👈 ماہ رمضان کی آخری رات دن کے اعمال
ماہ رمضان کی آخری رات دن کے اعمال
ماہ رمضان کی آخری رات بھی بڑی بابرکت رات ہے اور اس میں چند اعمال ہیں:
1: غسل کرے۔
2: زیارت امام حسین علیہ السلام پڑھے
فضیلت زیارت امام شب قدر میں
روایت ہے کہ شب قدر میں ساتویں آسمان پر عرش کے نزدیک ایک منادی ندا دیتا ہے کہ حق تعالیٰ نے ہر اس شخص کے گناہ معاف کر دئیے جو زیارت امام حسین(ع) کے لیے آیا ہے۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ،
آپ پر سلام ہو اے رسول ؐ خداکے فرزند آپ پر سلام ہو اے امیرالمومنینؑ کے فرزند
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الصِّدِّیقَةِ الطَّاھِرَةِ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِساءِ الْعالَمِینَ،
آپ پر سلام ہو اے فاطمہؑ کے فرزند جو بہت سچی پاکیزہ اور تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَباعَبْدِ اللہِ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکاتُہُ،
آپ پر سلام ہو اے میرے مولا اے ابا عبداللہؑ خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں
أَشْھَدُ أَنَّکَ قَدْ أَقَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکاةَ، وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَھَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ،
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا اور برے کاموں سے منع کیا
وَتَلَوْتَ الْکِتابَ حَقَّ تِلاوَتِہِ، وَجاھَدْتَ فِی اللہِ حَقَّ جِھادِہِ، وَصَبَرْتَ عَلَی الْاَذیٰ فیْ جَنْبِہِ مُحْتَسِباً حَتّٰی أَتَاکَ الْیَقِینُ،
آپ نے تلاوت قرآن کی جو تلاوت کا حق ہے آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کیا جو جہاد کا حق ہے اور آپ نے خدا کی خاطر دکھوں پر صبر کیا امید اجر میں حتی کہ آپ نے شہادت پائی
أَشْھَدُ أَنَّ الَّذِینَ خالَفُوکَ وَحارَبُوکَ وَالَّذِینَ خَذَلُوکَ وَالَّذِینَ قَتَلُوکَ مَلْعُونُونَ عَلٰی لِسانِ النَّبِیِّ الْاُمِیِّ وَقَدْ خابَ مَنِ افْتَریٰ،
میں گواہی دیتا ہوں کہ جنہوں نے آپکی مخالفت کی اور آپ سے لڑے نیز جنہوں نے آپکا ساتھ نہ دیا اور جنہوں نے آپکو قتل کیاوہ سب ملعون قرار دیئے گئے نبی امی کی زبان سے یقینا وہ ناکام رہا جس نے جھوٹا دعویٰ کیا
لَعَنَ اللہُ الظَّالِمِینَ لَکُمْ مِنَ الْاَوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ وَضاعَفَ عَلَیْھِمُ الْعَذابَ الْاَلِیمَ،
خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے آپ پر ظلم کیا ہے اولین و آخرین میں سے اور دگنا ہو ان پر درد ناک عذاب
أَتَیْتُکَ یَامَوْلایَ یَابْنَ رَسُولِ اللہِ زائِراً، عارِفاً بِحَقِّکَ، مُوالِیاً لِاَوْلِیائِکَ، مُعادِیاً لِاَعْدائِکَ، ،
میں آیا آپ کے ہاں اے میرے مولا اے رسول خدا ؐ کے فرزند زیارت کرنے آپکاحق پہنچاتے ہوئے آپکے دوستوں سے دوستی آپکے دشمن سے دشمنی رکھتے ہوئے
مُسْتَبْصِراً بِالْھُدَی الَّذِی أَنْتَ عَلَیْہِ، عارِفاً بِضَلالَةِ مَنْ خالَفَکَ فَاشْفَعْ لِی عِنْدَ رَبِّکَ۔
اس راستے کو درست ہدایت جانتے ہوئے جس پر آپ چلے اور اسے گمراہ سمجھتے ہوئے جس نے آپ سے مخالفت کی پس اپنے رب کے ہاں میری سفارش کریں ۔
اس کے بعد زائر خود کو قبر مبارک سے لپٹائے اور اپنا منہ اس پر رکھے پھر سرہانے کی طرف جائے اور کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ اللہِ فِی أَرْضِہِ وَسَمائِہِ، صَلَّی اللہُ عَلٰی رُوحِکَ الطَّیِّبِ وَجَسَدِکَ الطَّاھِرِ،
آپ پر سلام ہو اے خدا کی حجت اس کی زمین اور اسکے آسمان میں خدا رحمت کرے آپ کی پاکیزہ روح پراور آپ کے جسم پاک پر
وَعَلَیْکَ السَّلَامُ یَا مَوْلایَ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکاتُہُ۔
اور آپ پر سلام ہو اے میرے مولا خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہو۔
اب پھر سے خود کو قبر شریف سے لپٹائے اس پر بوسہ دے اور اپنا چہرہ اس پر رکھ دے‘ اس کے بعد سرہانے کیطرف چلا جائے اور دو رکعت نماز زیارت ادا کرے اسکے بعد وہاں مزید جتنی چاہے نماز پڑھے پھر قبر مبارک کی پائنتی کی طرف جائے اور حضرت علی اکبر ؑ کی زیارت کرے اور کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ وَابْنَ مَوْلایَ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکاتُہُ، لَعَنَ اللہُ مَنْ ظَلَمَکَ، وَلَعَنَ اللہُ مَنْ قَتَلَکَ، وَضاعَفَ عَلَیْھِمُ الْعَذابَ الْاَلِیمَ۔
آپ پر سلام ہو اے میرے مولا اور میرے مولا کے فرزندخداکی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ پر ظلم کیا اور خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ کو قتل کیا نیز ان کے درد ناک عذاب میں کئی گنااضافہ کرے۔
اب جو دعا چاہے مانگے اور پھر دیگر شہدائے کربلاء کی طرف متوجہ ہو جب کہ قبر کی پائنتی سے قبلہ کی طرف ہو پس یوں کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَیُّھَا الصِّدِیقُونَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَیُّھَا الشُّھَداءُ الصَّابِرُونَ،
سلام ہو آپ سب پر اے سچو سلام ہو آپ پر اے شہیدو جو بہت صبر کرنے والے ہو
أَشْھَدُ أَنَّکُمْ جاھَدْتُمْ فِی سَبِیلِ اللہِ، وَصَبَرْتُمْ عَلَی الْاَذیٰ فِی جَنْبِ اللہِ، وَنَصَحْتُمْ لِلہِ وَلِرَسُولِہِ، حَتّٰی أَتَاکُمُ الْیَقِینُ،
میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کیا اور خدا کی خاطر دکھ تکلیف پر صبرسے کام لیا آپ نے خدا و رسول ؐ سے خلوص برتا حتیٰ کہ دنیا سے گزر گئے
أَشْھَدُ أَنَّکُمْ أَحْیاءُٗ عِنْدَ رَبِّکُمْ تُرْزَقُونَ، فَجَزاکُمُ اللہُ عَنِ الْاَسْلامِ وَأَھْلِہِ أَفْضَلَ جَزاءِ الْمُحْسِنِینَ، وَجَمَعَ بَیْنَنا وَبَیْنَکُمْ فِی مَحَلِّ النَّعِیمِ۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ ضرور آپ اپنے رب کی ہاں زندہ ہیں رزق پاتے ہیں پس خدا تمہیں جزا دے اسلام اور اہل اسلام کی طرف سے بہترین جزا جو نیکو کاروں کے لیے ہے اور یکجا کرے ہمیں اور تم کونعمتوں والی جنت کے مکانوں میں ۔
اب حضرت عباس ابن امیر المومنین کی زیارت کیلئے جائے اور جب وہاں پہنچے تو حضرت کی ضریح مبارک کے پاس کھڑے ہو کر کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الْمُطِیعُ لِلہِ وَلِرَسُولِہِ،
آپ پر سلام ہو اے امیر المومنین کے فرزند آپ پر سلام ہو اے بندہ خوش کردار خدا اوراس کے رسول ؐ کے اطاعت گزار
أَشْھَدُ أَنَّکَ قَدْجاھَدْتَ وَنَصَحْتَ وَصَبَرْتَ حَتّٰی أَتَاکَ الْیَقِینُ،
میں گواہی دیتا ہوں کہ ضرور آپ نے جہاد کیا خیر اندیشی کی اور صبر سے کام لیا حتی کہ آپ دنیا سے چل بسے
لَعَنَ اللہُ الظَّالِمِینَ لَکُمْ مِنَ الْاَوَّلِینَ وَالْآخِرِینَ، وَأَلْحَقَھُمْ بِدَرْکِ الْجَحِیمِ۔
خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے آپ پر ظلم ڈھایا اولین و آخرین میں سے اور خدا ان کو جہنم کے نچلے درجے میں پھینکے۔
روایت ہے کہ شب قدر میں ساتویں آسمان پر عرش کے نزدیک ایک منادی ندا دیتا ہے کہ حق تعالیٰ نے ہر اس شخص کے گناہ معاف کر دئیے جو زیارت امام حسین(ع) کے لیے آیا ہے۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ،
آپ پر سلام ہو اے رسول ؐ خداکے فرزند آپ پر سلام ہو اے امیرالمومنینؑ کے فرزند
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الصِّدِّیقَةِ الطَّاھِرَةِ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِساءِ الْعالَمِینَ،
آپ پر سلام ہو اے فاطمہؑ کے فرزند جو بہت سچی پاکیزہ اور تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَباعَبْدِ اللہِ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکاتُہُ،
آپ پر سلام ہو اے میرے مولا اے ابا عبداللہؑ خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں
أَشْھَدُ أَنَّکَ قَدْ أَقَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکاةَ، وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَھَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ،
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا اور برے کاموں سے منع کیا
وَتَلَوْتَ الْکِتابَ حَقَّ تِلاوَتِہِ، وَجاھَدْتَ فِی اللہِ حَقَّ جِھادِہِ، وَصَبَرْتَ عَلَی الْاَذیٰ فیْ جَنْبِہِ مُحْتَسِباً حَتّٰی أَتَاکَ الْیَقِینُ،
آپ نے تلاوت قرآن کی جو تلاوت کا حق ہے آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کیا جو جہاد کا حق ہے اور آپ نے خدا کی خاطر دکھوں پر صبر کیا امید اجر میں حتی کہ آپ نے شہادت پائی
أَشْھَدُ أَنَّ الَّذِینَ خالَفُوکَ وَحارَبُوکَ وَالَّذِینَ خَذَلُوکَ وَالَّذِینَ قَتَلُوکَ مَلْعُونُونَ عَلٰی لِسانِ النَّبِیِّ الْاُمِیِّ وَقَدْ خابَ مَنِ افْتَریٰ،
میں گواہی دیتا ہوں کہ جنہوں نے آپکی مخالفت کی اور آپ سے لڑے نیز جنہوں نے آپکا ساتھ نہ دیا اور جنہوں نے آپکو قتل کیاوہ سب ملعون قرار دیئے گئے نبی امی کی زبان سے یقینا وہ ناکام رہا جس نے جھوٹا دعویٰ کیا
لَعَنَ اللہُ الظَّالِمِینَ لَکُمْ مِنَ الْاَوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ وَضاعَفَ عَلَیْھِمُ الْعَذابَ الْاَلِیمَ،
خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے آپ پر ظلم کیا ہے اولین و آخرین میں سے اور دگنا ہو ان پر درد ناک عذاب
أَتَیْتُکَ یَامَوْلایَ یَابْنَ رَسُولِ اللہِ زائِراً، عارِفاً بِحَقِّکَ، مُوالِیاً لِاَوْلِیائِکَ، مُعادِیاً لِاَعْدائِکَ، ،
میں آیا آپ کے ہاں اے میرے مولا اے رسول خدا ؐ کے فرزند زیارت کرنے آپکاحق پہنچاتے ہوئے آپکے دوستوں سے دوستی آپکے دشمن سے دشمنی رکھتے ہوئے
مُسْتَبْصِراً بِالْھُدَی الَّذِی أَنْتَ عَلَیْہِ، عارِفاً بِضَلالَةِ مَنْ خالَفَکَ فَاشْفَعْ لِی عِنْدَ رَبِّکَ۔
اس راستے کو درست ہدایت جانتے ہوئے جس پر آپ چلے اور اسے گمراہ سمجھتے ہوئے جس نے آپ سے مخالفت کی پس اپنے رب کے ہاں میری سفارش کریں ۔
اس کے بعد زائر خود کو قبر مبارک سے لپٹائے اور اپنا منہ اس پر رکھے پھر سرہانے کی طرف جائے اور کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ اللہِ فِی أَرْضِہِ وَسَمائِہِ، صَلَّی اللہُ عَلٰی رُوحِکَ الطَّیِّبِ وَجَسَدِکَ الطَّاھِرِ،
آپ پر سلام ہو اے خدا کی حجت اس کی زمین اور اسکے آسمان میں خدا رحمت کرے آپ کی پاکیزہ روح پراور آپ کے جسم پاک پر
وَعَلَیْکَ السَّلَامُ یَا مَوْلایَ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکاتُہُ۔
اور آپ پر سلام ہو اے میرے مولا خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہو۔
اب پھر سے خود کو قبر شریف سے لپٹائے اس پر بوسہ دے اور اپنا چہرہ اس پر رکھ دے‘ اس کے بعد سرہانے کیطرف چلا جائے اور دو رکعت نماز زیارت ادا کرے اسکے بعد وہاں مزید جتنی چاہے نماز پڑھے پھر قبر مبارک کی پائنتی کی طرف جائے اور حضرت علی اکبر ؑ کی زیارت کرے اور کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ وَابْنَ مَوْلایَ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکاتُہُ، لَعَنَ اللہُ مَنْ ظَلَمَکَ، وَلَعَنَ اللہُ مَنْ قَتَلَکَ، وَضاعَفَ عَلَیْھِمُ الْعَذابَ الْاَلِیمَ۔
آپ پر سلام ہو اے میرے مولا اور میرے مولا کے فرزندخداکی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ پر ظلم کیا اور خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ کو قتل کیا نیز ان کے درد ناک عذاب میں کئی گنااضافہ کرے۔
اب جو دعا چاہے مانگے اور پھر دیگر شہدائے کربلاء کی طرف متوجہ ہو جب کہ قبر کی پائنتی سے قبلہ کی طرف ہو پس یوں کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَیُّھَا الصِّدِیقُونَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَیُّھَا الشُّھَداءُ الصَّابِرُونَ،
سلام ہو آپ سب پر اے سچو سلام ہو آپ پر اے شہیدو جو بہت صبر کرنے والے ہو
أَشْھَدُ أَنَّکُمْ جاھَدْتُمْ فِی سَبِیلِ اللہِ، وَصَبَرْتُمْ عَلَی الْاَذیٰ فِی جَنْبِ اللہِ، وَنَصَحْتُمْ لِلہِ وَلِرَسُولِہِ، حَتّٰی أَتَاکُمُ الْیَقِینُ،
میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کیا اور خدا کی خاطر دکھ تکلیف پر صبرسے کام لیا آپ نے خدا و رسول ؐ سے خلوص برتا حتیٰ کہ دنیا سے گزر گئے
أَشْھَدُ أَنَّکُمْ أَحْیاءُٗ عِنْدَ رَبِّکُمْ تُرْزَقُونَ، فَجَزاکُمُ اللہُ عَنِ الْاَسْلامِ وَأَھْلِہِ أَفْضَلَ جَزاءِ الْمُحْسِنِینَ، وَجَمَعَ بَیْنَنا وَبَیْنَکُمْ فِی مَحَلِّ النَّعِیمِ۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ ضرور آپ اپنے رب کی ہاں زندہ ہیں رزق پاتے ہیں پس خدا تمہیں جزا دے اسلام اور اہل اسلام کی طرف سے بہترین جزا جو نیکو کاروں کے لیے ہے اور یکجا کرے ہمیں اور تم کونعمتوں والی جنت کے مکانوں میں ۔
اب حضرت عباس ابن امیر المومنین کی زیارت کیلئے جائے اور جب وہاں پہنچے تو حضرت کی ضریح مبارک کے پاس کھڑے ہو کر کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الْمُطِیعُ لِلہِ وَلِرَسُولِہِ،
آپ پر سلام ہو اے امیر المومنین کے فرزند آپ پر سلام ہو اے بندہ خوش کردار خدا اوراس کے رسول ؐ کے اطاعت گزار
أَشْھَدُ أَنَّکَ قَدْجاھَدْتَ وَنَصَحْتَ وَصَبَرْتَ حَتّٰی أَتَاکَ الْیَقِینُ،
میں گواہی دیتا ہوں کہ ضرور آپ نے جہاد کیا خیر اندیشی کی اور صبر سے کام لیا حتی کہ آپ دنیا سے چل بسے
لَعَنَ اللہُ الظَّالِمِینَ لَکُمْ مِنَ الْاَوَّلِینَ وَالْآخِرِینَ، وَأَلْحَقَھُمْ بِدَرْکِ الْجَحِیمِ۔
خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے آپ پر ظلم ڈھایا اولین و آخرین میں سے اور خدا ان کو جہنم کے نچلے درجے میں پھینکے۔
3: سورئہ انعام ، سورئہ کہف اور سورئہ یٰس کی تلاوت کرے اور سومرتبہ یہ کہے:
اَسْتَغْفِرُاﷲَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ
بخشش چاہتا ہوں اﷲ سے اس کے حضور توبہ کرتا ہوں
4: شیخ کلینی (رح) نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے کہ یہ دعا پڑھے:
اَللّٰھُمَّ ہذا شَھْرُ رَمَضانَ الَّذِی ٲَ نْزَلْتَ فِیہِ الْقُرْآنَ وَقَدْ تَصَرَّمَ، وَٲَعُوذُ بِوَجْھِکَ الْکَرِیمِ یَا رَبِّ ٲَنْ یَطْلُعَ الْفَجْرُ مِنْ لَیْلَتِی ہذِھِ ٲَوْ یَتَصَرَّمَ شَھْرُ رَمَضانَ وَلَکَ قِبَلِی تَبِعَۃٌ ٲَوْ ذَ نْبٌ تُرِیدُ ٲَنْ تُعَذِّبَنِی بِہِ یَوْمَ ٲَ لْقاکَ
اے معبود! یہ ماہ رمضان المبارک
ہے جس میں تو نے قرآن کریم نازل فرمایا اور وہ مہینہ ختم ہو گیا ہے اور پناہ لیتا ہوں میں
تیری ذات کریم کی اے پروردگار اس سے کہ آج کی رات ختم ہو اور صبح ہو جائے یا رمضان مبارک کا مہینہ گزر جائے اور مجھ پر تیری کوئی سزا باقی ہو یا کوئی گناہ ہو کہ تو مجھے اس پر عذاب دینا چاہتا ہو جس دن میں پیش ہوں گا۔
5: دعا یامدبر الامور.....پڑھے کہ جو تئیسویں کی رات کے اعمال میں ذکر ہوئی ہے۔
جوشخص ان کلمات کے کیساتھ ماہ رمضان کوالوداع کرے تو حق تعالیٰ اسے صبح ہونے سے پہلے بخش دے گا اور اس کو توبہ و استغفار کی توفیق عطا کرے گا۔
6: سید و شیخ صدوق (رح)نے جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت کی ہے کہ میں رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور وہ دن رمضان مبارک کا آخری جمعہ تھا ۔ جب آنحضرت (ص) کی نظر مجھ پر پڑی تو فرمایا کہ اے جابر! یہ ماہ رمضان کا آخری جمعہ ہے پس ماہ رمضان کو الوداع کرو اور کہو:
اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلہُ آخِرَ العَھْدِ مِنْ صِیامِنا إیَّاھُ فَ إنْ جَعَلْتَہُ فَاجْعَلْنِی مَرْحُوماً وَلاَ
اے اللہ ! رمضان کے اس مہینے کے روزے میرے لیے آخری روزے قرار نہ دے پس اگر تو ایسا کرے تو مجھے رحم کیا ہواقرار دے
تَجْعَلْنِی مَحْرُوماً
اور رحمت سے محروم کیا ہوا نہ بنا
جوشخض اس دعا کو پڑھے تو یقینًا وہ دوسعادتوں میں سے ایک ضرور حاصل کرتا ہے۔ یعنی وہ آئندہ رمضان کو پائے گا یا خدا کی انتہائی رحمت و بخشش سے ہم کنار ہو کر عالم بقائ میںراحتی حاصل کرے گا۔
7: وہ دعائیں پڑھ کر ماہ رمضان کوالوداع کرے کہ جو شیخ کلینی (رح) ، صدوق (رح) ،شیخ مفید(رح) ، طوسی (رح) اور سیدابن طائوس (رح) نے نقل کی ہیں۔ شاید ان میں سب سے بہتر صحیفہ کاملہ کی پینتالیسیویں دعا ہے۔
صحیفہ سجادیہ کی دعا نمبر 45
صحیفہ سجادیہ کی پینتالیسویں دعا
صحیفہ سجادیہ کی پینتالیسویں دعا امام زین العابدینؑ کی صحیفہ سجادیہ میں موجود ماثورہ دعاؤں میں سے ایک ہے۔ جسے امام سجادؑ ماہ رمضان کو وداع کرتے ہوئے پڑھا کرتے تھے۔ امام سجادؑ اس دعا میں اللہ کی نعمتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالی کا اس لئے شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نےانسان کو انسان سے بےنیاز کیا ہے۔ اس دعا میں امام زین العابدینؑ، ماہ رمضان کی فضیلتوں کو شمار کرتے ہوئے رمضان سے الوداع کرنے کو بیان کرتے ہیں اور اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ اگلے سال کا رمضان المبارک بھی نصیب ہوجائے۔ عید فطر کو توبہ کرنا، دوسروں کے حق میں دعا کرنا، محمدؐ و آل محمدؐ پر درود اس دعا کے دیگر مضامین میں سے ہیں۔
رسول اللہؐ صلی الله علیه و آله : شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان اللہ کا مہینہ ہے پس جس نے بھی میرے مہینے (شعبان) میں روزہ رکھا تو قیامت کے دن ، مَیں اس کا شفیع (شفاعت کرنے والا) ہوں گا۔
بخشها:
صحیفه سجادیه
45) ماہ رمضان کو الوداع کرنے کی دعا
بسم الله الرحمن الرحیم
اللَّهُمَّ يَا مَنْ لَا يَرْغَبُ فِي الْجَزَاءِ وَ يَا مَنْ لَا يَنْدَمُ عَلَى الْعَطَاءِ وَ يَا مَنْ لَا يُكَافِئُ عَبْدَهُ عَلَى السَّوَاءِ. مِنَّتُكَ ابْتِدَاءٌ، وَ عَفْوُكَ تَفَضُّلٌ، وَ عُقُوبَتُكَ عَدْلٌ، وَ قَضَاؤُكَ خِيَرَةٌ إِنْ أَعْطَيْتَ لَمْ تَشُبْ عَطَاءَكَ بِمَنٍّ، وَ إِنْ مَنَعْتَ لَمْ يَكُنْ مَنْعُكَ تَعَدِّياً. تَشْكُرُ مَنْ شَكَرَكَ وَ أَنْتَ أَلْهَمْتَهُ شُكْرَكَ. وَ تُكَافِئُ مَنْ حَمِدَكَ وَ أَنْتَ عَلَّمْتَهُ حَمْدَكَ. تَسْتُرُ عَلَى مَنْ لَوْ شِئْتَ فَضَحْتَهُ، وَ تَجُودُ عَلَى مَنْ لَوْ شِئْتَ مَنَعْتَهُ، وَ كِلَاهُمَا أَهْلٌ مِنْكَ لِلْفَضِيحَةِ وَ الْمَنْعِ غَيْرَ أَنَّكَ بَنَيْتَ أَفْعَالَكَ عَلَى التَّفَضُّلِ، وَ أَجْرَيْتَ قُدْرَتَكَ عَلَى التَّجَاوُزِ. وَ تَلَقَّيْتَ مَنْ عَصَاكَ بِالْحِلْمِ، وَ أَمْهَلْتَ مَنْ قَصَدَ لِنَفْسِهِ بِالظُّلْمِ، تَسْتَنْظِرُهُمْ بِأَنَاتِكَ إِلَى الْإِنَابَةِ، وَ تَتْرُكُ مُعَاجَلَتَهُمْ إِلَى التَّوْبَةِ لِكَيْلَا يَهْلِكَ عَلَيْكَ هَالِكُهُمْ، وَ لَا يَشْقَى بِنِعْمَتِكَ شَقِيُّهُمْ إِلَّا عَنْ طُولِ الْإِعْذَارِ إِلَيْهِ، وَ بَعْدَ تَرَادُفِ الْحُجَّةِ عَلَيْهِ، كَرَماً مِنْ عَفْوِكَ يَا كَرِيمُ، وَ عَائِدَةً مِنْ عَطْفِكَ يَا حَلِيمُ. أَنْتَ الَّذِي فَتَحْتَ لِعِبَادِكَ بَاباً إِلَى عَفْوِكَ، وَ سَمَّيْتَهُ التَّوْبَةَ، وَ جَعَلْتَ عَلَى ذَلِكَ الْبَابِ دَلِيلًا مِنْ وَحْيِكَ لِئَلَّا يَضِلُّوا عَنْهُ، فَقُلْتَ- تَبَارَكَ اسْمُكَ-: «تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَصُوحاً عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّئاتِكُمْ وَ يُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهارُ يَوْمَ لا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَ الَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ، نُورُهُمْ يَسْعى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَ بِأَيْمانِهِمْ، يَقُولُونَ: رَبَّنا أَتْمِمْ لَنا نُورَنا، وَ اغْفِرْ لَنا، إِنَّكَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» فَمَا عُذْرُ مَنْ أَغْفَلَ دُخُولَ ذَلِكَ الْمَنْزِلِ بَعْدَ فَتْحِ الْبَابِ وَ إِقَامَةِ الدَّلِيلِ! وَ أَنْتَ الَّذِي زِدْتَ فِي السَّوْمِ عَلَى نَفْسِكَ لِعِبَادِكَ، تُرِيدُ رِبْحَهُمْ فِي مُتَاجَرَتِهِمْ لَكَ، وَ فَوْزَهُمْ بِالْوِفَادَةِ عَلَيْكَ، وَ الزِّيَادَةِ مِنْكَ، فَقُلْتَ- تَبَارَكَ اسْمُكَ وَ تَعَالَيْتَ-: «مَنْ جاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثالِها، وَ مَنْ جاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَلا يُجْزى إِلَّا مِثْلَها». وَ قُلْتَ: «مَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِائَةُ حَبَّةٍ، وَ اللَّهُ يُضاعِفُ لِمَنْ يَشاءُ» وَ قُلْتَ: «مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضاً حَسَناً فَيُضاعِفَهُ لَهُ أَضْعافاً كَثِيرَةً» وَ مَا أَنْزَلْتَ مِنْ نَظَائِرِهِنَّ فِي الْقُرْآنِ مِنْ تَضَاعِيفِ الْحَسَنَاتِ. وَ أَنْتَ الَّذِي دَلَلْتَهُمْ بِقَوْلِكَ مِنْ غَيْبِكَ وَ تَرْغِيبِكَ الَّذِي فِيهِ حَظُّهُمْ عَلَى مَا لَوْ سَتَرْتَهُ عَنْهُمْ لَمْ تُدْرِكْهُ أَبْصَارُهُمْ، وَ لَمْ تَعِهِ أَسْمَاعُهُمْ، وَ لَمْ تَلْحَقْهُ أَوْهَامُهُمْ، فَقُلْتَ: «فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ، وَ اشْكُرُوا لِي وَ لا تَكْفُرُونِ»وَ قُلْتَ: «لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ، وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذابِي لَشَدِيدٌ». وَ قُلْتَ: «ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ، إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ داخِرِينَ»، فَسَمَّيْتَ دُعَاءَكَ عِبَادَةً، وَ تَرْكَهُ اسْتِكْبَاراً، وَ تَوَعَّدْتَ عَلَى تَرْكِهِ دُخُولَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ. فَذَكَرُوكَ بِمَنِّكَ، وَ شَكَرُوكَ بِفَضْلِكَ، وَ دَعَوْكَ بِأَمْرِكَ، وَ تَصَدَّقُوا لَكَ طَلَباً لِمَزِيدِكَ، وَ فِيهَا كَانَتْ نَجَاتُهُمْ مِنْ غَضَبِكَ، وَ فَوْزُهُمْ بِرِضَاكَ. وَ لَوْ دَلَّ مَخْلُوقٌ مَخْلُوقاً مِنْ نَفْسِهِ عَلَى مِثْلِ الَّذِي دَلَلْتَ عَلَيْهِ عِبَادَكَ مِنْكَ كَانَ مَوْصُوفاً بِالْإِحْسَانِ، وَ مَنْعُوتاً بِالامْتِنَانِ، وَ مَحْمُوداً بِكُلِّ لِسَانٍ، فَلَكَ الْحَمْدُ مَا وُجِدَ فِي حَمْدِكَ مَذْهَبٌ، وَ مَا بَقِيَ لِلْحَمْدِ لَفْظٌ تُحْمَدُ بِهِ، وَ مَعْنًى يَنْصَرِفُ إِلَيْهِ. يَا مَنْ تَحَمَّدَ إِلَى عِبَادِهِ بِالْإِحْسَانِ وَ الْفَضْلِ، وَ غَمَرَهُمْ بِالْمَنِّ وَ الطَّوْلِ، مَا أَفْشَى فِينَا نِعْمَتَكَ، وَ أَسْبَغَ عَلَيْنَا مِنَّتَكَ، وَ أَخَصَّنَا بِبِرِّكَ! هَدَيْتَنَا لِدِينِكَ الَّذِي اصْطَفَيْتَ، وَ مِلَّتِكَ الَّتِي ارْتَضَيْتَ، وَ سَبِيلِكَ الَّذِي سَهَّلْتَ، وَ بَصَّرْتَنَا الزُّلْفَةَ لَدَيْكَ، وَ الْوُصُولَ إِلَى كَرَامَتِكَ اللَّهُمَّ وَ أَنْتَ جَعَلْتَ مِنْ صَفَايَا تِلْكَ الْوَظَائِفِ، وَ خَصَائِصِ تِلْكَ الْفُرُوضِ شَهْرَ رَمَضَانَ الَّذِي اخْتَصَصْتَهُ مِنْ سَائِرِ الشُّهُورِ، وَ تَخَيَّرْتَهُ مِنْ جَمِيعِ الْأَزْمِنَةِ وَ الدُّهُورِ، وَ آثَرْتَهُ عَلَى كُلِّ أَوْقَاتِ السَّنَةِ بِمَا أَنْزَلْتَ فِيهِ مِنَ الْقُرْآنِ وَ النُّورِ، وَ ضَاعَفْتَ فِيهِ مِنَ الْإِيمَانِ، وَ فَرَضْتَ فِيهِ مِنَ الصِّيَامِ، وَ رَغَّبْتَ فِيهِ مِنَ الْقِيَامِ، وَ أَجْلَلْتَ فِيهِ مِنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ الَّتِي هِيَ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ. ثُمَّ آثَرْتَنَا بِهِ عَلَى سَائِرِ الْأُمَمِ، وَ اصْطَفَيْتَنَا بِفَضْلِهِ دُونَ أَهْلِ الْمِلَلِ، فَصُمْنَا بِأَمْرِكَ نَهَارَهُ، وَ قُمْنَا بِعَوْنِكَ لَيْلَهُ، مُتَعَرِّضِينَ بِصِيَامِهِ وَ قِيَامِهِ لِمَا عَرَّضْتَنَا لَهُ مِنْ رَحْمَتِكَ، وَ تَسَبَّبْنَا إِلَيْهِ مِنْ مَثُوبَتِكَ، وَ أَنْتَ الْمَلِيءُ بِمَا رُغِبَ فِيهِ إِلَيْكَ، الْجَوَادُ بِمَا سُئِلْتَ مِنْ فَضْلِكَ، الْقَرِيبُ إِلَى مَنْ حَاوَلَ قُرْبَكَ. وَ قَدْ أَقَامَ فِينَا هَذَا الشَّهْرُ مُقَامَ حَمْدٍ، وَ صَحِبَنَا صُحْبَةَ مَبْرُورٍ، وَ أَرْبَحَنَا أَفْضَلَ أَرْبَاحِ الْعَالَمِينَ، ثُمَّ قَدْ فَارَقَنَا عِنْدَ تَمَامِ وَقْتِهِ، وَ انْقِطَاعِ مُدَّتِهِ، وَ وَفَاءِ عَدَدِهِ. فَنَحْنُ مُوَدِّعُوهُ وِدَاعَ مَنْ عَزَّ فِرَاقُهُ عَلَيْنَا، وَ غَمَّنَا وَ أَوْحَشَنَا انْصِرَافُهُ عَنَّا، وَ لَزِمَنَا لَهُ الذِّمَامُ الْمَحْفُوظُ، وَ الْحُرْمَةُ الْمَرْعِيَّةُ، وَ الْحَقُّ الْمَقْضِيُّ، فَنَحْنُ قَائِلُونَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا شَهْرَ اللَّهِ الْأَكْبَرَ، وَ يَا عِيدَ أَوْلِيَائِهِ. السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا أَكْرَمَ مَصْحُوبٍ مِنَ الْأَوْقَاتِ، وَ يَا خَيْرَ شَهْرٍ فِي الْأَيَّامِ وَ السَّاعَاتِ. السَّلَامُ عَلَيْكَ مِنْ شَهْرٍ قَرُبَتْ فِيهِ الْآمَالُ، وَ نُشِرَتْ فِيهِ الْأَعْمَالُ. السَّلَامُ عَلَيْكَ مِنْ قَرِينٍ جَلَّ قَدْرُهُ مَوْجُوداً، وَ أَفْجَعَ فَقْدُهُ مَفْقُوداً، وَ مَرْجُوٍّ آلَمَ فِرَاقُهُ. السَّلَامُ عَلَيْكَ مِنْ أَلِيفٍ آنَسَ مُقْبِلًا فَسَرَّ، وَ أَوْحَشَ مُنْقَضِياً فَمَضَّ السَّلَامُ عَلَيْكَ مِنْ مُجَاوِرٍ رَقَّتْ فِيهِ الْقُلُوبُ، وَ قَلَّتْ فِيهِ الذُّنُوبُ. السَّلَامُ عَلَيْكَ مِنْ نَاصِرٍ أَعَانَ عَلَى الشَّيْطَانِ، وَ صَاحِبٍ سَهَّلَ سُبُلَ الْإِحْسَانِ السَّلَامُ عَلَيْكَ مَا أَكْثَرَ عُتَقَاءَ اللَّهِ فِيكَ، وَ مَا أَسْعَدَ مَنْ رَعَى حُرْمَتَكَ بِكَ! السَّلَامُ عَلَيْكَ مَا كَانَ أَمْحَاكَ لِلذُّنُوبِ، وَ أَسْتَرَكَ لِأَنْوَاعِ الْعُيُوبِ! السَّلَامُ عَلَيْكَ مَا كَانَ أَطْوَلَكَ عَلَى الْمُجْرِمِينَ، وَ أَهْيَبَكَ فِي صُدُورِ الْمُؤْمِنِينَ! السَّلَامُ عَلَيْكَ مِنْ شَهْرٍ لَا تُنَافِسُهُ الْأَيَّامُ. السَّلَامُ عَلَيْكَ مِنْ شَهْرٍ هُوَ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ سَلَامٌ السَّلَامُ عَلَيْكَ غَيْرَ كَرِيهِ الْمُصَاحَبَةِ، وَ لَا ذَمِيمِ الْمُلَابَسَةِ السَّلَامُ عَلَيْكَ كَمَا وَفَدْتَ عَلَيْنَا بِالْبَرَكَاتِ، وَ غَسَلْتَ عَنَّا دَنَسَ الْخَطِيئَاتِ السَّلَامُ عَلَيْكَ غَيْرَ مُوَدَّعٍ بَرَماً وَ لَا مَتْرُوكٍ صِيَامُهُ سَأَماً. السَّلَامُ عَلَيْكَ مِنْ مَطْلُوبٍ قَبْلَ وَقْتِهِ، وَ مَحْزُونٍ عَلَيْهِ قَبْلَ فَوْتِهِ. السَّلَامُ عَلَيْكَ كَمْ مِنْ سُوءٍ صُرِفَ بِكَ عَنَّا، وَ كَمْ مِنْ خَيْرٍ أُفِيضَ بِكَ عَلَيْنَا السَّلَامُ عَلَيْكَ وَ عَلَى لَيْلَةِ الْقَدْرِ الَّتِي هِيَ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ السَّلَامُ عَلَيْكَ مَا كَانَ أَحْرَصَنَا بِالْأَمْسِ عَلَيْكَ، وَ أَشَدَّ شَوْقَنَا غَداً إِلَيْكَ. السَّلَامُ عَلَيْكَ وَ عَلَى فَضْلِكَ الَّذِي حُرِمْنَاهُ، وَ عَلَى مَاضٍ مِنْ بَرَكَاتِكَ سُلِبْنَاهُ. اللَّهُمَّ إِنَّا أَهْلُ هَذَا الشَّهْرِ الَّذِي شَرَّفْتَنَا بِهِ، وَ وَفَّقْتَنَا بِمَنِّكَ لَهُ حِينَ جَهِلَ الْأَشْقِيَاءُ وَقْتَهُ، وَ حُرِمُوا لِشَقَائِهِمْ فَضْلَهُ. أَنْتَ وَلِيُّ مَا آثَرْتَنَا بِهِ مِنْ مَعْرِفَتِهِ، وَ هَدَيْتَنَا لَهُ مِنْ سُنَّتِهِ، وَ قَدْ تَوَلَّيْنَا بِتَوْفِيقِكَ صِيَامَهُ وَ قِيَامَهُ عَلَى تَقْصِيرٍ، وَ أَدَّيْنَا فِيهِ قَلِيلًا مِنْ كَثِيرٍ. اللَّهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ إِقْرَاراً بِالْإِسَاءَةِ، وَ اعْتِرَافاً بِالْإِضَاعَةِ، وَ لَكَ مِنْ قُلُوبِنَا عَقْدُ النَّدَمِ، وَ مِنْ أَلْسِنَتِنَا صِدْقُ الِاعْتِذَارِ، فَأْجُرْنَا عَلَى مَا أَصَابَنَا فِيهِ مِنَ التَّفْرِيطِ أَجْراً نَسْتَدْرِكُ بِهِ الْفَضْلَ الْمَرْغُوبَ فِيهِ، وَ نَعْتَاضُ بِهِ مِنْ أَنْوَاعِ الذُّخْرِ الْمَحْرُوصِ عَلَيْهِ. وَ أَوْجِبْ لَنَا عُذْرَكَ عَلَى مَا قَصَّرْنَا فِيهِ مِنْ حَقِّكَ، وَ ابْلُغْ بِأَعْمَارِنَا مَا بَيْنَ أَيْدِينَا مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ الْمُقْبِلِ، فَإِذَا بَلَّغْتَنَاهُ فَأَعِنِّا عَلَى تَنَاوُلِ مَا أَنْتَ أَهْلُهُ مِنَ الْعِبَادَةِ، وَ أَدِّنَا إِلَى الْقِيَامِ بِمَا يَسْتَحِقُّهُ مِنَ الطَّاعَةِ، وَ أَجْرِ لَنَا مِنْ صَالِحِ الْعَمَلِ مَا يَكُونُ دَرَكاً لِحَقِّكَ فِي الشَّهْرَيْنِ مِنْ شُهُورِ الدَّهْرِ. اللَّهُمَّ وَ مَا أَلْمَمْنَا بِهِ فِي شَهْرِنَا هَذَا مِنْ لَمَمٍ أَوْ إِثْمٍ، أَوْ وَاقَعْنَا فِيهِ مِنْ ذَنْبٍ، وَ اكْتَسَبْنَا فِيهِ مِنْ خَطِيئَةٍ عَلَى تَعَمُّدٍ مِنَّا، أَوْ عَلَى نِسْيَانٍ ظَلَمْنَا فِيهِ أَنْفُسَنَا، أَوِ انْتَهَكْنَا بِهِ حُرْمَةً مِنْ غَيْرِنَا، فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ اسْتُرْنَا بِسِتْرِكَ، وَ اعْفُ عَنَّا بِعَفْوِكَ، وَ لَا تَنْصِبْنَا فِيهِ لِأَعْيُنِ الشَّامِتِينَ، وَ لَا تَبْسُطْ عَلَيْنَا فِيهِ أَلْسُنَ الطَّاعِنِينَ، وَ اسْتَعْمِلْنَا بِمَا يَكُونُ حِطَّةً وَ كَفَّارَةً لِمَا أَنْكَرْتَ مِنَّا فِيهِ بِرَأْفَتِكَ الَّتِي لَا تَنْفَدُ، وَ فَضْلِكَ الَّذِي لَا يَنْقُصُ. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ اجْبُرْ مُصِيبَتَنَا بِشَهْرِنَا، وَ بَارِكْ لَنَا فِي يَوْمِ عِيدِنَا وَ فِطْرِنَا، وَ اجْعَلْهُ مِنْ خَيْرِ يَوْمٍ مَرَّ عَلَيْنَا أَجْلَبِهِ لِعَفْوٍ، وَ أَمْحَاهُ لِذَنْبٍ، وَ اغْفِرْ لَنَا مَا خَفِيَ مِنْ ذُنُوبِنَا وَ مَا عَلَنَ. اللَّهُمَّ اسْلَخْنَا بِانْسِلَاخِ هَذَا الشَّهْرِ مِنْ خَطَايَانَا، وَ أَخْرِجْنَا بِخُرُوجِهِ مِنْ سَيِّئَاتِنَا، وَ اجْعَلْنَا مِنْ أَسْعَدِ أَهْلِهِ بِهِ، وَ أَجْزَلِهِمْ قِسْماً فِيهِ، وَ أَوْفَرِهِمْ حَظّاً مِنْهُ. اللَّهُمَّ وَ مَنْ رَعَى هَذَا الشَّهْرَ حَقَّ رِعَايَتِهِ، وَ حَفِظَ حُرْمَتَهُ حَقَّ حِفْظِهَا، وَ قَامَ بِحُدُودِهِ حَقَّ قِيَامِهَا، وَ اتَّقَى ذُنُوبَهُ حَقَّ تُقَاتِهَا، أَوْ تَقَرَّبَ إِلَيْكَ بِقُرْبَةٍ أَوْجَبَتْ رِضَاكَ لَهُ، وَ عَطَفَتْ رَحْمَتَكَ عَلَيْهِ، فَهَبْ لَنَا مِثْلَهُ مِنْ وُجْدِكَ، وَ أَعْطِنَا أَضْعَافَهُ مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّ فَضْلَكَ لَا يَغِيضُ، وَ إِنَّ خَزَائِنَكَ لَا تَنْقُصُ بَلْ تَفِيضُ، وَ إِنَّ مَعَادِنَ إِحْسَانِكَ لَا تَفْنَى، وَ إِنَّ عَطَاءَكَ لَلْعَطَاءُ الْمُهَنَّا. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ اكْتُبْ لَنَا مِثْلَ أُجُورِ مَنْ صَامَهُ، أَوْ تَعَبَّدَ لَكَ فِيهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. اللَّهُمَّ إِنَّا نَتُوبُ إِلَيْكَ فِي يَوْمِ فِطْرِنَا الَّذِي جَعَلْتَهُ لِلْمُؤْمِنِينَ عِيداً وَ سُرُوراً، وَ لِأَهْلِ مِلَّتِكَ مَجْمَعاً وَ مُحْتَشَداً مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ أَذْنَبْنَاهُ، أَوْ سُوءٍ أَسْلَفْنَاهُ، أَوْ خَاطِرِ شَرٍّ أَضْمَرْنَاهُ، تَوْبَةَ مَنْ لَا يَنْطَوِي عَلَى رُجُوعٍ إِلَى ذَنْبٍ، وَ لَا يَعُودُ بَعْدَهَا فِي خَطِيئَةٍ، تَوْبَةً نَصُوحاً خَلَصَتْ مِنَ الشَّكِّ وَ الِارْتِيَابِ، فَتَقَبَّلْهَا مِنَّا، وَ ارْضَ عَنَّا، وَ ثَبِّتْنَا عَلَيْهَا. اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا خَوْفَ عِقَابِ الْوَعِيدِ، وَ شَوْقَ ثَوَابِ الْمَوْعُودِ حَتَّى نَجِدَ لَذَّةَ مَا نَدْعُوكَ بِهِ، وَ كَأْبَةَ مَا نَسْتَجِيرُكَ مِنْهُ. وَ اجْعَلْنَا عِنْدَكَ مِنَ التَّوَّابِينَ الَّذِينَ أَوْجَبْتَ لَهُمْ مَحَبَّتَكَ، وَ قَبِلْتَ مِنْهُمْ مُرَاجَعَةَ طَاعَتِكَ، يَا أَعْدَلَ الْعَادِلِينَ. اللَّهُمَّ تَجَاوَزْ عَنْ آبَائِنَا وَ أُمَّهَاتِنَا وَ أَهْلِ دِينِنَا جَمِيعاً مَنْ سَلَفَ مِنْهُمْ وَ مَنْ غَبَرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ. اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ نَبِيِّنَا وَ آلِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى مَلَائِكَتِكَ الْمُقَرَّبِينَ، وَ صَلِّ عَلَيْهِ وَ آلِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى أَنْبِيَائِكَ الْمُرْسَلِينَ، وَ صَلِّ عَلَيْهِ وَ آلِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ، وَ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ يَا رَبَّ الْعَالَمِينَ، صَلَاةً تَبْلُغُنَا بَرَكَتُهَا، وَ يَنَالُنَا نَفْعُهَا، وَ يُسْتَجَابُ لَهَا دُعَاؤُنَا، إِنَّكَ أَكْرَمُ مَنْ رُغِبَ إِلَيْهِ، وَ أَكْفَى مَنْ تُوُكِّلَ عَلَيْهِ، وَ أَعْطَى مَنْ سُئِلَ مِنْ فَضْلِهِ، وَ أَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ.
ترجمہ
اے اللہ! اے وہ جو (اپنے احسانات کا) بدلہ نہیں چاہتا، اے وہ جو عطا و بخشش پرپشیمان نہیں ہوتا، اے وہ جو اپنے بندوں کو (ان کے عمل کے مقابلہ میں) نپا تلا اجر نہیں دیتا، تیری نعمتیں بغیر کسی سابقہ استحقاق کے ہیں اور تیرا عفو و درگزر تفصیل و احسان ہے، تیرا سزا دینا عین عدل اور تیرا فیصلہ خیرو بہبودی کا حامل ہے، تو اگر دیتا ہے تو اپنی عطا کو منت گزاری سے آلودہ نہیں کرتا اور اگر منع کر دیتا ہے تو یہ ظلم و زیادتی کی بنا پر نہیں ہوتا۔
جو تیرا شکر ادا کرتا ہے تو اس کے شکر کی جزا دیتا ہے حالانکہ تو نے ہی اس کے دل میں شکر گزاری کا القا کیا ہے اور جو تیری حمد کرتا ہے اسے بدلہ دیتا ہے حالانکہ تو نے ہی اسے حمد کی تعلیم دی ہے اور ایسے شخص کی پردہ پوشی کرتا ہے کہ اگر چاہتا تو اسے رسوا کر دیتا اور ایسے شخص کو دیتا ہے کہ اگر چاہتا تو اسے نہ دیتا حالانکہ وہ دونوں تیری بارگاہ عدالت میں رسوا و محروم کئے جانے ہی کے قابل تھے مگر تو نے اپنے افعال کی بنیاد تفضل و احسان پر رکھی ہے اور اپنے اقتدار کو عفو و درگزر کی راہ پر لگایا ہے اور جس کسی نے تیری نافرمانی کی تو نے اس سے بردباری کا رویہ اختیار کیا اور جس کسی نے اپنے نفس پر ظلم کا ارادہ کیا تو نے اسے مہلت دی، تو ان کے رجوع ہونے تک اپنے حلم کی بنا پر مہلت دیتا ہے اور توبہ کرنے تک انہیں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا تاکہ تیری نعمت کی وجہ سے بدبخت ہونے والا بدبخت نہ ہو مگر اس وقت کہ جب اس پر پوری عذرداری اور اتمام حجت ہو جائے ۔ اے کریم ! (یہ اتمام جحت) تیرے عفو و درگزر کا کرم اور اے بردباد تیری شفقت و مہربانی کا فیض ہے۔
تو ہی وہ ہے جس نے اپنے بندوں کے لئے عفو و بحشش کا دروازہ کھولا ہے اور اس کا نام توبہ رکھا ہے اور تو نے اس دروازہ کی نشان دہی کے لیے اپنی وحی کو رہبر قرار دیا ہے تاکہ وہ اس دروازہ سے بھٹک نہ جائیں، چنانچہ اے مبارک نام والے تو نے فرمایا ہے کہ’’ خدا کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کرو امید ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے گناہوں کو محو کردے اور تمہیں اس بہشت میں داخل کرے جس کے ( محلاّت و باغات کے ) نیچے نہریں بہتی ہیں، اس دن جب خدا اپنے رسول اور ان لوگوں کو جو اس پر ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کرے گا بلکہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کی دائیں جانب چلتا ہوگا اور وہ لوگ یہ کہتے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمارے لئے ہمارے نور کو کامل فرما اور ہمیں بخش دے ۔ اس لئے کہ تو ہر چیز پر قادر ہے ‘‘۔ تو اب جو اس گھر میں داخل ہونے سے غفلت کرے جب کہ دروازہ کھولا اور رہبر مقرر کیا جاچکا ہے تو اس کا عذرو بہانہ کیا ہوسکتا ہے؟
تو وہ ہے جس نے اپنے بندوں کے لیے لین دین میں اونچے نرخوں کا ذمّہ لے لیا ہے اور یہ چاہا ہے کہ وہ جو سودا تجھ سے کریں اس میں انہیں نفع ہو اور تیری طرف بڑھنے اور زیادہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں۔ چنانچہ تو نے کہ جو مبارک نام والا اور بلند مقام والا ہے ، فرمایا ہے : "جو میرے پاس نیکی لے کر آئے گا اسے اس کا دس گنا اجر ملے گا اور جو برائی کا مرتکب ہو گا تو اس کو برائی کا بدلہ بس اتنا ہی ملے گا جتنی بُرائی ہے" اور تیرا ارشاد ہے کہ "جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس بیج کی سی ہے جس سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس کے لیے چاہتا ہے دگنا کر دیتا ہے" اور تیرا ارشاد ہے کہ "کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے تاکہ خدا اس کے مال کو کئی گنا زیادہ کرکے ادا کرے" اور ایسی ہی افزائش حسنات کے وعدہ پر مشتمل دوسری آیتیں کہ جو تو نے قرآن مجید میں نازل کی ہیں۔
اور تو ہی وہ ہے جس نے وحی و غیب کے کلام اور ایسی ترغیب کے ذریعہ کہ جو ان کے فائدہ پر مشتمل ہے ایسے امور کی طرف ان کی رہنمائی کی کہ اگر ان سے پوشیدہ رکھتا تو نہ ان کی آنکھیں دیکھ سکتیں، نہ ان کے کان سن سکتے اور نہ ان کے تصورات وہاں تک پہنچ سکتے۔ چنانچہ تیرا ارشاد ہے کہ "تم مجھے یاد رکھو ۔ میں بھی تمہاری طرف سے غافل نہیں ہوں گا اور میرا شکر ادا کرتے رہو اور ناشکری نہ کرو" اور تیرا ارشاد ہے کہ "اگر میرا شکر کرو گے تو میں یقینا تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کی تو یاد رکھو کہ میرا عذاب سخت عذاب ہے" اور تیرا ارشاد ہے کہ "مجھ سے دعا مانگو تو میں قبول کروں گا ۔ وہ لوگ جو غرور کی بنا پر میری عبادت سے منہ موڑ لیتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہوکر جہنم میں داخل ہوں گے"۔
چنانچہ تو نے دعا کا نام عبادت رکھا اور اس کے ترک کو غرور سے تعبیر کیا اور اس کے ترک پر جہنم میں ذلیل ہوکر داخل ہونے سے ڈرایا ۔ اس لیے انہوں نے تیری نعمتوں کی وجہ سے تجھے یاد کیا، تیرے فضل و کرم کی بنا پر تیرا شکریہ ادا کیا اور تیرے حکم سے تجھے پکارا اور (نعمتوں میں) طلب افزائش کے لیے تیری راہ میں صدقہ دیا اور تیری یہ رہنمائی ہی ان کے لیے تیرے غضب سے بچاؤ اور تیری خوشنودی تک رسائی کی صورت تھی او رجن باتوں کی تو نے اپنی جانب سے اپنے بندوں کی رہنمائی کی ہے، اگر کوئی مخلوق اپنی طرف سے دوسرے مخلوق کی ایسی ہی چیزوں کی طرف رہنمائی کرتا تو وہ قابل تحسین ہوتا، تو پھر تیرے ہی لیے حمد و ستائش ہے۔ جب تک تیری حمد کے لیے راہ پیدا ہوتی رہے اور جب تک حمد کے وہ الفاظ جن سے تیری تحمید کی جاسکے اور حمد کے وہ معنی جو تیری حمد کی طرف پلٹ سکیں باقی رہیں۔
اے وہ جو اپنے فضل و احسان سے بندوں کی حمد کا سزاوار ہوا ہے اور انہیں اپنی نعمت و بخشش سے ڈھانپ لیا ہے ، ہم پر تیری نعمتیں کتنی آشکارا ہیں اور تیرا انعام کتنا فراواں ہے اور کس قدر ہم تیرے انعام و احسان سے مخصوص ہیں ۔ تو نے اس دین کی جسے منتخب فرمایا اور اس طریقہ کی جسے پسند فرمایا اور اس راستہ کی جسے آسان کر دیا ہمیں ہدایت کی اور اپنے ہاں قرب حاصل کرنے اور عزت و بزرگی تک پہنچنے کے لیے بصیرت دی۔
بارالٰہا ! تو نے ان منتخب فرائض اور مخصوص واجبات میں سے ماہ رمضان کو قرار دیا ہے جسے تو نے تمام مہینوں میں امتیاز بخشا اور تمام وقتوں اور زمانوں میں اسے منتخب فرمایا ہے اور اس میں قرآن اور نور کو نازل فرما کر اور ایمان کو فروغ و ترقی بخش کر اسے سال کے تمام اوقات پر فضیلت دی اور اس میں روزے واجب کئے اور نمازوں کی ترغیب دی اور اس میں شب قدر کو بزرگی بخشی جو خود ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پھر اس مہینہ کی وجہ سے تو نے ہمیں تمام امتوں پر ترجیح دی اور دوسری امتوں کے بجائے ہمیں اس کی فضیلت کے باعث منتخب کیا۔ چنانچہ ہم نے تیرے حکم سے اس کے دنوں میں روزے رکھے اور تیری مدد سے اس کی راتیں عبادت میں بسر کیں۔ اس حالت میں کہ ہم اس روزہ نماز کے ذریعہ تیری اس رحمت کے خواستگار تھے جس کا دامن تو نے ہمارے لیے پھیلایا ہے اور اسے تیرے اجر و ثواب کا وسیلہ قرار دیا اور تو ہر چیز کے عطا کرنے پر قادر ہے جس کی تجھ سے خواہش کی جائے اور ہر اس چیز کا بخشنے والاہے جس کا تیرے فضل سے سوال کیا جائے تو ہر اس شخص سے قریب ہے جو تجھ سے قرب حاصل کرنا چاہے۔
اس مہینہ نے ہمارے درمیان قابل ستائش دن گزارے اور اچھی طرح حق رفاقت ادا کیا اور دنیا جہان کے بہترین فائدوں سے ہمیں مالا مال کیا ۔ پھر جب اس کا زمانہ ختم ہوگیا، مدت بیت گئی اور کتنی تمام ہوگئی تو وہ ہم سے جدا ہوگیا۔ اب ہم اسے رخصت کرتے ہیں اس شخص کے رخصت کرنے کی طرح جس کی جدائی ہم پر شاق ہو اور جس کا جانا ہمارے لیے غم افزا اور وحشت انگیز ہو اور جس کے عہد وپیمان کی نگہداشت عزت و حرمت کا پاس اور اس کے واجب الا دا حق سے سبکدوشی ازبس ضروری ہو۔ اس لیے ہم کہتے ہیں:
اے اللہ کے بزرگ ترین مہینے ، تجھ پر سلام ۔ اے دوستان خدا کی عید تجھ پر سلام۔
اے اوقات میں بہترین رفیق اور دنوں اور ساعتوں میں بہترین مہینے تجھ پر سلام۔
اے وہ مہینے جس میں امیدیں بر آتی ہیں اور اعمال کی فروانی ہوتی ہے۔ تجھ پر سلام۔
تجھ پر سلام اے وہ ہم نشین کہ جو موجود ہو تو اس کی بڑی قدرو منزلت ہوتی ہے اور نہ ہونے پر بڑا دکھ ہوتا ہے اور اے وہ سر چشمہ امید و رجا جس کی جدائی الم انگیز ہے۔
تجھ پر سلام اے وہ ہمدم جو انس و دل بستگی کا سامان لیے ہوئے آیا تو شادمانی کا سبب ہوا اور واپس گیا تو وحشت بڑھا کر غمگین بنا گیا ۔
تجھ پر سلام۔ اے وہ ہمسائے جس کی ہمسائیگی میں دل نرم اور گناہ کم ہوگئے۔
تجھ پر سلام ۔ اے وہ مددگار جس نے شیطان کے مقابلہ مدد و اعانت کی، اے وہ ساتھی جس نے حسن عمل کی راہیں ہموار کیں۔
تجھ پر سلام ۔ ( اے ماہ رمضان ) تجھ میں اللہ تعالیٰ کے آزاد کئے ہوئے بندے کس قدر زیادہ ہیں اور جنہوں نے تیری حرمت و عزت کا پاس و لحاظ رکھا وہ کتنے خوش نصیب ہیں ۔
تجھ پر سلام تو کس قدر گناہوں کو محو کرنے والا اور قسم قسم کے عیبوں کو چھپانے والا ہے۔
تجھ پر سلام۔ تو گنہگاروں کے لیے کتنا طویل اور مومنوں کے دلوں میں کتنا پرہیبت ہے۔
تجھ پر سلام۔ اے وہ مہینے جس سے دوسرے ایّام ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔
تجھ پر سلام۔ اے وہ مہینے جو ہر امر سے سلامتی کا باعث ہے۔
تجھ پر سلام۔ اے وہ جس کی ہم نشینی بار خاطر اور معاشرت ناگوار نہیں۔
تجھ پر سلام۔ جب کہ تو برکتوں کے ساتھ ہمارے پاس آیا اور گناہوں کی آلودگیوں کو دھو دیا۔
تجھ پر سلام ۔ اے وہ جسے دل تنگی کی وجہ سے رخصت نہیں کیاگیا اور نہ خستگی کی وجہ سے اس کے روزے چھوڑے گئے۔
تجھ پر سلام۔ اے وہ کہ جس کے آنے کی پہلے سے خواہش تھی اور جس کے ختم ہونے سے قبل ہی دل رنجیدہ ہیں۔
تجھ پر سلام۔ تیری وجہ سے کتنی برائیاں ہم سے دور ہوگئیں اور کتنی بھلائیوں کے سرچشمے ہمارے لیے جاری ہوگئے۔
تجھ پر سلام ( اے ماہِ رمضان ) اور اس شب قدر پر جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
سلام ہو۔ ابھی کل ہم کتنے تجھ پروار فتہ تھے اور آنے والے کل میں ہمارے شوق کی کتنی فراوانی ہوگی ۔
تجھ پر سلام ( اے ماہِ مبارک تجھ پر) اور تیری ان فضیلتوں پر جن سے ہم محروم ہوگئے اور تیری گزشتہ برکتوں پرجو ہمارے ہاتھ سے جاتی رہیں۔
سلام ہو اے اللہ! ہم اس مہینہ سے مخصوص ہیں جس کی وجہ سے تو نے ہمیں شرف بخشا اور اپنے لطف و احسان سے اس کی حق شناسی کی تو فیق دی جب کہ بدنصیب لوگ اس کے وقت (کی قدرومنزلت) سے بے خبر تھے اور اپنی بدبختی کی وجہ سے اس کے فضل سے محروم رہ گئے اور تو ہی ولی و صاحب اختیار ہے کہ ہمیں اس کی حق شناسی کے لیے منتخب کیا اور اس کے احکام کی ہدایت فرمائی۔ بیشک تیری توفیق سے ہم نے اس ماہ میں روزے رکھے، عبادت کے لیے قیام کیا ۔ مگر کمی و کوتاہی کے ساتھ اور مشتے از خروار سے زیادہ نہ بجالاسکے ۔
اے اللہ ! ہم اپنی بداعمالی کا اقرار اور سہل انگاری کا اعتراف کرتے ہوئے تیری حمد کرتے ہیں اور اب تیرے لیے کچھ ہے تو وہ ہمارے دلوں کی واقعی شرمساری اور ہماری زبانوں کی سچی معذرت ہے۔ لہذا اس کمی و کوتاہی کے باوجود جو ہم سے ہوئی ہے ہمیں ایسا اجر عطا کر کہ اس کے ذریعہ دلخواہ فضیلت و سعادت کو پاسکیں او رطرح طرح کے اجر و ثواب کے ذخیرے جن کے ہم آرزومند تھے اس کے عوض حاصل کر سکیں اور ہم نے تیرے حق میں جو کمی و کوتاہی کی ہے، اس میں ہمارے عذر کو قبو ل فرما اور ہماری عمر آیندہ کا رشتہ آنے والے ماہِ رمضان سے جوڑ دے اور جب اس تک پہنچا دے تو جو عبادت تیرے شایان شان ہو اس کے بجالانے پر ہماری اعانت فرمانا اور اس اطاعت پر جس کا وہ مہینہ سزاوار ہے عمل پیرا ہونے کی توفیق دینا اور ہمارے لیے ایسے نیک اعمال کا سلسلہ جاری رکھنا کہ جو زمانہ زیست کے مہینوں میں ایک کے بعد دوسرے ماہ، ماہِ رمضان میں تیری حق ادائیگی کا باعث ہوں۔
اے اللہ! ہم نے اس مہینہ میں جو صغیرہ یا کبیرہ معصیت کی ہو ، یا کسی گناہ سے آلودہ اور کسی خطا کے مرتکب ہوئے ہوں جان بوجھ کر یا بھولے چوکے ، خود اپنے نفس پر ظلم کیا ہو یا دوسرے کا دامن حرمت چاک کیا ہو ۔ تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اپنے پردہ میں ڈھانپ لے اور اپنے عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے معاف کر دے اور ایسا نہ ہو کہ اس گناہ کی وجہ سے طنز کرنے والوں کی آنکھیں ہمیں گھوریں اور طعنہ زنی کرنے والوں کی زبانیں ہم پر کھلیں اور اپنی شفقت بے پایاں اور مرحمت روز افزوں سے ہمیں ان اعمال پر کار بند کر کہ جو ان چیزوں کو برطرف کریں اور ان باتوں کی تلافی کریں جنہیں تو اس ماہ میں ہمارے لیے ناپسند کرتا ہے۔
اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور اس مہینہ کے رخصت ہونے سے جو قلق ہمیں ہوا ہے اس کا چارہ کر اور عید اور روزہ چھوڑنے کے دن کو ہمارے لیے مبارک قرار دے اور اسے ہمارے گزرے ہوئے دنوں میں بہترین دن قرار دے جو عفو و درگزر کو سمیٹنے والا اور گناہوں کو محو کرنے والا ہو اور تو ہمارے ظاہر و پوشیدہ گناہوں کو بخش دے ۔
بارالٰہا! اس مہینہ کے الگ ہونے کے ساتھ تو ہمیں گناہوں سے الگ کر دے اور اس کے نکلنے کے ساتھ تو ہمیں برائیوں سے نکال لے اور اس مہینہ کی بدولت اس کو آباد کرنے والوں میں ہمیں سب سے بڑھ کر خوش بخت ، بانصیب اور بہرمند قرار دے ۔
اے اللہ!جس کسی نے جیسا چاہیے اس مہینے کا پاس و لحاظ کیا ہو اور کماحقہ اس کا احترام ملحوظ رکھا ہو اور اس کے احکام پر پوری طرح عمل پیرا رہا ہو اور گناہوں سے جس طرح بچنا چاہیے اس طرح بچا ہو یا بہ نیت تقریب ایسا عمل خیر بجالایا ہو جس نے تیری خوشنودی اس کے لیے ضروری قرار دی ہو اور تیری رحمت کو اس کی طرف متوجہ کر دیا ہو تو جو اسے بخشے ویسا ہی ہمیں بھی اپنی دولت بے پایاں میں سے بخش اور اپنے فضل و کرم سے اس سے بھی کئی گنازائد عطا کر ۔ اس لیے کہ تیرے فضل کے سوتے خشک نہیں ہوتے اور تیرے خزانے کم ہونے میں نہیں آتے بلکہ بڑھتے ہی جاتے ہیں اور نہ تیرے احسانات کی کانیں فنا ہوتی ہیں اور تیری بخشش و عطا تو ہر لحاظ سے خوشگوار بخشش و عطا ہے۔
اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور جو لوگ روز قیامت تک اس ماہ کے روزے رکھیں یا تیری عبادت کریں ان کے اجر و ثواب کے مانند ہمار ے لیے اجر و ثواب ثبت فرما۔
اے اللہ ! ہم اس روز فطر میں جسے تو نے اہل ایمان کے لئے عید و مسرت کا روز اور اہل اسلام کے لیے اجتماع و تعاون کا دن قرار دیا ہے، ہر اس گناہ سے جس کے ہم مرتکب ہوئے ہوں اور ہر اس برائی سے جسے پہلے کرچکے ہوں اور ہر بری نیت سے جسے دل میں لیے ہوئے ہوں اس شخص کی طرح توبہ کرتے ہیں جو گناہ کی طرف دوبارہ پلٹنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو اور نہ توبہ کے بعد خطا کا مرتکب ہوتا ہو۔ ایسی سچی توبہ جو ہر شک و شبہ سے پاک ہو ۔ تو اب ہماری توبہ کو قبول فرما، ہم سے راضی و خوشنود ہوجا اور ہمیں اس پر ثابت قدم رکھ ۔
اے اللہ! گناہوں کی سزا کا خوف اور جس ثواب کا تو نے وعدہ کیا ہے اس کا شوق ہمیں نصیب فرما تاکہ جس ثواب کے تجھ سے خواہش مند ہیں اس کی لذّت اور جس عذاب سے پناہ مانگ رہے ہیں اس کی تکلیف و اذیت پوری طرح جان سکیں اور ہمیں اپنے نزدیک ان توبہ گزاروں میں سے قرار دے ، جن کے لیے توُ نے اپنی محبت کو لازم کردیا ہے اور جن سے فرمانبرداری و اطاعت کی طرف رجوع ہونے کو تو نے قبول فرمایا ہے، اے عدل کرنے والوں میں سب سے زیادہ عدل کرنے والے ۔
اے اللہ ! ہمارے ماں باپ اور ہمارے تمام اہل مذہب و ملت خواہ وہ گزرچکے ہوں یا قیامت کے دن تک آیندہ آنے والے ہوں، سب سے در گزر فرما۔
اے اللہ ! ہمارے نبی محمد اور ان کی آل پر ایسی رحمت ناز ل فرما جیسی رحمت تو نے اپنے مقرب فرشتوں پر کی ہے اور ان پر اور ان کی آل پر ایسی رحمت نازل فرما جیسی تو نے اپنے فرستادہ نبیوں پر نازل فرمائی ہے اور ان پر اور ان کی آل پر ایسی رحمت نازل فرما جیسی تو نے اپنے نیکو کار بندوں پر نازل کی ہے۔ ( بلکہ ) اس سے بہتر و برتر۔ اے تمام جہان کے پروردگار ایسی رحمت جس کی برکت ہم تک پہنچے ، جس کی منفعت ہمیں حاصل ہو اور جس کی وجہ سے ہماری دعائیں قبول ہوں ۔ اس لیے کہ تو ان لوگوں سے جن پر بھروسا کیا جاتا ہے، زیادہ بے نیاز کرنے والا ہے اور ان لوگوں سے جن کے فضل کی بنا پر سوال کیا جاتا ہے ، زیادہ عطا کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر و توانا ہے۔
8: نیز سید ابن طائوس نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: جو شخص ماہ رمضان کی آخری رات کو الوداع کرے تو یہ کہے:
اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلْہُ آخِرَ الْعَھْدِ من صِیامِی لِشَھْرِ رَمَضانَ، وَٲَعُوذُ بِکَ ٲَنْ یَطْلُعَ فَجْرُ ہَذِھِ اللَّیْلَۃِ إلاَّ وَقَدْ غَفَرْتَ لی
اے اﷲ! رمضان کے اس مہینے کے روزے میرے لیے آخری روزے قرار نہ دے اور میں پناہ مانگتا ہوں تیری اس سے کہ اس رات
کی صبح ہو جائے لیکن تو نے مجھے بخش دیا ہو۔
9: - سید ابن طائوس (رح) وشیخ کفعمی (رح) نے رسول ﷲ ص سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: ماہ رمضان کی آخری رات دس رکعت نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد دس، دس مرتبہ سورئہ توحید یعنی قل ھو اللہ پڑھے اور رکوع وسجود میں دس دس مرتبہ یہ کہے:
سُبْحَانَ اﷲِ وَ الْحَمْدُ ﷲِ وَ لَا اِلَہَ اِلَّا اﷲ وَ اﷲ اَکْبَرُ
پاک تر ہے خدا کہ حمد اسی کے لئے ہے اور نہیں کوئی معبود مگر اﷲ بزرگ تر ہے۔
10: نیز ہر دو رکعت کے بعد تشہد و سلام پڑھے اور یہ دس رکعت نماز ختم کرکے ہزار مرتبہ استغفار کرے پھر سجدہ میں جائے اور کہے :
یَا حَیُّ یَا قَیُّومُ، یَا ذَا الجَلالِ وَالاِِکرامِ، یَارَحْمانَ الدُّنیا وَالآخِرَۃِ وَرَحِیمَھُما
اے زندہ، اے نگہبان ،اے جلالت اور بزرگی کے مالک ،اے دنیا وآخرت میں رحم کرنے والے اور ان دونوں میں مہربان
یَا ٲَرْحَمَ الرَّاحِمِینَ، یَا إلہَ الاََوَّلِینَ وَالآخِرِینَ، اغْفِرْ لَنا ذُنُوبَنا، وَتَقَبَّلْ مِنَّا صَلاتَنا
اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے اے اولین و آخرین کے معبود ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری نمازیں ہمارے روزے
وَصِیامَناوَقِیامَنا۔
اور ہماری عبادتیں قبول فرما
- آنحضرت (ص) نے مزید فرمایا:مجھے اس ذات کے حق کی قسم کہ جس نے مجھے شرف نبوت سے نوازا ہے کہ جبرائیل نے مجھے خبر دی ہے اسرفیل کے ذریعہ اور اسرافیل نے خدا وند عالم سے لیا ہے وہ شخص ابھی سر سجدے سے نہیں اٹھائے گا کہ اس کے ماہ رمضان میں بجالائے ہوئے اعمال قبول کر لیے جائیں گے او ر اس کے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔
نوٹ: یہ نماز شب عیدالفطر میں بھی پڑھی جاسکتی ہے لیکن اس روایت کے مطابق رکوع وسجود کے اذکار کی بجائے تسبیحات اربعہ پڑھے اور نماز سے فراغت کے بعد سجدہ میں جاکر جب مذکورہ بالا دعا پڑھے تو
اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا سے وَقِیامَنَا
تک کی بجائے یہ کہے:
اغْفِرْ لِی ذُنُوبِی، وتَقَبَّلْ صَوْمِی وَصَلاتِی وَقِیامِی
میرے گناہ بخش دے اور میرا روزہ، میری نماز اور میری عبادت قبول فرما
تیسویں رمضان کا دن
سید نے ماہ رمضان کے آخری دن میں پڑھنے کیلئے ایک دعا نقل کی ہے۔ جسکا پہلا جملہ یہ ہے:
اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ اَرْحْمُ الرَّاحِمِیْنَ
اے معبود! بے شک تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
عمومًا لوگ اس دن رمضان مبارک میں شروع کیا ہوا قرآن مجید ختم کرتے ہیں۔
پس ختم قرآن کے بعد ان کیلئے صحیفہ کاملہ کی بیالیسویں دعا کا پڑھنا بہتر ہے اور اگر کوئی شخص اسکی بجائے مختصر دعا پڑھنا چاہے تو وہ یہ دعا پڑھے جو شیخ نے حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے نقل کی ہے:
اَللّٰھُمَّ اشْرَحْ بِالْقُرْآنِ صَدْرِی وَاسْتَعْمِلْ بِالْقُرْآنِ بَدَنِی، وَنَوِّرْ بِالْقُرْآنِ بَصَرِی،
اے معبود ! میرے سینے کو قرآن کے ذریعے کشادہ کر دے، میرے بدن کو قرآن پر عمل پیرا بنا دے، میری آنکھوں کوقرآن سے روشن کر دے
وَٲَطْلِقْ بِالْقُرْآنِ لِسانِی، وَٲَعِنِّی عَلَیْہِ مَا ٲَبْقَیْتَنِی فَ إنَّہُ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ إلاَّ بِکَ ۔
اور میری زبان کو قرآن کیلئے رواں کر دے اور جب تک مجھے زندہ رکھے اس میں میرا مددگار رہ کہ نہیں کوئی حرکت وقوت مگر جو تیری طرف سے ہے
نیز یہ دعا پڑھے جو امیرالمؤمنین سے منقول ہے: اَللّٰھُمَّ إنِّی ٲَسْٲَلُکَ إخْباتَ الْمُخْبِتِینَ وَ
اے معبود! میں تجھ سے دل لگانیوالوں کی توجہ مانگتا ہوں اور یقین رکھنے والوں کا
إخْلاصَ الْمُوقِنِینَ، وَمُرافَقَۃَ الْاَ بْرارِ، وَاسْتِحْقاقَ حَقائِقِ الْاِیمانِ، وَالْغَنِیمَۃَ مِنْ
خلوص، نیکوکاروں کی ہمراہی، کا سئوال کرتا ہوں اور ایمان کی حقیقتوں تک رسائی، ہر نیکی میں اپنی حصے داری اور ہر گناہ سے بچے رہنے
کُلِّ بِرٍّ، وَالسَّلامَۃَ مِنْ کُلِّ إثْمٍ، وَوُجُوبَ رَحْمَتِکَ، وَعَزائِمَ مَغْفِرَتِکَ، وَالْفَوْزَ
کی صلاحیت کا خواہاں ہوں نیز اپنے لیے تیری رحمت کے لازمی ہونے، تیری طرف سے اپنی بخشش کے یقینی ہونے، جنت میں
بِالْجَنَّۃِ، وَالنَّجاۃَ مِنَ النّارِ
داخل ہونے اور جہنم سے رہائی کا سوال کرتا ہوں۔
التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
شہر بانو ✍
Comments
Post a Comment