ذوالحجہ کے پہلے عشرے کے اعمال:

 




🚩 السلام علیک یا بقیتہ اللہ فی ارضہ 🌹
🍃 رسول خدا 🍃
یہ بڑی فضیلت اور برکت والے آیا م ھیں کہ کسی بھی دن کی نیکی وعبادت خدا کے ہاں اس نیکی وعبادت سے محبوب تر نہیں جو ان 
10 دنوں میں کی جاۓ 🍃
1: پہلے 9 دن کے روزے رکھے تو ایسا ھے گویا
ساری زندگی روزے رکھے ہو ں 🍃
2: ان 10 دنوں میں مغرب وعشاکے درمیان 
🧎🏻‍♂️2 رکعت نماز پڑھے 
ہر رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد سورۃ توحید پڑ ھے 
تاکہ حجاج کعبہ کے ثواب میں شریک ہو جاۓ 🕋🍃


🌹ذالحجہ کاپہلا دن🌹
1:  روز ہ رکھے اس کا ثواب اسی مہینوں کے روزے رکھنے کے برابر ھے 🍃
2: 🧎🏻‍♂️ نماز حضرت فاطمتہ الزہرہ سلام اللہ علیھا بجا لاے 
4 رکعت نماز دو دو کر کے پڑھے ہر رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد 
50 مرتبہ سورۃ توحید پڑھے بعد از نماز تسبیح 📿 حضرت فاطمتہ الزہرہ سلام اللہ علیھا پڑھے 🍃
3:  🧎🏻‍♂️ زوال سے پہلے 
2 رکعت نماز پڑھے 
ہر رکعت میں سورۃ الحمد کے بعد 
10 مرتبہ سورۃ توحید 
10مرتبہ آیت الکرسی 
10 مرتبہ سورۃ قدر 🍃








    ذوالحجہ کے پہلے عشرے کے اعمال:





1: خدا کی حمد اور تسبیح

2: ذکر، الله اکبر و لااله الا الله

3: پہلے 9 دن روزہ رکھنا

4: شب زندہ داری اور عبادت

شب زندہ داری اور عبادت، احادیث کے مطابق اس مہینے کے ہر دن کے روزے کا ثواب ایک سال کے روزے کے ثواب کے برابر اور اس مہینے میں شب زندہ داری اور عبادت کا شب قدر میں شب بیداری اور عبادت کے برابر ہے۔

5: پہلی تاریخ سے عرفہ کے دن عصر تک نماز صبح کے بعد سے مغرب تک درج ذیل دعا کو پڑھنا:

اَللّهُمَّ هذِهِ الاْیامُ الَّتی فَضَّلْتَها عَلَی الاْیامِ وَشَرَّفْتَها [وَ] قَدْ بَلَّغْتَنیها بِمَنِّکَ وَرَحْمَتِکَ فَاَنْزِلْ عَلَینا مِنْ بَرَکاتِکَ وَاَوْسِعْ عَلَینا فیها مِنْ نَعْمآئِکَ اَللّهُمَّ اِنّی اَسْئَلُکَ اَنْ تُصَلِّی عَلی مُحَمَّدٍ وَ الَ مُحَمَّدٍ وَاَنْ تَهْدِینا فیها لِسَبیلِ الْهُدی وَالْعَفافِ وَالْغِنی وَالْعَمَلِ فیها بِما تُحِبُّ وَتَرْضی اَللّهُمَّ اِنّی اَسْئَلُکَ یا مَوْضِعَ کُلِّ شَکْوی وَیا سامِعَ کُلِّ نَجْوی وَیا شاهِدَ کُلِّ مَلاٍَ وَیا عالِمَ کُلِّ خَفِیةٍ اَنْ تُصَلِّی عَلی مُحَمَّدٍ وَ الَ مُحَمَّدٍ وَاَنْ تَکْشِفَ عَنّا فیهَا الْبَلاَّءَ وَتَسْتَجیبَ لَنا فیهَا الدُّعآءَ وَتُقَوِّینا فیها وَتُعینَنا وَتُوَفِّقَنا فیها لِما تُحِبُّ رَبَّنا وَتَرْضی وَعَلی مَا افْتَرَضْتَ عَلَینا مِنْ طاعَتِکَ وَطاعَةِ رَسوُلِکَ وَاَهْلِ وِلایتِکَ اَللّهُمَّ اِنّی اَسْئَلُکَ یا اَرْحَمَ الرّاحِمینَ اَنْ تُصَلِّی عَلی مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ وَاَنْ تَهَبَ لَنا فیهَا الرِّضا اِنَّکَ سَمیعُ الدُّعآءِ وَلا تَحْرِمْنا خَیرَ ما تُنْزِلُ فیها مِنَ السَّمآءِ وَطَهِّرْنا مِنَ الذُّنوُبِ یا عَلاّمَ الْغُیوُبِ وَاَوْجِبْ لَنا فیها‌دار الْخُلوُدِ اَللّهمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ وَلا تَتْرُکْ لَنا فیها ذَنْباً اِلاّ غَفَرْتَهُ وَلا هَمّاً اِلاّ فَرَّجْتَهُ وَلا دَیناً اِلاّ قَضَیتَهُ وَلا غائِباً اِلاّ اَدَّیتَهُ وَلا حاجَةً مِنْ حَوائِجِ الدُّنْیا وَالاَّْخِرَةِ اِلاّ سَهَّلْتَه ا وَیسَّرْتَه اِنَّکَ عَلی کُلِّشَیءٍ قَدیرٌ اَللّهُمَّ یا عالِمَ الْخَفِیاتِ یا راحِمَ الْعَبَراتِ یا مُجیبَ الدَّعَواتِ یا رَبَّ الاْرَضینَ وَالسَّمواتِ یا مَنْ لا تَتَشابَهُ عَلَیهِ الاْصْواتُ صَلِّ عَلی مُحَمَّدٍ وَ الِ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنا فیها مِنْ عُتَقآئِکَ وَطُلَقآئِکَ مِنَ النّارِ وَالْفائِزینَ بِجَنَّتِکَ وَالنّاجینَ بِرَحْمَتِکَ یااَرْحَمَ الرّاحِمینَ وَصَلَّی اللّهُ عَلی سَیدِنا مُحَمَّدٍ وَ الِهِ اَجْمَعینَ.


ترجمہ: اے معبود! یہ وہ دن ہیں جن کو تو نے دوسرے دنوں پر فضیلت و بزرگی دی ہے تو نے اپنے احسان اور رحمت سے یہ دن ہم کو دکھائے ہیں پس ان دنوں میں ہم پر اپنی برکتیں نازل فرما اور اپنی نعمتوں میں وسعت فرما اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ ان دنوں میں راہ ہدایت، پاکدامنی اور سیر چشمی کی طرف ہماری رہنمائی کر اور ان میں ہمیں اپنا پسندیدہ عمل کرنے کی توفیق دے اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے ہر شکایت کی امیدگاہ اے ہر سرگوشی کے سننے والے اے ہر جماعت پر حاضر گواہ اور اے ہر راز کے جاننے والے محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ ان دنوں میں ہم سے مصیبت کو دور کر ان ایام میں ہماری دعا قبول فرما اور قوت عطا کر ان دنوں میں ہمیں اس عمل پر مدد اور توفیق دے جس سے تو راضی ہو اور اس کی بھی توفیق کہ جس کو تو نے اور اپنے رسول اور اپنے اہل ولایت کی اطاعت کے عنوان سے ہم پرفرض کیا ہے اے معبود! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے کہ تو محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور یہ کہ ان دنوں میں ہمیں اپنی خوشنودی عطاکر بے شک تو دعا کا سننے والا ہے اور ہمیں اس بھلائی سے محروم نہ کر جو تو نے آسمان سے نازل کی ہے اور ہمارے گناہ دھوڈال اے غیبوں کے جاننے والے اور اس دنوں ہمارے لیے ہمیشگی والی جنت واجب کردے اے معبود؛ محمد(ص) و آل محمد(ص) پر رحمت نازل فرما اور ہمارا کوئی گناہ نہ رہنے دے جسے تونے نہ بخشا ہو اور نہ کوئی غم کہ جس سے تو نے گشائش نہ دی ہو اور نہ کوئی قرض کہ جسے تو نے ادا نہ کیا ہو اور نہ گمشدہ شی کہ جسے تو نے ﴿ہم تک﴾نہ پہنچایا ہو اور نہ دنیا وآخرت کی حاجات میں سے کوئی حاجت کہ جسے تو نے پورا نہ کیا ہو اور اسے آسان نہ بنایا ہوبے شک تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اے معبود! اے چھپی چیزوں سے واقف اے گرتے آنسوؤں پر رحم کھانے والے اے دعائیں قبول کرنے والے اے زمینوں و آسمانوں کے پروردگار اے وہ جس کو آوازیں شبہ میں نہیں ڈال سکتیں محمد(ص) وآل(ع) محمد(ص) پر رحمت فرما اور ان دنوں ہمیں اپنی طرف سے آتش جہنم سے آزاد اور رہاکیئے ہوئے قرار دے نیز اپنی جنت میں داخل شدہ اور نجات یافتہ شمار کر اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور خدا ہمارے سردار حضرت محمد(ص) اور انکی ساری آل (ع) پررحمت فرمائے ۔)



6: ان پانچ دعاؤوں کا پڑھنا جسے جبرئیل نے حضرت عیسی(ع) کیلئے خدا کی جانب سے بطور ہدیہ لایا ہے:


1: اَشْهَدُ اَنْ لااِلهَ اِلاَّ اللهُ، وَحْدَهُ لا شَریکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، بِیدِهِ الْخَیرُ، وَهُوَ عَلی کُلِّ شَیء قَدیرٌ.


2: اَشْهَدُ اَنْ لا اِلهَ اِلاَّ اللهُ، وَحْدَهُ لاشَریکَ لَهُ، اَحَداً صَمَداً، لَمْ یتَّخِذْ صاحِبَهً وَلا وَلَداً.

3: اَشْهَدُ اَنْ لا اِلهَ اِلاَّ اللهُ، وَحْدَهُ لا شَریکَ لَهُ، اَحَداً صَمَداً، لَمْ یلِدْ وَلَمْ یولَدْ، وَلَمْ یکُنْ لَهُ کُفُواً اَحَدٌ.

4: اَشْهَدُ اَنْ لا اِلهَ اِلاَّ اللهُ، وَحْدَهُ لا شَریکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، یحْیی وَیمیتُ، وَهُوَ حَی لا یمُوتُ، بِیدِهِ الْخَیرُ، وَهُوَ عَلی کُلِّ شَیء قَدیرٌ.

5: حَسْبِی اللهُ وَکَفی، سَمِعَ اللهُ لِمَنْ دَعا، لَیسَ وَرآءَ اللهِ مُنْتَهی،اَشْهَدُللهِ بِما دَعا،وَاَنَّهُ بَریءٌ مِمَّنْ تَبَرَّءَ، وَاَنَّ لِلّهِ الاْخِرَهَ وَالاُولی.




7: ان اذکار کا پڑھنا جو حضرت علی(ع) سے مروی ہیں: " لا إِلهَ إِلاّ الله عَدَدَ اللَّیالِی وَالدُّهُورِ، لا إِلهَ إِلاّ الله عَدَدَ أَمْواجِ البُحُورِ، لا إِلهَ إِلاّ الله وَرَحْمَتُهُ خَیرٌ مِمَّا یجْمَعُونَ، لا إِلهَ إِلاّ الله عَدَدَ الشَّوْک وَالشَّجَرِ، لا إِلهَ إِلاّ الله عَدَدَ الشَّعْرِ وَالوَبَرِ، لا إِلهَ إِلاّ الله عَدَدَ الحَجَرِ والمَدَرِ، لا إِلهَ إِلاّ الله عَدَدَ لَمْحِ العُیونِ، لا إِلهَ إِلاّ الله فِی اللَّیلِ إِذا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذا تَنَفَّسَ، لا إِلهَ إِلاّ الله عَدَدَ الرِّیاحِ فِی البَرارِی وَالصُّخُورِ، لا إِلهَ إِلاّ الله مِنْ الیوْمِ إِلی یوْمِ ینْفَخُ فِی الصُّورِ"


7: پہلے عشرے کی نماز
    
پہلی رات سے لے کر عید قربان کی رات تک ہر رات نماز مغرب اور عشا کے درمیان دو رکعت نماز درج ذیل طریقے کے مطابق پڑھی جائے تو اس کا ثواب اعمال حج میں حاجیوں کے ساتھ شریک ہونے کے برابر ہے:
ہر رکعت میں سورہ حمد اور سورہ توحید کے بعد سورہ اعراف کی آیت نمبر 142 پڑھی جائے:


 وَ وَاعَدْنَا مُوسَیٰ ثَلَاثِینَ لَیلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِیقَاتُ رَ‌بِّهِ أَرْ‌بَعِینَ لَیلَةً وَ قَالَ مُوسَیٰ لِأَخِیهِ هَارُ‌ونَ اخْلُفْنِی فِی قَوْمِی وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِیلَ الْمُفْسِدِینَ، 


(ترجمہ: اور ہم نے موسٰی علیھ السّلامسے تیس راتوں کا وعدہ لیا اور اسے دس مزید راتوں سے مکمل کردیا کہ اس طرح ان کے رب کا وعدہ چالیس راتوں کا وعدہ ہوگیا اور انہوں نے اپنے بھائی ہارون علیھ السّلام سے کہا کہ تم قوم میں میری نیابت کرو اور اصلاح کرتے رہو اور خبردار مفسدوں کے راستہ کا اتباع نہ کرنا)


پہلی تاریخ کے اعمال  
  
1: روزہ رکھنا جس کا ثواب اسی مہینوں کے روزے کے برابر ہے۔

2: نماز حضرت فاطمہ(سلام اللہ علیہا)
ظہر سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنا جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد ایک مرتبہ، اور سورہ توحید، آیۃ الکرسی اور سورہ قدر میں سے ہر ایک دس دس مرتبہ۔
اس ذکر کو پڑھنا: "حَسبی حَسبی حَسبی مِن سُوالی عِلمُکَ بِحالی" برای دور شدن شر ظالمان



آٹھویں تاریخ  
  
1: روزہ رکھنا

2: غسل کرنا



نویں رات 
   
1: مناجات اور عبادت

2: دعائے "اللهم یا شاهد کل نجوی‌..." پڑھنا

3: اس ذکر کو ہزار مرتبہ پڑھنا: "سُبحانَ الذَی فی السماءِ عرشُهُ، سُبحانَ الذَی فی الارضِ حُکمُهُ، سُبحانَ الذی فی القُبُور قَضاؤُهُ، سبحان الذی فی البَحرِسَبیلُهُ، سبحان الذی فی النارسُلطانُهُ، سبحان الذی فی الجَنَّةِ رَحمَتُهُ، سبحان الذی فی القِیامَةِ عَدلُهُ، سبحان الذی رَفَعَ السَّماءَ، سبحان الذی بَسَطَ الاَرضَ، سبحان الذی لا مَلجَاَ وَ لا مَنجا مِنهُ اِلاّ الیه" 


ترجمہ: پاک ہے وہ خدا جس کا عرش آسمان میں ہے پاک ہے وہ خدا جس کا حکم زمین میں نافذ ہے پاک ہے وہ خد اجس کا فیصلہ قبروں میں نافذ ہے پاک ہے وہ خدا جس کا دریا میں راستہ ہے پاک ہے وہ خدا جو جہنم پر اختیار رکھتا ہے پاک ہے وہ خدا جنت میں جس کی رحمت ہے پاک ہے وہ خداقیامت میں جس کا عدل ہے پاک ہے وہ خدا جس نے آسمان بلند کیا پاک ہے وہ خدا جس نے زمین بچھائی پاک ہے وہ خدا جس سے پناہ و نجات نہیں مگر اسی کے ہاں سے

4: دعائے: "اللهم من تَعَّبَا وَ تَهَیا وَ اَعَدَّو استعدَّ لِوِفادةٍ..." پڑھنا

اَللَّهُمَّ مَنْ تَعَبَّأَ وَ تَهَیأَ وَ أَعَدَّ وَ اسْتَعَدَّ لِوِفَادَةٍ إِلَی مَخْلُوقٍ رَجَاءَ رِفْدِهِ وَ طَلَبَ نَائِلِهِ وَ جَائِزَتِهِ فَإِلَیک یا رَبِّ تَعْبِیتِی وَ اسْتِعْدَادِی رَجَاءَ عَفْوِک وَ طَلَبَ نَائِلِک وَ جَائِزَتِک فَلا تُخَیبْ دُعَائِی یا مَنْ لا یخِیبُ عَلَیهِ سَائِلٌ [السَّائِلُ] وَ لا ینْقُصُهُ نَائِلٌ فَإِنِّی لَمْ آتِک ثِقَةً بِعَمَلٍ صَالِحٍ عَمِلْتُهُ وَ لا لِوِفَادَةِ مَخْلُوقٍ رَجَوْتُهُ أَتَیتُک مُقِرّا عَلَی نَفْسِی بِالْإِسَاءَةِ وَ الظُّلْمِ، مُعْتَرِفا بِأَنْ لا حُجَّةَ لِی وَ لا عُذْرَ أَتَیتُک أَرْجُو عَظِیمَ عَفْوِک الَّذِی عَفَوْتَ [عَلَوْتَ] بِهِ [عَلَی] عَنِ الْخَاطِئِینَ [الْخَطَّائِینَ] فَلَمْ یمْنَعْک طُولُ عُکوفِهِمْ عَلَی عَظِیمِ الْجُرْمِ أَنْ عُدْتَ عَلَیهِمْ بِالرَّحْمَةِ فَیا مَنْ رَحْمَتُهُ وَاسِعَةٌ وَ عَفْوُهُ عَظِیمٌ یا عَظِیمُ یا عَظِیمُ یا عَظِیمُ لا یرُدُّ غَضَبَک إِلا حِلْمُک وَ لا ینْجِی مِنْ سَخَطِک إِلا التَّضَرُّعُ إِلَیک فَهَبْ لِی یا إِلَهِی فَرَجا بِالْقُدْرَةِ الَّتِی تُحْیی بِهَا مَیتَ الْبِلادِ،
وَ لا تُهْلِکنِی غَمّا حَتَّی تَسْتَجِیبَ لِی وَ تُعَرِّفَنِی الْإِجَابَةَ فِی دُعَائِی وَ أَذِقْنِی طَعْمَ الْعَافِیةِ إِلَی مُنْتَهَی أَجَلِی وَ لا تُشْمِتْ بی‌عَدُوِّی وَ لا تُسَلِّطْهُ عَلَی وَ لا تُمَکنْهُ مِنْ عُنُقِی اللَّهُمَّ [إِلَهِی] إِنْ وَضَعْتَنِی فَمَنْ ذَا الَّذِی یرْفَعُنِی وَ إِنْ رَفَعْتَنِی فَمَنْ ذَا الَّذِی یضَعُنِی وَ إِنْ أَهْلَکتَنِی فَمَنْ ذَا الَّذِی یعْرِضُ لَک فِی عَبْدِک أَوْ یسْأَلُک عَنْ أَمْرِهِ،
وَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ لَیسَ فِی حُکمِک ظُلْمٌ وَ لا فِی نَقِمَتِک عَجَلَةٌ وَ إِنَّمَا یعْجَلُ مَنْ یخَافُ الْفَوْتَ وَ إِنَّمَا یحْتَاجُ إِلَی الظُّلْمِ الضَّعِیفُ وَ قَدْ تَعَالَیتَ یا إِلَهِی عَنْ ذَلِک عُلُوّا کبِیرا اللَّهُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِک فَأَعِذْنِی وَ أَسْتَجِیرُ بِک فَأَجِرْنِی وَ أَسْتَرْزِقُک فَارْزُقْنِی وَ أَتَوَکلُ عَلَیک فَاکفِنِی وَ أَسْتَنْصِرُک عَلَی عَدُوِّی [عَدُوِّک] فَانْصُرْنِی وَ أَسْتَعِینُ بِک فَأَعِنِّی وَ أَسْتَغْفِرُک یا إِلَهِی فَاغْفِرْ لِی آمِینَ آمِینَ آمِینَ.


کربلا میں امام حسین علیہ السلام کی زیارت


نویں تاریخ (روز عرفہ)    

1: غسل کرنا

2: زیارت امام حسین علیہ السلام


🕌🫡 زیارت امام حسین علیہ السلام بروز عرفہ9 ذی الحجہ کے دن🍃


زیارت امام حسین علیہ السلام

شبِ قدر کی مخصوص زیارت امام حسین علیہ السلام

امام حسین ؑکی زیارت پڑھے ، روایت ہے کہ شب قدر میں ساتویں آسمان پر عرش کے نزدیک ایک منادی ندا دیتا ہے کہ حق تعالیٰ نے ہر اس شخص کے گناہ معاف کر دئیے جو زیارت امام حسینؑ کے لیے آیا ہے۔
جاننا چاہیے کہ امام حسینؑ کی زیارت ماہ رمضان میں کرنے اور خاص کر اس کی پہلی، پندرھویں اور آخری رات میں اور شب ہائے قدر میں آپ کی زیارت کرنے کی فضلیت میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں امام محمد تقیؑ سے روایت ہے کہ: ماہ رمضان کی تیئسویں رات وہ رات ہے جس کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شب قدر ہے اسی رات میں ہرا مرمحکم اور مقدر ہوتا ہے۔
پس جو شخص اس شب میں امام حسینؑ کی زیارت کرے تو چوبیس ہزار پیغمبر اور فرشتے اس کے ساتھ مصافحہ کرتے ہیں کیونکہ وہ اس رات حضرت کی زیارت کرنے کے لیے خدائے تعالیٰ سے اجازت لے کر آتے ہیں ایک اور معبتر حدیث میں امام جعفر صادق ؑ سے روایت کی گئی ہے کہ جب شب قدر آتی ہے تو ساتویں آسمان پر عرش کے اندرونی حصے میں ایک منادی ندا دیتا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے ہر ایسے شخص کو بخش دیا جو حسینؑ ابن علیؑ کی زیارت کیلئے آیا ہے ایک اور روایت میں ہے کہ جو شخص شب قدر میں قبر امام حسینؑ پر ہو اور اسکے قریب تر یا اس کے پاس جہاں بھی جگہ ملے دو رکعت نماز بجا لائے پھر حق تعالیٰ سے بہشت کا سوال کرے اور آتش جہنم سے پناہ طلب کرے تو اس کا سوال جنت پورا کرے گا اور جہنم سے پناہ عطا فرمائے گا
ابن قولویہ نے امام جعفر صادق ؑ سے روایت کی ہے کہ جو شخص ماہ مبارک میں امام حسینؑ کی زیارت کرے اور اثنائے راہ میں مر جائے تو اس کاحساب وغیرہ نہیں ہو گا اور اس سے کہاجائے گا کہ بے خوف و خطر جنت میں داخل ہو جا باقی رہا اس زیارت کا متن یعنی اس کے الفاظ و کلمات جو شب قدر میں امام حسینؑ کیلئے پڑھی جاتی ہے اور اس کا ذکر شیخ مفیدؒ شیخ محمد بن المشہدیؒ‘ سیدابن طاؤس او رشہیدؒ نے کتب مزار میں کیا ہے اور اس زیارت کوشب قدر،عید الفطر و عید الاضحی کے لیے مخصوص قرار دیا ہے نیز شیخ محمد بن المشہدیؒ نے اپنی معتبر اسناد کے ساتھ امام جعفر صادق ؑ سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: جب تم ابی عبداللہ الحسینؑ کی زیارت کا ارادہ کرو تو غسل کر کے پاکیزہ لباس پہنو‘ پھر حضرت کی ضریح پاک کی طرف جاؤ اور اس کے نزدیک کھڑے ہو کر حضرت کی طرف رخ کرو اس طرح کہ قبلہ کو اپنے دونوں کندھوں کے درمیان قرار دو اور یہ کہو:

1: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ،

آپ پر سلام ہو اے رسول ؐ خداکے فرزند آپ پر سلام ہو اے امیرالمومنینؑ کے فرزند

2,: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الصِّدِّیقَةِ الطَّاھِرَةِ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِساءِ الْعالَمِینَ،

آپ پر سلام ہو اے فاطمہؑ کے فرزند جو بہت سچی پاکیزہ اور تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں


3: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَباعَبْدِ اللہِ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکاتُہُ،

آپ پر سلام ہو اے میرے مولا اے ابا عبداللہؑ خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں

4: أَشْھَدُ أَنَّکَ قَدْ أَقَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکاةَ، وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَھَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ،

میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا اور برے کاموں سے منع کیا

5: وَتَلَوْتَ الْکِتابَ حَقَّ تِلاوَتِہِ، وَجاھَدْتَ فِی اللہِ حَقَّ جِھادِہِ، وَصَبَرْتَ عَلَی الْاَذیٰ فیْ جَنْبِہِ مُحْتَسِباً حَتّٰی أَتَاکَ الْیَقِینُ،

آپ نے تلاوت قرآن کی جو تلاوت کا حق ہے آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کیا جو جہاد کا حق ہے اور آپ نے خدا کی خاطر دکھوں پر صبر کیا امید اجر میں حتی کہ آپ نے شہادت پائی

6: أَشْھَدُ أَنَّ الَّذِینَ خالَفُوکَ وَحارَبُوکَ وَالَّذِینَ خَذَلُوکَ وَالَّذِینَ قَتَلُوکَ مَلْعُونُونَ عَلٰی لِسانِ النَّبِیِّ الْاُمِیِّ وَقَدْ خابَ مَنِ افْتَریٰ،

میں گواہی دیتا ہوں کہ جنہوں نے آپکی مخالفت کی اور آپ سے لڑے نیز جنہوں نے آپکا ساتھ نہ دیا اور جنہوں نے آپکو قتل کیاوہ سب ملعون قرار دیئے گئے نبی امی کی زبان سے یقینا وہ ناکام رہا جس نے جھوٹا دعویٰ کیا

7: لَعَنَ اللہُ الظَّالِمِینَ لَکُمْ مِنَ الْاَوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ وَضاعَفَ عَلَیْھِمُ الْعَذابَ الْاَلِیمَ،

خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے آپ پر ظلم کیا ہے اولین و آخرین میں سے اور دگنا ہو ان پر درد ناک عذاب

8: أَتَیْتُکَ یَامَوْلایَ یَابْنَ رَسُولِ اللہِ زائِراً، عارِفاً بِحَقِّکَ، مُوالِیاً لِاَوْلِیائِکَ، مُعادِیاً لِاَعْدائِکَ، ،

میں آیا آپ کے ہاں اے میرے مولا اے رسول خدا ؐ کے فرزند زیارت کرنے آپکاحق پہنچاتے ہوئے آپکے دوستوں سے دوستی آپکے دشمن سے دشمنی رکھتے ہوئے 

9: مُسْتَبْصِراً بِالْھُدَی الَّذِی أَنْتَ عَلَیْہِ، عارِفاً بِضَلالَةِ مَنْ خالَفَکَ فَاشْفَعْ لِی عِنْدَ رَبِّکَ۔

اس راستے کو درست ہدایت جانتے ہوئے جس پر آپ چلے اور اسے گمراہ سمجھتے ہوئے جس نے آپ سے مخالفت کی پس اپنے رب کے ہاں میری سفارش کریں ۔
اس کے بعد زائر خود کو قبر مبارک سے لپٹائے اور اپنا منہ اس پر رکھے پھر سرہانے کی طرف جائے اور کہے:

10: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ اللہِ فِی أَرْضِہِ وَسَمائِہِ، صَلَّی اللہُ عَلٰی رُوحِکَ الطَّیِّبِ وَجَسَدِکَ الطَّاھِرِ،

آپ پر سلام ہو اے خدا کی حجت اس کی زمین اور اسکے آسمان میں خدا رحمت کرے آپ کی پاکیزہ روح پراور آپ کے جسم پاک پر

11: وَعَلَیْکَ السَّلَامُ یَا مَوْلایَ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکاتُہُ۔

اور آپ پر سلام ہو اے میرے مولا خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہو۔

اب پھر سے خود کو قبر شریف سے لپٹائے اس پر بوسہ دے اور اپنا چہرہ اس پر رکھ دے‘ اس کے بعد سرہانے کیطرف چلا جائے اور دو رکعت نماز زیارت ادا کرے اسکے بعد وہاں مزید جتنی چاہے نماز پڑھے پھر قبر مبارک کی پائنتی کی طرف جائے اور حضرت علی اکبر ؑ کی زیارت کرے اور کہے:

12: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ وَابْنَ مَوْلایَ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکاتُہُ، لَعَنَ اللہُ مَنْ ظَلَمَکَ، وَلَعَنَ اللہُ مَنْ قَتَلَکَ، وَضاعَفَ عَلَیْھِمُ الْعَذابَ الْاَلِیمَ۔

آپ پر سلام ہو اے میرے مولا اور میرے مولا کے فرزندخداکی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ پر ظلم کیا اور خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ کو قتل کیا نیز ان کے درد ناک عذاب میں کئی گنااضافہ کرے۔

اب جو دعا چاہے مانگے اور پھر دیگر شہدائے کربلاء کی طرف متوجہ ہو جب کہ قبر کی پائنتی سے قبلہ کی طرف ہو پس یوں کہے:

13: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَیُّھَا الصِّدِیقُونَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَیُّھَا الشُّھَداءُ الصَّابِرُونَ،

سلام ہو آپ سب پر اے سچو سلام ہو آپ پر اے شہیدو جو بہت صبر کرنے والے ہو

14: أَشْھَدُ أَنَّکُمْ جاھَدْتُمْ فِی سَبِیلِ اللہِ، وَصَبَرْتُمْ عَلَی الْاَذیٰ فِی جَنْبِ اللہِ، وَنَصَحْتُمْ لِلہِ وَلِرَسُولِہِ، حَتّٰی أَتَاکُمُ الْیَقِینُ،

میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کیا اور خدا کی خاطر دکھ تکلیف پر صبرسے کام لیا آپ نے خدا و رسول ؐ سے خلوص برتا حتیٰ کہ دنیا سے گزر گئے

15: أَشْھَدُ أَنَّکُمْ أَحْیاءُٗ عِنْدَ رَبِّکُمْ تُرْزَقُونَ، فَجَزاکُمُ اللہُ عَنِ الْاَسْلامِ وَأَھْلِہِ أَفْضَلَ جَزاءِ الْمُحْسِنِینَ، وَجَمَعَ بَیْنَنا وَبَیْنَکُمْ فِی مَحَلِّ النَّعِیمِ۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ ضرور آپ اپنے رب کی ہاں زندہ ہیں رزق پاتے ہیں پس خدا تمہیں جزا دے اسلام اور اہل اسلام کی طرف سے بہترین جزا جو نیکو کاروں کے لیے ہے اور یکجا کرے ہمیں اور تم کونعمتوں والی جنت کے مکانوں میں ۔

اب حضرت عباس ابن امیر المومنین کی زیارت کیلئے جائے اور جب وہاں پہنچے تو حضرت کی ضریح مبارک کے پاس کھڑے ہو کر کہے:

16: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الْمُطِیعُ لِلہِ وَلِرَسُولِہِ،

آپ پر سلام ہو اے امیر المومنین کے فرزند آپ پر سلام ہو اے بندہ خوش کردار خدا اوراس کے رسول ؐ کے اطاعت گزار

17: أَشْھَدُ أَنَّکَ قَدْجاھَدْتَ وَنَصَحْتَ وَصَبَرْتَ حَتّٰی أَتَاکَ الْیَقِینُ،

میں گواہی دیتا ہوں کہ ضرور آپ نے جہاد کیا خیر اندیشی کی اور صبر سے کام لیا حتی کہ آپ دنیا سے چل بسے

18: لَعَنَ اللہُ الظَّالِمِینَ لَکُمْ مِنَ الْاَوَّلِینَ وَالْآخِرِینَ، وَأَلْحَقَھُمْ بِدَرْکِ الْجَحِیمِ۔

خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے آپ پر ظلم ڈھایا اولین و آخرین میں سے اور خدا ان کو جہنم کے نچلے درجے میں پھینکے۔

پھر حضرت کی مسجد میں جس قدر چاہے مستحبی نماز ادا کرے اور باہر آ جائے


🚩 والسلام علیکم ورحمۃ اللہ.

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 

🚩زیر سرپرستی امام زمانہ عج 🙏🏻🏕️

شہر بانو ✍

3: دو رکعت نماز
نماز عصر کے بعد اور دعائے عرفہ سے پہلے کھلے آسمان دو رکعت نماز جس کی پہلی رکعت میں سورہ حمد اور سوره توحید جبکہ دوسری رکعت میں سورہ حمد اور سورہ کافرون۔

4: روزہ رکھنا
روزہ رکھنا اس شرط کے ساتھ کہ اس دن کے اعمال بجا لانے میں سستی کا باعث نہ بنے۔
دعائے ام داود جو ماہ رجب کے اعمال میں ذکر کیا گیا ہے۔

5: ان تسبیحات کا پڑھنا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا ثواب قابل شمارش نہیں ہے: " سبحان الله قبل کل احد و سبحان الله بعد کل احد"


6: زیارت جامعہ کبیرہ.

7: دعائے عرفہ امام حسین(ع)

8: دعائے عرفہ امام سجاد

9: ان صلوات کو پڑھنا جو امام صادق(ع) سے مروی ہیں:
اللَّهُمَّ یا أَجْوَدَ مَنْ أَعْطَی وَ یا خَیرَ مَنْ سُئِلَ وَ یا أَرْحَمَ مَنِ اسْتُرْحِمَ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ فِی الْأَوَّلِینَ وَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ فِی الْآخِرِینَ وَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ فِی الْمَلَإِ الْأَعْلَی وَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ فِی الْمُرْسَلِینَ اللَّهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّدا وَ آلَهُ الْوَسِیلَةَ وَ الْفَضِیلَةَ وَ الشَّرَفَ وَ الرِّفْعَةَ وَ الدَّرَجَةَ الْکبِیرَةَ اللَّهُمَّ إِنِّی آمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَ آلِهِ وَ لَمْ أَرَهُ فَلا تَحْرِمْنِی فِی [یوْمِ] الْقِیامَةِ رُؤْیتَهُ وَ ارْزُقْنِی صُحْبَتَهُ وَ تَوَفَّنِی عَلَی مِلَّتِهِ وَ اسْقِنِی مِنْ حَوْضِهِ مَشْرَبا رَوِیا سَائِغا هَنِیئا لا أَظْمَأُ بَعْدَهُ أَبَدا إِنَّک عَلَی کلِّ شَیءٍ قَدِیرٌ اللَّهُمَّ إِنِّی آمَنْتُ بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَ آلِهِ وَ لَمْ أَرَهُ فَعَرِّفْنِی فِی الْجِنَانِ وَجْهَهُ اللَّهُمَّ بَلِّغْ مُحَمَّدا صَلَّی اللَّهُ عَلَیهِ وَ آلِهِ مِنِّی تَحِیةً کثِیرَةً وَ سَلاماً

 ترجمہ: اے اللہ! اے ہر عطا کرنے والے سے زیادہ سخی اے ہر سوال کئے ہوئے سے بہتر اور اے سب سے زیادہ رحمت کرنے والے اے اللہ حضرت محمد(ص) پر اور انکی آل پر رحمت نازل فرما پہلوں کیساتھ اور حضرت محمد(ص) اور انکی آل پر رحمت نازل کر پچھلوں کیساتھ اور حضرت محمد(ص) اور ان کی آل پر رحمت نازل کر معالم بالا میں اور حضرت محمد(ص) اور ان کی آل پر رحمت نازل کر مرسلوں کے ساتھ اے اللہ! محمد(ص) و آل(ع) محمد(ص) کو ذریعہ و وسیلہ بڑائی بزرگی بلندی اور بہت بڑا درجہ و مقام عطا کر اے اللہ! بے شک میں ایمان لایا ہوں حضرت محمد پر اور انہیں دیکھا نہیں پس قیامت میںمجھے ان کے دیدار سے محروم نہ رکھنا اور ان کی صحبت نصیب کرنا نیز مجھے ان کے دین پر موت دے ان کے حوض کوثر میں سے پانی پلانا جو سیر کردینے والا خوش مزہ و شیریں ہو کہ اس کے بعد میں کبھی پیاسا نہ ہوں بے شک تو ہرچیز پر قدرت رکھتا ہے اے اللہ! بیشک میں ایمان لاتا ہوں حضرت محمد پر اور انہیں دیکھا نہیں پس جنت میں مجھے ان کی پہچان کرادینا اے اللہ! پہنچادے حضرت محمد کو میری طرف سے بہت بہت آداب اور سلام۔


دسویں رات    
احیاء
اس دعا کا پڑھنا:

 یا دَائِمَ الْفَضْلِ عَلَی الْبَرِیةِ یا بَاسِطَ الْیدَینِ بِالْعَطِیةِ یا صَاحِبَ الْمَوَاهِبِ السَّنِیةِ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ خَیرِ الْوَرَی سَجِیةً وَ اغْفِرْ لَنَا یا ذَا الْعُلَی فِی هَذِهِ الْعَشِیةِ.

دسواں دن (عید قربان)    

1: غسل کرنا
2: نماز عید قربان
3: صحیفہ سجادیہ کی 48ویں دعا
4: صحیفہ سجادیہ کی 46ویں دعا
5: دعائے ندبہ



دعائے ندبہ
اعمال, روز جمعہ, روز جمعہ کے اعمال, مخصوص دعائیں, دعائے ندبہ
مؤلف کہتے ہیں کہ سید بن طاؤوسؒ نے مصباح الزائر میں اعمال سرداب کے بارے میں ایک فصل رقم کی ہے جس میں انہوں نے حضرت صاحب الزماں ﴿عج﴾ کی چھ زیارتیں درج کی ہیں اور پھر فرمایا ہے کہ اسی فصل سے دعا ندبہ ملحق کی جاتی ہے اور روزانہ نماز فجر کے بعد حضرتؑ کے لیے پڑھی جانے والی یہ زیارت ساتویں زیارت شمار ہوگی نیز دعا عہد بھی اس فصل میں شامل کی جا رہی ہے جسے غیبت امام کے زمانے میں پڑھنے کا حکم ہوا ہے اور وہ دعا بھی ذکر ہوئی ہے جو حضرتؑ کے حرم شریف سے واپس جاتے وقت پڑھنا چاہیے اس کے بعد انہوں نے یہ چاروں چیزیں وہاں بیان کی ہیں۔

چنانچہ ہم ان کی پیروری کرتے ہوئے اس مقام پر وہی چارامور نقل کر رہے ہیں ان میں سے پہلی دعا ندبہ ہے جسے چار عیدوں یعنی عید الفطر عید الاضحی‘ عید غدیر اور روز جمعہ پڑھنا مستحب ہے اوروہ یہ ہے۔

1: الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعالَمِینَ وَصَلَّی اللہُ عَلَی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ نَبِیِّہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ تَسْلِیماً

حمد ہے خدا کیلئے جو جہانوں کا پرودگار ہے اور خدا ہمارے سردار اور اپنے نبی محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت کرے اور بہت بہت سلام بھیجے

2: اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ عَلٰی مَا جَریٰ بِہِ قَضاؤُکَ فِی أَوْلِیائِکَ الَّذِینَ اسْتَخْلَصْتَھُمْ لِنَفْسِکَ وَدِینِکَ

اے معبود حمد ہے تیرے لیے کہ جاری ہو گی تیری قضاء و قدر تیرے اولیاء کے بارے میں جن کو تو نے اپنے لیے اور اپنے دین کیلئے خاص کیا

3: إذِ اخْتَرْتَ لَھُمْ جَزِیلَ مَا عِنْدَکَ مِنَ النَّعِیمِ الْمُقِیمِ الَّذِی لَا زَوالَ لَہُ وَلَا اضْمِحْلالَ

جب کہ انہیں اپنے ہاں سے وہ نعمتیں عطا کی ہیں جو باقی رہنے والی ہیں جو نہ ختم ہوتی ہیں نہ کمزور پڑتی ہیں

4:  بَعْدَ أَنْ شَرَطْتَ عَلَیْھِمُ الزُّھْدَ فِی دَرَجاتِ ھَذِہِ الدُّنْیَا الدَّنِیَّةِ وَزُخْرُفِھَا وَزِبْرِجِھَا

اس کے بعد کہ تو نے ان پر اس دنیا کے بے حقیقت مناصب جھوٹی شان و شوکت اور زینت سے دور رہنا لازم کیا

5: فَشَرَطُوا لَکَ ذلِکَ وَعَلِمْتَ مِنْھُمُ الْوَفاءَ بِہِ فَقَبِلْتَھُمْ وَقَرَّبْتَھُمْ وَقَدَّمْتَ لَھُمُ الذِّکْرَ الْعَلِیَّ وَالثَّناءَ الْجَلِیَّ

پس انہوں نے یہ شرط پوری کی اور ان کی وفا کو تو جانتا ہے تو نے انہیں قبول کیا مقرب بنایا ان کے ذکر کو بلند فرمایا اور ان کی تعریفیں ظاہر کیں

6: وَأَھْبَطْتَ عَلَیْھِمْ مَلائِکَتَکَ وَکَرَّمْتَھُمْ بِوَحْیِکَ وَرَفَدْتَھُمْ بِعِلْمِکَ وَجَعَلْتَھُمُ الذَّرِیعَةَ إلَیْکَ وَالْوَسِیلَةَ إلَی رِضْوانِکَ

تو نے ان کی طرف اپنے فرشتے بھیجے ان کو وحی سے مشرف کیا ان کو اپنے علوم سے نوازا اور ان کو وہ ذریعہ قرار دیا جوتجھ تک پہنچائےاور وہ وسیلہ جو تیری خوشنودی تک لے جائے

7: فَبَعْضٌ أَسْکَنْتَہُ جَنَّتَکَ إلَی أَنْ أَخْرَجْتَہُ مِنْھَا وَبَعْضٌ حَمَلْتَہُ فِی فُلْکِکَ وَنَجَّیْتَہُ وَمَنْ آمَنَ مَعَہُ مِنَ الْھَلَکَةِ بِرَحْمَتِکَ

پس ان میں کسی کو جنت میں رکھا یہاں تک کہ اس سے باہر بھیجا کسی کو اپنی کشتی میں سوار کیا اور بچا لیا اور جو ان کے ساتھ تھے انہیں موت سے بچایا تو نے اپنی رحمت کے ساتھ

8: وَبَعْضٌ اتَّخَذْتَہُ لِنَفْسِکَ خَلِیْلًا وَسَأَلَکَ لِسانَ صِدْقٍ فِی الْاَخِرِینَ فَأَجَبْتَہُ وَجَعَلْتَ ذلِکَ عَلِیّاً

اور کسی کو تو نے اپنا خلیل بنایا پھردوسرے سچی زبان والوں نے تجھ سے سوال کیا جسے تو نے پورا فرمایا اسے بلند وبالا قرار دیا

9: وَبَعْضٌ کَلَّمْتَہُ مِنْ شَجَرَةٍ تَکْلِیماً وَجَعَلْتَ لَہُ مِنْ أَخِیہِ رِدْئاً وَوَزِیْراً وَبَعْضٌ أَوْلَدْتَہُ مِنْ غَیْرِ أَبٍ وَآتَیْتَہُ الْبَیِّنَاتِ وَأَیَّدْتَہُ بِرُوحِ الْقُدُسِ

کسی کے ساتھ تو نے درخت کے ذریعے کلام کیا اور اس کے بھائی کو اس کا مدد گار بنایا کسی کو تو نے نے بن باپ کے پیدا فرمایا اسے بہت سے معجزات دئیے اور روح قدس سے اسے قوت دی

10: وَکُلٌّ شَرَعْتَ لَہُ شَرِیعَةً وَنَھَجْتَ لَہُ مِنْھَاجاً وَتَخَیَّرْتَ لَہُ أَوْصِیاءَ مُسْتَحْفِظاً بَعْدَ مُسْتَحْفِظٍ مِنْ مُدَّةٍ إلَی مُدَّةٍ إقامَةً لِدِینِکَ وَحُجَّةً عَلَی عِبادِکَ

تو نے ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور راستہ مقرر کیا ان کے لیے اوصیاءچنے کہ تیرے دین کو قائم رکھنے کے لیے ایک کے بعد دوسرا نگہبان آیا جو تیرے بندوں پر حجت قرار پایا

11: وَلِئَلَّا یَزُولَ الْحَقُّ عَنْ مَقَرِّہِ وَیَغْلِبَ الْباطِلُ عَلٰی أَھْلِہِ وَلَا یَقُولَ أَحَدٌ لَوْلا أَرْسَلْتَ إلَیْنا رَسُولًا مُنْذِراً وَ أَقَمْتَ لَنا عَلَماً ھَادِیاً

تاکہ حق اپنے مقام سے نہ ہٹے اور باطل کے حامی اہل حق پر غلبہ نہ پائیں اور کوئی یہ نہ کہے کہ کاش تو نے ہماری طرف ڈرانے والا رسول بھیجا ہوتا اور ہمارے لیے ہدایت کا جھنڈا بلند کیا ہوتا

12: فَنَتَّبِعَ آیاتِکَ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَذِلَّ وَنَخْزٰی إلَی أَنِ انْتَھَیْتَ بِالْاَمْرِ إلی حَبِیبِکَ وَنَجِیبِکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وآلِہِ

کہ تیری آیتوں کی پیروی کرتے اس سے پہلے کہ ذلیل و رسوا ہوں یہاں تک کہ تو نے امر ہدایت اپنے حبیب اور پاکیزہ اصل محمدؐ کے سپرد کیا

13: فَکانَ کَمَا انْتَجَبْتَہُ سَیِّدَ مَنْ خَلَقْتَہُ وَصَفْوَةَ مَنِ اصْطَفَیْتَہُ وَأَفْضَلَ مَنِ اجْتَبَیْتَہُ وَأَکْرَمَ مَنِ اعْتَمَدْتَہُ قَدَّمْتَہُ عَلٰی أَنْبِیائِکَ

پس وہ ایسے سردار ہوئے جن کو تو نے مخلوق میں سے پسند کیا برگزیدوں میں سے برگزیدہ بنایا جن کو چنا ان میں سے افضل بنایا اپنے خواص میں سے بزرگ قرار دیا انہیں نبیوں کا پیشوا بنایا

14: وَبَعَثْتَہُ إلَی الثَّقَلَیْنِ مِنْ عِبَادِکَ وَأَوْطَأْتَہُ مَشارِقَکَ وَمَغارِبَکَ وَسَخَّرْتَ لَہُ الْبُرَاقَ وَعَرَجْتَ بِرُوْحِہِ إلَی سَمَائِکَ.

اور ان کو اپنے بندوں میں سے جن وانس کی طرف بھیجا ان کیلئے سارے مشرقوں مغربوں کو زیر کر دیا براق کو انکا مطیع بنایا اور انکو جسم و جان کیساتھ آسمان پربلایا

15: وَأَوْدَعْتَہُ عِلْمَ مَا کَانَ وَمَا یَکُونُ إلَی انْقِضَاءِ خَلْقِکَ ثُمَّ نَصَرْتَہُ بِالرُّعْبِ وَحَفَفْتَہُ بِجَبْرَائِیلَ وَمِیکائِیلَ وَالْمُسَوِّمِینَ مِنْ مَلائِکَتِکَ

اور تو نے انہیں سابقہ و آئندہ باتوں کا علم دیا یہاں تک کہ تیری مخلوق ختم ہو جائے پھر ان کو دبدبہ عطا کیا اور ان کے گرد جبرائیلؑ و میکائیلؑ اور نشان زدہ فرشتوں کوجمع فرمایا

16: وَوَعَدْتَہُ أَنْ تُظْھِرَ دِینَہُ عَلٰی الدِّینِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ

ان سے وعدہ کیا کہ آپکا دین تمام ادیان پر غالب آئے گا اگرچہ مشرک دل تنگ ہوں

17: وَذلِکَ بَعْدَ أَنْ بَوَّأْتَہُ مُبَوَّأَ صِدْقٍ مِنْ أَھْلِہِ وَجَعَلْتَ لَہُ وَلَھُمْ أَوَّلَ بَیْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّةَ مُبارَکاً وَھُدیً لِلْعالَمِینَ

اور یہ اس وقت ہوا جب ہجرت کے بعد تو نے انکے خاندان کوسچائی کے مقام پر جگہ دی اور انکے اور انکے ساتھیوں کیلئے قبلہ بنایا پہلا گھر جو مکہ میں بنا یا گیا جو جہانوں کیلئے برکت و ہدایت کا مرکز ہے

18: فِیہِ آیاتٌ بَیِّناتٌ مَقامُ إبْراھِیمَ وَمَنْ دَخَلَہُ کانَ آمِنًا

اس میں واضح نشانیاں اور مقام ابراہیمؑ ہے جو اس گھر میں داخل ہوا اسے امان مل گئی

19: وَقُلْتَ إنَّما یُرِیدُ اللہُ لِیُذْھِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَھْلَ الْبَیْتِ وَیُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیراً

نیز تو نے فرمایا ضرور خدا نے ارادہ کر لیا ہے کہ تم سے برائی کو دور کر دے اے اہلبیتؑ اور تمہیں پاک رکھے جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے

20: ثُمَّ جَعَلْتَ أَجْرَ مُحَمَّدٍ صَلَواتُکَ عَلَیْہِ وَآلِہِ مَوَدَّتَھُمْ فِی کِتابِکَ

محمدؐ پر اور انکی آلؑ پر تیری رحمتیں ہوں تو نے اہل بیتؑ کی محبت کو قرآن میں اجررسالت قرار دیا

21: فَقُلْتَ قُلْ لَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ أَجْراً إلَّا الْمَوَدَّ ةَ فِی الْقُرْبیٰ وَقُلْتَ مَا سَأَلْتُکُمْ مِنْ أَجْرٍ فَھُوَ لَکُمْ

پس تو نے فرمایا کہہ دیں کہ میں تم سے اجر رسالت نہیں مانگتا مگر یہ کہ میرے اقربا سے محبت کرو اور تو نے کہا جو اجر میں نے تم سے مانگا ہے وہ تمہارے فائدے میں ہے

22: وَقُلْتَ ما أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ أَجْرٍ إلَّا مَنْ شَاءَ أَنْ یَتَّخِذَ إلَی رَبِّہِ سَبِیْلًا فَکانُوا ھُمُ السَّبِیْلَ إلَیْکَ وَالْمَسْلَکَ إلَی رِضْوانِکَ

نیز تو نے فرمایا میں نے تم سے اجر رسالت نہیں مانگا سوائے اس کے کہ یہ راہ اس کے لیے جو خدا تک پہنچنا چاہے پس اہل بیت تیرا مقرر کردہ راستہ اور تیری خوشنودی کے حصول کا ذریعہ ہیں

23: فَلَمَّا انْقَضَتْ أَیَّامُہُ أَقامَ وَلِیَّہُ عَلِیَّ بْنَ أَبِی طالِبٍ صَلَواتُکَ عَلَیْھِما وَآلِھِما ھَادِیاً إذْ کانَ ھُوَ الْمُنْذِرَ وَلِکُلِّ قَوْمٍ ھَادٍ

ہاں جب محمدؐ رسول اللہ کا وقت پورا ہو گیا تو ان کی جگہ علیؑ بن ابی طالبؑ نے لے لی ان دونوں پر اور انکی آلؑ پر تیری رحمتیں ہوں علی رہبر ہیں جب کہ محمدؐ ڈرانے والے اور ہر قوم کیلئے رہبر ہے

24: فَقالَ وَالْمَلَاُ أَمامَہُ مَنْ کُنْتُ مَوْلاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلاہُ اَللّٰھُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ وَعادِ مَنْ عَادَاہُ وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَہُ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَہُ

پس فرمایا آپ نے جماعت صحابہ سے کہ جسکا میں مولا ہوں پس علیؑ بھی اسکے مولا ہیں اے معبود محبت کراس سے جو اس سے محبت کرے دشمنی کر اس سے جو اس سے دشمنی کرے مدد کر اسکی جو اسکی مدد کرے خوار کر اسکو جو اسے چھوڑے

25: وَقالَ مَنْ کُنْتُ أَنَا نَبِیَّہُ فَعَلِیٌّ أَمِیرُہُ وَقالَ أَنَا وَعَلِیٌّ مِنْ شَجَرَةٍ واحِدَةٍ وَسائِرُ النَّاسِ مِنْ شَجَرٍ شَتَّیٰ

نیز فرمایا کہ جسکا میں نبی ؐ ہوں علیؑ اسکا امیر و حاکم ہے اور فرمایا میں اور علیؑ ایک درخت سے ہیں اور دوسرے لوگ مختلف درختوں سے پیدا ہوئے ہیں

26: وَأَحَلَّہُ مَحَلَّ ھَارُونَ مِنْ مُوسی فَقال لَہُ أَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ ہارُونَ مِنْ مُوسی إلَّا أَنَّہُ لَا نَبِیَّ بَعْدِی

اور علیؑ کو اپنا جانشین بنایا جیسے ہارونؑ موسیٰؑ کے جانشین ہوئے پس فرمایااے علیؑ تم میری نسبت وہی مقام رکھتے ہو جو ہارونؑ کو موسیٰؑ کی نسبت تھا مگر میرے بعد کوئی نبیؐ نہیں

27: وَزَوَّجَہُ ابْنَتَہُ سَیِّدَةَ نِساءِ الْعالَمِینَ وَأَحَلَّ لَہُ مِنْ مَسْجِدِہِ مَا حَلَّ لَہُ وَسَدَّ الْاَبْوابَ إلَّا بابَہُ

آپ نے علیؑ کا نکاح اپنی بیٹی سردار زنان عالمؑ سے کیا مسجد میں ان کیلئے وہ امر حلال رکھا جو آپ کیلئے تھا اور مسجد کی طرف سے سبھی دروازے بندکرائے سوائے علیؑ کے دروازے کے

28: ثُمَّ أَوْدَعَہُ عِلْمَہُ وَحِکْمَتَہُ فَقالَ أَنَا مَدِینَۃُ الْعِلْمِ وَعَلِیٌّ بابُھَا فَمَنْ أَرادَ الْمَدِینَةَ وَالْحِکْمَةَ فَلْیَأْتِھَا مِنْ بابِھَا

پھر اپنا علم و حکمت ان کے سپرد کیا تو فرمایا میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہیں لہذا جو علم و حکمت کا طالب ہے وہ اس در علم پر آئے

29: ثُمَّ قالَ أَنْتَ أَخِی وَوَصِیِّی وَوارِثِی لَحْمُکَ مِنْ لَحْمِی وَدَمُکَ مِنْ دَمِی وَسِلْمُکَ سِلْمِی وَحَرْبُکَ حَرْبِی

نیز یہ کہا کہ اے علیؑ تم میرے بھائی جانشین اور وارث ہو تمہارا گوشت میرا گوشت تمہارا خون میرا خون تمہاری صلح میری صلح تمہاری جنگ میری جنگ ہے

30: وَالْاِیمانُ مُخالِطٌ لَحْمَکَ وَدَمَکَ کَمَا خالَطَ لَحْمِی وَدَمِی وَأَنْتَ غَداً عَلٰی الْحَوْضِ خَلِیفَتِی

اور ایمان تمہاری رگوں میں شامل ہے جیسے وہ میرے رگوں میں شامل ہے قیامت میں تم حوض کوثر پر میرے خلیفہ ہوگے

31: وَأَنْتَ تَقْضِی دَیْنِی وَتُنْجِزُ عِدَاتِی وَشِیْعَتُکَ عَلٰی مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ مُبْیَضَّةً وُجُوھُھُمْ حَوْلِی فِی الْجَنَّةِ وَھُمْ جِیرانِی

تمہی میرے قرضے چکاؤ گے اور میرے وعدے نبھاؤ گے تمہارے شیعہ جنت میں چمکتے چہروں کیساتھ نورانی تختوں پرمیرے آس پاس میرے قرب میں ہوں گے

32: وَلَوْلا أَنْتَ یَا عَلِیُّ لَمْ یُعْرَفِ الْمُؤْمِنُونَ بَعْدِی وَکانَ بَعْدَہُ ھُدیً مِنَ الضَّلالِ وَنُوراً مِنَ الْعَمیٰ وَحَبْلَ اللہِ الْمَتِینَ وَصِراطَہُ الْمُسْتَقِیمَ

اور اے علیؑ اگر تم نہ ہوتے تو میرے بعد مومنوں کی پہچان نہ ہو پاتی چنانچہ وہ آپ کے بعد گمراہی سے ہدایت میں لانے والے تاریکی سے روشنی میں لانے والے خدا کا مضبوط سلسلہ اور اسکا سیدھا راستہ ہیں

33: لَا یُسْبَقُ بِقَرابَةٍ فِی رَحِمٍ وَلَا بِسابِقَةٍ فِی دِینٍ وَلَا یُلْحَقُ فِی مَنْقَبَةٍ مِنْ مَناقِبِہِ یَحْذُو حَذْوَ الرَّسُولِ صَلَّی اللہُ عَلَیْھِما وَآلِھِمَا

نہ قرابت پیغمبرؐ میں کوئی ان سے بڑھا ہوا تھا نہ دین میں کوئی ان سے آگے تھا ان کے علاوہ کوئی بھی اوصاف میں رسولؐ کے مانند نہ تھاعلیؑ و نبیؐ اور انکی آلؑ پر خدا کی رحمت ہو

34: وَیُقاتِلُ عَلٰی التَّأْوِیلِ وَلَا تَأْخُذُہُ فِی اللہِ لَوْمَۃُ لَائِمٍ قَدْ وَتَرَ فِیہِ صَنَادِیدَ الْعَرَبِ وَقَتَلَ أَبْطالَھُمْ وَناوَشَ ذُؤْبانَھُمْ

علیؑ نے تاویل قرآن پر جنگ کی اور خدا کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کی عرب سرداروں کو ہلاک کیا انکے بہادروں کو قتل کیا اور انکے پہلوانوں کو پچھاڑا

35: فَأَوْدَعَ قُلُوبَھُمْ أَحْقَادًا بَدْرِیَّةً وَخَیْبَرِیَّةً وَحُنَیْنِیَّةً وَغَیْرَھُنَّ فَأَضَبَّتْ عَلٰی عَدَاوَتِہِ وَأَکَبَّتْ عَلٰی مُنَابَذَتِہِ

پس عربوں کے دلوں میں کینہ بھر گیا کہ بدر،خیبر حنین وغیرہ میں انکے لوگ قتل ہو گئے پس وہ علیؑ کی دشمنی میں اکھٹے ہوئے اور انکی مخالفت پر آمادہ ہو گئے

36: حَتَّی قَتَلَ النَّاکِثِینَ وَالْقاسِطِینَ وَالْمارِقِینَ وَلَمَّا قَضیٰ نَحْبَہُ وَقَتَلَہُ أَشْقَی الْاَخِرِینَ یَتْبَعُ أَشْقَی الْاَوَّلِینَ

چنانچہ آپؑ نے بیعت توڑنے والوں تفرقہ ڈالنے والوں اور ہٹ دھرمی کرنے والوں کو قتل کیا جب آپکا وقت پورا ہوا تو بعد والوں میں سے بدبخت ترین نے آپ کو قتل کیا اس نے پہلے والے شقی ترین کی پیروی کی

37: لَمْ یُمْتَثَلْ أَمْرُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ فِی الْھَادِینَ بَعْدَ الْھَادِینَ وَالْاُمَّۃُ مُصِرَّۃٌ عَلٰی مَقْتِہِ مُجْتَمِعَۃٌ عَلٰی قَطِیعَةِ رَحِمِہِ

رسول اللہ کا فرمان پورا نہ ہوا جبکہ ایک رہبرکے بعد دوسرا رہبر آتا رہا اور امت اس کی دشمنی پر شدت سے کمر بستہ ہو کر اس پر ظلم ڈھاتی رہی

38: وَ إقْصاءِ وُلْدِہِ إلَّا الْقَلِیلَ مِمَّنْ وَفَیٰ لِرِعایَةِ الْحَقِّ فِیھِمْ فَقُتِلَ مَنْ قُتِلَ وَسُبِیَ مَنْ سُبِیَ وَٲُقْصِیَ مَنْ ٲُقْصِیَ

اور اس کی اولاد کو پریشان کرتی رہی مگر تھوڑے سے لوگ وفادار تھے اور انکا حق پہچانتے تھے پس ان میں سے کچھ قتل ہوگئے کچھ قید میں ڈالے گئے اور کچھ بے وطن ہوئے

39: وَجَرَی الْقَضَاءُ لَھُمْ بِمَا یُرْجیٰ لَہُ حُسْنُ الْمَثُوبَةِ إذْ کانَتِ الْاَرْضُ لِلہِ یُورِثُھَا مَنْ یَشاءُ مِنْ عِبادِہِ وَالْعاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِینَ

ان پر قضا وارد ہو گئی جس پروہ بہترین اجر کے امیدوار ہوئے کیونکہ زمین خدا کی ملکیت ہے وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اسکا وارث بناتا ہے اور انجام کار پرہیزگاروں کیلئے ہے

40: وَسُبْحانَ رَبِّنا إنْ کَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا وَلَنْ یُخْلِفَ اللہُ وَعْدَہُ وَھُوَ الْعَزِیزُ الْحَکِیمُ

اور پاک ہے ہمارا رب کہ ہمارے رب کا وعدہ پورا ہو کر رہتا ہے ہاں خدا اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا وہ زبر دست ہے حکمت والا

41: فَعَلَی الْاَطآئِبِ مِنْ أَھْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ صَلَّی اللہُ عَلَیْھِمَا وَآلِھِما فَلْیَبْکِ الْباکُونَ وَ إیَّاھُمْ فَلْیَنْدُبِ النَّادِبُونَ

پس حضرت محمدؐ و حضرت علیؑ کہ ان دونوں پر خدا کی رحمت ہو ان کے خاندان پر ان پر رونے والوں کو رونا چاہیے چنانچہ ان پر اور ان جیسوں پر دھاڑیں مار کر رونا چاہیے

42: وَلِمِثْلِھِمْ فَلْتَذْرِفِ الدُّمُوْعُ وَلْیَصْرُخِ الصَّارِخُونَ وَیَضِجَّ الضَّاجُّونَ وَیَعِجَّ الْعاجُّونَ

پس ان کیلئے آنسو بہائے جائیں رونے والے چیخ چیخ کر روئیں نالہ و فریاد بلند کریں اور اونچی آوازوں میں رو کر کہیں

43: أَیْنَ الْحَسَنُ أَیْنَ الْحُسَیْنُ أَیْنَ أَبْناءُ الْحُسَیْنِ صالِحٌ بَعْدَ صالِحٍ وَصادِقٌ بَعْدَ صادِقٍ

کہاں ہیں حسنؑ کہاں ہیں حسینؑ کہاں گئے فرزندان حسینؑ ایک نیک کردار کے بعد دوسرا نیک کردار ایک سچے کے بعد دوسرا سچا

44: أَیْنَ السَّبِیلُ بَعْدَ السَّبِیلِ أَیْنَ الْخِیَرَۃُ بَعْدَ الْخِیَرَةِ أَیْنَ الشُّمُوسُ الطَّالِعَۃُ أَیْنَ الْاَقْمارُ الْمُنِیرَۃُ

کہاں گئے جو ایک کے بعد ایک راہ حق کے رہبر تھے کہاں گئے جو اپنے وقت میں خدا کے برگزیدہ تھے کدھر گئے وہ چمکتے سورج کیا ہوئے وہ دمتے چاند

45: أَیْنَ الاَنْجُمُ الزَّاھِرَۃُ أَیْنَ أَعْلامُ الدِّینِ وَقَواعِدُ الْعِلْمِ أَیْنَ بَقِیَّۃُ اللہِ الَّتِی لَا تَخْلُو مِنَ الْعِتْرَةِ الْھَادِیَةِ

کہاں گئے وہ جھلملاتے ستارے کدھر گئے وہ دین کے نشان اور علم کے ستون کہاں ہے خدا کا آخری نمائندہ جو رہبروں کے اس خاندان سے باہر نہیں

46: أَیْنَ الْمُعَدُّ لِقَطْعِ دابِرِ الظَّلَمَةِ أَیْنَ الْمُنْتَظَرُ لِاِقَامَةِ الْاَمْتِ وَالْعِوَجِ أَیْنَ الْمُرْتَجیٰ لِاِزَالَةِ الْجَوْرِ وَالْعُدْوانِ

کہاں ہے وہ جو ظالموں کی جڑیں کاٹنے کیلئے آمادہ ہے کہاں ہے وہ جو انتظار میں ہے کہ کج کو سیدھا اور نا درست کو درست کرے کہاں ہے وہ امیدگاہ جو ظلم وستم کو مٹانے والا ہے

47: أَیْنَ الْمُدَّخَرُ لِتَجْدِیدِ الْفَرائِضِ وَالسُّنَنِ أَیْنَ الْمُتَخَیَّرُ لِاِعَادَةِ الْمِلَّةِ وَالشَّرِیعَةِ أَیْنَ الْمُؤَمَّلُ لِاِحْیَاءِ الْکِتابِ وَحُدُودِہِ

کہاں ہے وہ جو فرائض اور سنن کو زندہ کرنے والا امامؑ کہاں ہے وہ جو ملت اور شریعت کو راست کرنے والا کہاں ہے وہ جس کے ذریعے قرآن اور اس کے احکام کے زندہ ہونے کی توقع ہے

48: أَیْنَ مُحْیِی مَعالِمِ الدِّینِ وَأَھْلِہِ أَیْنَ قاصِمُ شَوْکَةِ الْمُعْتَدِینَ أَیْنَ ھَادِمُ أَبْنِیَةِ الشِّرْکِ وَالنِّفاقِ

کہاں ہے وہ جو دین اور اہل دین کے طریقے روشن کرنے والا کہاں ہے وہ جو ظالموں کا زور توڑنے والا کہاں ہے وہ جو شرک و نفاق کی بنیادیں ڈھانے والا

49: أَیْنَ مُبِیْدُ أَھْلِ الْفُسُوقِ وَالْعِصْیانِ وَالطُّغْیانِ أَیْنَ حاصِدُ فُرُوعِ الْغَیِّ وَالشِّقاقِ أَیْنَ طامِسُ آثارِ الزَّیْغِ وَالْاَھْواءِ 

کہاں ہے وہ جو بدکاروں نافرمانوں اور سرکشوں کو تباہ کرنے والا کہاں ہے وہ جو گمراہی اور تفرقے کی شاخیں کاٹنے والا کہاں ہے وہ جو کج دلی و نفس پرستی کے داغ مٹانے والا

50: أَیْنَ قاطِعُ حَبائِلِ الْکِذْبِ وَالْاِفْتِراءِ أَیْنَ مُبِیدُ الْعُتاةِ وَالْمَرَدَةِ أَیْنَ مُسْتَأْصِلُ أَھْلِ الْعِنَادِ وَالتَّضْلِیلِ وَالْاِلْحادِ

کہاں ہے وہ جو جھوٹ اور بہتان کی رگیں کاٹنے والا کہاں ہے وہ جو سرکشوں اور مغروروں کو تباہ کرنے والا کہاں ہے وہ جو دشمنوں گمراہ کرنے والوں اور بے دینوں کی جڑیں اکھاڑنے والا

51: أَیْنَ مُعِزُّ الْاَوْلِیاء وَمُذِلُّ الْاَعْداءِ أَیْنَ جامِعُ الْکَلِمَةِ عَلٰی التَّقْوی أَیْنَ بابُ اللہِ الَّذِی مِنْہُ یُوَتی

کہاں ہے وہ جو دوستوں کو باعزت اور دشمنوں کو ذلیل کرنے والا کہاں ہے وہ جو سب کو تقویٰ پر جمع کرنے والا کہاں ہے وہ جو خدا کا دروازہ جس سے وارد ہوں

52: أَیْنَ وَجْہُ اللہِ الَّذِی إلَیْہِ یَتَوَجَّہُ الْاَوْلِیاء أَیْنَ السَّبَبُ الْمُتَّصِلُ بَیْنَ الْاَرْضِ وَالسَّماءِ أَیْنَ صاحِبُ یَوْمِ الْفَتْحِ وَناشِرُ رایَةِ الْھُدی 

کہاں ہے وہ جو مظہر خدا کہ جس کی طرف حبدار متوجہ ہوں کہاں ہے وہ جو زمین و آسمان کے پیوست رہنے کا وسیلہ کہاں ہے وہ جو یوم فتح کا حکمران اور ہدایت کا پرچم لہرانے والا

53: أَیْنَ مُوَلِّفُ شَمْلِ الصَلَاحِ وَ الرِضَا أَیْنَ الطَّالِبُ بِذُحُولِ الْاَنْبِیاءِ وَأَبْناءِ الْاَنْبِیاءِ

کہاں ہے جو وہ نیکی و خوشنودی کا لباس پہننے والا کہاں ہے وہ جو نبیوں کے خون اور نبیوں کی اولاد کے خون کا دعویدار

54: أَیْنَ الطَّالِبُ بِدَمِ الْمَقْتُولِ بِکَرْبَلاءَ أَیْنَ الْمَنْصُورُ عَلٰی مَنِ اعْتَدی عَلَیْہِ وَافْتَری

کہاں ہے وہ جو کربلا کے مقتول حسینؑ کے خون کا مدعی کہاں ہے وہ جو اس پر غالب ہے جس نے زیادتی کی اور جھوٹ باندھا

55: أَیْنَ الْمُضْطَرُّ الَّذِی یُجابُ إذا دَعا أَیْنَ صَدْرُ الْخَلائِقِ ذُو الْبِرِّ وَالتَّقْوی

وہ پریشان کہ جب دعا مانگے قبول ہوتی ہے کہاں ہے وہ جو مخلوق کا حاکم جو نیک و پرہیز گار ہے

56:  أَیْنَ ابْنُ النَّبِیِّ الْمُصْطَفی وَابْنُ عَلِیٍّ الْمُرْتَضی وَابْنُ خَدِیجَةَ الْغَرَّاءِ وَابْنُ فاطِمَةَ الْکُبْرَی

کہاں ہے وہ جو نبی مصطفیؐ کا فرزند علی مرتضی ؑ کا فرزند خدیجہ پاکؑ کا فرزند اور فاطمہ کبریؑ کا فرزند مہدیؑ

57: بِأَبِی أَنْتَ وَٲُمِّی وَنَفْسِی لَکَ الْوِقاءُ وَالْحِمی یَابْنَ السَّادَةِ الْمُقَرَّبِینَ یَابْنَ النُّجَباءِ الْاَکْرَمِینَ

قربان آپ پر میرے ماں باپ اور میری جان آپ کیلئے فدا ہے اے خدا کے مقرب سرداروں کے فرزند اے پاک نسل بزرگواروں کے فرزند

58: یَابْنَ الْھُداةِ الْمَھْدِیِّینَ یَابْنَ الْخِیَرَةِ الْمُھَذَّبِینَ یَابْنَ الْغَطارِفَةِ الْاَنْجَبِینَ یَابْنَ الْاَطآئِبِ الْمُطَھَّرِینَ

اے ہدایت یافتہ رہبروں کے فرزنداے برگزیدہ اور خوش اطوار بزرگوں کے فرزند اے پاک نہاد سرداروں کے فرزند اے پاکبازوں پاک شدگان کے فرزند

59: یَابْنَ الْخَضارِمَةِ الْمُنْتَجَبِینَ یَابْنَ الْقَمَاقِمَةِ الْاَکْرَمِینَ یَابْنَ الْبُدُورِ الْمُنِیرَةِ یَابْنَ السُّرُجِ الْمُضِیْئَةِ یَابْنَ الشُّھُبِ الثَّاقِبَةِ

اے پاک نژاد و سادات کے فرزند اے وسیع القلب عزت داروں کے فرزند اے روشن چاندوں کے فرزند اے روشن چراغوں کے فرزند اے روشن سیاروں کے فرزند

60: یَابْنَ الْاَنْجُمِ الزَّاھِرَةِ یَابْنَ السُّبُلِ الْواضِحَةِ یَابْنَ الْاَعْلامِ اللَّائِحَةِ یَابْنَ الْعُلُومِ الْکامِلَةِ

اے چمکتے ستاروں کے فرزند اے روشن راہوں کے فرزند اے بلند مرتبے والوں کے فرزنداے حاملین علوم کے فرزند

61: یَابْنَ السُّنَنِ الْمَشْھُورَةِ یَابْنَ الْمَعالِمِ الْمَأْثُورَةِ یَابْنَ الْمُعْجِزاتِ الْمَوْجُودَةِ یَابْنَ الدَّلائِلِ الْمَشْھُودَةِ

اے واضح روشوں کے فرزند اے مذکورہ علامتوں کے فرزند اے معجز نمائوں کے فرزند اے ظاہر دلائل کے فرزند

62: یَابْنَ الصِّراطِ الْمُسْتَقِیمِ یَابْنَ النَّبَأِ الْعَظِیمِ یَابْنَ مَنْ ھُوَ فِی ٲُمِّ الْکِتابِ لَدَی اللہِ عَلِیٌّ حَکِیمٌ

اے سیدھے راستے کے فرزند اے عظیم خبر کے فرزند اے اس ہستی کے فرزند جو خدا کے ہاں ام الکتاب میں علی اور حکیم ہے

63: یَابْنَ الْآیاتِ وَالْبَیِّناتِ یَابْنَ الدَّلائِلِ الظَّاھِراتِ یَابْنَ الْبَراھِینِ الْواضِحاتِ الْباھِراتِ یَابْنَ الْحُجَجِ الْبالِغاتِ

اے واضح روشن آیات کے فرزند اے ظاہر اور دلائل کے فرزند اے واضح و روشن تر دلائل کے فرزند اے کامل حجتوں کے فرزند

64: یَابْنَ النِّعَمِ السَّابِغاتِ یَا ابْنَ طہ وَالْمُحْکَماتِ یَابْنَ یسَ وَالذَّارِیاتِ یَابْنَ الطُّورِ وَالْعادِیاتِ

اے بہترین نعمتوں کے فرزند اے طہٰ اور محکم آیتوں کے فرزند اے یا سین و ذاریات کے فرزند اے طور اور عادیات کے فرزند

65: یَابْنَ مَنْ دَنیٰ فَتَدَلَّیٰ فَکانَ قابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنیٰ دُنُوّاً وَاقْتِراباً مِنَ الْعَلِیِّ الْاَعْلی

اے اس ہستی کے فرزند جو نزدیک ہوئے تو اس سے مل گئے پس کمان کے دونوں سروں جتنے یا اس سے بھی نزدیک ہوئے علی اعلیٰ کے قریب ہو گئے

66: لَیْتَ شِعْرِی أَیْنَ اسْتَقَرَّتْ بِکَ النَّویٰ بَلْ أَیُّ أَرْضٍ تُقِلُّکَ أَوْ ثَریٰ أَبِرَضْویٰ أَوْ غَیْرِھَا أَمْ ذِی طُویٰ

اے کاش میں جانتا کہ اس دوری نے آپ کو کہاں جا ٹھہرایااور کس زمین میں اور کس خاک نے آپکو اٹھا رکھا ہے آپ مقام رضویٰ میں ہیں یا کسی اور پہاڑ پر ہیں یا وادی طویٰ میں

67: عَزِیزٌ عَلَیَّ أَنْ أَرَی الْخَلْقَ وَلَا تُریٰ وَلَا أَسْمَعُ لَکَ حَسِیساً وَلَا نَجْویٰ عَزِیزٌ عَلَیَّ أَنْ تُحِیطَ بِکَ دُونِیَ الْبَلْوَیٰ وَلَا یَنالُکَ مِنِّی ضَجِیجٌ وَلَا شَکْویٰ

یہ مجھ پر گراں ہے کہ مخلوق کو دیکھوں اور آپکو نہ دیکھ پاؤں نہ آپکی آہٹ سنوں اور نہ سر گوشی مجھے رنج ہے کہ آپ تنہا سختی میں پڑے ہیں میں آپکے ساتھ نہیں ہوں اور میری آہ و زاری آپ تک نہیں پہنچ پاتی

68: بِنَفْسِی أَنْتَ مِنْ مُغَیَّبٍ لَمْ یَخْلُ مِنَّا بِنَفْسِی أَنْتَ مِنْ نازِحٍ مَا نَزَحَ عَنَّا بِنَفْسِی أَنْتَ ٲُمْنِیَّۃُ شائِقٍ یَتَمَنَّیٰ مِنْ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ ذَکَرا فَحَنَّا

میری جان آپ پر قربان کہ آپ غائب ہیں مگر ہم سے دور نہیں میں آپ پر قربان آپ وطن سے دور ہیں لیکن ہم سے دور نہیں میں آپ پرقربان آپ ہر محب کی آرزو ہر مومن و مومنہ کی تمنا ہیں جس کیلئے وہ نالہ کرتے ہیں

69: بِنَفْسِی أَنْتَ مِنْ عَقِیدِ عِزٍّ لَا یُسَامیٰ بِنَفْسِی أَنْتَ مِنْ أَثِیلِ مَجْدٍ لَا یُجارَیٰ بِنَفْسِی أَنْتَ مِنْ تِلادِ نِعَمٍ لَا تُضاھَیٰ

میں قربان آپ وہ عزت دار ہیں جنکا کوئی ثانی نہیں میں قربان آپ وہ بلند مرتبہ ہیں جن کے برابر کوئی نہیں میں قربان آپ وہ قدیمی نعمت ہیں جس کی مثل نہیں

70: بِنَفْسِی أَنْتَ مِنْ نَصِیفِ شَرَفٍ لَا یُساوَیٰ إلی مَتَی أَحارُ فِیکَ

میں قربان آپ جو شرف رکھتے ہیں وہ کسی اور کو نہیں مل سکتا کب تک ہم آپ کے لیے بے چین رہیں گے

71: یَا مَوْلایَ وَ إلَی مَتَیٰ وَأَیَّ خِطابٍ أَصِفُ فِیکَ وَأَیَّ نَجْوَیٰ

اے میرے آقا اور کب تک اور کسطرح آپ سے خطاب کروں اور سرگوشی کروں

72: عَزِیزٌ عَلَیَّ أَنْ ٲُجَابَ دُونَکَ وَٲُناغَیٰ عَزِیزٌ عَلَیَّ أَنْ أَبْکِیَکَ وَیَخْذُلَکَ الْوَرَیٰ

یہ مجھ پر گراں ہے کہ سوائے آپکے کسی سے جواب پاؤں یا باتیں سنوں مجھ پر گراں ہے کہ میں آپ کیلئے روؤں اور لوگ آپکو چھوڑے رہیں

73: عَزِیزٌ عَلَیَّ أَنْ یَجْرِیَ عَلَیْکَ دُونَھُمْ مَا جَرَیٰ

مجھ پر گراں ہے کہ لوگوں کیطرف سے آپ پر گزرے جو گزرے

74: ھَلْ مِنْ مُعِینٍ فَٲُطِیلَ مَعَہُ الْعَوِیلَ وَالْبُکاءَ ھَلْ مِنْ جَزُوعٍ فَٲُساعِدَ جَزَعَہُ إذا خَلا

تو کیا کوئی ساتھی ہے جسکے ساتھ مل کر آپ کے لیے گریہ وزاری کروں کیا کوئی بے تاب ہے کہ جب وہ تنہا ہو تو اس کے ہمراہ نالہ کروں

75: ھَلْ قَذِیَتْ عَیْنٌ فَساعَدَتْھَا عَیْنِی عَلٰی الْقَذَیٰ ھَلْ إلَیْکَ یَابْنَ أَحْمَدَ سَبِیلٌ فَتُلْقیٰ

آیا کوئی آنکھ ہے جسکے ساتھ مل کر میری آنکھ غم کے آنسو بہائے اے احمد مجتبیؐ کے فرزند آپ کے پاس آنے کا کوئی راستہ ہے

76: ھَلْ یَتَّصِلُ یَوْمُنا مِنْکَ بِعَدِہِ فَنَحْظیٰ مَتَی نَرِدُ مَناھِلَکَ الرَّوِیَّةَ فَنَرْوَیٰ

کیا ہمارا آج کا دن آپکے کل سے مل جائے گا کہ ہم خوش ہوں کب وہ وقت آئیگا کہ ہم آپکے چشمے سے سیراب ہونگے

77: مَتَی نَنْتَقِعُ مِنْ عَذْبِ مائِکَ فَقَدْ طالَ الصَّدیٰ مَتیٰ نُغادِیکَ وَنُراوِحُکَ فَنُقِرَّ عَیْناً

کب ہم آپ کے چشمہ ٔشیریں سے پیاس بجھائیں گے اب تو پیاس طولانی ہو گئی کب ہماری صبح و شام آپکے ساتھ گزرے گی کہ ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہونگی

78: مَتی تَرانا وَنَراکَ وَقَدْ نَشَرْتَ لِواءَ النَّصْرِ تُرَیٰ أَتَرَانا نَحُفُّ بِکَ وَأَنْتَ تَؤُمُّ الْمَلْأَ وَقَدْ مَلْأَتَ الْاَرْضَ عَدْلًا

کب آپ ہمیں اورہم آپکو دیکھیں گے جبکہ آپکی فتح کا پرچم لہراتا ہو گا ہم آپکے ارد گرد جمع ہونگے اور آپ سبھی لوگوں کے امام ہونگے تب زمین آپکے ذریعے عدل و انصاف سے پر ہو گی

79: وَأَذَقْتَ أَعْدائَکَ ھَواناً وَعِقاباً وَأَبَرْتَ الْعُتاةَ وَجَحَدَةَ الْحَقِّ وَقَطَعْتَ دابِرَ الْمُتَکَبِّرِینَ وَاجْتَثَثْتَ ٲُصُولَ الظَّالِمِینَ

آپ اپنے دشمنوں کو سختی و ذلت سے ہمکنار کرینگے آپ سرکشوں اور حق کے منکروں کو نابود کرینگے مغروروں کا زور توڑ دینگے اور ظلم کرنے والوں کی جڑیں کاٹ دینگے

80: وَنَحْنُ نَقُولُ الْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعالَمِینَ

اس وقت ہم کہیں گے حمد ہے خدا کیلئے جو جہانوں کا رب ہے

81: اَللّٰھُمَّ أَنْتَ کَشَّافُ الْکُرَبِ وَالْبَلْوَیٰ وَ إلَیْکَ أَسْتَعْدِیٰ فَعِنْدَکَ الْعَدْوَیٰ وَأَنْتَ رَبُّ الْاَخِرَةِ وَالدُّنْیا

اے معبود تو دکھوں اور مصیبتوں کو دور کرنے والا ہے میں تیرے حضور شکایت لایا ہوں کہ تو مداوا کرتا ہے اور تو ہی دنیا و آخرت کا پروردگار ہے

82: فَأَغِثْ یَا غِیاثَ الْمُسْتَغِیثِینَ عُبَیْدَکَ الْمُبْتَلیٰ وَأَرِہِ سَیِّدَہُ یَا شَدِیدَ الْقُوَیٰ وَأَزِلْ عَنْہُ بِہِ الْأَسَیٰ وَالْجَوَیٰ

پس میری فریاد سن اے فریادیوں کی فریاد سننے والے اپنے اس حقیر اور دکھی بندے کو اس آقا کا دیدار کرا دے اے زبردست قوت والے انکے واسطے سے اسکے رنج و غم کو دور فرما

83: وَبَرِّدْ غَلِیلَہُ یَا مَنْ عَلٰی الْعَرْشِ اسْتَوَیٰ وَمَنْ إلَیْہِ الرُّجْعیٰ وَالْمُنْتَھَیٰ

اور اسکی پیاس بجھا دے اے وہ ذات جو عرش پر حاوی ہے کہ جسکی طرف واپسی اور آخری ٹھکانا ہے

84: اَللّٰھُمَّ وَنَحْنُ عَبِیدُکَ التَّائِقُونَ إلی وَلِیِّکَ الْمُذَکِّرِ بِکَ وَبِنَبِیِّکَ

اور اے معبود ہم ہیں تیرے حقیر بندے جو تیرے ولی عصرؑ کے مشتاق ہیں جن کا ذکر تو نے اور تیرے نبیؐ نے کیا

85: خَلَقْتَہُ لَنا عِصْمَةً وَمَلاذاً وَأَقَمْتَہُ لَنا قِواماً وَمَعاذاً

تو نے انہیں ہماری جائے پناہ بنایا ہمارا سہارا قرار دیا انکو ہماری زندگی کا ذریعہ اور پناہ گاہ بنایا

86: وَجَعَلْتَہُ لِلْمُوْمِنِینَ مِنَّا إماماً فَبَلِّغْہُ مِنَّا تَحِیَّةً وَسَلاماً وَزِدْنا بِذلِکَ

اور انکو ہم میں سے مومنوں کا امام قرار دیا پس انکو ہمارا درود و سلام پہنچا

87: یَارَبِّ إکْراماً وَاجْعَلْ مُسْتَقَرَّہُ لَنا مُسْتَقَرَّاً وَمُقاماً

اور اے پروردگار انکے ذریعے ہماری عزت میں اضافہ فرما انکی قرار گاہ کو ہماری قرار گاہ اور ٹھکانہ بنا دے

88: وَأَتْمِمْ نِعْمَتَکَ بِتَقْدِیمِکَ إیَّاہُ أَمامَنا حَتَّی تُورِدَنا جِنَانَکَ وَمُرافَقَةَ الشُّھَداء ِ مِنْ خُلَصائِکَ

ہم پر انکی امامت کے ذریعے ہمارے لیے اپنی نعمت پوری فرما یہاں تک کہ وہ ہمیں تیری جنت میں ان شہیدوں کے پاس لے جائینگے جو مقرب خاص ہیں

89: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ جَدِّہِ وَرَسُولِکَ السَّیِّدِ الْاَکْبَرِ

اے معبود! محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما اور امام مہدیؑ کے نانا محمدؐ پر رحمت فرما جو تیرے رسول اور عظیم سردار ہیں

90: وَعَلٰی أَبِیہِ السَّیِّدِ الْاَصْغَرِ وَجَدَّتِہِ الصِّدِّیقَةِ الْکُبْری فاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ صلَّی اللہ عَلیْہِ وآلِہِ وَعَلٰی مَنِ اصْطَفَیْتَ مِنْ آبائِہِ الْبَرَرَةِ

اور مہدیؑ کے والد پر رحمت کر جو چھوٹے سردار ہیں ان کی دادی صدیقۂ کبری فاطمہؑ بنت محمد پر رحمت فرما ان سب پر رحمت فرما جن کو تو نے ان کے نیک بزرگوں میں سے چنا

91: وَعَلَیْہِ أَفْضَلَ وَأَکْمَلَ وَأَتَمَّ وَأَدْوَمَ وَأَکْثَرَ وَأَوْفَرَ مَا صَلَّیْتَ عَلٰی أَحَدٍ مِنْ أَصْفِیائِکَ وَخِیَرَتِکَ مِنْ خَلْقِکَ

اور القائم پر رحمت فرما بہترین کامل پوری ہمیشہ ہمیشہ بہت سی بہت زیادہ جو رحمت کی ہو تو نے اپنے برگزیدوں میں سے کسی پر اور مخلوق میں سے اپنے پسند کردہ پر

92:وَصَلِّ عَلَیْہِ صَلاةً لَا غایَةَ لِعَدَدِھَا وَلَا نِھَایَةَ لِمَدَدِھَا وَلَانَفَادَ لِاَمَدِھَا

اور اس پر درود بھیج وہ درود جس کا شمار نہ ہوسکے جس کی مدت ختم نہ ہو اور جو کبھی منقطع نہ ہو

93: اَللّٰھُمَّ وَ أَقِمْ بِہِ الْحَقَّ وَ أَدْحِضْ بِہِ الْباطِلَ وَ أَدِلْ بِہِ أَوْلِیائَکَ وَأَذْلِلْ بِہِ أَعْدائَکَ

اے معبود!انکے ذریعے حق کو قائم فرما انکے ہاتھوں باطل کو مٹا دے انکے وجود سے اپنے دوستوں کو عزت دے انکے ذریعے اپنے دشمنوں کو ذلت دے

94: وَصِلِ اَللّٰھُمَّ بَیْنَنا وَبَیْنَہُ وُصْلَةً تُوَدِّیٰ إلی مُرافَقَةِ سَلَفِہِ

اور اے معبود ہمیں اور انکو اکٹھے کر دے ایسا اکٹھا کہ جو ہم کو انکے پہلے بزرگوں تک پہنچائے

95: وَاجْعَلْنا مِمَّنْ یَأْخُذُ بِحُجْزَتِھِمْ وَیَمْکُثُ فِی ظِلِّھِمْ

اور ہمیں ان میں قرار دے جنہوں نے ان کا دامن پکڑا ہے ہمیں ان کے زیر سایہ رکھ

96: وَأَعِنَّا عَلٰی تَأْدِیَةِ حُقُوقِہِ إلَیْہِ وَالْاَجْتِھَادِ فِی طَاعَتِہِ

ان کے حقوق ادا کرنے میں ہماری مدد فرما ان کی فرما نبرداری میں کوشاں بنا دے

97: وَاجْتِنَابِ مَعْصِیَتِہِ وَامْنُنْ عَلَیْنَا بِرِضَاہُ

انکی نافرمانی سے بچائے رکھ انکی خوشنودی سے ہم پر احسان کر

98: وَھَبْ لَنا رَأْفَتَہُ وَرَحْمَتَہُ وَدُعائَہُ وَخَیْرَہُ

اور ہمیں انکی محبت عطا فرما انکی رحمت انکی دعا اور انکی برکت عطا فرما

99: مَا نَنَالُ بِہِ سَعَةً مِنْ رَحْمَتِکَ وَفَوْزاً عِنْدَکَ

جسکے ذریعے ہم تیری وسیع رحمت اور تیرے ہاں کامیابی حاصل کریں

100: وَاجْعَلْ صَلا تَنا بِہِ مَقبُولَةً وَذُنُوبَنا بِہِ مَغْفُورَةً وَدُعائَنا بِہِ مُسْتَجاباً

ان کے ذریعے ہماری نماز قبول فرما ان کے وسیلے ہمارے گناہ بخش دے انکے واسطے سے ہماری دعا منظور فرما

101 : وَاجْعَلْ أَرْزاقَنا بِہِ مَبْسُوطَةً وَھُمُومَنا بِہِ مَکْفِیَّةً وَحَوَائِجَنا بِہِ مَقْضِیَّةً

اور انکے ذریعے سے ہماری روزیاں فراخ کر دے ہماری پریشانیاں دور فرما اور انکے وسیلے سے ہماری حاجات کو پورا فرما

102:  وَأَقْبِلْ إلَیْنا بِوَجْھِکَ الْکَرِیمِ وَاقْبَلْ تَقَرُّبَنا إلَیْکَ

اور توجہ کر ہماری طرف اپنی ذات کریم کے واسطے سے اور قبول فرما اپنی بار گاہ میں ہماری حاضری

103: وَانْظُرْ إلَیْنا نَظْرَةً رَحِیمَةً نَسْتَکْمِلُ بِھَا الْکَرامَةَ عِنْدَکَ

ہماری طرف نظر کر مہربانی کی نظر کہ جس سے تیری درگاہ میں ہماری عزت بڑھ جائے

104:  ثُمَّ لَا تَصْرِفْھَا عَنَّا بِجُودِکَ وَاسْقِنا مِنْ حَوْضِ جَدِّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ بِکَأْسِہِ وَبِیَدِہِ رَیّاً رَوِیّاً ھَنِیْئاً سَائِغاً لَا ظَمَأَ بَعْدَہُ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ۔

پھر اپنے کرم کی وجہ سے وہ نظر ہم سے نہ ہٹا ہمیں القائمؑ کے نانا کے حوض سے سیراب فرما ان پر اور انکی آل ؑ پر خدا کی رحمت ہو انکے جام سے انکے ہاتھ سے سیر و سیراب کرجس میں مزہ آئے اور پھرپیاس نہ لگے اے سب سے زیادہ رحم والے۔

التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم 
شہر بانو ✍

 





6: قربانی کرنا
7: اس ذکر کا تکرا: اَللّهُ اَکْبَرُ اللّهُ اَکْبَرُ لا اِلهَ اِلا اللّهُ وَ اللّهُ اَکْبَرُ اَللّهُ اَکْبَرُ اَللّهُ اَکْبَرُ و لِلّهِ الْحَمْدُ اَللّهُ اَکْبَرُ عَلی ما هَدانا اَللّهُ اَکْبَرُ عَلی ما رَزَقَنا مِنْ بَهیمَةِ الاْنْعامِ وَالْحَمْدُلِلّهِ عَلی ما اَبْلانا



Comments

Popular posts from this blog

 👈 دعائے کمیل (مفاتیح الجنان مع اردو ترجمہ)

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ

ماہِ صفر میں پیش آنے والے اہم واقعات اور مناسبتیں: