْ مِنَ الدَّنَسِ
اور اپنے راستے کے رہبر قرار دیاخدا نے آپکو خطاؤں سے بچایا فتنوں سے محفوظ کیا اور ہر آلودگی سے صاف رکھا آلائش آپ سے دور کر دی
23: وَأَذْھَبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ وَطَهَّرَکُمْ تَطْھِیراً فَعَظَّمْتُمْ جَلالَہُ وَ أَکْبَرْتُمْ شَأْنَہُ وَمَجَّدْتُمْ کَرَمَہُ
اور آپکو پاک رکھا جیسے پاک رکھنے کا حق ہے پس آپ نے اسکے جلال کی بڑائی کی اسکے مقام کو بلند جانااسکی بزرگی کی توصیف کی
24: وَأَدَمْتُمْ ذِکْرَہُ وَوَکَّدْتُمْ مِیثاقَہُ وَأَحْکَمْتُمْ عَقْدَ طاعَتِہِ وَنَصَحْتُمْ لَہُ فِی السِّرِّ وَالْعَلانِیَةِ
اس کے ذکر کو جاری رکھا اسکے عہد کوپختہ کیا اسکی فرمانبرداری کے عقیدے کو محکم بنایا آپ نے پوشیدہ و ظاہر اسکا ساتھ دیا
25: وَدَعَوْتُمْ إلَی سَبِیلِہِ بِالْحِکْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَبَذَلْتُمْ أَنْفُسَکُمْ فِی مَرْضاتِہِ
اور اس کے سیدھے راستے کی طرف لوگوں کو دانشمندی اور بہترین نصیحت کے ذریعے بلایا آپ نے اس کی رضا کیلئے اپنی جانیں قربان کیں
26: وَصَبَرْتُمْ عَلَی مَا أَصابَکُمْ فِی جَنْبِہِ وَأَقَمْتُمُ الصَّلاةَ وَآتَیْتُمُ الزَّکَاةَ وَأَمَرْتُمْ بِالْمَعْرُوفِ
اور اسکی راہ میں آپکو جو دکھ پہنچے انکو صبر سے جھیلا آپ نے نماز قائم کی اور زکواۃ دیتے رہے آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا
27: وَنَھَیْتُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ وَجاھَدْتُمْ فِی اللهِ حَقَّ جِھَادِہِ حَتَّی أَعْلَنْتُمْ دَعْوَتَہُ وَبَیَّنْتُمْ فَرائِضَہُ وَأَقَمْتُمْ حُدُودَہُ
برے کاموں سے منع فرمایا اور خدا کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیا چنانچہ آپ نے اسکاپیغام عام کیا اسکے عائد کردہ فرائض بتائے اور اسکی مقررہ حدیں جاری کیں
28: وَنَشَرْتُمْ شَرائِعَ أَحْکامِہِ وَسَنَنْتُمْ سُنَّتَہُ وَصِرْتُمْ فِی ذلِکَ مِنْہُ إلَی الرِّضا
آپ(ع) نے اسکے احکام بیان کیے اسکے طریقے رائج کیے اور اس میں آپ اسکی رضا کے طالب ہوئے
29: وَسَلَّمْتُمْ لَہُ الْقَضاءَ وَصَدَّقْتُمْ مِنْ رُسُلِہِ مَنْ مَضَیٰ فَالرَّاغِبُ عَنْکُمْ مارِقٌ وَاللاَّزِمُ لَکُمْ لاحِقٌ
آپ(ع) نے اسکے ہر فیصلے کو تسلیم کیا اور آپ نے اسکے گذشتہ پیغمبروں کی تصدیق کی پس آپ سے ہٹنے والا دین سے نکل گیا آپکا ہمراہی دیندار رہا
30: وَالْمُقَصِّرُ فِی حَقِّکُمْ زاھِقٌ وَالْحَقُّ مَعَکُمْ وَفِیکُمْ وَمِنْکُمْ وَ إلَیْکُمْ
اور آپکے حق کو کم سمجھنے والا نابود ہواحق آپ(ع) کیساتھ ہے آپ(ع) میں ہے آپ(ع) کیطرف سے ہے آپ(ع) کیطرف آیا ہے
31: وَأَنْتُمْ أَھْلُہُ وَمَعْدِنُہُ وَمِیراثُ النُّبُوَّةِ عِنْدَکُمْ وَ إیابُ الْخَلْقِ إلَیْکُمْ وَحِسابُھُمْ عَلَیْکُمْ
آپ حق والے ہیں اور مرکز حق ہیں نبوت کا ترکہ آپ(ع) کے پاس ہے لوگوں کی واپسی آپ(ع) کی طرف اور ان کا حساب آپ کو لینا ہے
32: وَفَصْلُ الْخِطابِ عِنْدَکُمْ وَآیاتُ اللهِ لَدَیْکُمْ وَعَزائِمُہُ فِیکُمْ وَنُورُهُ وَبُرْهانُهُ عِنْدَكُمْ، وَأَمْرُهُ إِلَيْكُمْ
آپ حق و باطل کا فیصلہ کرنے والے ہیں خدا کی آیتیں اور اسکے ارادے آپکے دلوں میں ہیں اسکا نور اور محکم دلیل آپکے پاس ہے اور اسکا حکم آپکی طرف آیا ہے
33: مَنْ والاکُمْ فَقَدْ والَی اللهَ وَمَنْ عاداکُمْ فَقَدْ عادَی اللهَ وَمَنْ أَحَبَّکُمْ فَقَدْ أَحَبَّ اللهَ
آپکا دوست خدا کا دوست اور جو آپکا دشمن ہے وہ خدا کا دشمن ہے جس نے آپ سے محبت کی اس نے خدا سے محبت کی
34: وَمَنْ أَبْغَضَکُمْ فَقَدْ أَبْغَضَ اللهَ وَمَنِ اعْتَصَمَ بِکُمْ فَقَدِ اعْتَصَمَ بِاللهِ أَنْتُمُ الصِّراطُ الْاَقْوَمُ
اور جس نے آپ(ع) سے نفرت کی اس نے خدا سے نفرت کی اور جو آپ سے وابستہ ہوا وہ خدا سے وابستہ ہوا کیونکہ آپ سیدھا راستہ
35: وَشُھَداءُ دارِ الْفَناءِ وَشُفَعاءِ دارِ الْبَقاءِ وَالرَّحْمَۃُ الْمَوْصُولَۃُ وَالْاَیَۃُ الْمَخْزُونَۃُ وَالْاَمانَۃُ الْمَحْفُوظَۃُ
دنیا میں لوگوں پر شاہد و گواہ اور آخرت میں شفاعت کرنے والے ہیں آپ ختم نہ ہونے والی رحمت محفوظ شدہ آیت سنبھالی ہوئی امانت
36: وَالْبابُ الْمُبْتَلَیٰ بِہِ النَّاسُ مَنْ أَتَاکُمْ نَجَا وَمَنْ لَمْ یَأْتِکُمْ ھَلَکَ إلَی اللهِ تَدْعُونَ
اور وہ راستہ ہیں جس سے لوگ آزمائے جاتے ہیں جو آپکے پاس آیا نجات پاگیا اور جو ہٹا رہا وہ تباہ ہو گیا آپ خدا کیطرف بلانے والے
37: وَعَلَیْہِ تَدُلُّونَ وَبِہِ تُؤْمِنُونَ وَلَہُ تُسَلِّمُونَ وَبِأَمْرِہِ تَعْمَلُونَ وَ إلَی سَبِیلِہِ تُرْشِدُونَ
اور اسکی طرف رہبری کرنے والے ہیں آپ اس پر ایمان رکھتے اور اسکے فرمانبردار ہیں آپ اسکا حکم ماننے والے اسکے راستے کی طرف لے جانے والے
38: وَ بِقَوْلِہِ تَحْکُمُونَ سَعَدَ مَنْ والاکُمْ وَھَلَکَ مَنْ عاداکُمْ وَخابَ مَنْ جَحَدَکُمْ
اور اسکے حکم سے فیصلہ دینے والے ہیں کامیاب ہوا وہ جو آپکا دوست ہے ہلاک ہوا وہ جو آپکا دشمن ہے اور خوار ہواوہ جس نے آپکا انکار کیا
39: وَضَلَّ مَنْ فارَقَکُمْ وَفازَ مَنْ تَمَسَّکَ بِکُمْ وأَمِنَ مَنْ لَجَأَ إلَیْکُمْ
گمراہ ہوا وہ جو آپ(ع) سے جدا ہوا اور بامراد ہوا وہ جو آپکے ہمراہ رہا اور اسے امن ملا جس نے آپکی پناہ لی
40: وَسَلِمَ مَنْ صَدَّقَکُمْ وَھُدِیَ مَنِ اعْتَصَمَ بِکُمْ مَنِ اتَّبَعَکُمْ فَالْجَنَّۃُ مَأْواہُ وَمَنْ خالَفَکُمْ
سلامت رہا وہ جس نے آپکی تصدیق کی اور ہدایت پاگیا وہ جس نے آپکا دامن پکڑاجس نے آپکی اتباع کی اسکا مقام جنت ہے اور جس نے آپکی نافرمانی
41: فَالنَّارُ مَثْواہُ وَمَنْ جَحَدَکُمْ کافِرٌ وَمَنْ حارَبَکُمْ مُشْرِکٌ وَمَنْ رَدَّ عَلَیْکُمْ فِی أَسْفَلِ دَرَکٍ مِنَ الْجَحِیمِ
کی اسکا ٹھکانا جہنم ہے جس نے آپکا انکار کیا وہ کافر ہے جس نے آپ(ع) سے جنگ کی وہ مشرک ہے اور جس نے آپکو غلط قرار دیا وہجہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوگا
42: أَشْھَدُ أَنَّ ھٰذَا سابِقٌ لَکُمْ فِیما مَضیٰ وَجارٍ لَکُمْ فِیما بَقِیَ
میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ مقام آپکو گذشتہ زمانے میں حاصل تھااورآیندہ زمانے میں بھی حاصل رہے گا
43: وَ أَنَّ أَرْواحَکُمْ وَ نُورَکُمْ وَ طِینَتَکُمْ واحِدَۃٌ طابَتْ وَ طَھُرَتْ بَعْضُھَا مِنْ بَعْضٍ
بے شک آپ(ع) سب کی روحیں آپکے نور اور آپکی اصل ایک ہے جو خوش آیند اور پاکیزہ ہے کہ آپ(ع) میں سے بعض بعض کی اولاد ہیں
44: خَلَقَکُمُ اللہُ أَنْواراً فَجَعَلَکُمْ بِعَرْشِہِ مُحْدِقِینَ حَتّی مَنَّ عَلَیْنا بِکُمْ فَجَعَلَکُمْ فِی بُیُوتٍ أَذِنَ اللہُ أَنْ تُرْفَعَ وَیُذْکَرَ فِیھَا اسْمُہُ
خدا نے آپکو نور کی شکل میں پیدا کیا پھر آپ(ع) سب کو اپنے عرش کے اردگرد رکھا حتیٰ کہ ہم پر احسان کیا اور آپکو بھیجا پس آپکو ان گھروں میں رکھا جن کو خدا نے بلند کیااور ان میں اسکا نام لیا جاتا ہے
45: وَجَعَلَ صَلاتَناعَلَیْکُمْ وَمَا خَصَّنا بِہِ مِنْ وِلایَتِکُمْ طِیباً لِخَلْقِنا وَطَھَارَةً لاَِنْفُسِنا وَتَزْکِیَةً لَنا وَکَفَّارَةً لِذُنُوبِنا
اس نے آپ(ع) پر ہمارے درود وسلام قرار دیئے اس سے ہمیں آپکی ولایت میں خصوصیت دی اسے ہماری پاکیزہ پیدائش ہمارے نفسوں کی صفائی ہمارے باطن کی درستی کا ذریعہ اور گناہوں کا کفارہ بنایا
46: فَکُنَّا عِنْدَہُ مُسَلِّمِینَ بِفَضْلِکُمْ وَمَعْرُوفِینَ بِتَصْدِیقِنا إیَّاکُمْ فَبَلَغَ اللہُ بِکُمْ أَشْرَفَ مَحَلِّ الْمُکَرَّمِینَ
پس ہم اسکے حضور آپکی فضیلت کو ماننے والے اور آپکی تصدیق کرنے والے قرار پاگئے ہیں ہاں خدا آپکو صاحبان عظمت کے بلند مقام پر پہنچائے
47: وَأَعْلَی مَنازِلِ المُقَرَّبِینَ وَأَرْفَعَ دَرَجاتِ الْمُرْسَلِینَ حَیْثُ لاَ یَلْحَقُہُ لاحِقٌ
اور اپنے مقربین کی بلند منزلوں تک لے جائے اور اپنے پیغمبروں کے اونچے مراتب عطا کرے اسطرح کہ پیچھے والا وہاں نہ پہنچے
48: وَلَا یَفُوقُہُ فائِقٌ وَلَا یَسْبِقُہُ سابِقٌ وَلَا یَطْمَعُ فِی إدْرَاکِہِ طامِعٌ حَتَّی لَا یَبْقَیٰ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ
کوئی اوپر والا اس مقام سے بلند نہ ہوا اور کوئی آگے والا آگے نہ بڑھے اور کوئی طمع کرنے والا اس مقام کی طمع نہ کرے یہاں تک کہ باقی نہ رہے کوئی مقرب فرشتہ
49: وَلَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ وَلَا صِدِّیقٌ وَلَا شَھِیدٌ وَلَا عالِمٌ وَ لَا جاھِلٌ وَ لَا دَنِیٌّ وَ لَا فاضِلٌ
نہ کوئی نبی مرسل نہ کوئی صدیق اور نہ شہید نہ کوئی عالم اور نہ جاہل نہ کوئی پست اور نہ کوئی بلند
50: وَ لَا مُؤْمِنٌ صالِحٌ وَ لَا فاجِرٌ طالِحٌ وَلَا جَبَّارٌ عَنِیدٌ وَلَا شَیْطانٌ مَرِیدٌ وَلَا خَلْقٌ فِیما بَیْنَ ذلِکَ شَھِیدٌ
نہ کوئی نیک مؤمن اور نہ کوئی فاسق و فاجر اور گناہ گار نہ کوئی ضدی سرکش اور نہ کوئی مغرور شیطان اور نہ ہی کوئی اور مخلوق گواہی دے
51: إلاَّ عَرَّفَھُمْ جَلالَةَ أَمْرِکُمْ وَعِظَمَ خَطَرِکُمْ وَکِبَرَ شَأْنِکُمْ وَتَمامَ نُورِکُمْ وَصِدْقَ مَقاعِدِکُمْ
سوائے اسکے کہ وہ انکو آپکی شان سے آگاہ کرے آپکے مقام کی بلندی آپکی شان کی بڑائی آپکے نور کی کاملیت آپکے درست درجات
52: وَثَباتَ مَقامِکُمْ وَشَرَفَ مَحَلِّکُمْ وَمَنْزِلَتِکُمْ عِنْدَہُ وَکرامَتَکُمْ عَلَیْہِ
آپ کے مراتب کی ہمیشگی آپکے خاندان کی بزرگی اسکے ہاں آپکے مقام اس کے سامنے آپ(ع) کی بزرگواری اس کے ساتھ
53: وَخاصَّتَکُمْ لَدَیْہِ وَقُرْبَ مَنْزِلَتِکُمْ مِنْہُ بِأَبِی أَنْتُمْ وَٲُمِّی وَأَھْلِی وَمالِی وَٲُسْرَتِی
آپ(ع) کی خصوصیت اور اس سے آپکے مقام کے قرب کی گواہی دے میرے ماں باپ میرا گھر میرا مال اور میرا خاندان آپ(ع) پر قربان
54: ٲُشْھِدُ اللهَ وَٲُشْھِدُکُمْ أَنِّی مُؤْمِنٌ بِکُمْ وَبِما آمَنْتُمْ بِہِ کافِرٌ بِعَدُوِّکُمْ وَبِما کَفَرْتُمْ بِہِ
میں گواہ بناتا ہوں خدا کو اور آپکو کہ اس پر میں ایمان رکھتا ہوں جس پر آپ(ع) ایمان رکھتے ہیں منکر ہوں آپکے دشمن کا اور جس چیز کا آپ انکار کرتے ہیں
55: مُسْتَبْصِرٌ بِشَأْنِکُمْ وَبِضَلالَةِ مَنْ خالَفَکُمْ مُوالٍ لَکُمْ وَ لأَِوْلِیائِکُمْ
آپکی شان کو جانتا ہوں اور آپکے مخالف کی گمراہی کو سمجھتا ہوں محبت رکھتا ہوں آپ(ع) سے اور آپکے دوستوں سے
56: مُبْغِضٌ لاَِعْدائِکُمْ وَمُعادٍ لَھُمْ سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ وَحَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ
نفرت کرتا ہوں آپکے دشمنوں سے اور انکا دشمن ہوں میری صلح ہے اس سے جو آپ(ع) سے صلح رکھے اورجنگ ہے اس سے جو آپ(ع) سے جنگ کرے
57: مُحَقِّقٌ لِما حَقَّقْتُمْ مُبْطِلٌ لِمَا أَبْطَلْتُمْ مُطِیعٌ لَکُمْ عارِفٌ بِحَقِّکُمْ
حق کہتا ہوں اسے جسکو آپ(ع) حق کہیں باطل کہتا ہوں اسے جسکو آپ(ع) باطل کہیں آپکا فرمانبردار ہوں آپکے حق کو پہچانتا ہوں
58: مُقِرٌّ بِفَضْلِکُمْ مُحْتَمِلٌ لِعِلْمِکُمْ مُحْتَجِبٌ بِذِمَّتِکُمْ مُعْتَرِفٌ بِکُمْ مُؤْمِنٌ بِإِیابِکُمْ
آپکی بڑائی کو مانتا ہوں آپکے علم کا معتقد ہوں آپکی ولایت میں پناہ گزین ہوں آپکی ذات کا اقرار کرتا ہوں آپکے بزرگان کا معتقد ہوں
59: مُصَدِّقٌ بِرَجْعَتِکُمْ مُنْتَظِرٌ لأَِمْرِکُمْ مُرْتَقِبٌ لِدَوْلَتِکُمْ آخِذٌ بِقَوْلِکُمْ عامِلٌ
آپکی رجعت کی تصدیق کرتا ہوں آپکے دور کا منتظر ہوں آپکی حکومت کا انتظار کرتا ہوں آپ(ع) کے قول کو قبول کرتا ہوں آپ(ع) کے حکم پر عمل کرتا ہوں
60: بِأَمْرِکُمْ مُسْتَجِیرٌ بِکُمْ زائِرٌ لَکُمْ لائِذٌ عائِذٌ بِقُبُورِکُمْ مُسْتَشْفِعٌ إلَی اللهِ عَزَّوَجَلَّ بِکُمْ
آپکی پناہ میں ہوں آپکی زیارت کو آیا ہوں آپکے مقبرے میں پوشیدہ ہو کر پناہ لی ہے خدا کے حضور آپکو اپنا سفارشی بناتا ہوں
61: وَمُتَقَرِّبٌ بِکُمْ إلَیْہِ وَمُقَدِّمُکُمْ أَمامَ طَلِبَتِی وَحَوَائِجِی وَ إرادَتِی فِی کُلِّ أَحْوالِی وَٲُمُورِی
آپکے ذریعے اسکا قرب چاہتا ہوں آپکو اپنی ضرورتوں حاجتوں اور ارادوں کا وسیلہ بناتا ہوں اپنے ہر حال اور ہر کام میں
62: مُؤْمِنٌ بِسِرِّکُمْ وَعَلانِیَتِکُمْ وَشاھِدِکُمْ وَغائِبِکُمْ وَأَوَّلِکُمْ وَآخِرِکُمْ
اور ایمان رکھتا ہوں آپ(ع) میں سے نہاں اور عیاں پر آپ(ع) میں سے ظاہر اور پوشیدہ پر آپ(ع) میں سے اول اور آخر پر
63: وَمُفَوِّضٌ فِی ذلِکَ کُلِّہِ إلَیْکُمْ وَمُسَلِّمٌ فِیہِ مَعَکُمْ وَقَلْبِی لَکُمْ مُسَلِّمٌ وَرَأْئِی لَکُمْ تَبَعٌ
ان تمام امور کیساتھ خود کو آپ کے سپرد کرتا ہوں اوران میں آپکے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہوں میرا دل آپکا معتقد ہے میرا ارادہ آپکے تابع ہے
64: وَنُصْرَتِی لَکُمْ مُعَدَّۃٌ حَتَّی یُحْیِیَ اللہُ تَعَالی دِینَہُ بِکُمْ وَیَرُدَّکُمْ فِی أَیَّامِہِ وَیُظْھِرَکُمْ لِعَدْلِہِ
میری مدد و نصرت آپ کیلئے حاضر ہے یہاں تک کہ خدا آپکے ہاتھوں اپنے دین کو زندہ کرے آپکو اس زمانے میں لے جائے قیام عدل میں آپکی مدد کرے
65: وَیُمَکِّنَکُمْ فِی أَرْضِہِ فَمَعَکُمْ مَعَکُمْ لَا مَعَ غَیْرِکُمْ آمَنْتُ بِکُمْ وَتَوَلَّیْتُ آخِرَکُمْ
اور آپکو اپنی زمین میں اقتدار دے پس میں صرف آپکے ساتھ ہوں آپکے غیر کیساتھ نہیں آپکا معتقد ہوں اور آپ(ع) میں سے آخری کا محب ہوں
66: بِمَا تَوَلَّیْتُ بِہِ أَوَّلَکُمْ وَبَرِئْتُ إلَی اللهِ عَزَّوَجَلَّ مِنْ أَعْدائِکُمْ وَمِنَ الْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ
جیسے آپ(ع) میں سے اول کا محب ہوں میں خدائے عزو جل کیسامنے آپکے دشمنوں سے بیزاری کرتا ہوں اور بیزار ہوں بتوں سے سرکشوں سے
67: وَالشَّیاطِینِ وَحِزْبِھِمُ الظَّالِمِینَ لَکُمُ الْجاحِدِینَ لِحَقِّکُمْ وَالْمارِقِینَ مِنْ وِلایَتِکُمْ
شیطانوں سے اور انکے گروہ سے جو آپ(ع) پر ظلم کرنے والے آپ(ع) کے حق کا انکار کرنے والے آپ(ع) کی ولایت سے نکل جانے والے
68: وَالْغاصِبِینَ لاِِِرْثِکُمُ الشَّاکِّینَ فِیکُمُ الْمُنْحَرِفِینَ عَنْکُمْ وَمِنْ کُلِّ وَلِیجَةٍ دُونَکُمْ
آپکی وراثت غصب کرنے والے آپ پر شک لانے والے آپ(ع) سے پھر جانے والے ہیں اور بیزار ہوں
69: وَکُلِّ مُطاعٍ سِواکُمْ وَمِنَ الْاَئِمَّةِ الَّذِینَ یَدْعُونَ إلَی النَّارِ فَثَبَّتَنِیَ اللہُ أَبَداً
میں آپکے سوا ہر جماعت سے آپکے سوا ہر اطاعت کئے والے سے اور ان پیشواؤں سے بیزار ہوں جو جہنم میں لے جانے والے ہیں پس جب تک زندہ ہوں
70: مَا حَیِیتُ عَلَی مُوالاتِکُمْ وَمَحَبَّتِکُمْ وَدِینِکُمْ وَوَفَّقَنِی لِطاعَتِکُمْ وَرَزَقَنِی شَفاعَتَکُمْ
خدا مجھے قائم رکھے آپکی دوستی پر آپکی محبت پر آپکے دین پر اور توفیق دے آپکی پیروی کرنے کی اور آپ(ع) کی شفاعت نصیب کرے
71: وَجَعَلَنِی مِنْ خِیارِ مَوالِیکُمُ التَّابِعِینَ لِما دَعَوْتُمْ إلَیْہِ وَجَعَلَنِی مِمَّنْ یَقْتَصُّ آثارَکُمْ
خدا مجھ کو آپکے بہترین دوستوں میں رکھے جو اسکی پیروی کرنے والے ہوں جنکی طرف آپ نے دعوت دی اورمجھے ان میں سے قراردے جو آپکے اقوال نقل کرتے ہیں
72: وَیَسْلُکُ سَبِیلَکُمْ وَیَھْتَدِی بِھُداکُمْ وَیُحْشَرُ فِی زُمْرَتِکُمْ وَیَکِرُّ فِی رَجْعَتِکُمْ
مجھے آپکی راہ پر چلائے آپکی ہدایت سے بہرہ ور کرے آپکے گروہ میں اٹھائے آپکی رجعت میں مجھے بھی لوٹائے
73: وَیُمَلَّکُ فِی دَوْلَتِکُمْ وَیُشَرَّفُ فِی عافِیَتِکُمْ وَیُمَکَّنُ فِی أَیَّامِکُمْ
آپکی حکومت میں آپکی ریاعا بنائے آپکے دامن میں عزت دے آپکے عہد میں اعلیٰ مقام دے
74: وَتَقِرُّ عَیْنُہُ غَداً بِرُؤْیَتِکُمْ بِأَبِی أَنْتُمْ وَٲُمِّی وَنَفْسِی وَأَھْلِی وَمالِی مَنْ أَرادَ اللهَ
اور ان میں رکھے جو کل آپکے دیدار سے آنکھیں ٹھنڈی کریں گے میرے ماں باپ میری جان میرا خاندان اور مال آپ(ع) پر قربان جو خدا کو چاہے
75: بَدَأَ بِکُمْ وَمَنْ وَحَّدَہُ قَبِلَ عَنْکُمْ وَمَنْ قَصَدَہُ تَوَجَّہَ بِکُمْ مَوالِیَّ لاَ ٲُحْصِی ثَنائَکُمْ
وہ آپ(ع) سے ملتا ہے جو اسے یکتا سمجھے وہ آپکی بات مانتا ہے جو اسکی طرف بڑھے وہ آپکا رخ کرتا ہے میرے سردارمیں آپکی تعریف کا اندازہ نہیں کر سکتا
76: وَلاَ أَبْلُغُ مِنَ الْمَدْحِ کُنْھَکُمْ وَمِنَ الْوَصْفِ قَدْرَکُمْ وَأَنْتُمْ نُورُ الْأَخْیارِ وَھُداۃُ الْاَبْرارِ
نہ آپکی مدح کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہوں اور نہ آپکی شان کا تصور کرسکتا ہوں آپ شرفا کا نور نیکو ں کے رہبر
77: وَحُجَجُ الْجَبَّارِبِکُمْ فَتَحَ اللہُ وَبِکُمْ یَخْتِمُ وَبِکُمْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَبِکُمْ یُمْسِکُ السَّماءَ
خدائے قادر کی حجتیں ہیں خدا نے آپ(ع) سے آغاز وانجام کیا ہے وہ آپ(ع) کے ذریعے بارش برساتا ہے آپ کے ذریعے آسمان کو روکے ہوئے ہے
78: أَنْ تَقَعَ عَلَی الْاَرْضِ إلاَّ بِإِذْنِہِ وَبِکُمْ یُنَفِّسُ الْھَمَّ وَیَکْشِفُ الضُّرَّ وَ عِنْدَکُمْ
تاکہ زمین پرنہ آ گرے مگر اسکے حکم سے وہ آپ(ع) کے ذریعے غم دور کرتا اور سختی ہٹاتا ہے وہ پیغام آپ(ع) کے پاس ہے
79: مَا نَزَلَتْ بِہِ رُسُلُہُ وَھَبَطَتْ بِہِ مَلائِکَتُہُ وَ إلی جَدِّکُمْ
جو اس کے رسول لائے اور فرشتے جس کو لے کر اترے اور آپ(ع) کے نانا کی طرف
اگر امیر المؤمنینؑ کی زیارت پڑھے تو بجائے و إلی جدّکم کے کہے:
80: وَ إلی ٲخیک بُعِثَ الرُّوحُ الْاَمِینُ آتاکُمُ اللہُ مَا لَمْ یُؤْتِ أَحَداً مِنَ الْعالَمِینَ
اور آپ(ع) کے نانا کی طرف اور آپ(ع) کے بھائی کے پاس روح الامین آیا خدا نے آپ کو وہ نعمت دی جو جہانوں میں کسی کو نہ دی
81: طَأْطَأَ کُلُّ شَرِیفٍ لِشَرَفِکُمْ وَبَخَعَ کُلُّ مُتَکَبِّرٍ لِطاعَتِکُمْ
ہر بڑائی والا آپ(ع) کی بڑائی کے آگے جھکتا ہے ہر مغرور آپ(ع) کا حکم مانتا ہے
82: وَخَضَعَ کُلُّ جَبَّارٍ لِفَضْلِکُمْ وَذَلَّ کُلُّ شَیْئٍ لَکُمْ وَأَشْرَقَتِ الْاَرْضُ بِنُورِکُمْ وَفازَ الْفائِزُونَ بِوِلایَتِکُمْ
ہر زبردست آپ(ع) کی فضلیت کے سامنے خم ہوتا ہے ہر چیز آپکے آگے پست ہے زمین آپ(ع) کے نور سے چمکتی ہے کامیابی پانے والے آپ(ع) کی ولایت سے کامیابی پاتے ہیں
83: بِکُمْ یُسْلَکُ إلَی الرِّضْوانِ وَعَلَی مَنْ جَحَدَ وِلایَتَکُمْ غَضَبُ الرَّحْمٰنِ بِأَبِی أَنْتُمْ وَٲُمِّی
کہ آپ(ع) کے ذریعے رضائے الہی حاصل کرتے ہیں اور جو آپ(ع) کی ولایت کے منکر ہیں ان پر خدا کا غضب آتا ہے میرے ماں باپ
84: وَنَفْسِی وَأَھْلِی وَمَالِی ذِکْرُکُمْ فِی الذَّاکِرِینَ وَأَسْماؤُکُمْ فِی الْأَسْماءِ وَأَجْسادُکُمْ فِی الْاَجْسادِ
میری جان میرا خاندان اور مال آپ(ع) پر قربان آپکا ذکر ہے ذکر کرنے والوں میں ہے آپکے نام ناموں میں خاص ہیں آپکے جسم اعلیٰ ہیں جسموں میں
85: وَأَرْواحُکُمْ فِی الْاَرْواحِ وَأَنْفُسُکُمْ فِی النُّفُوسِ وَآثارُکُمْ فِی الْآثارِ وَقُبُورُکُمْ فِی الْقُبُورِ
آپکی روحیں بہترین ہیں روحوں میں آپکے دل پاکیزہ ہیں دلوں میں آپ(ع) کے نشان عمدہ ہیں نشانوں میں اور آپ(ع) کی قبریں پاک ہیں قبروں میں
86: فَمَا أَحْلَی أَسْمائَکُمْ وَأَکْرَمَ أَنْفُسَکُمْ وَأَعْظَمَ شَأْنَکُمْ وَأَجَلَّ خَطَرَکُمْ وَأَوْفَی عَھْدَکُمْ
پس کتنے پیارے ہیں آپکے نام کتنے گرامی ہیں آپکے نفوس آپکی شان بلند ہے آپکا مقام عظیم ہے آپکا
87: وَأَصْدَقَ وَعْدَکُمْ کَلامُکُمْ نُورٌ وَأَمْرُکُمْ رُشْدٌ وَوَصِیَّتُکُمُ التَّقْوَی وَفِعْلُکُمُ الْخَیْرُ
پیمان پورا ہونے والا اور آپ(ع) کا وعدہ سچا ہے آپ(ع) کا کلام روشن آپ(ع) کے حکم میں ہدایت آپ(ع) کی وصیت پرہیز گاری آپ(ع) کا فعل عمدہ
88: وَعادَتُکُمُ الْاِحْسانُ وَسَجِیَّتُکُمُ الْکَرَمُ وَشَأْنُکُمُ الْحَقُّ وَالصِّدْقُ وَالرِّفْقُ وَقَوْلُکُمْ حُکْمٌ
آپ(ع) کی عادت پسندیدہ آپ(ع) کے اطوار میں بزرگواری آپ(ع) کی شان سچائی راستی اور ملائمت ہے آپ(ع) کا قول مضبوط و یقینی ہے
89: وَحَتْمٌ وَرَأْیُکُمْ عِلْمٌ وَحِلْمٌ وَحَزْمٌ إنْ ذُکِرَ الْخَیْرُ کُنْتُمْ أَوَّلَہُ وَأَصْلَہُ وَفَرْعَہُ وَمَعْدِنَہُ وَمَأْواہُ وَمُنْتَھَاہُ
آپکی رائے میں نرمی اور پختگی ہے اگر نیکی کا ذکر ہو تو آپ(ع) اس میں اول اسکی جڑ اسکی شاخ اس کا مرکز اس کا ٹھکانہ اور اس کی انتہا ہیں
90: بِأَبِی أَنْتُمْ وَٲُمِّی وَنَفْسِی کَیْفَ أَصِفُ حُسْنَ ثَنائِکُمْ وَٲُحْصِی جَمِیلَ بَلائِکُمْ
قربان آپ(ع) پر میرے ماں باپ اور میری جان کسطرح میں آپکی زیبا تعریف و توصیف کروں اور آپکی بہترین آزمائشوں کا تصور کروں
91: وَبِکُمْ أَخْرَجَنَا اللہُ مِنَ الذُّلِّ وَفَرَّجَ عَنَّا غَمَراتِ الْکُرُوبِ وَأَنْقَذَنا مِنْ شَفا جُرُفِ الْھَلَکاتِ
خدا نے آپکے ذریعے ہمیں خواری سے بچایا ہمارے رنج و غم کو دور فرمایا اور ہمیں تباہی کی وادی سے نکالا اور جہنم کی آگ سے آزاد کیا
92: وَمِنَ النَّارِ بِأَبِی أَنْتُمْ وَٲُمِّی وَنَفْسِی بِمُوالاتِکُمْ عَلَّمَنَا اللہُ مَعالِمَ دِینِنا
میرے ماں باپ اور میری جان آپ(ع) پر قربان آپ(ع) کی دوستی کے وسیلے سے خدا نے ہمیں دینی تعلیمات عطا کی اور ہماری دنیا کے
93: وَأَصْلَحَ مَا کانَ فَسَدَ مِنْ دُنْیانا وَبِمُوالاتِکُمْ تَمَّتِ الْکَلِمَۃُ وَعَظُمَتِ النِّعْمَۃُ وَائْتَلَفَتِ الْفُرْقَۃُ
بگڑے کام سنوار دیے آپ(ع) کی ولایت کی بدولت کلمہ مکمل ہوا نعمتیں بڑھ گئیں اور آپس کی دوریاں مٹ گئیں
94: وَ بِمُوالاتِکُمْ تُقْبَلُ الطَّاعَۃُ الْمُفْتَرَضَۃُ وَلَکُمُ الْمَوَدَّۃُ الْواجِبَۃُ وَالدَّرَجاتُ الرَّفِیعَۃُ وَالْمَقامُ الْمَحْمُودُ
آپ(ع) کی دوستی کے باعث اطاعت واجبہ قبول ہوتی ہے آپ(ع) سے محبت رکھنا واجب ہے خدائے عزو جل کے ہاں آپ کیلئے بلند درجے پسندیدہ مقام اور
95: وَالْمَکانُ الْمَعْلُومُ عِنْدَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالْجاہُ الْعَظِیمُ وَالشَّأْنُ الْکَبِیرُ وَالشَّفاعَۃُ الْمَقْبُولَۃُ
اونچا مرتبہ ہے نیز اس کے حضور آپ(ع) کی بڑی عزت ہے بہت اونچی شان ہے اور آپ(ع) کی شفاعت قبول شدہ ہے
96: رَبَّنا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاکْتُبْنا مَعَ الشَّاھِدِینَ
اے ہمارے رب ہم ایمان لائے اس پر جو تو نے نازل کیا اور ہم نے رسول کی پیروی کی پس ہمیں گواہی دینے والوں میں لکھ لے
97: رَبَّنا لاَ تُزِغْ قُلُوبَنا بَعْدَ إذْ ھَدَیْتَنا وَھَبْ لَنا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَةً إنَّکَ أَنْتَ الْوَهَّابُ
اے ہمارے رب ہمارے دل ٹیڑھے نہ ہونے دے جب کہ تو نے ہمیں ہدایت دی اور ہم کو اپنی طرف سے رحمت عطا کر بے شک تو بہت عطا کرنے والا ہے
98: سُبْحانَ رَبِّنا إنْ کانَ وَعْدُ رَبِّنا لَمَفْعُولاً یَا وَلِیَّ اللهِ إنَّ بَینِی وَبَیْنَ اللهِ عَزَّوَجَلَّ ذُنُوباً
پاک تر ہے ہمارا رب یقینا ہمارے رب کا وعدہ پورا ہو گا اے ولی خدا بے شک میرے اور خدائے عز و جل کے درمیان گناہ حائل ہیں
99: لاَ یَأْتِی عَلَیْھَا إلاَّ رِضاکُمْ فَبِحَقِّ مَنِ ائْتَمَنَکُمْ عَلَی سِرِّہِ وَاسْتَرْعاکُمْ أَمْرَ خَلْقِہِ
جو آپ(ع) چاہیں تومعاف ہو سکتے ہیں پس واسطہ اس کا جس نے آپ کو اپنا راز داں بنایا اپنی مخلوق کا معاملہ آپکو سونپا
100: وَقَرَنَ طاعَتَکُمْ بِطاعَتِہِ لَمَّا اسْتَوْھَبْتُمْ ذُنُوبِی وَکُنْتُمْ شُفَعائِی
آپکی اطاعت اپنی اطاعت کیساتھ واجب قرار دی آپ میرے گناہ معاف کروائیں اور میرے سفارشی بن جائیں
101: فَإِنِّی لَکُمْ مُطِیعٌ مَنْ أَطاعَکُمْ فَقدْ أَطاعَ اللهَ وَمَنْ عَصَاکُمْ فَقَدْ عَصَی اللهَ
یقیناً میں آپکا پیرو کارہوں جس نے آپکی پیروی کی تو اس نے خدا کی فرمانبرداری کی اور جس نے آپکی نافرمانی کی خدا کی نافرمانی کی
102: وَمَنْ أَحَبَّکُمْ فَقَدْ أَحَبَّ اللهَ وَمَنْ أَبْغَضَکُمْ فَقَدْ أَبْغَضَ اللهَ۔
جس نے آپ(ع) سے محبت کی تو اس نے خدا سے محبت کی اور جس نے آپ(ع) سے دشمنی کی اس نے خدا سے دشمنی کی
103: اَللّٰھُمَّ إنِّی لَوْ وَجَدْتُ شُفَعاءَ أَقْرَبَ إلَیْکَ مِنْ مُحَمَّدٍ وَأَھْلِ بَیْتِہِ الْاَخْیارِ الاَئِمَّةِ الاَبْرارِ
اے معبود یقیناً جب میں نے ایسے سفارشی پا لیے ہیں جو تیرے مقرب ہیں یعنی حضرت محمد(ص) اور انکے اہلبیتؑ جو نیک اور خوش کردار امام(ع) ہیں
104: لَجَعَلْتُھُمْ شُفَعائِی فَبِحَقِّھِمْ الَّذِی ٲوْجَبْتَ لَھُم عَلَیْکَ أَسْأَلُکَ أَنْ تُدْخِلَنِی فِی جُمْلَةِ الْعارِفِینَ بِھِمْ
ضرور میں نےانہیں اپنے سفارشی بنایا ہے پس انکے حق کے واسطے سے جو تو نے خود پر لازم کرر کھا ہے تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے ان لوگوں میں داخل فرما
105: وَبِحَقِّھِمْ وَفِی زُمْرَةِ الْمَرْحُومِینَ بِشَفاعَتِھِمْ إنَّکَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ
جو انکی اور انکے حق کی معرفت رکھتے ہیں اور مجھے اس گروہ میں رکھ جس پر انکی سفارش سے رحم کیا گیا ہے بے شک تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
106: وَصَلَّی اللہُ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِہِ الطَّاھِرِینَ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً کَثِیراً وَحَسْبُنَا اللہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ۔
اور خدا محمد(ص) پر اور انکی پاکیزہ آل(ع) پر درود بھیجے اور بہت بہت سلام بھیجے سلام اور کافی ہے ہمارے لیے خدا جو بہترین کارساز ہے۔
مولف کہتے ہیں یہ زیارت شیخ نے بھی تہذیب میں نقل کی ہے اور اس کے بعد ایک دعائے وداع بھی درج کی ہے جسے ہم نے اختصار کی وجہ سے یہاں نقل نہیں کیا علامہ مجلسی(رح) کے بقول یہ بہترین زیارت جامعہ ہے جو سند متن اور فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بہت خوب ہے علامہ مجلسی کے والد ماجد نے الفقیہ کی شرح میں فرمایا ہے کہ یہ زیارت دیگر تمام زیارتوں کی نسبت بہتر اور کامل تر ہے اور یہ کہ میں جب تک عتبات عالیات میں رہا ہوں اس زیارت کے علاوہ میں نے کوئی زیارت نہیں پڑھی۔
🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.
التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️
شہر بانو ✍
*اللهم عجل لوليك الفرج*🤲
*آمين یارب العالمین بحق محمد وآل محمد عليهم السلام*🌹
شہر بانو✍️
- Get link
- X
- Other Apps
Comments
Post a Comment