اعمال شب وروز عید غدیر

 





*اعمال شب وروز عید غدیر*


*السلام علیک یا بقیتہ اللہ فی ارضہ*🌷
🍃اعمال شب وروز عید غدیر 🍃

18 اٹھارویں ذی الحجہ کی رات 🍃

✍🏻یہ عید غدیر کی رات ہے جو بڑی عزت و عظمت کی حامل ہے ،سید نے (کتاب اقبال )
 میں اس رات کی بارہ 12 رکعت نماز ذکر کی ہے ۔جو ایک سلام سے پڑھی جائے گی اس نماز کی ترکیب اور اس میں پڑھی جانے والی دعائیں کتاب اقبال میں ملاحظہ کریں ۔🍃


18 اٹھارویں ذی الحجہ کا دن


💐آسان اعمالِ 💐
عیدِغدیر
آثار و ثواب کی ساتھ آشنا هوں
اور دوسروں کو بھی شوق دلائیں...💕

🖊️یہ سادات کی عید نہیں بلکہ ولایتِ علیؑ پر ایمان رکهنے والے 
هر فرزندِ فاطمہ زهراؑ کی عید هے💕

💐اورجو یہ عید نہیں مناتے وہ بی بی زهراؑ کو یقیناً جوابدہ هونگے جس نے شکستہ پہلو کیساتھ بهی ولایت کی ترویج کی.💕
💐امام صادقؑ  فرماتے ہیں: 
"خدا کی قسم کائنات میں عیدِغدیر سے اهم تر کوئی بهی دن نہیں.
خدا کی قسم اس دن عید منانے والے کو خدا جتنے انعامات دیتا هے، وہ قابلِ حساب نہیں ہیں." 💕

-------------- 






🌷یہ عید غدیر کا دن ہے جو خدائے تعالیٰ اور آل محمد (ع) کی عظیم ترین عیدوں میں سے ہے ہر پیغمبر نے اس دن عید منائی اور ہر نبی اس دن کی شان و عظمت کا قائل رہا ہے ۔آسمان میں اس عید کانام ’’روز عہد معہود‘‘ ہے اور زمین میں اس کانام ۔میثاق ماخوذ و جمع مشہور‘‘ ہے ایک روایت کے مطابق امام 👈🏻جعفر صادق (ع) سے پوچھا گیا کہ’’ جمعہ ۔عید الفطر اور عید قربان کے علاوہ بھی مسلمانوں کیلئے کوئی عید ہے ؟حضرت نے فرمایا: ہاں ا ن کے علاوہ بھی ایک عید ہے اور وہ بڑی عزت و شرافت کی حامل ہے ۔عرض کی گئی وہ کونسی عید ہے ؟آپ(ع) نے فرمایا وہ دن کہ جس میں حضرت رسول اعظم (ص) نے امیرالمؤمنین (ع) کا تعارف اپنے خلیفہ کے طور پر کرایا ،آپ نے فرمایا کہ جس کا میں مولا ہوں علی (ع) 🌷اس کے مولا ہیں اور یہ 👈🏻اٹھارویں ذی الحجہ کا دن اور روز عید غدیر ہے، راوی نے عرض کی کہ اس دن ہم کیا عمل کریں ؟حضرت (ع)نے فرمایا کہ اس دن ( روزہ رکھو  )،خدا کی عبادت کرو ،محمد (ص)و آل محمد(ص) کا ذکر کرو اور ان پر صلوٰت بھیجو ۔📿
حضور نے امیرالمؤمنین (ع) کو اس دن عید منانے کی وصیت فرمائی جیسے ہر پیغمبر (ص)اپنے اپنے وصی کو اس طرح وصیت کرتا رہا ہے:
👈🏻ابن ابی نصر بزنطی نے امام علی رضا (ع) سے روایت کی ہے کہ حضرت نے فرمایا : اے ابن ابی نصر !تم جہاں کہیں بھی ہو روز غدیر 🍃نجف اشرف پہنچو اور حضرت امیرالمؤمنین (ع) کی زیارت کرو ۔ کہ ہر مومن مرد اور ہر مومنہ عورت اور ہر مسلم مرد اور ہر مسلمہ عورت کے ساٹھ سال کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔ مزید یہ کہ پورے ماہ رمضان شب ہائے قدر اور عیدالفطر میں جتنے انسان جہنم🔥 کی آگ سے آزاد کیے جاتے ہیں اس ایک دن میں ان سے دوچند افراد کو جہنم سے آزاد قراردیا جاتا ہے👈🏻 ۔آج کے دن اپنے حاجت مند مومن بھائی کو ایک درہم بطور صدقہ💰 دینا دوسرے دنوں میں ایک ہزار درھم دینے کے برابر ہے ۔👈🏻🌷 پس عید غدیر کے دن اپنے برادرمومن کے ساتھ احسان و نیکی کرو ،اور اپنے مومن بھائی اور مومنہ بہن کو شاد کرو ،خدا کی قسم اگر لوگوں کو ا س دن کی فضیلت کا علم ہوتا اور وہ اس کا لحاظ رکھتے تو اس روز ملائکہ ان سے دس مرتبہ مصافحہ کیا🤝 کرتے ،مختصر یہ کہ اس دن کی تعظیم کرنا لازم ہے 



🌹 نوٹ: بہتر ہے کہ یہ اعمال عید غدیر کے دن زوال سے آدھا گھنٹا پہلے بجا لائے البتہ مجبوری کی وجہ سے پورے دن میں کسی بھی وقت  مغرب سے پہلے انجام دے سکتا ہے، *پاکستان میں یہ اعمال 25 جون بروز منگل کرنا ہونگے.*
 
اور اس میں چند ایک 👈🏻اعمال ہیں :




 1:  اس دن کا روزہ رکھنا ساٹھ سال کے گناہوں کا کفارہ ہے ،ایک روایت میں ہے کہ یوم غدیر کا روزہ مدت دنیا کے روزوں ،سو حج اور سو عمرے کے برابر ہے ۔ 

اہل سنت کی کتابوں میں منقول حدیث نبوی کے مطابق، جو شخص 18 ذوالحجہ کو روزہ رکھے گا اللہ تعالی اس کے لئے 6 مہینے کے روزوں کا ثواب لکھ دے گا۔
 
2:  اس دن غسل کرنا 🚿  ضروری اور باعث خیر و برکت ہے ۔ 
 
3:  زیارت مولا علی علیہ السلام پڑھے 
4:  دورکعت نماز بجا لائے بالکل نماز فجر کی طرح جس میں پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ قدر (انا انزلنا) اور دوسری رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص پڑھے اس کے بعد سجدہ شکر میں سو مرتبہ یہ کہے

*شُکْراً شُکْراً*


🛑 پھر سر سجدے سے اٹھائے اور یہ دعا پڑھے :

*اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ بِٲَنَّ لَکَ الْحَمْدَ وَحْدَکَ لاَ شَرِیکَ لَکَ وَٲَ نَّکَ واحِدٌ ٲَحَدٌ صَمَدٌ*
اے معبود!سوال کرتا ہوں تجھ سے اس لئے کہ صرف تیرے ہی لئے حمد تو تنہا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ تو یگانہ ویکتا بے نیاز ہے
*لَمْ تَلِدْ وَلَمْ تُولَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَکَ کُفُواً ٲَحَدٌ، وَٲَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ صَلَواتُکَ*
نہ تو نے جنا اور نہ ہی تو جنا گیا اور تیرا کوئی ہمسر نہیں ہے اور یہ کہ حضرت محمد(ص) تیرے بندے اور تیرے رسول(ص) ہیں ان پر اور
*عَلَیْہِ وَآلِہِ، یَا مَنْ ھُوَ کُلَّ یَوْمٍ فِی شَٲْنٍ کَما کانَ مِنْ شَٲْنِکَ ٲَنْ تَفَضَّلْتَ عَلَیَّ بِٲَنْ*
ان کی آل(ع) پر تیری رحمت ہو اے وہ جو ہر روز کسی نئے کام میں ہے جو تیری شان کے لائق ہے یعنی تو نے مجھ پر فضل وکرم کیا کہ مجھ کو
*جَعَلْتَنِی مِنْ ٲَھْلِ إجابَتِکَ وَٲَھْلِ دِینِکَ وَٲَھْلِ دَعْوَتِکَ، وَوَفَّقْتَنِی لِذلِکَ فِی مُبْتَدَئ*
ان میں قرار دیا جن کی دعا قبول فرمائی جو تیرے دین پر ہیں اور تیرے پیغام کے حامل ہیں اور مجھے میری پیدائش
*خَلْقِی تَفَضُّلاً مِنْکَ وَکَرَماً وَجُوداً ثُمَّ ٲَرْدَفْتَ الْفَضْلَ فَضْلاً وَالْجُودَ جُوداً وَالْکَرَمَ*
کے آغاز میں اپنی مہربانی عنایت اور عطا سے اس کی توفیق دی پھر اپنی محبت اور رحمت سے تو نے متواتر مہربانی پر مہربانی عطا پر عطا
**کَرَمَاً رَٲْفَۃً مِنْکَ وَرَحْمَۃً إلی ٲَنْ جَدَّدْتَ ذلِکَ الْعَھْدَ لِی تَجْدِیداً بَعْدَ تَجْدِیدِکَ خَلْقِی*
اور نوازش پر نوازش کی یہاں تک کہ میری بندگی کے عہد کی جب میری نئی پیدائش ہوئی پھر سے تجدید کی
*وَکُنْتُ نَسْیاً مَنْسِیّاً ناسِیاً ساھِیاً غافِلاً، فَٲَ تْمَمْتَ نِعْمَتَکَ بِٲَنْ ذَکَّرْتَنِی ذلِکَ وَمَنَنْتَ*
جب میں بھولا بسرا بھولنے والا اور بے دھیان بے خبر تھا تو نے اپنی نعمت تمام کرتے ہوئے مجھے وہ عہد یاد دلایا اور یوں مجھ پر احسان
*بِہِ عَلَیَّ وَھَدَیْتَنِی لَہُ، فَلْیَکُنْ مِنْ شَٲْنِکَ یَا إلھِی وَسَیِّدِی وَمَوْلایَ ٲَنْ*
کیا اور اس کی طرف میری رہنمائی کی پس اے میرے معبود اے میرے سردار اور میرے مالک یہ تیری ہی شان کریمی ہے کہ اس
*تُتِمَّ لِی ذلِکَ وَلاَ تَسْلُبْنِیہِ حَتَّی تَتَوَفَّانِی عَلَی ذلِکَ وَٲَ نْتَ عَنِّی راضٍ، فَ إنَّکَ ٲَحَقُّ*
عہد کو انجام تک پہنچائے اسے مجھ سے جدا نہ کرے یہاں تک کہ اسی پر مجھے موت دے جبکہ تو مجھ سے راضی ہو کیونکہ تو نعمت دینے
*الْمُنْعِمِینَ ٲَنْ تُتِمَّ نِعْمَتَکَ عَلَیَّ ۔ اَللّٰھُمَّ سَمِعْنا وَٲَطَعْنا وَٲَجَبْنا داعِیَکَ*
والوں میں زیادہ حقدار ہے کہ مجھ پر اپنی نعمت تمام کرے اے معبود ہم نے سنا ہم نے اطاعت کی اور تیرے احسان کے ذریعے
*بِمَنِّکَ، فَلَکَ الْحَمْدُ غُفْرانَکَ رَبَّنا وَ إلَیْکَ الْمَصِیرُ، آمَنّا بِاﷲِ وَحْدَہُ لاَ*
تیرے داعی کا فرمان قبول کیا پس حمد تیرے لئے ہے تجھ سے بخشش چاہتے ہیں اے ہمارے رب اور اﷲ پر ایمان رکھتے ہیں واپسی
*شَرِیکَ لَہُ، وَبِرَسُو لِہِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَآلِہِ، وَصَدَّقْنا وَٲَجَبْنا داعِیَ اﷲِ*
تیری طرف ہی ہے وہ یکتا ہے کوئی اسکا ثانی نہیں اور اس کے رسول محمد(ص) پر خدا کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل (ع)پر قبول کیا اﷲ کے اس
*وَاتَّبَعْنا الرَّسُولَ فِی مُوالاۃِ مَوْلانا وَمَوْلَی الْمُؤْمِنِینَ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ ٲَبِی*
داعی کو ہم نے مان لیا اور ہم نے رسول(ص) کی پیروی کی اپنے اورمومنوں کے مولا سے دوستی کرنے میں کہ وہ مومنوں کے امیرعلی(ع) ابن ابی
*طالِبٍ عَبْدِ اﷲِ، وَٲَخِی رَسُو لِہِ، وَالصِّدِّیقِ الْاََکْبَرِ، وَالْحُجَّۃِ عَلَی بَرِیَّتِہِ، الْمُؤَیِّدِ*
طالب (ع)ہیں جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول کے بھائی اور سب سے بڑے صدیق اور مخلوقات پر خدا کی حجت ہیں ان کے
*بِہِ نَبِیَّہُ وَدِینَہُ الْحَقَّ الْمُبِینَ، عَلَماً لِدِینِ اﷲِ، وَخازِناً لِعِلْمِہِ، وَعَیْبَۃَ غَیْبِ اﷲِ*
ذریعے خدا کے نبی اور اس کے سچے اور واضح دین کو

قوت ملی وہ اللہ کے دین کے پرچم اس کے علم کے خزینہ دار اس کے غیبی علوم کا
*وَمَوْضِعَ سِرِّ اﷲِ، وَٲَمِینَ اﷲِ عَلَی خَلْقِہِ، وَشاھِدَہُ فِی بَرِیَّتِہِ ۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّنا إنَّنا*
گنجینہ اور اسکے راز دار ہیں وہ خدا کی مخلوق پر اسکے امانتدار اور کائنات میں اسکے گواہ ہیں اے اللہ! اے ہمارے رب یقینا ہم نے
*سَمِعْنا مُنادِیاً یُنادِی لِلاِِْیْمانِ ٲَنْ آمِنُوا بِرَبِّکُمْ فَآمَنَّا رَبَّنا فَاغْفِرْ لَنا ذُنُوبَنا وَکَفِّرْ*
سنا منادی کو ایمان کی صدا دیتے ہوئے کہ اپنے رب پر ایمان لاؤ پس ہم اپنے رب پر ایمان لائے اب ہمارے گناہوں کو بخش دے
*عَنَّا سَیِّئاتِنا وَتَوَفَّنا مَعَ الْاََ بْرارِ، رَبَّنا وَآتِنا مَا وَعَدْتَنا عَلَی رُسُلِکَ وَلاَ تُخْزِنا یَوْمَ*
ہماری برائیوں کو مٹا دے اور ہمیں نیکوں جیسی موت دے اے ہمارے رب ہمیں عطا کر وہ جسکا وعدہ تو نے اپنے رسولوں کے ذریعے
*الْقِیامَۃِ إنَّکَ لاَ تُخْلِفُ الْمِیعادَ، فَ إنَّا یَا رَبَّنا بِمَنِّکَ وَلُطْفِکَ ٲَجَبْنا*
کیا اور قیامت کے روز ہم کو رسوا نہ کرنا بے شک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا پس اے ہمارے رب ہم نے تیرے لطف و
*داعِیَکَ، وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ وَصَدَّقْناہُ، وَصَدَّقْنا مَوْلَی الْمُؤْمِنِینَ، وَکَفَرْنا بِالْجِبْتِ*
احسان سے تیرے داعی کی بات مانی تیرے رسول(ص) کی پیروی کی اس کو سچا جانا اور مومنوں کے مولا(ع) کی بھی تصدیق کی اور ہم نے بت
*وَالطَّاغُوتِ، فَوَ لِّنا مَا تَوَلَّیْنا، وَاحْشُرْنا مَعَ ٲَئِمَّتِنا فَ إنَّا بِھِمْ مُؤْمِنُونَ*
اور شیطان کی پیروی سے انکار کیا پس ہمارا والی اسے بنا جو حقیقی والی ہے اور ہمیں ہمارے ائمہ(ع) کے ساتھ اٹھانا کہ ہم ان پر عقیدہ و
*مُوقِنُونَ، وَلَھُمْ مُسَلِّمُونَ، آمَنَّا بِسِرِّھِمْ وَعَلانِیَتِھِمْ وَشاھِدِھِمْ وَغائِبِھِمْ، وَحَیِّھِمْ*
ایمان رکھتے ہیں اور انکے فرمانبردار ہیں ہم ان کے باطن اور ان کے ظاہر پر ان میں سے حاضر پر اور غایب پر اور ان میں سے زندہ
*وَمَیِّتِھِمْ، وَرَضِینا بِھِمْ ٲَئِمَّۃً وَقادَۃً وَسادَۃً، وَحَسْبُنا بِھِمْ بَیْنَنا وَبَیْنَ اﷲ دُونَ*
اور متوفی پر ایمان لائے ہیں اور ہم اس پر راضی ہیں کہ وہ ہمارے امام پیشوا و سردار ہیں اور ہمیں کافی وہ ہیں وہ ہمارے اور خدا کے درمیان
*خَلْقِہِ لاَ نَبْتَغِی بِھِمْ بَدَلاً وَلاَ نَتَّخِذُ مِنْ دُونِھِمْ وَلِیجَۃً، وَبَرِئْنا إلَی اﷲِ مِنْ کُلِّ مَنْ*
ہم اس کی مخلوق میں سے ان کی جگہ کسی اور کو نہیں چاہتے اور نہ ان کے سوا ہم کسی کو واسطہ بناتے ہیں اور خدا کے حضور ہم ان سے اپنی
*نَصَبَ لَھُمْ حَرْباً مِنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ مِنَ الْاََوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ، وَکَفَرْنا بِالْجِبْتِ*
علیحدگی اظہار کرتے ہیں جو ائمہ طاہرین (ع)کے مقابلے میں آکر لڑے کہ وہ اولین و آخرین جنّوں انسانوں میں سے جو بھی ہیں اور ہم
*وَالطَّاغُوتِ وَالْاََوْثانِ الْاََرْبَعَۃِ وَٲَشْیاعِھِمْ وَٲَ تْباعِھِمْ وَکُلِّ مَنْ والاھُمْ مِنَ الْجِنِّ*
انکار کرتے ہیں ہر بت کا نیز ہر دور ہیں شیطان سے چاروں بتوں اور ان کے مددگاروں اور پیروکاروں سے اور ہم اس شخص سے
*وَالاِنْسِ مِنْ ٲَوَّلِ الدَّھْرِ إلی آخِرِہِ ۔ اَللّٰھُمَّ إ نَّا نُشْھِدُکَ ٲَنَّا نَدِینُ بِما*
دور ہیں جو ان سے محبت کرتا ہو جنّوں اور انسانوں میں سے زمانے کے آغاز سے اختتام تک کے عرصے میں اے اللہ ! ہم تجھے گواہ
*دانَ بِہِ مُحَمَّدٌ وَآلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمْ، وَقَوْلُنا مَا قالُوا، وَدِینُنا مَا*
بناتے کہ ہم اس دین پر ہیں جس پر محمد(ص) و آل(ع) محمد(ص) تھے کہ خدا ان پر اور ان کی آل (ع)پر رحمت کرے ہمارا قول وہ ہے جو ان کا قول تھا ہمارا
*دانُوا بِہِ، مَا قالُوا بِہِ قُلْنا، وَمَا دانُوا بِہِ دِنَّا، وَمَا ٲَ نْکَرُوا ٲَ نْکَرْنا، وَمَنْ والَوْا*
دین وہ ہے جو انکا دین تھا انکا قول ہی ہمارا قول اور انکا دین ہی ہمارا دین ہے جس سے ان کو نفرت اس سے ہمیں نفرت جس سے ان کو محبت
*والَیْنا، وَمَنْ عادَوْا عادَیْنا، وَمَنْ لَعَنُوا لَعَنَّا، وَمَنْ تَبَرَّٲُوا مِنْہُ تَبَرَّٲْنا مِنْہُ،*
اس سے ہمیں محبت جس سے ان کو دشمنی اس سے ہمیں دشمنی جس پر انکی لعنت اس پر ہماری لعنت جس سے وہ دور اس سے ہم بھی دور ہیں
*وَمَنْ تَرَحَّمُوا عَلَیْہِ تَرَحَّمْنا عَلَیْہِ، آمَنَّا وَسَلَّمْنا وَرَضِینا وَاتَّبَعْنا مَوالِیَنا صَلَواتُ*
جس کے لئے وہ طالب رحمت اس کے لئے ہم بھی طالب رحمت ہیں ہم ایمان لائے تسلیم کیا اور راضی ہوئے اپنے سرداروں کے
*ﷲِ عَلَیْھِمْ ۔ اَللّٰھُمَّ فَتَمِّمْ لَنا ذلِکَ وَلاَ تَسْلُبْناہُ وَاجْعَلْہُ مُسْتَقِرّاً ثابِتاً عِنْدَنا، وَلاَ*
پیروکار ہیں ان پر خدا کی رحمت ہو اے معبود! ہمارا یہ عقیدہ کامل کر دے اور اسے ہم سے جدا نہ کر اور اسے ہمارا مستقل طریقہ اور
*تَجْعَلْہُ مُسْتَعاراً، وَٲَحْیِنا مَا ٲَحْیَیْتَنا عَلَیْہِ، وَٲَمِتْنا إذ

ا ٲَمَتَّنا عَلَیْہِ، آلُ مُحَمَّدٍ ٲَئِمَّتُنا*
روشن بنا اور اس کو عارضی قرار نہ دے جب تک زندہ ہیں ہمیں اس پر زندہ رکھ اور ہمیں اسی عقیدے پر موت دے کہ آل محمدہمارے
*فَبِھِمْ نَٲْ تَمُّ وَ إیَّاھُمْ نُوالِی، وَعَدُوَّھُمْ عَدُوَّ اﷲِ نُعادِی، فَاجْعَلْنا مَعَھُمْ فِی الدُّنْیا*
امام و پیشوا ہوں ہم انکی پیروی کرتے اور ان کو دوست رکھتے ہوں ان کا دشمن خدا کا دشمن ہے ہم اسکے دشمن ہیں پس ہمیں انکے ساتھ دنیا
*وَالْاَخِرَۃِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِینَ، فَ إنَّا بِذلِکَ راضُونَ یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ*
و آخرت میں قرار دے اور ہمیں اپنے مقربوں میں داخل فرما کہ ہم اس عقیدے پر راضی ہیں اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
اب پھر سجدے میں جائے اور
🛑سو مرتبہ کہے:

*اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ*

🛑 اور سو مرتبہ کہے:

*شُکْراً ﷲِ*

5:   2رکعت نماز بجا لاے۔جس کی ہر رکعت میں سورہ الحمد کے بعد
 دس مرتبہ سورہ توحید
 دس مرتبہ آیۃ الکرسی اور 
 دس مرتبہ سورہ قدر پڑ ھے 
تو اسکو 
ایك لاكھ حج اور ایك لاكھ عمرہ كے برابر هے.اور دو رکعت نماز بجا لاے اور سجدہ شکر میں 100 بار شكرا   کہے ..اور دعا پڑ ھے جو مفا تیح الجنان 📔

نوٹ یہ دعا اوپر موجود ہے


6:  دعا ندبہ پڑھے

7:  پھر سو مرتبہ یہ 👇 کہے

*الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی جَعَلَ کَمالَ دِینِہِ وَتَمامَ نِعْمَتِہِ بِوِلایَۃِ ٲَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عَلِیِّ بْنِ ٲَبِی طالِبٍ عَلَیْہِ اَلسَّلَامُ*
اس اللہ کے لئے حمد ہے جس نے اپنے دین کے کمال اور نعمت کے اتمام کو امیرالمؤمنین حضرت علی ابن ابی طالب ع کی ولایت کے ساتھ مشروط قرار دیا ۔

8:   عید غدیر کے دن اچھا لباس پہنے ،خوشبو لگائے۔خوش خرم ہو مؤمنین کو راضی و خوش کرے ،ان کے قصور معاف کرے ۔ان کی حاجات پوری کرے رشتہ داروں سے نیک سلوک کرے ۔اہل و عیال کے لئے عمدہ کھانے کا انتظام کرے مؤمنین کی ضیافت کرے اور ان کا روزہ افطار کرائے ۔مؤمنین سے مصافحہ کرے ۔برادران ایمانی سے خوش خوش ملے اور ان کو تحائف دے آج کی عظیم نعمت یعنی ولایت امیرالمؤمنین ع پر خدا کا شکر بجا لائے ۔کثرت سے صلوات پڑھے اور اس دن خدا کی عبادت کرے کہ ان تمام امور میں سے ہر ایک کی بڑی فضیلت ہے ۔ 
آج کے دن اپنے مومن بھائی کو ایک روپیہ دینا دوسرے دنوں میں ایک لاکھ روپیہ دینے کے برابر ثواب رکھتا ہے اور آج کے دن مومن بھائیوں کو دعوت طعام دینا گویا تمام پیغمبروں اور مومنوں کو دعوت طعام دینے کے مانند ہے امیرالمؤمنین -کے خطبہ غدیر میں ہے جو شخص آج کے دن کسی روزہ دار کو افطاری دے گویا اس نے دس فئام کو افطاری دی ہے ایک شخص نے اٹھ کر عرض کی مولا! فئام کیا ہے ؟ فرمایا کہ فئام سے مراد ایک لاکھ پیغمبر ،صدیق اور شہید ہیں ہاں تو کتنی فضیلت ہو گی اس شخص کی جو چند مومنین و مومنات کی کفالت کر رہا ہو ؟پس میں بارگاہ الہی میں اس شخص کا ضامن ہوں کہ وہ کفر اور فقر سے امان میں رہے گا ۔خلاصہ یہ ہے کہ اس عزوشرف والے دن کی فضیلت کا بیان ہماری استطاعت سے باہر ہے یہ شیعہ مسلمانوں کے اعمال قبول ہونے اور ان کے غم دور ہونے کا دن ہے ۔اسی دن حضرت موسیٰ(ع) کو جادوگروں پر غلبہ حاصل ہوا اور حضرت ابراہیم(ع) کیلئے آگ گلزار بنی۔ اور حضرت موسیٰ(ع) نے یوشع بن نون(ع) کو وصی بنایا اور حضرت عیسیٰ (ع)کی طرف حضرت شمعون(ع) کو ولایت و وصایت ملی، حضرت سلیمان- نے آصف بن برخیا کی وزارت و نیابت پر لوگوں کو گواہ بنایا..




 

9:   عیدی دینا 
برائے ترویج نظریہ ولایت 
(فیملی کے بچوں کو، بیوی کو، دوستوں کو یا کسی غریب کو)
ثواب: 
ایك درہم عیدی دینا، دس لاكھ درہم كے برابر هے.💕
.

:   عید منانا 
یعنی اپنے آپ کو بنانا سنوارنا، خوشبو لگانا، خوشی ظاهر کرنا، دوسروں کو خوش کرنا 
آثار و ثواب: 
خدا اس کے تمام چهوٹے بڑے گناہ معاف کر دیتا هے، 💕
اور کچھ فرشتوں کی ذمہ داری لگاتا هے 
کہ اس کیلئے مسلسل نیکیاں لکهتے جائیں 
اور اس کے درجات میں اضافہ کرتے جائیں 
تا کہ وہ اس عظیم دن کے لائق بن جائے. 
ایسا انسان اگر مر جائے تو شہید جائیگا 
اور اگر زندہ رهے تو کامیاب و سعادتمند زندگی کریگا. 💕

10:  فیملی جشن منانا
Family Celebration
گهر میں شیرینی تقسیم کرنا، اچها کهانا پکانا، کیک کاٹنا وغیرہ 
آثار و ثواب: 💕
اس سے مال و رزق میں برکت هوتی هے اور روزگار بہتر هوتا هے.
اور پوسٹ میں درج باقی تمام کاموں کے ثواب ملتے ہیں کیونکہ
فیملی جشن، تمام عبادات کا مجموعہ ہے.💕
.

11:  ہر ایک سے مسکرا کر ملنا 
غدیر کے دن اس عمل سے ہزار حاجتیں پوری هوتی ہیں. 💕

:  همسائیوں کے گهر شیرینی یا کهانا بهیجنا 
رشتہ داروں سے ملاقات کرنا 💕
دوستوں سے ملاقات – ایکدوسرے کے گهر جانا 
آثار و ثواب: 💕
💐پرور دگار عالم اس كی قبر میں ستر نور داخل كرے گا اور اسكی قبر كشادہ كردی جائے گی اور اس كی قبر مطاف ملائكہ ہوگی ہر روز ستر ہزار فرشتے اس كے قبر كی زیارت كریں گے اور اس كو جنت كی بشارت دیں گے. 💕
اس شخص کے روزگار، مال اور عمر میں برکت هو گی. 💕

12:  اگر استطاعت نہیں تو قرض لے. 
قرض لینا اسلام میں اچها عمل نہیں لیکن غدیر کے دن کے عظیم آثار والے اعمال کیلئے 
حتی قرض لیکر یہ اعمال انجام دے تا کہ انبیاء و اولیاء و شہداء کی همراهی ملے. اور عمر و مال و روزگار میں برکت هو. 💕
امام علی(ع)
 نے فرمایا میں ضمانت لیتا هوں کہ یہ قرض ادا هو گا. 👌🏻💕

13:  زیادہ سے زیادہ افراد کو اس عید کی مبارکباد دینا 
جب مومن اپنے مومن بھائی سے ملاقات كرے 
تو اس سے یہ كہناچاہئے 
” الحمد لّلہ الذی جلعنا من المتمسكین بولایة امیر المومنین والائمة علیہم السلام۔“ 
آثار و ثواب: 
اس طرح تمام انبیاء و اولیائے الہی اور شہداء کی همراهی هوتی هے. اور همارے حق میں مستجاب دعائیں کرتے ہیں. 💕
 
: کسی دوست یا غریب کی مالی مدد کرکے، یا کهانا کهلا کر، نئے کپڑے دیکر 💸🍷🍔💍👗👛
آثار و ثواب: 
كفر اور فقر سے محفوظ رهے گا 
ہر ایك درهم کا ثواب دس لاكھ درہم كے برابر هے.💕

14: روزه دار کو افطار کرانا 🍷🍔
آثار و ثواب: 
گویا اس نےفئام فئام مومنوں كو افطار كرایا هے. 
امام علی نے فئام فئام كہتے ہوئے انگلیوں پر 🔟دس تك شمار كیا. 
ایك شخص اٹھا اور سوال كیا اے امیر المومنین! فئام كیا هے ؟ 
فرمایا: ایك لاكھ انبیاء، صدیق اور شہداء۔ 
یعنی ایک لاکھ ضربِ ایک لاکھ 💕

15:  یہ مختصر دعا 
مذكورہ اعمال شروع كرنے سے پہلے تم بھی یہ تعویذ اپنے لئے بناوٴ تاكہ موانع و مشكلات سے بچاوٴ ہو سكے اور وہ تعویذ یہ هے ۔ 
👈🏻بسم اللہ الرحمن الرحیم خیرالاسماء، بسم اللہ رب الآخرة والاولیٰ و رب الارض والسماء الذی لایضر مع اسمہ كید الاعدا ء وبہا تدفع كل الاسواء۔“ 💕

👈🏻نوٹ: کم سے کم چند افراد کو یہ عید منانے کا شوق دلائیں. 
یہ باتیں دوسروں تک ضرور پہنچائیں 
شیئر کرکے، ٹیگ کرکے، یا زبانی بتا کر. 
غفلت نہ کریں. 💕
💐اگر لوگ اس دن کی فضیلت سمجھ جائیں (اور عمل کریں)
تو یقیناً فرشتے هر دن ان کے ساتھ 
 دس مرتبہ مصافحہ کرینگے. (حضرت امام رضا علیہ السلام)💕💐
محتاج دعا 🤲🏻🌷
اللھم عجل لولیک الفرج والعا فیتہ والنصر 🤲🏻💐💕💐💕💐💕







Comments

Popular posts from this blog

 👈 دعائے کمیل (مفاتیح الجنان مع اردو ترجمہ)

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ

ماہِ صفر میں پیش آنے والے اہم واقعات اور مناسبتیں: