7 ذوالحجہ شہادت امام محمد باقر العلومؑ
اِنّا لِلّٰهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن
7 ذوالحجہ شہادت امام محمد باقر العلومؑ😢
میرا سلام ہو اُس امام (ع) پر
جس کا بچپن شام کے بازار کھا گۓ💔🥺
شہادتِ مولا امام مُحَمَّد باقر علیہ السلام
باقر العلوم، علم زہد اور عظمت و فضیلت میں بنی ہاشم کی عظیم شخصیات میں سے ایک تھے۔ آپ سے مختلف موضوعات پر احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں فقہ، توحید، سنت نبوی، قرآن اور اخلاق جیسے موضوعات قابل ذکر ہیں۔
اپنے زمانے میں تشیُّع کے فروغ کے لئے مناسب تاریخی حالات کو دیکھتے ہوئے آپ نے عظیم شیعہ علمی تحریک کا آغاز کیا جو آپ کے فرزند ارجمند امام جعفر صادق علیہ السلام کے زمانے میں اپنے عروج کو پہنچ گئی۔ آپ کے شاگرد اور صحابی کی تعداد کو 462 نفر ذکر کیا گیا ہے۔ آپ کے دورہ امامت میں اخلاق، فقہ، کلام و تفسیر جیسے موضوعات میں شیعوں کا نظریہ تحریر ہونا شروع ہوا۔
امام باقرؑ کے بارے میں بہت ساری کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں عزیز اللہ عطاردی کی کتاب مسند الامام الباقر سر فہرست ہے۔
*7 ذی الحجہ شہادت امام محمد باقر علیہ السلام کی مناسبت سے تمام اہل ایمان و انتظار بالخصوص حضرت بقیۃ اللہ الاعظم کی بارگاہ میں تعزیت و تسلیت عرض کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہم سب کو مولا امام باقر علیہ السلام کے فرامین پر عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین*
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام:
مختصر تعارف
اسم مبارک: محمد علیہ السلام
مشہور القاب: باقر، شاکر، ہادی
تاریخ ولادت: یکم رجب المرجب 57ھ
تاریخ شہادت: 7 ذی الحجہ 114ھ
مقام ولادت: مدینہ منورہ
مدفن: جنت البقیع (مدینہ منورہ)
والد بزرگوار: حضرت امام علی زین العابدین علیہ السلام
والدہ ماجدہ: جناب فاطمہ بنت امام حسن علیہما السلام
عمر مبارک: 57 سال
مدت امامت: 19 سال
کنیت: ابو جعفر
اولاد: 7 اولادیں (5بیٹے، 2 بیٹیاں)
بادشاہان وقت: معاویہ ابن ابو سفیان، یزید ابن معاویہ، معاویہ ابن یزید، مروان بن حَکم، عبدالملک بن مروان، ولید بن عبد الملک، سلیمان بن عبدالملک، عمر ابن عبد العزیز، یزید بن عبد الملک، ہشام بن عبد الملک
اخلاق و اوصافِ امامؑ
امام محمد باقر علیہ السلام کی پُر عظمت شخصیت کا تعارف خود رسول اکرم صلی اللّٰه علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں کرایا تھا جب انہوں نے جناب جابر بن عبد اللّٰه انصاریؓ کو اپنے تمام جانشینوں اور آئمہ معصومین علیہم السلام کے نام بتلائے تو امام محمد باقر علیہ السلام کا خصوصی طور پر نام لے کر فرمایا کہ:
اے جابر! خدا تمہیں اتنی لمبی عمر عطا کرے گا کہ تم میرے اس فرزند سے ملاقات کا شرف حاصل کرو گے جو لوگوں میں سب سے زیادہ مجھ سے مشابہ ہو گا اور اس کا نام میرے نام پر ہو گا جب تم اس سے ملو تو اسے میرا سلام پہنچا دینا۔
جب حضرت جابر بن عبد اللّٰه انصاریؓ بوڑھے ہو گئے اور انہیں اپنا وقت وفات قریب نظر آنے لگا تو وہ مسلسل کہا کرتے تھے کہ:
اے باقر! اے باقر! کہاں ہو؟ یہاں تک کہ ایک دن ان کی ملاقات امام باقر علیہ السلام سے ہو گئی، وہ آپؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس حال میں کہ مسلسل آپؑ کے ہاتھوں اور پیروں کو چومتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ: میرے ماں باپ آپؑ پر فدا ہوں۔ آپؑ اپنے جد رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ و آلہ و سلم کی شبیہ ہیں اور آپؑ کے نانا رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ و آلہ و سلم نے آپؑ کو سلام کہا ہے۔
رسول اللّٰه سے اس روایت کے نقل ہو جانے کی وجہ سے آپؑ ’’باقر‘‘ کے لقب سے مشہور ہو گئے۔ یعنی آپؑ نے علم کو شگافتہ کیا اور اس کے اسرار و رموز کو واضح کیا۔ امام محمد باقر علیہ السلام کو اپنے زمانہ حیات میں بہت زیادہ علمی شہرت حاصل تھی اور آپؑ کی بزم تمام اسلامی شہروں اور سر زمینوں سے تعلق رکھنے والے آپؑ کے محبین سے بھری رہتی تھی۔
ایک عالم اور فقیہ کی حیثیت سے اور بالخصوص علوم آل محمدؐ کے ایک نمائندے کی حیثیت سے آپؑ کا علمی مقام بہت سے لوگوں کو اس بات پر مجبور کرتا تھا کہ وہ آپؑ کی بزم سے استفادہ کریں اور اپنی علمی و فقہی مشکلات کا حل آپؑ سے طلب کریں۔ حصول علم کے لیے نا فقط حجاز سے بلکہ عراق اور خراسان سے بھی بہت زیادہ تعداد میں لوگ آپؑ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے اور اس بات میں کوئی شک اور تردید نہیں ہے کہ آئمہ اہل بیتؑ میں سے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے بعد اکثر روایات کی سند امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام تک جاتی ہے اس کی وجہ زمانے کے مخصوص سیاسی حالات تھے۔ جن کی بناء پر ان دو اماموں کو دوسرے اماموں سے زیادہ علوم آل محمد علیہم السلام کی نشر و اشاعت کا موقع ملا۔
چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام کے متعلق کہا گیا ہے کہ تفسیر قرآن، کلام، احکام اور حلال و حرام کے بارے میں جو کچھ آپؑ سے صادر ہوا ہے وہ امام حسنؑ اور امام حسینؑ کی اولادوں میں سے کسی اور سے صادر نہیں ہوا۔ آپؑ سے علوم اہل بیتؑ حاصل کرنے والوں کی تعداد سینکڑوں تک پہنچی ہوئی تھی اور آپؑ کے شاگردوں نے سینکڑوں کتابیں لکھیں۔ جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام کے دور سے اسلامی دنیا میں علم و مذہب نے کس قدر ترقی کی منازل طے کیں۔
امام محمد باقر علیہ السلام کے حلقہ درس میں شریک ہونے والا ہر شخص آپؑ کے اخلاق حسنہ کا بھی گرویدہ ہو جایا کرتا تھا اور آپؑ کے اخلاق تو وہ تھے کہ جس کے دشمن بھی قائل تھے۔ چنانچہ ایک شخص اہل شام میں سے مدینہ میں قیام پذیر تھا اور اکثر امام محمد باقرؑ کے پاس آکر بیٹھا کرتا تھا۔ اس کا بیان ہے کہ مجھے اس گھرانے سے ہرگز کوئی خلوص و محبت نہیں مگر آپؑ کے اخلاق کی کشش اور کلام میں وہ فصاحت ہے کہ جس کی وجہ سے میں آپؑ کے پاس آنے اور بیٹھنے پر مجبور ہو جاتا ہوں۔
محمد بن منکدر جو ایک صوفی مسلک سے تعلق رکھنے والا شخص تھا اس نے ایک مرتبہ امام محمد باقر علیہ السلام کو ضعیفی کے عالم میں دو اشخاص کا سہارا لیے ہوئے کسب معاش کے لیے جاتے دیکھا تو طنزیہ لہجے میں کہا کہ: بنو ہاشم کے سردار بھی کسب دنیا کے لیے مرے جا رہے ہیں آپؑ نے جواب دیا کہ کسب معاش، کسب دنیا نہیں ہے بلکہ اطاعت الٰہی ہے اور میں اس وقت اسی حالت میں مر بھی جاؤں تو یہ موت اطاعت الٰہی میں ہوگی۔
امام محمد باقر علیہ السلام علم، زہد، تقویٰ، طہارت، صفائے قلب اور دیگر محاسن میں اس درجہ پر جائز تھے کہ ان محاسن کو آپؑ کی ذات گرامی سے امتیاز حاصل ہوا۔
فطری اور خداداد ذاتی کمالات کے ساتھ ان تعلیمات سے فائدہ اٹھاتے رہے جو انہیں اپنے والد بزرگوار علیہ السلام کی زندگی کے آئینہ میں برابر نظر آتی رہیں۔
جب آپؑ کے والد بزرگوار کی شہادت ہوئی تو آپؑ کی عمر مبارک 38 سال تھی اور یہ وہ زمانہ تھا کہ جب بنی امیہ کی سلطنت اپنی مادی طاقت کے لحاظ سے بڑھاپے کی منزلوں سے گزر رہی تھی۔ بنی ہاشم پر ظلم و ستم اور خصوصا کربلا کے واقعہ نے بہت حد تک دنیا کی آنکھوں کو کھول دیا تھا۔ جس کے نتیجے میں کئی تحریکوں نے جنم لیا جس سے سلطنت شام کی بنیادیں کھوکھلی ہو چکی تھیں۔ لہٰذا امام محمد باقر علیہ السلام کے زمانہ امامت کو حکومت وقت کے ظلم و تشدد کی گرفت سے کچھ آزادی نصیب ہوئی اور آپؑ کو خلق خدا کی اصلاح و ہدایت کا کچھ زیادہ موقع میسر آیا۔
سلطنت اسلامیہ حقیقت میں اہل بیت رسول علیہم الصلوٰۃ السلام کا حق تھی۔ مگر دنیا والوں نے مادی اقتدار کے آگے سر جھکا لیا تھا اور ان حضرات علیہم السلام کو گوشہ نشینی اختیار کرنا پڑ ی تھی۔ مگر تحفظ دین اور بقاء اسلام کی خاطر اپنے فریضہ امامت کو پورا کرنے میں کبھی کوتاہی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ جس طرح امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے سخت موقعوں پر حکومت وقت کو مشورے دینے سے گریز نہیں کیا اسی طرح سلسلہ امامت کے تمام حضراتؑ نے اپنے اپنے زمانہ کے بادشاہوں کے ساتھ یہی طرز عمل اختیار کیا۔
چنانچہ 75ھ میں امام محمد باقر علیہ السلام نے وہ تاریخی کارنامہ انجام دیا جو اسلامی تاریخ سے محو نہیں کیا جا سکتا ہے۔ واقعہ یہ تھا کہ 75ھ تک مسلم ممالک میں بھی رومی سکے رائج تھے اور عیسائی ان سکوں کے ذریعہ اپنے عقائد کی ترویج کر رہے تھے چنانچہ عبد الملک نے اپنے دور حکومت میں ان سکوں کو ترک کرکے ان پر کلمہ ’’لا الہ الّا اللّٰہ‘‘ لکھنے کا حکم دے دیا۔ جب اس کی اطلاع قیصر روم کو ملی تو اس کو شدید غصہ آیا اور دھمکی دی کہ اگر یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو وہ اپنے سکّوں پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان کے خلاف کچھ الفاظ درج کرا دے گا۔ یہ سن کر عبدالملک کے ہوش و حواس اڑ گئے۔ اس نے اپنے مشیروں سے مشاورت کے بعد امام محمد باقر علیہ السلام کو طلب کیا اور آپؑ سے اس مسئلے کا حل پیش کرنے کی استدعا کی۔
آپؑ نے فرمایا مسلمانوں کو خود اپنا سکہ ڈالنا چاہیے۔ جس کے ایک طرف ’’لا الہ الّا اللّٰہ‘‘ اور دوسری طرف ’’محمد رّسول اللّٰہ‘‘ نقش ہو۔ پھر اس سکے کو فوراً اسلامی ممالک میں رائج کرکے رومی سکے کو لغو قرار دیا جائے۔ عبد الملک نے آپؑ کی اس تجویز کے سامنے سر تسلیم خم کیا اور اس پر عملدرآمد شروع کرا دیا۔ قیصر روم کو جب یہ خبر پہنچی تو دنگ رہ گیا اور اسے اندازہ ہو گیا کہ خانوادہ رسالت کے علاوہ کوئی اور اس الہٰی سیاست کا وارث نہیں ہو سکتا ہے۔
باوجودیکہ امام محمد باقر علیہ السلام ملکی معاملات میں کوئی دخل نہ دیتے تھے اور اگر کبھی دخل دیا بھی تو سلطنت کی خواہش پر اسلامی وقار کو برقرار رکھنے کے لیے ایسا کیا مگر آپؑ کی خاموش زندگی اور خالص علمی اور روحانی مرجعیت بھی سلطنت وقت کو گوارا نہ تھی۔
چنانچہ ہشام بن عبد الملک نے مدینہ کے حاکم کو خط لکھا کہ امام محمد باقر علیہ السلام کو ان کے فرزند امام جعفر صادق علیہ السلام کے ہمراہ دمشق بھیج دیا جائے۔ وہ چاہتا تھا کہ کسی طریقے سے امام علیہ السلام کی شخصیت کو لوگوں کی نظروں میں گرا دیں۔ چنانچہ دمشق پہنچنے کے بعد تین دن تک ہشام نے آپؑ سے ملاقات نہ کی اور چوتھے دن دربار میں بلا بھیجا۔ جب امام باقر علیہ السلام دربار پہنچے تو اس وقت ہشام تخت شاہی پر بیٹھا ہوا تھا اور رؤسا سلطنت اس کے سامنے شرط باندھ کر تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے۔ امامؑ کے پہنچنے پر ہشام نے جرأت اور جسارت کے ساتھ خواہش کی کہ آپؑ بھی تیر کا نشانہ لگائیں امام باقر علیہ السلام نے معذرت فرمائی مگر اس نے قبول نہ کیا وہ سمجھتا تھا کہ اتنا عرصہ گوشہ نشینی کی وجہ سے آل محمد علیہم السلام جنگ کے فنون سے بے بہرہ ہو چکی ہوگی۔ لہٰذا لوگوں کو ہنسنے اور تفریح کا موقع ملے گا۔
جب اس نے زیادہ اصرار کیا تو آپؑ نے تیر و کمان ہاتھ میں لیا اور چند تیر پے در پے ایک ہی نشانے پر بالکل ایک ہی نقطہ پر لگائے تو مجمع تعجب اور حیرت میں غرق ہو گیا اور ہر طرف سے تعریفیں ہونے لگیں۔ ہشام کو اپنے طرز عمل پر پشیمان ہونا پڑا۔ اس کے بعد اس کو یہ احساس ہوا کہ دمشق میں امام باقر علیہ السلام کی موجودگی کہیں عوام کے دل میں اہل بیت علیہم السلام کی عظمت قائم کرنے کا سبب نہ ہو۔ اس لیے اس نے آپؑ کو واپس مدینہ جانے کی اجازت دے دی مگر اس کے دل میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے ساتھ عداوت میں اور اضافہ ہو چکا تھا۔
شہادت
جوں جوں سلطنت شام کو امام محمد باقر علیہ السلام کی صلاحیت اور بزرگی کا اندازہ زیادہ ہوتا چلا گیا اتنا ہی آپؑ کا وجود ان کے لیے ناقابل برداشت ہوتا گیا۔ آخرکار آپؑ کو اس خاموش زہر کے حربے سے جو اکثر سلطنت بنو امیہ کی طرف سے کام میں لایا جاتا رہا تھا، شہید کرنے کی تدبیر کی گئی۔ وہ بظاہر زین کا ایک تحفہ تھا جس میں خاص تدابیر سے زہر پوشیدہ کیا گیا تھا اور جب امام محمد باقر علیہ السلام اس زین پر سوار ہوئے تو زہر ان کے جسم اطہر میں سرایت کر گیا۔ اس کے چند روز بعد آپؑ 7 ذی الحجہ 114ھ کو 57 سال کی عمر میں شہید ہو گئے۔
(اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ) 😭
Comments
Post a Comment