24 ذی الحجہ کی تاریخ کے اہم واقعات*
*24 ذی الحجہ کی تاریخ کے اہم واقعات*
*💫پیغمبر (ص)کا مسیحی نجران سے مباہلہ کا دن (سال ۹ هجری قمری)*
*💫پیغمبر(ص)پر آیه مباهله اور آیه تطهیر کی نزول کا دن(سال ۹ هجری قمری)*
*💫امیرالمومنین_امام_علی (ع) کا حالتِ رکوع میں انگوٹھی کا صدقہ دینا اور (آیه ولایت) کا نزول (سال ۱۰/۹ هجری قمری)*
*💠👈 مفاتیح الجنان اور دیگر کتب میں آج کے دن کے کچھ اعمال اس طرح بیان ہوئی ہیں
یوم مباہلہ کی فضیلت اور اعمال
مشہور روایت کے مطابق24 ذی الحجہ عید مباہلہ کا دن ہے اس دن حضرت رسولؐ نے نصارٰی نجران سے مباہلہ کیا تھا واقعہ یوں ہے کہ حضرت رسول نے اپنی عبا اوڑھی، پھر امیر المؤمنینؑ، جناب فاطمہ ؑاور حضرت حسن ؑو حسین ؑکو اپنی عبا میں لے لیا ۔تب فرمایا کہ یا الله ! ہر نبی کے اہلبیت ؑ ہوتے ہیں اور یہ میرے اہلبیتؑ ہیں ۔ پس ان سے ہر قسم کی ظاہری و باطنی برائی کو دور رکھ اور ان کو اس طرح پاک رکھ جیسے پاک رکھنے کا حق ہے ،اس وقت جبرائیل امینؑ آیت تطہیر لے کر نازل ہوئے اس کے بعد حضرت رسولؐ خدا نے ان چار ہستیوں کو اپنے ساتھ لیا اور مباہلہ کے لئے نکلے ،نصاریٰ نجران نے آپ کو اس شان سے آتے دیکھا ،اور علامات عذاب کا مشاہدہ کیا تو مباہلہ سے دست بردار ہو کر مصالحت کر لی اور جزیہ دینے پر آمادہ ہو گئے ۔
💫🤲آج ہی کے دن امیرالمؤمنینؑ نے حالت نماز میں سائل کو انگوٹھی عطا فرمائی ۔
اور آپ کی شان میں درج ذیل آیہ مبارکہ نازل فرمائی۔
*اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوةَ وَھُمْ رٰکِعُوْنَ*
ایمان والو بس تمہارا ولی الله ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبانِ ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰۃ دیتے ہیں
خلاصہ کلام یہ کہ یوم مباہلہ بڑی عظمت اور اہمیت کا حامل ہے ، اور اس میں چند ایک اعمال ہیں ۔
۱۔ غسل
۲۔ روزہ
۵۔ ہر مومن اور مومنہ حضرت امیرؑ کی پیروی کرتے ہوئے صدقہ و خیرات کرے نیز حضرت امیرالمؤمنین_امام_علی عليهالسلام کی زیارت پڑھے
3- ﺩﻭ ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ پڑھیں
ﺍﻣﺎﻡ ﺟﻌﻔﺮ ﺻﺎﺩﻕ علیہ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﻫﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﮐﻮئی ﺷﺨﺺ ﻋﯿﺪ ﻣﺒﺎﮨﻠﮧ ﮐﮯ ﺩﻥ زﻭﺍﻝ ﺁﻓﺘﺎﺏ ، ﻧﻤﺎﺯ ظہر ﺳﮯ ﺁﺩﻫﺎ گھنٹہ پہلے 2 ﺭﮐﻌﺖ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﻫﮯ جس کی ہر ﺭﮐﻌﺖ ﻣﯿﮟ 1 ﻣﺮتبہ ﺳﻮﺭﻩ ﺍﻟﺤﻤﺪ ، 10 ﻣﺮتبہ ﺳﻮﺭﻩ قل هو والله احد ، 10 ﻣﺮتبہ ﺁیت ﺍﻟﮑﺮﺳﯽ 10 ﻣﺮتبہ ﺳﻮﺭﻩ قدر انا انزلنه ﭘﮍﻫﮯ ﮔﺎ تو اللہ تعالی ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ لاکھ ﺣﺞ ، ﺍﯾﮏ لاکھ ﻋﻤﺮﮮ ﮐﺎ ﺛﻮﺍﺏ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺣﺎﺟﺎﺕ ﺑﻬﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﻭ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﯽ ﻃﻠﺐ ﮐﺮﮮ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻭﻩ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺳﮯ ﭘﻮرﯼ ﻫﻮ ﺟﺎئیں ﮔﯽ۔
دعائے مباھلہ
دعائے مباہلہ
یہ ماہ رمضان کی دعائے سحر کے مشابہ ہے اور اسکو شیخ و سید دونوں نے نقل فرمایا ہے چونکہ ان دونوں بزرگوں کے نقل کردہ کلمات دعا میں کچھ اختلاف ہے ،لہذا یہاں ہم اسے شیخ کی کتاب مصباح کی روایت کے مطابق تحریر کر رہے ہیں ،شیخ کا کہنا ہے کہ امام جعفر صادقؑ نے دعائے مباہلہ کی بہت زیادہ فضیلت بیان فرمائی ہے اور وہ دعا یہ ہے :
1: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ بَھائِکَ بِأَبْھاہُ وَکُلُّ بَھائِکَ بَھِیٌّ،
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے روشن ترین نور میں سے اور تیرا ہر نور درخشاں ہے
2: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِبَھائِکَ کُلِّہِ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تیرے تمام نور کے واسطے
3: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ جَلالِکَ بِأَجَلِّہِ وَکُلُّ جَلالِکَ جَلِیلٌ،
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے بہت بڑے جلوے میں سے اور تیرا ہر جلوہ بہت بڑا جلوا ہے
4: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِجَلالِکَ کُلِّہِ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے تمام جلوہ کے واسطے
5: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ جَمالِکَ بِأَجْمَلِہِ وَکُلُّ جَمالِکَ جَمِیلٌ،
اے معبود ! طلب کرتا ہوں تجھ سے تیرے بہترین جمال میں سے اور تیرا ہر جمال پسندیدہ و بہترین ہے
6: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بَجَمالِکَ کُلِّہِ ۔
اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تیرے پورے جمال کے واسطے
7: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِی
اے معبود! میں پکارتا ہوں تجھے جیسا کہ تو نے حکم کیا پس میری دعا قبول کر جیسا کہ تو نے وعدہ کیا ہے
8: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ عَظَمَتِکَ بِأَعْظَمِھا وَکُلُّ عَظَمَتِکَ عَظِیمَۃٌ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری بڑی بزرگی میں سے اور تیری ہر بزرگی ہی بڑی ہے
9: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِعَظَمَتِکَ کُلِّھا
اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری پوری بزرگی کے واسطے
10: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ نُورِکَ بِأَنْوَرِہِ وَکُلُّ نُورِکَ نَیِّرٌ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے روشن نور میں سے اور تیرا ہر نور روشن ہے
11: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِنُورِکَ کُلِّہِ ۔
اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے پوری نور کے واسطے
12: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ رَحْمَتِکَ بِأَوسَعِھا وَکُلُّ رَحْمَتِکَ واسِعَۃٌ،
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری وسیع تر رحمت میں سے اور تیری ساری رحمت وسیع ہے
13: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِرَحْمَتِکَ کُلِّھا
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری پوری رحمت کے واسطے
14: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِی
اے معبود! میں دعا کرتا ہوں تجھ سے جیسے تو نے حکم کیا پس میری دعا قبول کر جیسے کہ تو نے وعدہ کیا ہے
15: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ کَمالِکَ بِأَکْمَلِہِ وَکُلُّ کَمالِکَ کامِلٌ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے کامل ترین کمال میں سے اور تیرا ہر کمال ہی کامل ہے
16: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِکَمالِکَ کُلِّہِ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے پورے کمال کے واسطے
17: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ کَلِماتِکَ بِأَتَمِّھا وَکُلُّ کَلِماتِکَ تامَّۃٌ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے سالم ترین کلمات میں سے اور تیرے سب کلمات ہی سالم تر ہیں
18: اَللّٰھُمَّ إنِّی اَسْئَلُکَ بِکَلِماتِکَ کُلِّھا
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے پورے کلمات کے واسطے
19: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ أَسْمائِکَ بِأَکْبَرِھا وَ کُلُّ أَسْمائِکَ کَبِیرَۃٌ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے بہت بڑے ناموں میں سے اور تیرے سارے ہی نام بڑے ہیں
20: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِأَسْمائِکَ کُلِّھا
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے تمام تر ناموں کے واسطے
21: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِی
اے معبود میں دعا کرتا ہوں تجھ سے جیسے تو نے حکم کیا پس قبول کر میری دعا جیسے تو نے وعدہ کیا
22: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ عِزَّتِکَ بِأَعَزِّھا وَکُلُّ عِزَّتِکَ عَزِیزَۃٌ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری بہت بڑی عزت میں سے اور تیری ہر عزت بہت بڑی ہے
23: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِعِزَّتِکَ کُلِّھا
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری تمام تر عزت کے واسطے
24: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ مَشِیئَتِکَ بِأَمْضاھَا وَکُلُّ مَشِیئَتِکَ ماضِیَۃٌ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے ارادے میں سے جو نافذ ہونے والا ہے اور تیرا ہر ارادہ نافذ ہونے والا ہے
25: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِمَشِیئَتِکَ کُلِّھا
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے پورے ارادے کے واسطے
26: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِقُدْرَتِکَ الَّتِی اسْتَطَلْتَ بِھا عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ وَکُلُّ قُدْرَتِکَ مُسْتَطِیلَۃٌ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری قدر ت کا جس سے تو ہر چیز پر قبضہ و غلبہ رکھتا ہے اور تیری ہر قدر ت قابض اور غالب ہے
27: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِقُدْرَتِکَ کُلِّھا
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری تمام تر قدرت کے واسطے
28: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِی
اے معبود! میں دعا کرتا ہوں تجھ سے جیسے تو نے حکم کیا پس قبول کر میری دعا جیسے کہ تو نے وعدہ کیا ہے
29: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ عِلْمِکَ بِأَنْفَذِہِ وَکُلُّ عِلْمِکَ نافِذٌ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے بہت جاری ہونے والے علم میں سے اور تیرا ہر علم جاری ہے
30: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِعِلْمِکَ کُلِّہِ ۔
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے تمام تر علم کے واسطے
31: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ قَوْلِکَ بِأَرْضاُہ وَکُلُّ قَوْلِکَ رَضِیٌّ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے بڑے خوش آیند قول میں سے اور تیرا ہر قول خوش آیند ہے
32: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِقَوْلِکَ کُلِّہِ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے پورے قول کے واسطے
33: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ مَسائِلِکَ بِأَحَبِّھا وَکُلُّھا إلَیْکَ حَبِیبَۃٌ
اے معبود! میں طلب کرتا ہوں تجھ سے تیرے محبوب ترین سوالوں میں سے اور وہ سبھی تیرے نزدیک محبوب ہیں
34: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِمَسائِلِکَ کُلِّھا
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے سبھی سوالوں کے واسطے
35: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِی
اے معبود! میں دعا کرتا ہوں تجھ سے جیسے تو نے حکم کیا پس قبول کر میری دعا جیسے کہ تو نے وعدہ کیا ہے
36: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ شَرَفِکَ بِأَشْرَفِہِ وَکُلُّ شَرَفِکَ شَرِیفٌ،
اے معبود طلب کرتا ہوں تجھ سے تیری سب سے بڑی بزرگی میں سے اور تیری ہر بزرگی ہی سب سے بڑی ہے
37: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِشَرَفِکَ کُلِّہِ
اے معبود !میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری ساری بزرگی کے واسطے
38: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ سُلْطانِکَ بِأَدْوَمِہِ وَکُلُّ سُلْطانِکَ دائِمٌ،
اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری سب سے دائمی سلطانی میں سے اور تیری ہر سلطانی ہی دائمی ہے
39: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِسُلْطانِکَ کُلِّہِ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری تمام تر سلطانی کے واسطے
اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ مُلْکِکَ بِأَفْخَرِہِ وَکُلُّ مُلْکِکَ فاخِرٌ،
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری سب سے بڑی حکومت میں سے اور تیری تمام تر حکومت بڑی ہے
40: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِمُلْکِکَ کُلِّہِ
اے معبود ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری ساری حکومت کے واسطے
41: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِی ۔
اے معبود! میں دعا کرتا ہوں تجھ سے جیسے تو نے حکم کیا پس قبول کر میری دعا جیسے کہ تو نے وعدہ کیا ہے
42: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ عَلائِکَ بِأَعْلاہُ وَکُلُّ عَلائِکَ عالٍ
اے معبود! طلب کرتا ہوں تجھ سے تیری سب سے بڑی بلندی میں سے اور تیری ہر بلندی بہت بڑی ہے
43: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِعَلائِکَ کُلِّہِ
اے معبود ! سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری تمام تر بلندی کے واسطے
44: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ آیاتِکَ بِأَعْجَبِھا وَکُلُّ آیاتِکَ عَجِیبَۃٌ،
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری سب سے عجیب تر نشانیوں میں سے اور تیری سبھی آیات عجیب ہیں
45: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِآیاتِکَ کُلِّھا
اے اللہ! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری تمام تر آیتوں کے واسطے
46: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ مَنِّکَ بِأَقْدَمِہِ وَکُلُّ مَنِّکَ قَدِیمٌ،
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے سب سے قدیم احسان میں سے اور تیرا ہر احسان قدیم ہے
47: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِمَنِّکَ کُلِّہِ ۔
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے سارے احسان کے واسطے
48: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِی
اے معبود! میں دعا کرتا ہوں تجھ سے جیسے تو نے حکم کیا پس قبول کر میری دعا جیسے کہ تو نے وعدہ کیا ہے
49: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ بِما أَنْتَ فَیہِ مِنَ الشَّٲنِ وَالْجَبَرُوتِ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے اس کے واسطے جس میں تیری شان اور تیرا غلبہ ظاہر و عیاں ہے
50: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِکُلِّ شَأْنٍ وَکُلِّ جَبَرُوتٍ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری ہر شان اور تیرے ہر غلبے کے واسطے
51: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِما تُجِیبُنِی بِہِ حِینَ أَسْأَلُکَ یَا اللہُ یَا لَا إلہَ إلَّا أَنْتَ أَسْأَلُکَ بِبَھاءِ لَا إلہَ إلَّا أَنْتَ، یَا لا إلہَ إلَّا أَنْتَ أَسْأَلُکَ بِجَلالِ لَا إلہَ إلَّا أَنْتَ، یَا لَا إلہَ إلَّا أَنْتَ أَسْأَلُکَ بِلا إلہَ إلَّا أَنْتَ ۔
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے اس نام کے واسطے جس سے تو جواب دیتا ہے جب میں تجھ سے مانگتا ہوں اے اللہ اے وہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں سوال کرتا ہوں لاالہ الا انت کے نور کے واسطے اے وہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں سوال کرتا ہوں تجھ سے لاالہ الا انت کے جلال کے واسطے اے وہ کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں میں تجھ سے سوال کرتا ہوں لاالہ الا انت کے واسطے
52: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِی ۔
اے معبود میں دعا کرتا ہوں تجھ سے جیسے تو نے حکم کیا پس قبول کر میری دعا جیسے تو نے وعدہ کیا ہے
53: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْئَلُکَ مِنْ رِزْقِکَ بِأَعَمِّہِ وَکُلُّ رِزْقِکَ عامٌّ،
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے وسیع تر رزق میں سے اور تیرا ہر رزق وسیع ہے
54: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِرِزْقِکَ کُلِّہِ
اے معبود میں سوال کرتا ہوں تیرے تمام رزق کے واسطے
55: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ عَطائِکَ بِأَھْنَاہُ وَکُلُّ عَطائِکَ ھَنِیئٌ،.
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری خوشگوار عطا میں سے اور تیری ہر عطا خوشگوار ہے
56: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِعَطائِکَ کُلِّہِ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری تمام عطا کے واسطے
57: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ خَیْرِکَ بِأَعْجَلِہِ وَکُلُّ خَیْرِکَ عاجِلٌ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری بھلائی میں سے جلد ملنے والی کااور تیری ہر بھلائی جلد ملنے والی ہے
58: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِخَیْرِکَ کُلِّہِ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری ساری بھلائی کے واسطے
59: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ بِأَفْضَلِہِ وَکُلُّ فَضْلِکَ فاضِلٌ،
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیرے فضل میں سے بہت بڑا فضل کا اور تیرا ہر فضل بہت بڑا ہے
60: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَسْأَلُکَ بِفَضْلِکَ کُلِّہِ
اے معبود! میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری سارے فضل کے واسطے
61: اَللّٰھُمَّ إنِّی أَدْعُوکَ کَما أَمَرْتَنِی فَاسْتَجِبْ لِی کَما وَعَدْتَنِی
اے معبود! میں دعا کرتا ہوں تجھ سے جیسے تو نے حکم کیا پس قبول کر میری دعا جیسے کہ تو نے وعدہ کیا ہے
62: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
اے معبود! محمدؐ و آلؑ محمدؐ پر رحمت نازل فرما
63: وَابْعَثْنِی عَلٰی الْاَیمانِ بِکَ وَالتَّصْدِیقِ برَسُولِکَ عَلَیْہِ وَآلِہِ اَلسَّلَامُ
اور اٹھا کھڑا کر مجھے جبکہ تجھ پر میرا ایمان ہو تیرے رسول کی تصدیق کروں ان پر اور ان کی آل ؑ پر سلام ہو
64: وَالْوِلایَةِ لِعَلِیِّ بْنِ أَبِی طالِبٍ
اور تصدیق کروں علی ؑ ابن ابی طالبؑ کی ولایت کی
65: وَالْبَرائَةِ مِنْ عَدُوِّہِ وَالائتِمامِ بِالْاَئِمَّةِ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ عَلَیْھِمُ اَلسَّلَامُ
دورر ہوں ان کے دشمنوں سے اور ائمہؑ کی پیروکاری کا کہ جو آل محمدؐ میں سے ہیں ان سب پر سلام ہو
66: فَإنِّی قَدْ رَضیْتُ بِذلِکَ یَا رَبِّ
پس میں راضی ہوں اس بات پر اے پروردگار
67: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ عَبْدِکَ وَرَسُولِکَ فِی الْاَوَّلِینَ وَصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ فِی الْاَخِرِینَ،
اے معبود!حضرت محمدؐ پر رحمت فرما جو تیرے بندے اور تیرے رسولؐ ہیں پہلے لوگوں میں اور حضرت محمدؐ پر رحمت فرما پچھلے لوگوں میں
68: وَصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ فِی الْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ، وَصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ فِی الْمُرْسَلِینَ ۔
حضرت محمدؐ پر رحمت فرما افلاک اور عرش برین میں اور حضرت محمدؐ پر رحمت فرما پیغمبروں میں
69: اَللّٰھُمَّ أَعْطِ مُحَمَّداً الْوَسِیلَةَ وَالشَّرَفَ وَالْفَضِیلَةَ وَالدَّرَجَةَ الْکَبِیرَةَ
اے معبود! حضرت محمدؐ کو عطا فرما ذریعہ بلندی بڑائی اور بلند سے بلند تر مقام
70: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَقَنِّعْنِی بِما رَزَقْتَنِی، وَبارِکْ لَی فِیما آتَیْتَنِی، وَاحْفَظْنِی فِی غَیْبَتِی وَکُلِّ غائِبٍ ھُوَ لِی
اے معبود! محمدؐ و آلؑ محمدؐ پر رحمت فرما اور مجھے قانع کراس رزق پر جو تو نے دیا برکت دے اس میں جو تو نے مجھے دیامیری حفاظت کر میری غیبت میں اور اس میں جو مجھ سے غائب ہے
71: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَابْعَثْنِی عَلٰی الْاِیمانِ بِکَ وَالتَّصْدِیقِ بِرَسُولِکَ
اے معبود! محمدؐ وآلؑ محمدؐ پر رحمت نازل فرما اور مجھے اٹھا جبکہ میرا تجھ پر ایمان ہو اور تیرے رسولؐ کی تصدیق کروں
72: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وأَسْأَلُکَ خَیْرَ الْخَیْرِ رِضْوانَکَ وَالْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ الشَّرِّ سَخَطِکَ وَالنَّارِ
اے معبود!محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما اور میں سوال کرتا ہوں تجھ سے تیری بہتر سے بہتر خوشنودی اور جنت کااور پناہ لیتا ہوں تیرے سخت سے سخت غضب اور جہنم سے
73: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاحْفَظْنِی
اے معبود! محمدؐ و آلؑ محمدؐ پر رحمت نازل فرما اور میری حفاظت کر
74: وَمِنْ کُلِّ مُصِیبَةٍ وَمِنْ کُلِّ بَلِیَّةٍ وَمِنْ کُلِّ عُقُوبَةٍ وَمِنْ کُلِّ فِتْنَةٍ وَمِنْ کُلِّ بَلَاءٍ وَمِنْ کُلِّ شَرٍّ
ہر ایک مصیبت سے ہر ایک مشکل سے ہر ایک سزا سے ہر ایک الجھن سے ہرایک تنگی سے ہر ایک برائی سے
75: وَمِنْ کُلِّ مَکْرُوہٍ وَمِنْ کُلِّ مُصِیبَةٍ وَمِنْ کُلِّ آفَةٍ نَزَلَتْ أَو تَنْزِلُ مِنَ السَّماءِ إلَی الْاَرْضِ
ہر ایک ناپسند امر سے ہر ایک کھٹنائی سے اورہر ایک آفت سے جو نازل ہوئی یا نازل ہو آسمان سے زمین کی طرف
76: فِی ھٰذِہِ السَّاعَةِ وَفِی ھٰذِہِ اللَّیْلَةِ، وَفِی ھٰذَا الْیَوْمِ، وَفِی ھٰذَا الشَّھْرِ وَفِی ھٰذِہِ السَّنَةِ
اس موجودہ گھڑی میں آج کی رات میں آج کے دن میں اور اس مہینہ میں اور اس رواں سال میں
77: اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاقْسِمْ لِی مِنْ کُلِّ سُرُورٍ وَمِنْ کُلِّ بَھْجَةٍ،
اے معبود! رحمت نازل فرما محمدؐ و آل محمد ؐ پر اور نصیب کر مجھے ہر ایک راحت ہر ایک مسرت
78: وَمِنْ کُلِّ اسْتِقامَةٍ،وَمِنْ کُلِّ فَرَجٍ، وَمِنْ کُلِّ عافِیَةٍ، وَمِنْ کُلِّ سَلامَةٍ، وَمِنْ کُلِّ کَرامَةٍ
ہر طرح کی ثابت قدمی ہر ایک کشادگی ہر ایک آرام ہر طرح کی سلامتی ہر طرح کی عزت
79: وَمِنْ کُلِّ رِزْقٍ واسِعٍ حَلالٍ طَیِّبٍ وَمِنْ کُلِّ نِعْمَةٍ وَمِنْ کُلِّ سعَةٍ نَزَلَتْ أَو تَنْزِلُ مِنَ السَّماءِ إلَی الْاَرْضِ
اور ہر قسم کی روزی وسیع حلال پاکیزہ ہر طرح کی نعمت اور ہر ایک وسعت جو نازل ہوئی یا نازل ہو آسمان سے زمین کی طرف
80: فِی ھٰذِہِ السَّاعَةِ وَفِی ھٰذِہِ اللَّیْلَةِ، وَفِی ھٰذَا الْیَوْمِ، وَفِی ھٰذَا الشَّھْرِ وَفِی ھٰذِہِ السَّنَةِ
اس موجودہ گھڑی میں آج کی رات میں آج کے دن اس مہینے میں اور اس رواں سال میں
81: اَللّٰھُمَّ إنْ کانَتْ ذُنُوبِی قَدْ أَخْلَقَتْ وَجْھِی عِنْدَکَ وَحالَتْ بَیْنِی وَبَیْنَکَ وَغَیَّرَتْ حالِی عِنْدَکَ
اے معبود !اگر میرے گناہوں نے تیرے سامنے میرا چہرا پژمردہ کردیا وہ میرے اور تیرے درمیان حائل ہو گئے اور تیرے سامنے میرا حال خراب کر دیا ہے
82: فَإنِّی أَسْأَلُکَ بِنُورِ وَجْھِکَ الَّذِی لَا یُطْفَٲُ
تو میں سوالی ہوں تیرے نور ذات کے واسطے جو بجھتا نہیں
83: وَبِوَجْہِ مُحَمَّدٍ حَبِیبِکَ الْمُصْطَفی، وَبِوَجْہِ وَ لِیِّکَ عَلِیٍّ الْمُرْتَضی،
اور محمدؐ کی عزت کے واسطے جو تیرے چنے ہوئے دوست ہیں اور تیرے ولی علی مرتضی ؑ کی عزت کے واسطے
84: وَبِحَقِّ أَولِیائِکَ الَّذِینَ انْتَجَبْتَھُمْ أَنْ تُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ
اور تیرے اولیاء کے وسیلے سے جن کو تو نے پسند کیا ہے یہ کہ تو محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما
85: وَأَنْ تَغْفِرَ لِی مَا مَضیٰ مِنْ ذُنُوبِی، وَأَنْ تَعْصِمَنِی فَیما بَقِیَ مِنْ عُمْرِی،
اور یہ کہ میں جو گناہ پہلے کر چکا ہوں وہ معاف کر دے اور باقی زندگی میں گناہوں سے مجھے محفوظ رکھ
86: وَأَعُوذُ بِکَ اَللّٰھُمَّ أَنْ أَعُودَ فِی شَیْئٍ مِنْ مَعاصِیکَ أَبَداً مَا أَبْقَیْتَنِی، حَتَّی تَتَوَفَّانِی وَأَنَا لَکَ مُطِیعٌ وَأَنْتَ عَنِّی راضٍ،
اور تیری پناہ لیتا ہوں اے اللہ اس سے کہ تیری نافرمانی کے کسی کام کیطرف پلٹوں جب تک تو مجھے زندہ رکھے یہاں تک کہ مجھے موت دے تو میں تیرا اطاعت گزار اور تو مجھ سے راضی ہو
87: وَأَنْ تَخْتِمَ لِی عَمَلِی بِأَحْسَنِہِ وَتَجْعَلَ لِی ثَوابَہُ الْجَنَّةَ وَأَنْ تَفْعَلَ بِی مَا أَنْتَ أَھْلُہُ
اور یہ کہ تو میرے اعمال نامے کو نیکی پر ختم کرے اور اس کے ثواب میں مجھے جنت عطا کرے نیز میرے ساتھ وہ سلوک کر جو تیرے شایاں ہے
88: یَا أَھْلَ التَّقْوی وَیَا أَھْلَ الْمَغْفِرَةِ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَارْحَمْنِی بِرَحْمَتِکَ یَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ
اے بچانے والے اے پردہ پوشی کرنے والے محمدؐ و آل محمدؐ پر رحمت نازل فرما اور مجھ پر رحم فرما اپنی رحمت سے اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔
اور اس روز زیارت جامعہ کا پڑھنا زیادہ مناسب ہے ۔
اور حدیث کساء کی تلاوت بھی مستحب ہے
💫🫧 حدیث کساء پیغمبر خدا، علی، فاطمہ، حسن و حسین علیہم السلام کی فضیلت میں وارد ہونے والی حدیث کو کہا جاتا ہے۔ یہ واقعہ زوجۂ رسول ام المؤمنین ام سلمہ کے گھر میں رونما ہوا۔ آیت تطہیر کے نزول کے وقت رسول الله اونی چادر اوڑھے ہوئے تھے اور حضرت امام علی ،حضرت فاطمہ ، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام بھی اس چادر تلے موجود تھے ۔ اس چادر کو "کساء" کہا جاتا تھا۔ ائمۂ شیعہ نے بارہا اپنی فضیلت اور امت مسلمہ پر ان کے حق خلافت کے اثبات کے لئے اس حدیث کا حوالہ دیا ہے۔
🫧مباہلہ کی کیفیت🫧
پیغمبر اسلامؐ اپنی زوجہ جناب ام سلمہ کے گھر میں ـ اپنے بعض افراد خاندان کے بارے میں ـ الله کا ایک اہم پیغام وصول کرتے ہیں۔ چنانچہ اپنی زوجہ کو حکم دیتے ہیں کہ کسی کو بھی گھر میں داخلے کی اجازت نہ دیں۔ دوسری طرف سے اسی روز آپؐ کی بیٹی حضرت فاطمہ(س) اپنے والد ماجدؐ کے لئے "عصیدہ"[2] نامی مناسب غذا تیار کرنے کا ارادہ کرتی ہیں؛ آپ(س) یہ غذا ایک چھوٹے سے سنگی دیگچے میں تیار کرتی ہیں اور اس کو ایک طبق (رکابی) پر رکھتی ہیں اور والد کی خدمت میں پیش کرتی ہیں۔
ام سلمہ کہتی ہیں: "میں فاطمہ(س) کو نہ روک سکی"۔
رسول الله اپنی بیٹی سے فرماتے ہیں: جاکر اپنے شریک حیات اور دو بیٹوں کو بھی لے کر آؤ۔
حضرت فاطمہ(س) گھر لوٹ کر جاتی ہیں اور اپنے شریک حیات اور اپنے دو اطفال حسن اور حسین کو والد ماجد کی خدمت میں حاضر کرتی ہيں۔
حضرت فاطمہ(س) اپنے خاوند اور بچوں کے ہمراہ گھر میں داخل ہوتی ہيں تو ام سلمہ رسول الله کے اشارے پر ایک گوشے میں نماز میں مصروف ہوئیں۔
رسول خداؐ علی(ع)، حضرت فاطمہ(س) اور دو بیٹوں حسن(ع) اور حسین(ع) کے ساتھ بیٹی کے بچھائے ہوئے دسترخوان پر بیٹھ جاتے ہیں۔ رسول الله خیبری کساء (اہلیان خیبر کے ہاتھوں بُنے ہوئے کپڑے سے بنی عبا) کو اپنے داماد، بیٹی اور بیٹوں کے سر پر ڈال دیتے ہیں اور دائیں ہاتھ سے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور رب متعال کی بارگاہ میں عرض کرتے ہیں: "بار پروردگارا! یہ میرے اہل بیت ہیں۔ پس تو ہر قسم کی پلیدی کو ان سے دور کر اور انہیں پاک رکھ جس طرح کہ پاک رکھنے کا حق ہے"۔
بعدازاں جبرائیل امین نازل ہوتے ہیں اور الله کے بیغام پر مبنی یہ آیت (یعنی آیت تطہیر) پڑھ کر سنائی، جہاں ارشاد ہوتا ہے:
"إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا"
ترجمہ: الله کا بس یہ ارادہ ہے کہ تم لوگوں سے ہر گناہ کو دور رکھے اے اس گھر والو! الله تمہیں پاک رکھے جو پاک رکھنے کا حق ہے۔[3]
ام المؤمنین ام سلمہ آگے بڑھیں اور کساء کا ایک گوشہ اٹھایا مگر رسول الله نے کساء ان کے ہاتھ سے کھینچ لی اور انہیں اہل بیت(ع) کے چھوٹے مگر با عظمت اجتماع میں داخل نہیں ہونے دیا۔
ام سلمہ عرض گزار ہوئیں: [ یا رسول الله! کیا میں اہل بیت کے زمرے میں نہیں ہوتی؟
رسول الله نے فرمایا: اے ام سلمہ! تم خیر اور نیکی کے راستے پر ہو؛ تم پیغمبر کی زوجات میں سے ہو۔ [4]
🫧واقعۂ کساء ام سلمہ کے گھر میں🫧
واقعۂ کساء ام سلمہ کے گھر میں
علامہ حلی کہتے ہیں: آیت تطہیر کا ام سلمہ کے گھر میں نزول، ایسے مسائل میں سے ہے جس پر امت اسلام کا اجماع ہے اور یہ حدیث تواتر کے ساتھ ائمہ اطہار(ع) اور متعدد صحابہ سے نقل ہوئی ہے۔[5]
بےشک آیت تطہیر اور واقعۂ کساء ام سلمہ کے گھر میں رونما ہوا ہے۔
ابن حجر کہتے ہیں: یہ آیت (آیت تطہیر) ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوئی ہے۔[6]
اصحاب حدیث سے منقول ہے کہ "اس آیت کے بارے میں عمر سے سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: "اس کے بارے میں عائشہ سے پوچھو"۔ چنانچہ ام المؤمنین عائشہ سے پوچھا گیا تو انھوں نے کہا:
"یہ آیت میری بہن ام سلمہ کے گھر میں نازل ہوئی ہے چنانچہ جاؤ اور ام المؤمنین ام سلمہ سے پوچھو کیونکہ وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ آگہی رکھتی ہے"۔[7]
سیوطی اپنی تفسیر دُرُّ المنثور میں ابن ابن مردویہ سے نقل کرتے ہیں کہ "ام سلمہ نے کہا: آیت "إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّـهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ ..." میرے گھر میں نازل ہوئی۔[8]
🫧واقعۂ کساء کی سند🫧
یہ واقعہ سند کے لحاظ سے کسی صورت بھی خدشہ پذیر نہیں ہے۔ بڑے اور نامی گرامی محدثین نے اس واقعے کو اپنی کتب میں نقل کیا ہے؛ یہ حدیث اصطلاحاً مستفیض ہے اور حتی وسیع تحقیق کرکے اس کے بارے میں تواتر کا دعوی کیا جاسکتا ہے۔ یہ واقعہ اسلامی معاشرے میں اس قدر معروف و مشہور ہے کہ اس کے رونما ہونے کے دن کو "یوم کساء" کا نام دیا گیا اور جو خمسۂ طیبہ ـ جو اس دن الله کی عنایت خاصہ سے بہرہ ور ہوئے اصحاب کساء کہلائے۔[9]
طبری اپنی کتاب دلائل الإمامۃ میں لکھتے ہیں: "مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آیت تطہیر کے نزول کے وقت پیغمبرؐ؛ علی، فاطمہ، حسن اور حسین (علیہم السلام) کو مدعو کیا اور انہیں یمانی کساء اوڑھا دی اور یوں دعا فرمائی:
"اَللهُمَّ هٰؤُلاءِ أهلي فَأذهِب عَنهُم الرِّجسَ وَطَهِّرهُم تَطهِیراً"۔
بار خدایا! یہ میرے اہل بیت (اور میرے اہل خانہ) ہیں پس تو ہر قسم کی پلیدی کو ان سے دور رکھ اور انہیں پاک رکھ جس طرح کہ پاک رکھنے کا حق ہے"۔[10]
🫧حوالہ جات 🫧
↑ ری شہری، اہل بیت(ع) در قرآن و حدیث، ج1، ص38۔
↑ علامہ حلی، نہج الحق وکشف الصدق، ص 174۔
↑ ابن حجر، صواعق المحرقہ، ص 144۔
↑ مفید، الفصول المختارة، ص122۔
↑ سیوطی، الدر المنثور، ج5، ص376۔
↑ ری شہری، اہل بیت(ع) در قرآن و حدیث، ج1، ص38۔
↑ طبری، دلائل الإمامۃ، ص21
*واقعہ مباہلہ اور رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم اور اہلبیت ع کی جیت:*
📜 *أَنَّ وَفْدَ نَجْرَانَ مِنَ النَّصَارَى قَدِمَ الْمَدِينَةَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّمَ وَ قَالُوا لَهُ هَلْ رَأَيْتَ وَلَداً بِغَيْرِ أَبٍ فَلَمْ يُجِبْهُمْ حَتَّى نَزَلَ قَوْلُهُ تَعَالَى إِنَّ مَثَلَ عِيسى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ قالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلا تَكُنْ مِنَ الْمُمْتَرِينَ فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ الْآيَةَ فَلَمَّا نَزَلَتْ دَعَاهُمْ إِلَى الْمُبَاهَلَةِ فَأَجَابُوهُ فَخَرَجَ النَّبِيُّ ص آخِذاً بِيَدِ عَلِيٍّ وَ الْحَسَنُ وَ الْحُسَيْنُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَ فَاطِمَةُ وَرَاءَهُ فَلَمَّا رَآهُمْ الْأُسْقُفُّ وَ كَانَ رَئِيسَهُمْ سَأَلَ مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ مَعَهُ فَقِيلَ هَذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ابْنُ عَمِّهِ وَ زَوْجُ ابْنَتِهِ فَاطِمَةَ هَذِهِ وَ هَذَانِ وَلَدَاهُمَا فَقَالَ الْأُسْقُفُّ لِأَصْحَابِهِ إِنِّي لَأَرَى وُجُوهاً لَوْ سَأَلُوا اللَّهَ أَنْ يُزِيلَ جَبَلًا مِنْ مَكَانِهِ لَأَزَالَهُ فَلَا تُبَاهِلُوا فَتَهْلِكُوا وَ لَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ نَصْرَانِيٌّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ قَالَ الْأُسْقُفُّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّمَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ إِنَّا لَا نُبَاهِلُكَ وَ لَكِنْ نُصَالِحُكَ فَصَالِحْنَا عَلَى مَا نَنْهَضُ بِهِ فَصَالَحَهُمْ عَلَى أَلْفَيْ حُلَّةٍ وَ ثَلَاثِينَ رُمْحاً وَ ثَلَاثِينَ دِرْعاً وَ ثَلَاثِينَ فَرَساً وَ كَتَبَ لَهُمْ بِذَلِكَ كِتَاباً وَ رَجَعُوا إِلَى بِلَادِهِمْ وَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّمَ وَ الَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يُلَاعِنُونِّي لَمُسِخُوا قِرَدَةً وَ خَنَازِيرَ وَ اضْطَرَمَ الْوَادِي عَلَيْهِمْ نَاراً وَ لَمَا حَالَ الْحَوْلُ عَلَى النَّصَارَى حَتَّى يَهْلِكُوا كُلُّهُمْ.*
📃 نجران کے عیسائیوں کا وفد مدینہ میں رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: آپ نے باپ کے بغیر بیٹا دیکھا ہے؟ آپ خاموش رہے اور انہیں جواب نہیں دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی (الله کے ہاں عیسیٰ علیہ السلام کی مثال آدم علیہ السلام کیطرح ہے کہ انہیں مٹی سے پیدا کیا پھر اسے کہا ہو جاوہ ہو گیا حق تیرے رب کیطرف سے ہے پس تو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو جا) اور جب یہ آیت نازل ہوئی (اور جو علم کے آجانے کے بعد بھی تجھ سے جھگڑا کرے) تو آپ نے انکو مباہلہ کی دعوت دی انہوں نے اسے قبول کر لیا۔ پس! نبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم علی، حسن و حسین علیہم السلام کے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اور فاطمہ سلام الله علیہا انکے پیچھے تھیں جب انکو پادری نے دیکھا جو اُنکا سردار تھا اس نے انکے بارے میں پوچھا تو کہا گیا یہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام ہیں جو انکے چچازاد ہیں اور انکی اس بیٹی فاطمہ سلام الله علیہا کے شوہر ہیں اور یہ ان دونوں کے بیٹے ہیں۔ اس پادری نے اپنے اصحاب سے کہا: میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ الله تعالیٰ سے کہیں کہ اس پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹا دے تو وہ ضرور ہٹ جائے گا، ان سے مباہلہ نہ کرو ورنہ تم ہلاک ہو جاؤ گے اور روئے زمین پر کوئی عیسائی باقی نہ رہے گا۔ پھر اس پادری نے نبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے ابو القاسم! ہم آپ سے مباہلہ نہیں کریں گے ہم آپ سے صلح کرتے ہیں۔ پس! انہوں نے ان سے ایک ہزار حلے، تیس نیزے، تیس زرہ اور تیس گھوڑوں پر صلح کی اور اسے لکھ دیا اور یہ اپنے ملک لوٹ آئے نبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر وہ مجھ پر لعنت کرتے تو انکو خنازیر اور بندروں کی صورت میں مسخ کر دیا جاتا اور اس وادی کو آگ سے بھر دیا جاتا۔
📚 تاویل الآیات: ص 119 ح 19
📚 مجمع البیان: جلد 2 ص 451
Comments
Post a Comment