👈تئیسویں رمضان کی رات کے اعمال: (1)
بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ
تئیسویں رمضان کی رات کے اعمال:
1: جوشن کبیر۔
2: زیارت عاشورہ۔
3: اس رات سورہ عنکبوت، سورہ روم، سورہ حم دخان پڑ ھے۔
4: صحیفہ کاملہ کی 3 د عا ہیں 23 ر مضان کو پڑ ھے ۔👇
*(42 31.20)*
5: دعائے سلامتی امام زمانہ ع بار بار پڑھے
6: ہزار مرتبہ سورہ قدر پڑھے۔
7: دو رکعت نماز سورہ الحمد کے بعد سو مرتبہ سورہ توحید.
8: سو رکعت نماز دو دو کر کے الحمد کے بعد دس مرتبہ سورہ توحید۔
🧎🏻♂️📿یہ نماز کھڑے ہونے کی طاقت نہ ہو
تو بیٹھ کر پھڑ لو
اگر بیٹھ کر نہ پڑھ سکو تو پشت کے بل لیٹ کر پڑھ لو 9: غسل(غروب آفتاب کے نزدیک)
10: اول شب میں کئے ہوۓ غسل کے علاوہ آخری شب پھر غسل کر ے۔
11: شب بیداری۔
12: قرآن والا عمل۔
13: اس رات سورہ عنکبوت، سورہ روم، سورہ حم دخان کی تلاوت کرے۔
🌱ایک ہزار مرتبہ سورہ القدر پڑھے ۔
🌱اس رات میں بار بار دعائے امام زماں ع پڑھے
🧎🏻♂️رمضان کی تیئیسویں رات کی نماز۔
یہ آٹھ رکعت نماز ھےہر رکعت میں الحمد بعد جو سورہ چاہے پڑھے۔
📚کتاب مفاتیح الجنان
🤲🏻*یارب الحسین بحق الحسین اشفی صدرالحسین بظہور الحجہ ۔
اللھم عجل لولیک الفرج 🤲🏻🌹
نوٹ کچھ دعائیں درج ذیل
صحیفہ کاملہ دعا نمبر 20
اللہ سبحانہ و تعالی سے اخلاقیات کے کمالات کا سوال
امام زین العابدین علیہ السلام نے مخصوص حالات میں تعلیمات قرآن و اہلبیت علیہ السّلام کو پھیلانے کیلئے جہاں عزاداری کے پلیٹ فارم سے استفادہ کیا وہیں دعا کے پیرائے میں، اللہ سے رابطہ،خداوند عالم کی معرفت، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور اللہ کے نزدیک اہل بیتؑ کی عظمت اور مقام ،تفسیر قرآن کریم اور انسانی اخلاقیات کو کمال تک پہنچانے کے لئے تعلیمات کا سلسلہ دعاؤں کے ذریعے اپنایا۔
صحیفہ کاملہ کی ایک ایک دعا تعلیمات محمد و آل محمدؐ کا ایک پورا باب ہے ، صحیفہ سجادیہ کی ان 54دعاؤں میں دعا نمبر 20 جو دعائے مکارم اخلاق کے عنوان سے ہے ایک نہایت ہی جامع دعا ہے اس مختصر دعا میں اخلاقیات کا ایک وسیع باب موجود ہے علامہ علی نقی صاحب فرماتے ہیں اگر اس کتاب کی فہرست میں اس دعا کی فہرست کو دیکھا جائے تو یہ کسی کتاب کی فہرست لگتی ہے اس میں امام علیہ السلام نے مختصر اورجامع الفاظ میں وہ اخلاقیات جو ایک انسان اپنانے ہیں ان کا اللہ سے سوال کیا اور برے اخلاقیات جن سے دور رہنا ہے ان سے نجات کا سوال کیا ۔
پھر اس دعا میں خصوصیت کے ساتھ امام علیہ الصلوۃ والسلام نے اہل بیت کے وسیلہ اور عظمت اہل بیت کو بتلانے کے لئے 20 دفعہ صلوات کا تکرار کیا۔
صحیفہ کاملہ کی دعا نمبر 20 جو (دعائے مکارم الاخلاق) کے عنوان سے درج ہے، انسانی زندگی کا ایک مکمل دستور العمل و اعلی اسلامی و انسانی اخلاق کا جامع ترین مجموعہ ہے جس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ اللہ والے اللہ سے کیا مانگتے ہیں اور کیسے مانگتے ہیں۔
20 ۔ پاکیزہ اخلاق سے آراستگی کی دعا
صحیفہ کاملہ کی ایک ایک دعا تعلیمات محمد و آل محمدؐ کا ایک پورا باب ہے ، صحیفہ سجادیہ کی ان 54دعاؤں میں دعا نمبر 20 جو دعائے مکارم اخلاق کے عنوان سے ہے ایک نہایت ہی جامع دعا ہے اس مختصر دعا میں اخلاقیات کا ایک وسیع باب موجود ہے علامہ علی نقی صاحب فرماتے ہیں اگر اس کتاب کی فہرست میں اس دعا کی فہرست کو دیکھا جائے تو یہ کسی کتاب کی فہرست لگتی ہے اس میں امام علیہ السلام نے مختصر اورجامع الفاظ میں وہ اخلاقیات جو ایک انسان اپنانے ہیں ان کا اللہ سے سوال کیا اور برے اخلاقیات جن سے دور رہنا ہے ان سے نجات کا سوال کیا ۔
پھر اس دعا میں خصوصیت کے ساتھ امام علیہ الصلوۃ والسلام نے اہل بیت کے وسیلہ اور عظمت اہل بیت کو بتلانے کے لئے 20 دفعہ صلوات کا تکرار کیا۔
صحیفہ کاملہ کی دعا نمبر 20 جو (دعائے مکارم الاخلاق) کے عنوان سے درج ہے، انسانی زندگی کا ایک مکمل دستور العمل و اعلی اسلامی و انسانی اخلاق کا جامع ترین مجموعہ ہے جس سے یہ اندازہ بھی ہوتا ہے کہ اللہ والے اللہ سے کیا مانگتے ہیں اور کیسے مانگتے ہیں۔
20 ۔ پاکیزہ اخلاق سے آراستگی کی دعا
حضرت امام علی نے فرمایا، باطل کے ذریعہ کام لینے والا ،عذاب اور ملامت دونوں سے دوچار ہوگا۔ غررالحکم حدیث1035
بِیسویں دعا
20۔ پاکیزہ اخلاق سے آراستگی کی دعا
بارِالٰہا! محمداور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور میرے ایمان کو کامل ترین ایمان کی حد تک پہنچا دے اور میرے یقین کو بہترین یقین قرار دے اور میری نیت کو پسندیدہ ترین نیت اور میرے اعمال کو بہترین اعمال کے پایہ تک بلند کر دے۔
خداوندا! اپنے لطف سے میری نیت کو خالص و بے ریااور اپنی رحمت سے میرے یقین کو استوار اور اپنی قدرت سے میری خرابیوں کی اصلاح کر دے۔
بارِالٰہا! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے ان مصروفیتوں سے جو عبادت میں مانع ہیں بے نیاز کر دے اور انہی چیزوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے جن کے بارے میں مجھ سے کل کے دن سوال کرے گا اور میرے ایام زندگی کو غرض خلقت کی انجام دہی کے لیے مخصوص کر دے اور مجھے (دوسروں سے ) بے نیاز کر دے اور میرے رزق میں کشائش و وسعت عطا فرما۔ احتیاج و دست نگری میں مبتلا نہ کر۔ عزت و توقیر دے، کبر و غرور سے دو چار نہ ہونے دے۔ میرے نفس کو بندگی و عبادت کے لیے رام کر اور خودپسندی سے میری عبادت کو فاسد نہ ہونے دے اور میرے ہاتھوں سے لوگوں کو فیض پہنچا اور اسے احسان جتانے سے رائیگاں نہ ہونے دے۔ مجھے بلند پایہ اخلاق مرحمت فرما اور غرور اور تفاخر سے محفوظ رکھ۔
بارالٰہا!محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور لوگو ں میں میرا درجہ جتنا بلند کرے اتنا ہی مجھے خود اپنی نظروں میں پست کر دے اور جتنی ظاہری عزت مجھے دے اتنا ہی میرے نفس میں باطنی بے وقعتی کا احساس پیدا کر دے۔
بارِالٰہا! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے ایسی نیک ہدایت سے بہرہ مند فرما کہ جسے دوسری چیزسے تبدیل نہ کروں اور ایسے صحیح راستہ پر لگا جس سے کبھی منہ نہ موڑوں اور ایسی پختہ نیت دے جس میں ذرا شبہ نہ کروں اور جب تک میری زندگی تیری اطاعت و فرمانبرداری کے کام آئے مجھے زندہ رکھ اور جب وہ شیطان کی چراگاہ بن جائے تو اس سے پہلے کہ تیری ناراضگی سے سابقہ پڑے یا تیرا غضب مجھ پر یقینی ہوجائے، مجھے اپنی طرف اٹھا لے۔
اے معبود! کوئی ایسی خصلت جو میرے لیے معیوب سمجھی جاتی ہو اس کی اصلاح کئے بغیر نہ چھوڑ اور کوئی ایسی بری عادت جس پر میری سرزنش کی جا سکے، اسے درست کئے بغیر نہ رہنے دے اور جو پاکیزہ خصلت ابھی مجھ میں ناتمام ہو، اسے تکمیل تک پہنچا دے ۔
اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور میری نسبت کینہ توز دشمنوں کی دشمنی کو الفت سے، سرکشوں کے حسد کو محبت سے، نیکوں سے بے اعتمادی کو اعتماد سے، قریبیوں کی عداوت کو دوستی سے، عزیزوں کی قطع تعلقی کو صلہ رحمی سے، قرابتداروں کی بے اعتنائی کو نصرت و تعاون سے، خوشامدیوں کی ظاہری محبت کو سچی محبت سے اور ساتھیوں کے اہانت آمیز برتاؤ کو حسن معاشرت سے اور ظالموں کے خوف کی تلخی کو امن کی شیرینی سے بدل دے ۔
خداوندا! رحمت ناز ل فرما محمد اور ان کی آل پر اور جو مجھ پر ظلم کرے اس پر مجھے غلبہ دے۔ جو مجھ سے جھگڑا کرے اس کے مقابلہ میں زبان ( حجت شکن ) دے۔ جو مجھ سے دشمنی کرے اس پر مجھے فتح و کامرانی بخش۔ جو مجھ سے مکر کرے اس کے مکر کا توڑ عطا کر۔ جو مجھے دبائے اس پر قابو دے۔ جو میری بدگوئی کرے اسے جھٹلانے کی طاقت دے اور جو ڈرائے دھمکائے، اس سے مجھے محفوظ رکھ ۔ جو میری اصلاح کرے اس کی اطاعت اور جو راہ راست دکھائے اس کی پیروی کی توفیق فرما۔
اے اللہ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے اس امر کی توفیق دے کہ جو مجھ سے غش و فریب کرے میں اس کی خیر خواہی کروں، جو مجھے چھوڑ دے اس سے حسن سلوک سے پیش آؤں، جو مجھے محروم کرے اسے عطا و بخشش کے ساتھ عوض دوں اور جو قطع رحمی کرے اسے صلہ رحمی کے ساتھ بدلہ دوں اور جو پس پشت میری برائی کرے میں اس کے بر خلاف اس کا ذکر خیر کروں اور حسن سلوک پر شکریہ بجالاؤں اور بدی سے چشم پوشی کروں۔
بارالٰہا! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور عدل کے نشر، غصہ کے ضبط اور فتنہ کے فروکرنے، متفرق و پراگندہ لوگوں کو ملانے، آپس میں صلح صفائی کرانے، نیکی کے ظاہر کرنے، عیب پر پردہ ڈالنے ، نرم خوئی و فروتنی اور حسن سیرت کے اختیار کرنے، رکھ رکھاؤ رکھنے، حسن اخلاق سے پیش آنے، فضیلت کی طرف پیش قدمی کرنے، تفصیل واحسان کو ترجیح دینے، خوردہ گیری سے کنارہ کرنے اور غیر مستحق کے ساتھ حسن سلوک کے ترک کرنے اور حق بات کے کہنے میں اگرچہ وہ گراں گزرے اور اپنی گفتار و کردار کی بھلائی کو کم سمجھنے میں اگرچہ وہ زیادہ ہو اور اپنے قول وعمل کی برائی کو زیادہ سمجھنے میں اگرچہ وہ کم ہو،مجھے نیکوکاروں کے زیور اور پرہیزگاروں کی سج دھج سے آراستہ کر اور ان تمام چیزوں کو دائمی اطاعت اور جماعت سے وابستگی اور اہل بدعت اور ایجاد کردہ رایوں پر عمل کرنے والوں سے علیحدگی کے ذریعہ پایۂ تکمیل تک پہنچائے۔
بارِالٰہا! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور جب میں بوڑھا ہوجاؤں تو اپنی وسیع روزی میرے لیے قرار دے اور جب عاجز و درماندہ ہوجاؤں تو اپنی قوی طاقت سے مجھے سہارا دے اور مجھے اس بات میں مبتلا نہ کر کہ تیری عبادت میںسستی و کوتاہی کروں،تیری راہ کی تشخیص میں بھٹک جاؤں، تیری محبت کے تقاضوں کی خلاف ورزی کروں اور جو تجھ سے متفرق و پراگندہ ہوںان سے میل جول رکھوں اور جو تیری جانب بڑھنے والے ہیں ان سے علیحدہ رہوں۔
خداوندا ! مجھے ایسا قرار دے کہ ضرورت کے وقت تیرے ذریعہ حملہ کروں، حاجت کے وقت تجھ سے سوال کروںاور فقرو احتیاج کے موقع پر تیرے سامنے گڑگڑاؤں اور اس طرح مجھے نہ آزمانا کہ اضطرار میں تیرے غیر سے مدد مانگوں اور فقر و ناداری کے وقت تیرے غیر کے آگے عاجزانہ درخواست کروں اور خوف کے موقع پر تیرے سوا کسی دوسرے کے سامنے گڑگڑاؤں کہ تیری طرف سے محرومی، ناکامی اور بے اعتنائی کا مستحق قرار پاؤں۔ اے تمام رحم کرنے والوں میں سے سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
خدایا! جو حرص، بدگمانی اور حسد کے جذبات شیطان میرے دل میں پیدا کرے انہیں اپنی عظمت کی یاد، اپنی قدرت میں تفکر اور دشمن کے مقابلہ میں تدبیر و چارہ سازی کے تصورات سے بدل دے اور فحش کلامی یا بیہودہ گوئی، یا دشنام طرازی یا جھوٹی گواہی یا غائب مومن کی غیبت یا موجود سے بد زبانی اور اس قبیل کی جو باتیں میری زبان پر لانا چاہے،انہیںاپنی حمد سرائی، مدح میں کوشش و انہماک، تمجید و بزرگی کے بیان، شکر نعمت و اعتراف احسان اور اپنی نعمتوں کے شمار سے تبدیل کر دے۔
اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھ پر ظلم نہ ہونے پائے جب کہ تو اس کے دفع کرنے پر قادر ہے اور کسی پر ظلم نہ کروں جب کہ تو مجھے ظلم سے روک دینے کی طاقت رکھتا ہے اور گمراہ نہ ہو جاؤں جب کے میری رہنمائی تیرے لیے آسان ہے اور محتاج نہ ہوں جبکہ میری فارغ البالی تیری طرف سے ہے اور سرکش نہ ہو جاؤں جب کہ میری خوشحالی تیری جانب سے ہے۔
بارالٰہا ! میں تیری مغفرت کی جانب آیا ہوں اور تیری معافی کا طلب گار اور تیری بخشش کا مشتاق ہوں۔ میں صرف تیرے فضل پر بھروسا رکھتا ہوں اور میرے ؔپاس کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو میرے لیے مغفرت کا باعث بن سکے اور نہ میرے عمل میں کچھ ہے کہ تیرے عفو کا سزاوار قرار پاؤں اور اب اس کے بعد کہ میں خود ہی اپنے خلاف فیصلہ کرچکا ہوں تیرے فضل کے سوا میرا سرمایہ امید کیا ہو سکتا ہے۔ لہذا محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل کر اور مجھ پر تفضل فرما۔
خدایا! مجھے ہدایت کے ساتھ گویا کر، میرے دل میں تقوٰی و پرہیزگاری کا القاء فرما، پاکیزہ عمل کی توفیق دے، پسندیدہ کام میں مشغول رکھ۔
خدایا مجھے بہترین راستہ پر چلا اور ایسا کر کہ تیرے دین و آئین پر مروں اور اسی پر زندہ رہوں ۔
اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے (گفتار و کردار میں) میانہ روی سے بہرہ مند فرما اور درست کاروںاور ہدایت کے رہنماؤں اور نیک بندوں میں سے قرار دے اور آخرت کی کا میابی اور جہنم سے سلامتی عطا کر۔
خدایا! میرے نفس کا ایک حصہ اپنی (ابتلا و آزمائش کے) لیے مخصوص کر دے تاکہ اسے (عذاب سے ) رہائی دلا سکے اور ایک حصہ کہ جس سے اس کی (دنیوی ) اصلاح و درستی وابستہ ہے، میرے لیے رہنے دے کیونکہ میرا نفس تو ہلاک ہونے والا ہے مگر یہ کہ تو اسے بچا لے جائے۔
اے اللہ! اگر میں غمگین ہوں تو میرا ساز و سامان ( تسکین) تو ہے۔ اوراگر ( ہر جگہ سے ) محروم رہوں تو میری امید گاہ تو ہے اور اگر مجھ پر غموں کا ہجوم ہو توتجھ ہی سے دادو فریاد ہے۔ جو چیز جا چکی، اس کا عوض اور جوشے تباہ ہوگئی اس کی درستی اور جسے تو ناپسند کرے اس کی تبدیلی تیرے ہاتھ میںہے۔ لہذا بلا کے نازل ہونے سے پہلے عافیت، مانگنے سے پہلے خوشحالی اور گمراہی سے پہلے ہدایت سے مجھ پر احسان فرما اور لوگوں کی سخت و درشت باتوں کے رنج سے محفوظ رکھ اور قیامت کے دن امن و اطمینان عطا فرما اور حسن ہدایت و ارشاد کی توفیق مرحمت فرما۔
اے اللہ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور اپنے لطف سے (برائیوں کو) مجھ سے دور کر دے اور اپنی نعمت سے میری پرورش اور اپنے کرم سے میری اصلاح فرما اور اپنے فضل و احسان سے (جسمانی و نفسانی امراض سے) میرا مداوا کر۔مجھے اپنی رحمت کے سایہ میں جگہ دے اور اپنی رضامندی میں ڈھانپ لے اورجب امور مشتبہ ہوجائیں تو جو ان میں زیادہ قرین صواب ہو اور جب اعمال میں اشتباہ واقع ہوجائے تو جو ان میں پاکیزہ تر ہو اور جب مذاہب میں اختلاف پڑ جائے تو جو ان میں پسندیدہ تر ہو، اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما۔
اے اللہ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے بے نیازی کا تاج پہنا اور متعلقہ کاموں کو احسن طریق سے انجام دینے پرمامور فرما اور ایسی ہدایت سے سرفراز فرما جو دوام و ثبات لیے ہوئے ہو اور غنا و خوشحالی سے مجھے بے راہ نہ ہونے دے اور آسودگی و آسائش عطا فرما اور زندگی کو سخت دشوار نہ بنا دے۔ میری دعا کو ردنہ کر کیونکہ میں کسی کو تیرا مد مقابل نہیں قرار دیتا اور نہ تیرے ساتھ کسی کو تیرا ہمسر سمجھتے ہوئے پکارتا ہوں۔
اے اللہ! محمد اور ا ن کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے فضول خرچی سے باز رکھ اور میری روزی کو تباہ ہونے سے بچا اور میرے مال میں برکت دے کر اس میں اضافہ کر اور مجھے اس میں سے امور خیر میں خرچ کرنے کی وجہ سے راہ حق و صواب تک پہنچا۔
بارالہا! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے کسب معیشت کے رنج و غم سے بے نیاز کر دے اور بے حساب روزی عطا فرما تاکہ تلاش معاش میں الجھ کر تیری عبادت سے روگرداں نہ ہوجاؤں اور ( غلط و نامشروع) کا ر و کسب کا خمیازہ نہ بھگتوں۔
اے اللہ! میں جو کچھ طلب کرتا ہوں اسے اپنی قدرت سے مہیا کر دے اور جس چیز سے خائف ہوں، اس سے اپنی عزت و جلال کے ذریعہ پناہ دے۔
خدایا! میری آبرو کو غنا و تو نگری کے ساتھ محفوظ رکھ اور فقر و تنگ دستی سے میری منزلت کو نظروں سے نہ گرا کہ تجھ سے رزق پانے والوں سے رزق مانگنے لگوں اور تیرے پست بندوں کی نگاہ لطف و کرم کو اپنی طرف موڑنے کی تمنا کروں اور جو مجھے دے اس کی مدح و ثنا اور جو نہ دے اس کی برائی کرنے میں مبتلا ہوجاؤں اور تو ہی عطا کر نے اور روک لینے کا اختیار رکھتا ہے نہ کہ وہ۔
اے اللہ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اورمجھے ایسی صحت دے جو عبادت میں کام آئے اور ایسی فرصت جو دنیا سے بے تعلقی میں صرف ہو اور ایسا علم جو عمل کے ساتھ ہو اور ایسی پرہیزگاری جو حد اعتدال میں ہو (کہ وسواس میں مبتلا نہ ہو جاؤں)۔
اے اللہ ! میری مدت حیات کو اپنے عفو و درگزر کے ساتھ ختم کر اور میری آرزو کو رحمت کی امید میں کامیاب فرما اور اپنی خوشنودی تک پہنچنے کے لیے راہ آسان کر اور ہر حالت میں میرے عمل کو بہتر قرار دے۔
اے اللہ!محمد اور ان کی آل پررحمت نازل فرما اور مجھے غفلت کے لمحات میں اپنے ذکر کے لیے ہوشیار کر اور مہلت کے دنوں میں اپنی اطاعت میں مصروف رکھ اور اپنی محبت کی سہل و آسان راہ میرے لیے کھول دے اور اس کے ذریعہ میرے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی کو کامل کر دے۔
اے اللہ!محمد اور ان کی اولاد پر بہترین رحمت نازل فرما۔ ایسی رحمت جو اس سے پہلے تو نے مخلوقات میں سے کسی ایک پر نازل کی ہو اور اس کے بعد کسی پر نازل کرنے والا ہو اور ہمیں دنیا میں بھی نیکی عطا کر اور آخرت میں بھی اور اپنی رحمت سے ہمیں دوزخ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔
التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
31۔ دعائے توبہ عربی اور اردو ترجمہ
(۳۱) وَ كَانَ مِنْ دُعَآئِهٖ عَلَیْهِ السَّلَامُ
فِیْ ذِكْرِ التَّوْبَةِ وَ طَلَبِهَا
دُعائے توبہ:
اَللّٰهُمَّ یَا مَنْ لَّا یَصِفُهٗ نَعْتُ الْوَاصِفِیْنَ، وَ یَا مَنْ لَّا یُجَاوِزُهٗ رَجَآءُ الرَّاجِیْنَ وَ یَا مَنْ لَّا یَضِیْعُ لَدَیْهِ اَجْرُ الْمُحْسِنِیْنَ، وَ یَا مَنْ هُوَ مُنْتَهٰى خَوْفِ الْعَابِدِیْنَ، وَ یَا مَنْ هُوَ غَایَةُ خَشْیَةِ الْمُتَّقِیْنَ.
اے معبود! اے وہ جس کی توصیف سے وصف کرنے والوں کے توصیفی الفاظ قاصر ہیں، اے وہ جو امیدواروں کی امیدوں کا مرکز ہے، اے وہ جس کے ہاں نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں ہوتا، اے وہ جو عبادت گزاروں کے خوف کی منزل منتہا ہے، اے وہ جو پرہیزگاروں کے بیم و ہراس کی حد آخر ہے۔
هٰذَا مَقَامُ مَنْ تَدَاوَلَـتْهُ اَیْدِی الذُّنُوْبِ، وَ قَادَتْهُ اَزِمَّةُ الْخَطَایَا، وَ اسْتَحْوَذَ عَلَیْهِ الشَّیْطٰنُ، فَقَصَّرَ عَمَّاۤ اَمَرْتَ بِهٖ تَفْرِیْطًا، وَ تَعَاطٰى مَا نَهَیْتَ عَنْهُ تَغْرِیْرًا، كَالْجَاهِلِ بِقُدْرَتِكَ عَلَیْهِ، اَوْ كَالْمُنْكِرِ فَضْلَ اِحْسَانِكَ اِلَیْهِ.
یہ اس شخص کا موقف ہے جو گناہوں کے ہاتھوں میں کھیلتا ہے، اور خطاؤں کی باگوں نے جسے کھینچ لیا ہے، اور جس پر شیطان غالب آ گیا ہے، اس لئے تیرے حکم سے لاپرواہی کرتے ہوئے اس نے (ادائے فرض) میں کوتاہی کی، اور فریب خوردگی کی وجہ سے تیرے منہیات کا مرتکب ہوتا ہے، گویا وہ اپنے کو تیرے قبضۂ قدرت میں سمجھتا ہی نہیں ہے، اور تیرے فضل و احسان کو جو تو نے اس پر کئے ہیں مانتا ہی نہیں ہے۔
حَتّٰۤى اِذَا انْفَتَحَ لَهٗ بَصَرُ الْهُدٰى، وَ تَقَشَّعَتْ عَنْهُ سَحَآئِبُ الْعَمٰى، اَحْصٰى مَا ظَلَمَ بِهٖ نَفْسَهٗ، وَ فَكَّرَ فِیْمَا خَالَفَ بِهٖ رَبَّهٗ، فَرَاٰى كَبِیْرَ عِصْیَانِهٖ كَبِیْرًا، وَ جَلِیْلَ مُخَالَفَتِهٖ جَلِیْلًا، فَاَقْبَلَ نَحْوَكَ مُؤَمِّلًا لَّكَ مُسْتَحْیِیًا مِّنْكَ، وَ وَجَّهَ رَغْبَتَهٗۤ اِلَیْكَ ثِقَةً بِكَ، فَاَمَّكَ بِطَمَعِهٖ یَقِیْنًا، وَ قَصَدَكَ بِخَوْفِهٖۤ اِخْلَاصًا، قَدْ خَلَا طَمَعُهٗ مِنْ كُلِّ مَطْمُوْعٍ فِیْهِ غَیْرِكَ، وَ اَفْرَخَ رَوْعُهٗ مِنْ كُلِّ مَحْذُوْرٍ مِّنْهُ سِوَاكَ.
مگر جب اس کی چشم بصیرت وا ہوئی اور اس کوری و بے بصری کے بادل اس کے سامنے سے چھٹے تو اس نے اپنے نفس پر کئے ہوئے ظلموں کا جائزہ لیا، اور جن جن موارد پر اپنے پروردگار کی مخالفتیں کی تھیں ان پر نظر دوڑائی تو اپنے بڑے گناہوں کو (واقعاً) بڑا اور اپنی عظیم مخالفتوں کو (حقیقتاً) عظیم پایا تو وہ اس حالت میں کہ تجھ سے امیدوار بھی ہے اور شرمسار بھی، تیری جانب متوجہ ہوا، اور تجھ پر اعتماد کرتے ہوئے تیری طرف راغب ہوا، اور یقین و اطمینان کے ساتھ اپنی خواہش و آرزو کو لے کر تیرا قصد کیا، اور (دل میں) تیرا خوف لئے ہوئے خلوص کے ساتھ تیری بارگاہ کا ارادہ کیا، اس حالت میں کہ تیرے علاوہ اسے کسی سے غرض نہ تھی اور تیرے سوا اسے کسی کا خوف نہ تھا۔
فَمَثَلَ بَیْنَ یَدَیْكَ مُتَضَرِّعًا، وَ غَمَّضَ بَصَرَهٗۤ اِلَى الْاَرْضِ مُتَخَشِّعًا، وَ طَاْطَاَ رَاْسَهٗ لِعِزَّتِكَ مُتَذَلِّلًا، وَ اَبَثَّكَ مِنْ سِرِّهٖ مَاۤ اَنْتَ اَعْلَمُ بِهٖ مِنْهُ خُضُوْعًا، وَ عَدَّدَ مِنْ ذُنُوْبِهٖ مَاۤ اَنْتَ اَحْصٰى لَهَا خُشُوْعًا، وَ اسْتَغَاثَ بِكَ مِنْ عَظِیْمِ مَا وَقَعَ بِهٖ فِیْ عِلْمِكَ، وَ قَبِیْحِ مَا فَضَحَهٗ فِیْ حُكْمِكَ: مِنْ ذُنُوْبٍ اَدْبَرَتْ لَذَّاتُهَا فَذَهَبَتْ، وَ اَقَامَتْ تَبِعَاتُهَا فَلَزِمَتْ.
چنانچہ وہ عاجزانہ صورت میں تیرے سامنے آکھڑا ہوا، اور فروتنی سے اپنی آنکھیں زمین میں گاڑ لیں، اور تذلل و انکسار سے تیری عظمت کے آگے سر جھکا لیا، اور عجز و نیاز مندی سے اپنے راز ہائے درون پردہ جنہیں تو اس سے بہتر جانتا ہے تیرے آگے کھول دیئے، اور عاجزی سے اپنے وہ گناہ جن کا تو اس سے زیادہ حساب رکھتا ہے ایک ایک کر کے شمار کئے، اور ان بڑے گناہوں سے جو تیرے علم میں اس کیلئے مہلک اور ان بداعمالیوں سے جو تیرے فیصلہ کے مطابق اس کیلئے رسوا کُن ہیں، داد و فریاد کرتا ہے، وہ گناہ کہ جن کی لذت جاتی رہی ہے اور ان کا وبال ہمیشہ کیلئے باقی رہ گیا ہے۔
لَا یُنْكِرُ- یَاۤ اِلٰهِیْ- عَدْلَكَ اِنْ عَاقَبْتَهٗ، وَ لَا یَسْتَعْظِمُ عَفْوَكَ اِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ وَ رَحِمْتَهٗ، لِاَنَّكَ الرَّبُّ الْكَرِیْمُ الَّذِیْ لَا یَتَعَاظَمُهٗ غُفْرَانُ الذَّنبِ الْعَظِیْمِ.
اے میرے معبود! اگر تو اس پر عذاب کرے تو وہ تیرے عدل کا منکر نہیں ہو گا، اور اگر اس سے درگزر کرے اور ترس کھائے تو وہ تیرے عفو کو کوئی عجیب اور بڑی بات نہیں سمجھے گا۔ اس لئے کہ تو وہ پروردگار کریم ہے، جس کے نزدیک بڑے سے بڑے گناہ کو بھی بخش دینا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
اَللّٰهُمَّ فَهَاۤ اَنَا ذَا قَدْ جِئْتُكَ مُطِیْعًا لِّاَمْرِكَ فِیْمَاۤ اَمَرْتَ بِهٖ مِنَ الدُّعَآءِ، مُتَنَجِّزًا وَعْدَكَ فِیْمَا وَعَدْتَّ بِهٖ مِنَ الْاِجَابَةِ، اِذْ تَقُوْلُ: ﴿ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾.
اچھا تو اے میرے معبود! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، تیرے حکم دُعا کی اطاعت کرتے ہوئے اور تیرے وعدہ کا ایفا چاہتے ہوئے جو قبولیت دُعا کے متعلق تو نے اپنے اس ارشاد میں کیا ہے: ”مجھ سے دُعا مانگو تو میں تمہاری دُعا قبول کروں گا“۔
اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ، وَ الْقَنِیْ بِمَغْفِرَتِكَ كَمَا لَقِیْتُكَ بِاِقْرَارِیْ، وَ ارْفَعْنِیْ عَنْ مَّصَارِعِ الذُّنُوْبِ كَمَا وَضَعْتُ لَكَ نَفْسِیْ، وَ اسْتُرْنِیْ بِسِتْرِكَ كَمَا تَاَنَّیْتَنِیْ عَنِ الِانْتِقَامِ مِنِّیْ.
خداوندا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اپنی مغفرت میرے شامل حال کر جس طرح میں (اپنے گناہوں کا) اقرار کرتے ہوئے تیری طرف متوجہ ہوا ہوں، اور ان مقامات سے جہاں گناہوں سے مغلوب ہونا پڑتا ہے مجھے (سہارا دے کر) اوپر اٹھا لے جس طرح میں نے اپنے نفس کو تیرے آگے (خاک مذلت پر) ڈال دیا ہے، اور اپنے دامن رحمت سے میری پردہ پوشی فرما، جس طرح مجھ سے انتقام لینے میں صبر و حلم سے کام لیا ہے۔
اَللّٰهُمَّ وَ ثَبِّتْ فِیْ طَاعَتِكَ نِیَّتِیْ، وَ اَحْكِمْ فِیْ عِبَادَتِكَ بَصِیْرَتِیْ، وَ وَفِّقْنِیْ مِنَ الْاَعْمَالِ لِمَا تَغْسِلُ بِهٖ دَنَسَ الْخَطَایَا عَنِّیْ، وَ تَوَفَّنِیْ عَلٰى مِلَّتِكَ وَ مِلَّةِ نَبِیِّكَ: مُحَمَّدٍ- عَلَیْهِ السَّلَامُ- اِذَا تَوَفَّیْتَنِیْ.
اے اللہ! اپنی اطاعت میں میری نیت کو استوار، اور اپنی عبادت میں میری بصیرت کو قوی کر، اور مجھے ان اعمال کے بجالانے کی توفیق دے جن کے ذریعہ تو میرے گناہوں کے میل کو دھو ڈالے، اور جب مجھے دنیا سے اٹھائے تو اپنے دین اور اپنے نبی محمدﷺ کے آئین پر اٹھا۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّیْۤ اَتُوْبُ اِلَیْكَ فِیْ مَقَامِیْ هٰذَا مِنْ كَبَآئِرِ ذُنُوْبِیْ وَ صَغَآئِرِهَا، وَ بَوَاطِنِ سَیِّئَاتِیْ وَ ظَوَاهِرِهَا، وَ سَوَالِفِ زَلَّاتِیْ وَ حَوَادِثِهَا، تَوْبَةَ مَنْ لَّا یُحَدِّثُ نَفْسَهٗ بِمَعْصِیَةٍ، وَ لَا یُضْمِرُ اَنْ یَّعُوْدَ فِیْ خَطِیْٓئَةٍ وَ قَدْ قُلْتَ- یَاۤ اِلٰهِیْ- فِیْ مُحْكَمِ كِتَابِكَ: اِنَّكَ تَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِكَ، وَ تَعْفُوْ عَنِ السَّیِّئَاتِ، وَ تُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ، فَاقْبَلْ تَوْبَتِیْ كَمَا وَعَدْتَّ، وَ اعْفُ عَنْ سَیِّئَاتِیْ كَمَا ضَمِنْتَ، وَ اَوْجِبْ لِیْ مَحَبَّتَكَ كَمَا شَرَطْتَّ، وَ لَكَ- یَا رَبِّ- شَرْطِیْۤ اَلَّاۤ اَعُوْدَ فِیْ مَكْرُوْهِكَ، وَ ضَمَانِیْۤ اَنْ لَّاۤ اَرْجِعَ فِیْ مَذْمُوْمِكَ، وَ عَهْدِیْۤ اَنْ اَهْجُرَ جَمِیْعَ مَعَاصِیْكَ.
اے معبود! میں اس مقام پر اپنے چھوٹے بڑے گناہوں، پوشیدہ و آشکار معصیتوں اور گزشتہ و موجودہ لغزشوں سے توبہ کرتا ہوں، اس شخص کی سی توبہ جو دل میں معصیت کا خیال بھی نہ لائے اور گناہ کی طرف پلٹنے کا تصور بھی نہ کرے۔ خداوندا! تو نے اپنی محکم کتاب میں فرمایا ہے کہ: تو بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور گناہوں کو معاف کرتا ہے اور توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے، لہٰذا تو میری توبہ قبول فرما جیسا کہ تو نے وعدہ کیا ہے، اور میرے گناہوں کو معاف کر دے جیسا کہ تو نے ذمہ لیا ہے، اور حسب قرار داد اپنی محبت کو میرے لئے ضروری قرار دے، اور میں تجھ سے اے میرے پروردگار! یہ اقرار کرتا ہوں کہ تیری ناپسندیدہ باتوں کی طرف رخ نہیں کروں گا، اور یہ قول و قرار کرتا ہوں کہ قابلِ مذمت چیزوں کی طرف رجوع نہ کروں گا، اور یہ عہد کرتا ہوں کہ تیری تمام نافرمانیوں کو یکسر چھوڑ دوں گا۔
اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ اَعْلَمُ بِمَا عَمِلْتُ، فَاغْفِرْ لِیْ مَا عَلِمْتَ، وَ اصْرِفْنِیْ بِقُدْرَتِكَ اِلٰى مَاۤ اَحْبَبْتَ.
بارالٰہا! تو میرے عمل و کردار سے خوب آگاہ ہے، اب جو بھی تو جانتا ہے اسے بخش دے، اور اپنی قدرت کاملہ سے پسندیدہ چیزوں کی طرف مجھے موڑ دے۔
اَللّٰهُمَّ وَ عَلَیَّ تَبِعَاتٌ قَدْ حَفِظْتُهُنَّ، وَ تَبِعَاتٌ قَدْ نَسِیْتُهُنَّ، وَ كُلُّهُنَّ بِعَیْنِكَ الَّتِیْ لَا تَنَامُ، وَ عِلْمِكَ الَّذِیْ لَا یَنْسٰى، فَعَوِّضْ مِنْهَاۤ اَهْلَهَا، وَ احْطُطْ عَنِّیْ وِزْرَهَا، وَ خَفِّفْ عَنِّیْ ثِقْلَهَا، وَ اعْصِمْنِیْ مِنْ اَنْ اُقَارِفَ مِثْلَهَا.
اے اللہ! میرے ذمہ کتنے ایسے حقوق ہیں جو مجھے یاد ہیں، اور کتنے ایسے مظلمے ہیں جن پر نسیان کا پردہ پڑا ہوا ہے، لیکن وہ سب کے سب تیری آنکھوں کے سامنے ہیں،ایسی آنکھیں جو خواب آلودہ نہیں ہوتیں، اور تیرے علم میں ہیں، ایسا علم جس میں فرو گزاشت نہیں ہوتی، لہٰذا جن لوگوں کا مجھ پر کوئی حق ہے اس کا انہیں عوض دے کر اس کا بوجھ مجھ سے برطرف اور اس کا بار ہلکا کر دے اور مجھے پھر ویسے گناہوں کے ارتکاب سے محفوظ رکھ۔
اَللّٰهُمَّ وَ اِنَّهٗ لَا وَفَآءَ لِیْ بِالتَّوْبَةِ اِلَّا بِعِصْمَتِكَ، وَ لَا اسْتِمْسَاكَ بِیْ عَنِ الْخَطَایَاۤ اِلَّا عَنْ قُوَّتِكَ، فَقَوِّنِیْ بِقُوَّةٍ كَافِیَةٍ، وَ تَوَلَّنِیْ بِعِصْمَةٍ مَّانِعَةٍ.
اے اللہ! میں توبہ پر قائم نہیں رہ سکتا مگر تیری ہی نگرانی سے، اور گناہوں سے باز نہیں آسکتا مگر تیری ہی قوت و توانائی سے، لہٰذا مجھے بے نیاز کرنے والی قوت سے تقویت دے اور (گناہوں سے) روکنے والی نگرانی کا ذمہ لے۔
اَللّٰهُمَّ اَیُّمَا عَبْدٍ تَابَ اِلَیْكَ وَ هُوَ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَكَ فَاسِخٌ لِّتَوْبَتِهٖ، وَ عَآئِدٌ فِیْ ذَنبِهٖ وَ خَطِیْٓئَتِهٖ، فَاِنِّیْۤ اَعُوذُ بِكَ اَنْ اَكُوْنَ كَذٰلِكَ، فَاجْعَلْ تَوْبَتِیْ هٰذِهٖ تَوْبَةً لَّاۤ اَحْتَاجُ بَعْدَهَاۤ اِلٰى تَوْبَةٍ، تَوْبَةً مُّوْجِبَةً لِّمَحْوِ مَا سَلَفَ، وَ السَّلَامَةِ فِیْمَا بَقِیَ.
اے اللہ! وہ بندہ جو تجھ سے توبہ کرے اور تیرے علم غیب میں وہ توبہ شکنی کرنے والوں اور گناہ و معصیت کی طرف دو بارہ پلٹنے والا ہو تو میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ اس جیسا ہوں، میری توبہ کو ایسی توبہ قرار دے کہ اس کے بعد پھر توبہ کی احتیاج نہ رہے، جس سے گزشتہ گناہ محو ہو جائیں اور زندگی کے باقی دنوں میں (گناہوں سے) سلامتی کا سامان ہو۔
اَللّٰهُمَّ اِنِّیْۤ اَعْتَذِرُ اِلَیْكَ مِنْ جَهْلِیْ، وَ اَسْتَوْهِبُكَ سُوْٓءَ فِعْلِیْ، فَاضْمُمْنِیْۤ اِلٰى كَنَفِ رَحْمَتِكَ تَطَوُّلًا، وَ اسْتُرْنِیْ بِسِتْرِ عَافِیَتِكَ تَفَضُّلًا.
اے اللہ! میں اپنی جہالتوں سے عذر خواہ اور اپنی بداعمالیوں سے بخشش کا طلبگار ہوں، لہٰذا اپنے لطف و احسان سے مجھے پناہ گاہ رحمت میں جگہ دے، اور اپنے تفضل سے اپنی عافیت کے پردہ میں چھپا لے۔
اَللّٰهُمَّ وَ اِنِّیْۤ اَتُوْبُ اِلَیْكَ مِنْ كُلِّ مَا خَالَفَ اِرَادَتَكَ، اَوْ زَالَ عَنْ مَّحَبَّتِكَ مِنْ خَطَرَاتِ قَلْبِیْ، وَ لَحَظَاتِ عَیْنِیْ، وَ حِكَایَاتِ لِسَانِیْ، تَوْبَةً تَسْلَمُ بِهَا كُلُّ جَارِحَةٍ عَلٰى حِیَالِهَا مِنْ تَبِعَاتِكَ، وَ تَاْمَنُ مِمَّا یَخَافُ الْمُعْتَدُوْنَ مِنْ اَلِیْمِ سَطَوَاتِكَ.
اے اللہ! میں دل میں گزرنے والے خیالات اور آنکھ کے اشاروں اور زبان کی گفتگوؤں، غرض ہر اس چیز سے جو تیرے ارادہ و رضا کے خلاف ہو اور تیری محبت کے حدود سے باہر ہو، تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں، ایسی توبہ جس سے میرا ہر ہر عضو اپنی جگہ پر تیری عقوبتوں سے بچا رہے، اور ان تکلیف دہ عذابوں سے جن سے سر کش لوگ خائف رہتے ہیں محفوظ رہے۔
اَللّٰهُمَّ فَارْحَمْ وَحْدَتِیْ بَیْنَ یَدَیْكَ، وَ وَجِیْبَ قَلْبِیْ مِنْ خَشْیَتِكَ، وَ اضْطِرَابَ اَرْكَانِیْ مِنْ هَیْبَتِكَ، فَقَدْ اَقَامَتْنِیْ-.
اے معبود! یہ تیرے سامنے میرا عالم تنہائی، تیرے خوف سے میرے دل کی دھڑکن، تیری ہیبت سے میرے اعضاء کی تھر تھری، ان حالتوں پر رحم فرما۔
یَا رَبِّ- ذُنُوْبِیْ مَقَامَ الْخِزْیِ بِفِنَآئِكَ، فَاِنْ سَكَتُّ لَمْ یَنْطِقْ عَنِّیْۤ اَحَدٌ، وَ اِنْ شَفَعْتُ فَلَسْتُ بِاَهْلِ الشَّفَاعَةِ.
پروردگارا! مجھے گناہوں نے تیری بارگاہ میں رسوائی کی منزل پر لا کھڑا کیا ہے، اب اگر چپ رہوں تو میری طرف سے کوئی بولنے والا نہیں ہے، اور کوئی وسیلہ لاؤں تو شفاعت کا سزاوار نہیں ہوں۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ، وَ شَفِّعْ فِیْ خَطَایَایَ كَرَمَكَ، وَ عُدْ عَلٰى سَیِّئَاتِیْ بِعَفْوِكَ، وَ لَا تَجْزِنِیْ جَزَآئِیْ مِنْ عُقُوْبَتِكَ، وَ ابْسُطْ عَلَیَّ طَوْلَكَ، وَ جَلِّلْنِیْ بِسِتْرِكَ، وَ افْعَلْ بِیْ فِعْلَ عَزِیْزٍ تَضَرَّعَ اِلَیْهِ عَبْدٌ ذَلِیْلٌ فَرَحِمَهٗ، اَوْ غَنِیٍّ تَعَرَّضَ لَهٗ عَبْدٌ فَقِیْرٌ فَنَعَشَهٗ.
اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور اپنے کرم و بخشش کو میری خطاؤں کا شفیع قرار دے، اور اپنے فضل سے میرے گناہوں کو بخش دے، اور جس سزا کا میں سزاوار ہوں وہ سزا نہ دے، اور اپنا دامن کرم مجھ پر پھیلا دے، اور اپنے پردۂ عفو و رحمت میں مجھے ڈھانپ لے، اور مجھ سے اس ذی اقتدار شخص کا سا برتاؤ کر جس کے آگے کوئی بندہ ذلیل گڑگڑائے تو وہ اس پر ترس کھائے، یا اس دولتمند کا سا جس سے کوئی بندہ محتاج لپٹے تو وہ اسے سہارا دے کر اٹھا لے۔
اَللّٰهُمَّ لَا خَفِیْرَ لِیْ مِنْكَ فَلْیَخْفُرْنِیْ عِزُّكَ، وَ لَا شَفِیْعَ لِیْۤ اِلَیْكَ فَلْیَشْفَعْ لِیْ فَضْلُكَ، وَ قَدْ اَوْجَلَتْنِیْ خَطَایَایَ فَلْیُؤْمِنِّیْ عَفْوُكَ، فَمَا كُلُّ مَا نَطَقْتُ بِهٖ عَنْ جَهْلٍ مِّنِّیْ بِسُوْٓءِ اَثَرِیْ، وَ لَا نِسْیَانٍ لِّمَا سَبَقَ مِنْ ذَمِیْمِ فِعْلِیْ، لٰكِنْ لِّتَسْمَعَ سَمَآؤُكَ وَ مَنْ فِیْهَا، وَ اَرْضُكَ وَ مَنْ عَلَیْهَا مَاۤ اَظْهَرْتُ لَكَ مِنَ النَّدَمِ، وَ لَجَاْتُ اِلَیْكَ فِیْهِ مِنَ التَّوْبَةِ، فَلَعَلَّ بَعْضَهُمْ بِرَحْمَتِكَ یَرْحَمُنِیْ لِسُوْٓءِ مَوْقِفِیْ، اَوْ تُدْرِكُهُ الرِّقَّةُ عَلَیَّ لِسُوْٓءِ حَالِیْ، فَیَنَالَنِیْ مِنْهُ بِدَعْوَةٍ هِیَ اَسْمَعُ لَدَیْكَ مِنْ دُعَآئِیْ، اَوْ شَفَاعَةٍ اَوْكَدُ عِنْدَكَ مِنْ شَفَاعَتِیْ، تَكُوْنُ بِهَا نَجَاتِیْ مِنْ غَضَبِكَ وَ فَوْزَتِیْ بِرِضَاكَ.
بارالٰہا! مجھے تیرے (عذاب) سے کوئی پناہ دینے والا نہیں ہے، اب تیری قوت و توانائی ہی پناہ دے تو دے، اور تیرے یہاں کوئی میری سفارش کرنے والا نہیں، اب تیرا فضل ہی سفارش کرے تو کرے، اور میرے گناہوں نے مجھے ہراساں کر دیا ہے، اب تیرا عفو و درگزر ہی مجھے مطمئن کرے تو کرے، یہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اس لئے نہیں کہ میں اپنی بداعمالیوں سے ناواقف اور اپنی گزشتہ بدکردار یوں کو فراموش کر چکا ہوں، بلکہ اس لئے کہ تیرا آسمان اور جو اس میں رہتے سہتے ہیں اور تیری زمین اور جو اس پر آباد ہیں، میری ندامت کو جس کا میں نے تیرے سامنے اظہار کیا ہے اور میری توبہ کو جس کے ذریعہ تجھ سے پناہ مانگی ہے سن لیں، تاکہ تیری رحمت کی کارفرمائی کی وجہ سے کسی کو میرے حال زار پر رحم آجائے، یا میری پریشان حالی پر اس کا دل پسیجے، تو میرے حق میں دُعا کرے جس کی تیرے ہاں میری دُعا سے زیادہ شنوائی ہو، یا کوئی ایسی سفارش حاصل کر لوں جو تیرے ہاں میری درخواست سے زیادہ مؤثر ہو، اور اس طرح تیرے غضب سے نجات کی دستاویز اور تیری خوشنودی کا پروانہ حاصل کر سکوں۔
اَللّٰهُمَّ اِنْ یَّكُنِ النَّدَمُ تَوْبَةً اِلَیْكَ فَاَنَاۤ اَنْدَمُ النَّادِمِیْنَ، وَ اِنْ یَّكُنِ التَّرْكُ لِمَعْصِیَتِكَ اِنَابَةً فَاَنَاۤ اَوَّلُ الْمُنِیْبِیْنَ، وَ اِنْ یَّكُنِ الِاسْتِغْفَارُ حِطَّةً لِّلذُّنُوْبِ فَاِنِّیْ لَكَ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ.
اے اللہ! اگر تیری بارگاہ میں ندامت و پشیمانی ہی توبہ ہے تو میں پشیمان ہونے والوں میں سب سے زیادہ پشیمان ہوں، اور اگر ترک معصیت ہی توبہ و انابت ہے تو میں توبہ کرنے والوں میں اول درجہ پر ہوں، اور اگر طلب مغفرت گناہوں کو زائل کرنے کا سبب ہے تو مغفرت کرنے والوں میں سے ایک میں بھی ہوں۔
اَللّٰهُمَّ فَكَمَاۤ اَمَرْتَ بِالتَّوْبَةِ، وَ ضَمِنْتَ الْقَبُوْلَ، وَ حَثَثْتَ عَلَى الدُّعَآءِ، وَ وَعَدْتَّ الْاِجَابَةَ، فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ، وَ اقْبَلْ تَوْبَتِیْ، وَ لَا تَرْجِعْنِیْ مَرْجِعَ الْخَیْبَةِ مِنْ رَّحْمَتِكَ، اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ عَلَى الْمُذْنِبِیْنَ، وَ الرَّحِیْمُ لِلْخَاطِئِیْنَ الْمُنِیْبِیْنَ.
خدایا! جبکہ تو نے توبہ کا حکم دیا اور قبول کرنے کا ذمہ لیا ہے اور دُعا پر آمادہ کیا ہے اور قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور میری توبہ کو قبول فرما، اور مجھے اپنی رحمت سے ناامیدی کے ساتھ نہ پلٹا، کیونکہ تو گنہگاروں کی توبہ قبول کرنے والا اور رجوع ہونے والے خطاکاروں پر رحم کرنے والا ہے۔
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ، كَمَا هَدَیْتَنَا بِهٖ، وَ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ، كَمَا اسْتَنْقَذْتَنَا بِهٖ، وَ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِهٖ، صَلَاةً تَشْفَعُ لَنا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَوْمَ الْفَاقَةِ اِلَیْكَ، ﴿اِنَّكَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ﴾، وَ هُوَ عَلَیْكَ یَسِیْرٌ.
اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما جس طرح تو نے ان کے وسیلہ سے ہماری ہدایت فرمائی ہے، تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل کر جس طرح ان کے ذریعہ ہمیں (گمراہی کے بھنور سے) نکالا ہے، تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل کر ایسی رحمت جو قیامت کے روز اور تجھ سے احتیاج کے دن ہماری سفارش کرے، اس لئے کہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے اور یہ امر تیرے لئے سہل و آسمان ہے۔
–٭٭–
صحیفہ کاملہ کی اکثر دُعائیں اعتراف گناہ، عفو تقصیر اور توبہ و انابت پر مشتمل ہیں مگر یہ دُعا، ’’دُعائے توبہ‘‘ ہی کے نام سے موسوم ہے جس سے اس کے خصوصیات ظاہر ہیں۔
’’توبہ‘‘ کے لغوی معنی پلٹنے اور رجوع ہونے کے ہیں اور اصطلاحاً ’’توبہ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے گناہوں پر پشیمان ہو کر بارگاہِ الٰہی میں ان سے باز رہنے کا عہد کرے اور جن گناہوں کا تدارک ممکن ہے ان کا تدارک کرے۔ اس طرح کہ جو حقوق اس کے ذمہ ہوں انہیں ادا کرے، یا اہل حقوق سے معافی حاصل کرے ،اور یہ نہ ہو سکے تو ان کیلئے ایسے اعمالِ خیر بجا لائے کہ وہ قیامت کے روز اس سے خوش ہو کر درگزر کریں۔
’’توبہ‘‘ کا اصل محرک جزا و سزا کا علم و یقین ہے جو گنہگار کو کثافتِ گناہ کی آلودگیوں سے دور رہنے پر آمادہ کرتا ہے۔ چنانچہ جب وہ گناہوں کے ہلاکت آفرین نتائج کے پیش نظر اپنا محاسبہ کرتا ہے تو یہ احتسابِ نفس اسے جھنجھوڑتا اور مطعون کرتا ہے جس سے وہ نفسیاتی طور پر ایک قسم کی تکلیف و اذیت محسوس کرتا ہے۔ اس احساس تکلیف کو ندامت و پشیمانی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جب یہ ندامت اس کے احساسات پر غالب آ جاتی ہے تو وہ گناہوں سے باز رہنے کا ارادہ کر لیتا ہے اور توبہ اسی علم، ندامت اور ارادہ کے مجموعے کا نام ہے جس کے بعد اعمال میں تبدیلی کا ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
اس دنیا میں رہتے ہوئے کوئی شخص بھی توبہ سے بے نیاز نہیں ہو سکتا، کیونکہ کبھی ہاتھ، زبان اور دوسرے اعضاء سے کوئی گناہ سرزد ہوا ہو گا، کبھی جھوٹ بولا ہو گا، کبھی کسی کی غیبت کی ہو گی، کبھی کسی پر ظلم کیا ہو گا، کبھی کسی سے ناحق جھگڑا کیا ہو گا۔ اور اگر اس کے اعضاء و جوارح ہر قسم کے گناہ سے بری ہوں تو وہ برائی کے قصد، گناہ کے ارادہ اور نفس کے دوسرے رذائل سے خالی نہیں ہو گا۔ اور اگر ان چیزوں سے بھی پاک ہو تو شیطانی وساوس اور گناہ کے تصورات و خیالات سے خالی نہیں ہو گا۔ اور اگر ان سے بھی پاک ہو تو خداوند عالم کی قدرت و حکمت اور اس کے آثار و صفات میں نظر و فکر سے غافل رہا ہو گا۔ اور اگر اس قصور و غفلت سے بھی بری اور ہر لحاظ سے معصوم ہو تو اس ثواب سے تو بے نیاز نہیں ہو سکتا جو ’’توبہ‘‘ پر مترتب ہوتا ہے، لہٰذا گنہگار ہو یا معصوم، سب ہی کو ’’توبہ‘‘ کرنا چاہیے۔چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:
﴿ وَتُوْبُوْٓا اِلَى اللہِ جَمِيْعًا اَيُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۳۱﴾
اے ایمان والو! تم سب کے سب اللہ سے توبہ کرو، تا کہ تم ہر لحاظ سے بہتری پا سکو[۱]
اگر انسان گناہ کا مرتکب ہو تو اسے فوراً توبہ کرنا چاہیے اور توبہ کو تاخیر میں نہ ڈالنا چاہیے۔ایک تو اس لئے کہ نہ معلوم کب موت کا پیغام آ جائے اور توبہ کئے بغیر اس دنیا سے رختِ سفر باندھ لینا پڑے اور دوسرے یہ کہ توبہ میں تاخیر کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ توبہ کی نوبت ہی نہیں آتی اور گناہ کی عادت اس طرح اس میں راسخ ہو جاتی ہے کہ طبیعت ثانیہ بن جاتی ہے اور پھر وہ بغیر کسی احساس ندامت کے گناہ پر گناہ کئے جاتا ہے جس سے دل و دماغ پر تاریکی کی تہیں چڑھ جاتی ہیں اور دل کے صفا ؤ نورانیت کے ساتھ توفیق کی روشنی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اور جس طرح طبیعت مرض سے مغلوب ہو جائے تو صحت کے عود کرنے کی توقع نہیں رہتی، اسی طرح گناہ کے رگ و پے میں سرایت کرنے کے بعد گنہگار لا علاج ہو جاتا ہے، لہٰذا اس یاس آفرین حالت کے پیدا ہونے سے پہلے توبہ کر لینا چاہیے۔ اور یہ توبہ اس کی دلیل ہے کہ ابھی دل فطری سلامتی پر باقی ہے جس نے احساس ندامت پیدا کرکے توبہ کی طرف متوجہ کیا ہے اور یہ خداوند عالم کا انتہائی لطف و کرم ہے کہ وہ یقین موت کی صورت کے علاوہ ہر صورت میں توبہ قبول فرماتا ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:
﴿وَھُوالَّذِيْ يَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَيَعْفُوْا عَنِ السَّـيِّاٰتِ﴾
وہی تو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور گناہوں کو معاف کرتا ہے۔[۲]
اور پیغمبر اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ: اگر بندہ اپنے مرنے سے ایک سال پہلے توبہ کر لے ،تو خدا اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ پھر فرمایا کہ: سال بھر کی مدت تو بہت زیادہ ہے، اگر مرنے سے ایک مہینہ بھی پہلے توبہ کر لے تو خدا قبول کرے گا۔ پھر فرمایا کہ: ایک مہینہ بھی بہت ہے، اگر مرنے سے ایک دن پہلے توبہ کر لے تو خدا قبول فرمانے والا ہے۔ پھر فرمایا کہ: ایک دن بھی بہت ہے، اگر موت سے ایک ساعت بھی پہلے توبہ کر لے تو خداوند عالم اپنی رحمت سے اس کی توبہ قبول کر لے گا اور اس کے گناہوں سے درگزر فرمائے گا۔[۳]
’’توبہ‘‘ صرف گناہوں کو دور کرنے ہی کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ ثواب عظیم اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و محبت بھی اس سے وابستہ ہے۔ چنانچہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے:
اِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰۤى اَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهٖ مِنْ رَّجُلٍ اَضَلَّ رَاحِلَتَهٗ وَ زَادَهٗ فِیْ لَيْلَةٍ ظَلْمَآءَ فَوَجَدَهَا.
خداوند عالم اس شخص سے بھی زیادہ اپنے بندہ کی توبہ سے خوش ہوتا ہے جو اندھیری رات میں اپنی سواری اور زاد راہ کھوکر اچانک اسے پالے۔[۴]
التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
42۔ دعائے ختم القرآن
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا، آزمائش مومن کی زینت ہے اور عقلمند کے لیے عظمت ہے، کیونکہ آزمائش کا مومن کے ساتھ رہنا اور مومن کا اس پر صبر کرنا اور ثابت قدم رہنا، اس کے ایمان کے صحیح ہونے کی علامت ہے۔ مستدرک الوسائل حدیث2405
بیالیسویں دعا
42۔ دعائے ختم القرآن
بارالٰہا ! تو نے اپنی کتاب کے ختم کرنے پر میری مدد فرمائی وہ کتاب جسے تو نے نور بناکر اتارا اور تمام کتب سماویہ پر اسے گواہ بنایا اور ہر اس کلام پر جسے تو نے بیان فرمایا اسے فوقیت بخشی اور (حق و باطل میں) حد فاصل قرار دیا جس کے ذریعہ شریعت کے احکام واضح کئے وہ کتاب جسے تو نے اپنے بندوں کے لیے شرح وتفصیل سے بیان کیا اور وہ وحی (آسمانی) جسے اپنے پیغمبر محمد پر نازل فرمایا، جسے وہ نور بنایا جس کی پیروی سے ہم گمراہی و جہالت کی تاریکیوں میں ہدایت حاصل کرتے ہیں اور اس شخص کے لیے اسے شفا قرار دیا جو اس پر اعتقاد رکھتے ہوئے اسے سمجھنا چاہے اور خاموشی کے ساتھ اسے سنے اور وہ عدل و انصاف کا ترازو بنایا جس کا کانٹا حق سے ادھر ادھر نہیں ہوتا اوروہ نورِ ہدایت قرار دیا جس کی دلیل و برہان کی روشنی (توحید و نبوت کی) گواہی دینے والوں کے لیے بجھتی نہیں او ر وہ نجات کا نشان بنایا کہ جو اس کے سیدھے طریقہ پر چلنے کا ارادہ کرے۔وہ گمراہ نہیں ہوتا اور جو اس کی ریسماں کے بندھن سے وابستہ ہو۔ وہ (خوف و فقر و عذاب کی) ہلاکتوں کی دسترس سے باہر ہوجاتا ہے۔
بارالٰہا ! جب کہ تو نے اس کی تلاوت کے سلسلہ میں ہمیں مدد پہنچائی اور اس کے حسن ادائیگی کے لیے ہماری زبان کی گرہیں کھول دیں تو پھر ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو اس کی پوری طرح حفاظت و نگہداشت کرتے ہوں اور اس کی محکم آیتوں کے اعتراف و تسلیم کی پختگی کے ساتھ تیری اطاعت کرتے ہوں اور متشابہ آیتوں اور روشن و واضح دلیلوں کے اقرار کے سایہ میں پناہ لیتے ہوں۔
اے اللہ ! تو نے اسے اپنے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اجمال کے طور پر اتارا اور اس کے عجائب و اسرار کا پورا پورا علم نہیں القا کیا اور اس کے علم تفصیلی کا ہمیں وارث قرار دیا اور جو اس کا علم نہیں رکھتے ان پر ہمیں فضیلت دی اور ا س کے مقتضیات پر عمل کرنے کی قوت بحشی تاکہ جو اس کے حقائق کے متحمل نہیںہوسکتے ان پر ہماری فوقیت و برتری ثابت کر دے۔
اے اللہ ! جس طرح تو نے ہمارے دلوں کو قرآن کا حامل بنایا اور اپنی رحمت سے اس کے فضل و شرف سے آگاہ کیا ،یونہی محمد (ص) پر جو قرآن کے خطبہ خواں اور ان کی آل (ع) پر جو قرآن کے خزینہ دار ہیں رحمت نازل فرما اور ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو یہ اقرار کرتے ہیں کہ یہ تیری جانب سے ہے تاکہ اس کی تصدیق میں ہمیں شک و شبہ لا حق نہ ہو اور اس کے سیدھے راستہ سے روگردانی کا خیال بھی نہ آنے پائے۔
اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو اس کی ریسماں سے وابستہ اور مشتبہ امور میں اس کی محکم پناہ گاہ کا سہارا لیتے اور اس کے پروں کے زیر سایہ منزل کرتے، اس کی صبح درخشاں کی روشنی سے ہدایت پاتے اور اس کے نور کی درخشندگی کی پیروی کرتے اور اس کے چراغ سے چراغ جلاتے ہیں اور اس کے علاوہ کسی سے ہدایت کے طالب نہیں ہوتے۔
بارالٰہا جس طرح تو نے اس قرآن کے ذریعہ محمد(ص) کو اپنی رہنمائی کا نشان بنایا ہے اور ان کی آل (ع) کے ذریعہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہیں آشکارا کی ہیں یونہی محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور ہمارے لیے قرآن کو عزت و بزرگی کی بلند پایہ منزلوں تک پہنچے کا وسیلہ اور سلامتی کے مقام تک بلند ہونے کا زینہ اور میدان حشر میں نجات کو جزا میں پانے کا سبب اور محل قیام ( جنت) کی نعمتوں تک پہنچے کا ذریعہ قرار دے۔
اے اللہ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور قرآن کے ذریعہ گناہوں کا بھاری بوجھ ہمارے سر سے اتارا دے اور نیکوکاروں کے اچھے خصائل و عادات ہمیں مرحمت فرما اور ان لوگوں کے نقش قدم پر چلا جو تیرے لیے رات کے لمحوں اور صبح و شام ( کی ساعتوں ) میں اسے اپنا دستوار العمل بناتے ہیں تاکہ اس کی تطہیر کے وسیلہ سے توہمیں ہر آلودگی سے پاک کر دے اور ان لوگوں کے نقش قدم پر چلائے ، جنہوں نے اس کے نور سے روشنی حاصل کی ہے اور امیدوں نے انہیں عمل سے غافل نہیں ہونے دیا کہ انہیں فریب کی نیزنگیوں سے تباہ کر دیں۔
اے اللہ ! محمد اور ان کی آل رحمت نازل فرما اور قرآن کو رات کی تاریکیوں میں ہمارا مونس اور شیطان کے مفسدوں اور دل میں گزرنے والے وسوسوں سے نگہبانی کرنے اور ہمارے قدموں کو نافرمانیوں کی طرف بڑھنے سے روک دینے والا اور ہماری زبانوں کو باطل پیمائیوں سے بغیر کسی مرض کے گنگ کر دینے والا اور ہمارے اعضاو کو ارتکاب گناہ سے باز رکھنے والا اور ہماری غفلت و مدہوشی نے جس دفتر عبرت و پنداندوزی کو تہ رکھا ہے، اسے پھیلانے والا قرار دے تاکہ اس کے عجائب و رموز کی حقیقتوں اور اس کی متنبہ کرنے والی مثالوں کو کہ جنہیں اٹھانے سے پہاڑ اپنے استحکام کے باوجود عاجز آ چکے ہیں ہمارے دلوں میں اتار دے۔
اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت ناز ل فرما اور قرآن کے ذریعہ ہمارے ظاہر کو ہمیشہ صلاح و رشد سے آراستہ رکھ اور ہمارے ضمیر کی فطری سلامتی سے غلط تصورات کی دخل دراندازی کو روک دے اور ہمارے دلوں کی کثافتوں اور گناہوں کی آلودگیوں کو دھو دے اور اس کے ذریعہ ہمارے پراگندہ امور کی شیرازہ بندی کر اور میدان حشر میں ہماری جھلستی ہوئی دوپہروں کی تپش و تشنگی بجھا دے اور سخت خوف و ہراس کے دن جب قبروں سے اٹھیں تو ہمیں امن و عافیت کے جامے پہنا دے۔
محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور قرآن کے ذریعہ فقر و احتیاج کی وجہ سے ہماری خستگی و بدحالی کا تدارک فرما اور زندگی کی کشائش اور فراخ روزی کی آسودگی کا رخ ہماری جانب پھر دے اور بُرے عادات اور پست اخلاق سے ہمیں دور کردے اور کفر کے گڑھے (میں گرنے) اور نفاق انگیز چیزوں سے بچالے تاکہ وہ ہمیں قیامت میں تیری خوشنودی و جنت کی طرف بڑھانے والا اور دنیا میں تیری ناراضگی اور حدود شکنی سے روکنے والا ہو اور اس امر پر گواہ ہو کہ جو چیز تیرے نزدیک حلال تھی اسے حلال جانا اور جو حرام تھی اسے حرام سمجھا۔
اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور اس قرآن کے وسیلہ سے موت کے ہنگام نزع کی اذیتوں، کراہنے کی سختیوں اور جان کنی کی لگاتار ہچکیوں کو ہم پر آسان فرما جب کہ جان گلے تک پہنچ جائے اور کہا جائے کہ کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے ( جو کچھ تدراک کرے) اور ملک الموت غیب کے پردے چیر کر قبض روح کے لیے سامنے آئے اور موت کی کمان میں فراق کی دہشت کے تیر جوڑ کر اپنے نشانے کی زد پر رکھ لے اور موت کے زہریلے جام میں زہر ہلاہل گھول دے اور آخرت کی طرف ہمارا چل چلاؤ اور کوچ قریب ہو اور ہمارے اعمال ہماری گردن کا طوق بن جائیں اور قبریں روز حشر کی ساعت تک آرام گاہ قرار پائیں۔
اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور کہنگی و بوسیدگی کے گھر میں اترنے اور مٹی کی تہوں میں مدت تک پڑے رہنے کو ہمارے لیے مبارک کرنا اور دنیا سے منہ موڑنے کے بعد قبروں کو ہمارا اچھا گھر بنانا اور اپنی رحمت سے ہمارے لیے گور کی تنگی کو کشادہ کردینا اور حشر کے عام اجتماع کے سامنے ہمارے مہلک گناہوں کی وجہ سے ہمیں رسوانہ کرنا اور اعمال کے پیش ہونے کے مقام پر ہماری ذلت و خواری کی وضع پر رحم فرمانا اور جس دن جہنم کے پل پر سے گزرنا ہو گا تو اس کے لڑکھڑانے کے وقت ہمارے ڈکمگاتے ہوئے قدموں کو جما دینا اور قیامت کے دن ہمیں اس کے ذریعہ ہر اندوہ اور روز حشر کی سخت ہولناکیوں سے نجات دینا اور جبکہ حسرت و ندامت کے دن ظالموں کے چہرے سیاہ ہوں گے ہمارے چہروں کو نورانی کرنا اور مومنین کے دلوں میں ہماری محبت پیدا کر دے اور زندگی کو ہمارے لیے دشوار گزارنہ بنا۔
اے اللہ ! محمد جو تیرے خاص بندے اور رسول ہیں ان پر رحمت نازل فرما جس طرح انہوں نے تیرا پیغام پہنچایا ، تیری شریعت کو واضح طور سے پیش کیا اور تیرے بندوں کو پندونصیحت کی۔
اے اللہ ! ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قیامت کے دن تمام نبیوں سے منزلت کے لحاظ سے قمرب تر، شفاعت کے لحاظ سے برتر، قدرو منزلت کے اعتبار سے بزرگ تر اور جاہ و مرتبت کے اعتبار سے ممتاز تر قرار دے۔
اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور ان کے ایوان (عزو شرف) کو بلند ، ان کی دلیل و برہان کو عظیم اور ان کے میزان (عمل کے پلہ) کو بھاری کر دے۔ ان کی شفاعت کو قبول فرما اور ان کی منزلت کو اپنے سے قریب کر، ان کے چہرے کو روشن ، ان کے نور کو کومل اور ان کے درجہ کو بلند فرما اور ہمیں انہی کے آئین پر زندہ رکھ اور انہی کے دین پر موت دے اور انہی کی شاہراہ پر گامزن کر اور انہی کے راستہ پر چلا اور ہمیں ان کے فرمانبرداروں میں قرار دے اور ان کی جماعت میں محشور کر اور ان کے حوض پر اتار اور ان کے ساغر سے سیراب فرما۔
اے اللہ! محمد اور ان کی آل پر ایسی رحمت نازل فرما جس کے ذریعہ انہیں بہترین نیکی ، فضل اور عزت تک پہنچا دے جس کے وہ امیدوار ہیں۔ اس لیے کہ تو وسیع رحمت اور عظیم فضل و احسان کا مالک ہے۔
اے اللہ ! انہوں نے جو تیرے پیغامات کی تبلیغ کی۔ تیری آیتوں کو پہنچایا۔ تیرے بندوں کو پند و نصیحت کی اور تیری راہ میںجہاد کیا ان سب کی انہیں جزا دے جو ہر اس جزا سے بہتر ہو جو تو نے مقرب فرشتوں اور برگزیدہ مرسل نبیوں کو عطا کی ، ان پر اور ان کی پاک و پاکیزہ آل پر سلام ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں ان کے شامل حال ہوں۔
التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
زیارت عاشورہ
صالح ابن عقبہ اور سیف ابن عمیرہ کا بیان ہے کہ علقمہ ابن محمد خضرمی نے کہا ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقرؑ سے عرض کی کہ مجھے ا یسی دعا تعلیم فرمائیں جسے میں دسویں محرم کے دن امام حسینؑ کی نزدیک سے زیارت کرتے وقت پڑھوں اور ایسی دعا بھی تعلیم فرمائیں کہ جو میں اس وقت پڑھوں جب نزدیک سے حضرت کی زیارت نہ کر سکوں اور میں دور کے شہروں اور اپنے گھر سے اشارے کیساتھ امام حسینؑ کو سلام پیش کروں۔ آپ نے فرمایا کہ اے عقلمہ! جب تم دو رکعت نماز ادا کر لو اور اس کے بعد سلام کیلئے حضرت کی طرف اشارہ کرو تو اشارہ کرتے وقت تکبیر کہنے کے بعدمندرجہ ذیل دعا پڑھو۔ کیونکہ جب تم یہ دعا پڑھو گے تو بے شک تم نے ان الفاظ میں دعا کی ہے کہ جن الفاظ میں وہ فرشتے دعا کرتے ہیں جو امام حسینؑ کی زیارت کرنے آتے ہیں‘ چنانچہ خدا تمہارے لیے دس لاکھ درجے لکھے گا اور تم اس شخص کی مانند ہو گے جو حضرت کے ہمراہ شہید ہوا ہو اور تم اس کے درجات میں حصہ دار بن جاؤ گے نیز تم ان افراد میں شمار کیے جاؤ گے جو امام حسینؑ کے ساتھ شہید ہوئے ہیں نیز تمہارے لیے ہر نبی و رسول اور امام مظلوم کے ہر اس زائر کا ثواب لکھا جائے گا جس نے اس دن سے کہ جب سے آپ شہید ہوئے ہیں آپکی زیارت کی ہو۔ آپ پر سلام ہواور آپکے خاندان پر پس وہ زیارت عاشورہ یہ ہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَباعَبْدِ اللہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللہِ،
آپ پر سلام ہو اے ابا عبد اللہؑ آپ پر سلام ہو اے رسول خداؐ کے فرزند
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ وَ ابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ،
سلام ہوآپ پر اے امیر المومنین کے فرزند اور اوصیاءکے سردار کے فرزند
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِساءِ الْعالَمِینَ ،
سلام ہوآپ پر اے فرزند فاطمہ ؑ جو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ثارَ اللہِ وَ ابْنَ ثارِہِ وَ الْوِتْرَ الْمَوْتُورَ،
آپ پر سلام ہو اے قربان خدا اور قربان خدا کے فرزنداور وہ خون جس کا بدلہ لیا جانا ہےاور تن و تنہا رہ جانے والے
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی الْاَرْواحِ الَّتِی حَلَّتْ بِفِنائِکَ
آپ پر سلام ہواور ان روحوں پر جو آپ کے آستانوں میں اتری ہیں
عَلَیْکُمْ مِنِّی جَمِیعاً سَلامُ اللہِ أَبَداً مَا بَقِیتُ وَ بَقِیَ اللَّیْلُ وَ النَّھارُ
آپ سب پرمیری طرف سے خدا کا سلام ہمیشہ جب تک میں باقی ہوں اور رات دن باقی ہیں
یَا أَباعَبْدِ اللہِ،لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِیَّۃُ وَجَلَّتْ وَ عَظُمَتِ الْمُصِیبَۃُ بِکَ عَلَیْنا وَ عَلٰی جَمِیعِ أَھْلِ الْاِسْلامِ وَ جَلَّتْ وَ عَظُمَتْ مُصِیبَتُکَ فِی السَّمٰوَاتِ عَلٰی جَمِیعِ أَھْلِ السَّمٰوَاتِ
اے ابا عبداللہؑ آپ کا سوگ بہت بھاری اور بہت بڑا ہے اور آپ کی مصیبت بہت بڑی ہے ہمارے لیے اور تمام اہل اسلام کے لیے اور بہت بڑی اور بھاری ہے آپ کی مصیبت آسمانوں میں تمام آسمان والوں کے لیے
فَلَعَنَ اللہُ ٲُمَّةً أَسَّسَتْ أَسَاسَ الظُّلْمِ وَ الْجَوْرِ عَلَیْکُمْ أَھْلَ الْبَیْتِ،
پس خدا کی لعنت ہو اس گروہ پرجس نے آپ پر ظلم و ستم کرنے کی بنیاد ڈالی اے اہلبیت
وَ لَعَنَ اللہُ ٲُمَّةً دَفَعَتْکُمْ عَنْ مَقامِکُمْ وَ أَزالَتْکُمْ عَنْ مَراتِبِکُمُ الَّتِی رَتَّبَکُمُ اللہُ فِیھا،
اور خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپکو آپکے مقام سے ہٹایا اور آپ کو اس مرتبے سے گرایا جو خدا نے آپ کو دیا
وَ لَعَنَ اللہُ ٲُمَّةً قَتَلَتْکُمْ، وَ لَعَنَ اللہُ الْمُمَھِّدِینَ لَھُمْ بِالتَّمْکِینِ مِنْ قِتالِکُمْ
خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپ کو قتل کیا اور خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے انکو آپکے ساتھ جنگ کرنے کی قوت فراہم کی
بَرِئْتُ إلَی اللہِ وَ إلَیْکُمْ مِنْھُمْ وَ أَشْیاعِھِمْ وَ أَتْباعِھِمْ وَ أَوْلِیائِھِمْ،
میں بری ہوں خدا کیسامنے اور آپکے سامنے ان سے انکے مددگاروں انکے پیروکاروں اور انکے ساتھیوں سے
یَا أَباعَبْدِاللہِ، إنِّی سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ، وَ حَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ إلٰی یَوْمِ الْقِیامَةِ،
اے ابا عبداللہ میری صلح ہے آپ سے صلح کرنے والے سے اور میری جنگ ہے آپ سے جنگ کرنے والے سے روز قیامت تک
وَ لَعَنَ اللہُ آلَ زِیادٍ وَ آلَ مَرْوانَ، وَ لَعَنَ اللہُ بَنِی ٲُمَیَّةَ قاطِبَةً، وَ لَعَنَ اللہُ ابْنَ مَرْجانَةَ، وَ لَعَنَ اللہُ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ، وَ لَعَنَ اللہُ شِمْراً، وَ لَعَنَ اللہُ ٲُمَّةً أَسْرَجَتْ وَ أَلْجَمَتْ وَ تَنَقَّبَتْ لِقِتالِکَ،
اور خدا لعنت کرے اولاد زیاد اور اولاد مروان پر خدا اظہار بیزاری کرے تمام بنی امیہ سے خدا لعنت کرے ابن مرجانہ پر خدا لعنت کرے عمر بن سعد پر خدا لعنت کرے شمر پر اور خدا لعنت کرے جنہوں نے زین کسا لگام دی گھوڑوں کو اور لوگوں کو آپ سے لڑنے کیلئے ابھارا
بِأَبِی أَنْتَ وَ ٲُمِّی، لَقَدْ عَظُمَ مُصابِی بِکَ،
میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یقینا آپکی خاطر میرا غم بڑھ گیا ہے
فَأَسْأَلُ اللہَ الَّذِی أَکْرَمَ مَقامَکَ، وَ أَکْرَمَنِی بِکَ، أَنْ یَرْزُقَنِی طَلَبَ ثارِکَ مَعَ إمامٍ مَنْصُورٍ مِنْ أَھْلِبَیْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہِ۔
پس سوال کرتا ہوں خدا سے جس نے آپکو شان عطا کی اور آپکے ذریعے مجھے عزت دی یہ کہ وہ مجھے آپ کے خون کا بدلہ لینے کا موقع دے ان امام منصور ؑ کے ساتھ جو اہل بیت محمدؐ میں سے ہوں گے
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی عِنْدَکَ وَجِیھاً بِالْحُسَیْنِ فِی الدُّنْیا وَ الْآخِرَةِ
اے معبود! مجھ کو اپنے ہاں آبرومند بنا حسین ؑ کے واسطے سے دنیا و آخرت میں
یَا أَباعَبْدِاللہِ إنِّی أَتَقَرَّبُ إلَی اللہِ، وَ إلٰی رَسُولِہِ، وَ إلٰی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، وَ إلٰی فاطِمَةَ، وَ إلَی الْحَسَنِ، وَ إلَیْکَ بِمُوَالاتِکَ وَ بِالْبَرائَةِ مِمَّنْ قَاتَلَکَ وَ نَصَبَ لَکَ الْحَرْبَ، وَ بِالْبَرائَةِ مِمَّنْ أَسَّسَ أَسَاسَ الْظُلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَیْکُمْ
اے ابا عبداللہ بے شک میں قرب چاہتا ہوں خدا کا اس کے رسولؐ کا امیر المومنینؑ کا فاطمۃ زہرا ؑ کا حسن مجتبیٰ ؑ کا اور آپ کا قرب آپکی حبداری سے اور اس سے بیزاری کے ذریعے جس نے آپکو قتل کیا اور آتش جنگ بھڑکائی اور اس سے بیزاری کے ذریعے جس نے تم پر ظلم وستم کی بنیاد رکھی
وَ أَبْرَٲُ إلَی اللہِ وَ إلٰی رَسُولِہِ مِمَّنْ أَسَّسَ أَساسَ ذٰلِکَ وَ بَنیٰ عَلَیْہِ بُنْیانَہُ، وَ جَریٰ فِی ظُلْمِہِ وَ جَوْرِہِ عَلَیْکُمْ وَ عَلٰی أَشْیاعِکُمْ، بَرِئْتُ إلَی اللہِ وَ إلَیْکُمْ مِنْھُمْ،
اور میں بری الذمہ ہوں اللہ اور اس کے رسول کے سامنے اس سے جس نے ایسی بنیاد قائم کی اور اس پر عمارت اٹھائی اور پھر ظلم و ستم کرنا شروع کیا اور آپ پر اور آپ کے پیروکاروں پر میں بیزاری ظاہر کرتا ہوں خدا اور آپ کے سامنے ان ظالموں سے
وَ أَتَقَرَّبُ إلَی اللہِ ثُمَّ إلَیْکُمْ بِمُوالاتِکُمْ وَ مُوالاةِ وَلِیِّکُمْ، وَ بِالْبَرائَةِ مِنْ أَعْدائِکُمْ، وَ النَّاصِبِینَ لَکُمُ الْحَرْبَ، وَ بِالْبَرائَةِ مِنْ أَشْیَاعِھِمْ وَ أَتْبَاعِھِمْ،
اور قرب چاہتا ہوں خدا کا پھر آپ کا آپ سے محبت کی وجہ سے اور آپ کے ولیوں سے محبت کے ذریعے آپکے دشمنوں اور آپکے خلاف جنگ برپا کرنے والوں سے بیزاری کے ذریعے اور انکے طرف داروں اورپیروکاروں سے بیزاری کے ذریعے
إنِّی سِلْمٌ لِمَنْ سالَمَکُمْ، وَ حَرْبٌ لِمَنْ حارَبَکُمْ، وَ وَلِیٌّ لِمَنْ وَالَاکُمْ، وَ عَدُوٌّ لِمَنْ عَاداکُمْ،
میری صلح ہے آپ سے صلح کرنے والے سے اور میری جنگ ہے آپ سے جنگ کرنے والے سے میں آپکے دوست کا دوست اور آپکے دشمن کا دشمن ہوں
فَأَسْأَلُ اللہَ الَّذِی أَکْرَمَنِی بِمَعْرِفَتِکُمْ، وَ مَعْرِفَةِ أَوْلِیَائِکُمْ، وَرَزَقَنِی الْبَرائَةَ مِنْ أَعْدائِکُمْ،
پس سوال کرتا ہوں خدا سے جس نے عزت دی مجھے آپ کی پہچان اور آپکے ولیوں کی پہچان کے ذریعے اور مجھے آپ کے دشمنوں سے بیزاری کی توفیق دی
أَنْ یَجْعَلَنِی مَعَکُمْ فِی الدُّنْیا وَ الْاَخِرَةِ، وَ أَنْ یُثَبِّتَ لِی عِنْدَکُمْ قَدَمَ صِدْقٍ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ،
یہ کہ مجھے آپ کے ساتھ رکھے دنیا اور آخرت میں اور یہ کہ مجھے آپ کے حضور سچائی کے ساتھ ثابت قدم رکھے دنیا اور آخرت میں
وَ أَسْأَلُہُ أَنْ یُبَلِّغَنِی الْمَقامَ الْمَحْمُودَ لَکُمْ عِنْدَ اللہِ، وَ أَنْ یَرْزُقَنِی طَلَبَ ثارِی مَعَ إمامِ ھُدیً ظَاھِرٍ نَاطِقٍ بِالْحَقِّ مِنْکُمْ،
اور اس سے سوال کرتا ہے کہ مجھے بھی خدا کے ہاں آپ کے پسندیدہ مقام پر پہنچائے نیز مجھے نصیب کرے آپکے خون کا بدلہ لینا اس امام کیساتھ جو ہدایت دینے والا مدد گار رہبرحق بات زبان پر لانے والا ہے تم میں سے
وَ أَسْأَلُ اللہَ بِحَقِّکُمْ وَ بِالشَّأْنِ الَّذِی لَکُمْ عِنْدَہُ أَنْ یُعْطِیَنِی بِمُصابِی بِکُمْ أَفْضَلَ مَا یُعْطِی مُصاباً بِمُصِیبَتِہِ، مُصِیبَةً مَا أَعْظَمَھا وَ أَعْظَمَ رَزِیَّتَھا فِی الْاِسْلامِ وَ فِی جَمِیعِ السَّمٰوَاتِ وَ الْاَرْضِ۔
اور سوال کرتا ہوں خدا سے آپکے حق کے واسطے اور آپکی شان کے واسطے جوآپ اسکے ہاں رکھتے ہیں یہ کہ وہ مجھ کو عطا کرے آپکی سوگواری پر ایسا بہترین اجر جو اس نے آپکے کسی سوگوار کو دیاہواس مصیبت پر کہ جو بہت بڑی مصیبت ہے اور اسکا رنج و غم بہت زیادہ ہے اسلام میں اور تمام آسمانوں میں اور زمین میں
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِی فِی مَقَامِی ھٰذَا مِمَّنْ تَنالُہُ مِنْکَ صَلَواتٌ وَ رَحْمَۃٌ وَ مَغْفِرَۃٌ۔
اے معبود قرار دے مجھے اس جگہ پر ان فراد میں سے جن کو نصیب ہوں تیرے درود تیری رحمت اور بخشش
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ مَحْیایَ مَحْیا مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَمَماتِی مَماتَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ۔
اے معبود قرار دے میرا جینا محمدؐ و آل محمدؐ کا سا جینا اور میری موت کو محمد ؐو آل محمدؐ کی موت کی مانند بنا
اَللّٰھُمَّ إنَّ ھٰذَا یَوْمٌ تَبَرَّکَتْ بِہِ بَنُو ٲُمَیَّةَ وَابْنُ آکِلَةِ الْاَکْبادِ، اللَّعِینُ ابْنُ اللَّعِینِ عَلٰی لِسانِکَ وَلِسانِ نَبِیِّکَ فِی کُلِّ مَوْطِنٍ وَمَوْقِفٍ وَقَفَ فِیہِ نَبِیُّکَ۔
اے معبود بے شک یہ وہ دن ہے کہ جس کو نبی امیہ اور کلیجے کھانے والی کے بیٹے نے بابرکت جانتا جو ملعون ابن ملعون ہے تیری زبان پراور تیرے نبی اکرمؐ کی زبان پر ہر شہر میں جہاں رہے اور ہر جگہ کہ جہاں تیرانبی اکرمؐ ٹھہرے
اَللّٰھُمَّ الْعَنْ أَباسُفْیانَ وَ مُعَاوِیَةَ وَ یَزِیدَ بْنَ مُعَاوِیَةَ عَلَیْھِمْ مِنْکَ اللَّعْنَۃُ أَبَدَ الْاَبِدِینَ،
اے معبود اظہار بیزاری کر ابو سفیان اور معاویہ اور یزید بن معاویہ سے کہ ان سے اظہار بیزاری ہو تیری طرف سے ہمیشہ ہمیشہ
وَھٰذَا یَوْمٌ فَرِحَتْ بِہِ آلُ زِیادٍ وَآلُ مَرْوانَ بِقَتْلِھِمُ الْحُسَیْنَ صَلَواتُ اللہِ عَلَیْہِ،
اور یہ وہ دن ہے جس میں خوش ہوئی اولاد زیاد اور اولاد مروان کہ انہوں نے قتل کیا حسین صلوات اللہ علیہ کو
اَللّٰھُمَّ فَضاعِفْ عَلَیْھِمُ اللَّعْنَ مِنْکَ وَالْعَذابَ الْاَلِیمَ۔
اے معبود پس توزیادہ کر دے ان پر اپنی طرف سے لعنت اور عذاب کو
اَللّٰھُمَّ إنِّی أَتَقَرَّبُ إلَیْکَ فِی ھٰذَا الْیَوْمِ وَ فِی مَوْقِفِی ھٰذَا، وَ أَیَّامِ حَیَاتِی بِالْبَرَائَةِ مِنْھُمْ، وَاللَّعْنَةِ عَلَیْھِمْ، وَبِالْمُوَالاةِ لِنَبِیِّکَ وَآلِ نَبِیِّکَ عَلَیْہِ وَعَلَیْھِمُ السَّلَامُ۔
اے معبود بے شک میں تیرا قرب چاہتا ہوں کہ آج کے دن میں اس جگہ پر جہاں کھڑا ہوں اور اپنی زندگی کے دنوں میں ان سے بیزاری کرنے کے ذریعے اور ان پر نفرین بھیجنے کے ذریعے اور بوسیلہ اس دوستی کے جو مجھے تیرے نبیؐ کی آل ؑ سے ہے سلام ہو تیرے نبی ؐاور ان کی آل ؑ پر
پھر سو مرتبہ کہے:
اَللّٰھُمَّ الْعَنْ أَوَّلَ ظَالِمٍ ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَ آخِرَ تَابِعٍ لَہُ عَلٰی ذٰلِکَ۔
اے معبود محروم کر اپنی رحمت سے اس پہلے ظالم کو جس نے ضائع کیا محمد ؐو آل محمد ؐکا حق اوراسکو بھی جس نے آخر میں اس کی پیروی کی
اَللّٰھُمَّ الْعَنِ الْعِصَابَةَ الَّتِی جاھَدَتِ الْحُسَیْنَ وَشایَعَتْ وَبایَعَتْ وَتابَعَتْ عَلٰی قَتْلِہِ
اے معبود لعنت کر اس جماعت پر جنہوں نے جنگ کی حسین ؑ سے نیز ان پربھی جو قتل حسین ؑ میں ان کے شریک اور ہم رائے تھے
اَللّٰھُمَّ الْعَنْھُمْ جَمِیعاً
اے معبود ان سب پر لعنت بھیج
اب سو مرتبہ کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا أَباعَبْدِ اللہِ وَ عَلَی الْاَرْواحِ الَّتِی حَلَّتْ بِفِنائِکَ،
سلام ہو آپ پراے ابا عبد اللہ اور سلام ان روحوں پر جو آپ کے روضے پر آتی ہیں
عَلَیْکَ مِنِّی سَلامُ اللہِ أَبَداً مَابَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّھارُ، وَلَا جَعَلَہُ اللہُ آخِرَ الْعَھْدِ مِنِّی لِزِیارَتِکُمْ،
آپ پر میری طرف سے خدا کا سلام ہو ہمیشہ جب تک زندہ ہوں اور جب تک رات دن باقی ہیں اورخدا قرار نہ دے اس کو میرے لیے آپ کی زیارت کا آخری موقع
اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ، وَعَلٰی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ، وَعَلٰی أَوْلادِ الْحُسَیْنِ،وَ عَلٰی أَصْحابِ الْحُسَیْنِ۔
سلام ہو حسینؑ پر اور شہزادہ علیؑ فرزند حسینؑ پر سلام ہو حسینؑ کی اولاد اور حسینؑ کے اصحاب پر
پھر کہے:
اَللّٰھُمَّ خُصَّ أَنْتَ أَوَّلَ ظالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنِّی، وَابْدَأْ بِہِ أَوَّلاً، ثُمَّ الْعَنِ الثَّانِیَ وَالثَّالِثَ وَالرَّابِعَ۔
اے معبود!تو مخصوص فرما پہلے ظالم کومیری طرف سے لعنت کیساتھ تو اب اسی لعنت کا آغاز فرماپھرلعنت بھیج دوسرے اور تیسرے اور پھر چوتھے پر لعنت بھیج
اَللّٰھُمَّ الْعَنْ یَزِیدَ خامِساً، وَ الْعَنْ عُبَیْدَ اللہِ بْنَ زِیادٍ وَ ابْنَ مَرْجانَةَ وَعُمَرَ بْنَ سَعْدٍ وَشِمْراً وَ آلَ أَبِی سُفْیانَ وَ آلَ زِیادٍ وَ آلَ مَرْوَانَ إلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ۔
اے معبود! لعنت کر یزید پر جو پانچواں ہے اور لعنت کرعبیداللہ فرزند زیاد پر اور فرزند مرجانہ پر عمر فرزند سعد پر اور شمر پر اور اولاد ابوسفیان کواور اولاد زیاد کو اور اولاد مروان کو رحمت سے دور کر قیامت کے دن تک
اسکےبعد سجدے میں جائے اور کہے:
اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشَّاکِرِینَ لَکَ عَلٰی مُصَابِھِمْ، اَلْحَمْدُ لِلہِ عَلٰی عَظِیمِ رَزِیَّتِی،
اے معبود! تیرے لیے حمد ہے شکر کرنے والوں کی حمد ،حمد ہے خدا کے لیے جس نے مجھے عزاداری نصیب کی۔
اَللّٰھُمَّ ارْزُقْنِی شَفاعَةَ الْحُسَیْنِ یَوْمَ الْوُرُودِ، وَثَبِّتْ لِی قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَکَ مَعَ الْحُسَیْنِ وَ أَصْحابِ الْحُسَیْنِ الَّذِینَ بَذَلُوا مُھَجَھُمْ دُونَ الْحُسَیْنِ۔
اے معبود حشر میں آنے کے دن مجھے حسین ؑ کی شفاعت سے بہرہ مند فرما اور میرے قدم کو سیدھا اور پکا بنا جب میں تیرے پاس آؤں حسین ؑ کے ساتھ اور اصحاب حسین ؑ کے ساتھ جنہوں نے حسینؑ کیلئے اپنی جانیں قربان کر دیں۔
علقمہ کابیان ہے کہ امام محمد باقر ؑ نے فرمایا: اگر ممکن ہو تو یہی زیارت ہر روز اپنے گھر میں بیٹھ کرپڑھے، اور اسے وہ سارے ثواب ملیں گے جن کا پہلے ذکر ہوا ہے۔ محمد ابن خالد طیالسی نے سیف ابن عمیر سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا: میں صفوان ابن مہران اور اپنے بعض ساتھیوں کے ہمراہ نجف اشرف کی طرف نکلا جب کہ امام جعفر صادق ؑ حیرہ سے مدینہ روانہ ہو چکے تھے وہاں جب ہم امیر المومنینؑ کی زیارت سے فارغ ہوئے تو صفوان نے اپنا رخ ابو عبد اللہ الحسینؑ کے روضہ مبارک کیطرف کیا اور کہنے لگے اس مقام یعنی امیر المومنینؑ کے سر اقدس کے قریب سے امام حسینؑ کی زیارت کرو۔ کیونکہ امام جعفر صادق ؑ نے اسی جگہ سے اشارہ کرتے ہوئے حضرت کو سلام پیش کیا تھا جب کہ میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ سیف کا کہنا ہے کہ صفوان نے وہی زیارت پڑھی جو علقمہ ابن محمد حضرمی نے امام محمد باقر ؑ سے روز عاشورہ کے لیے روایت کی تھی چنانچہ اس نے امیر المومنینؑ کے سرہانے دو رکعت نماز اد اکی اور اس کے بعد حضرت سے وداع کیا۔
التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
نوٹ: یہ بھی تیئیسویں رات رمضان المبارک
تئیسویں رمضان کی رات
تئیسویں رمضان کی رات اس دعا کو قیام و قعود اور رکوع وسجود میں نیز ہر حال میں بار بارپڑھے اور پھر اپنی زندگی میں جب بھی یہ دعا یادآئے تو پڑھتا رہے پس حق تعالیٰ کی بزرگی بیان کرنے اور حضرت نبی اکرم پردرود وسلام بھیجنے کے بعد کہے:
اَلَّلھُمَّ کُنْ لِّوَلِیِّکَ فلان بن فلان اورفلان بن فلان کی بجائے کہے: الْحُجَّۃِ بنِ الْحَسَنِ
اے معبود ! محافظ بن جا اپنے ولی حجت القائم (ع) بن حسن(ع) کا
صَلَواتُکَ عَلَیْہِ وَعَلَی آبائِہِ فِی ہذِھِ السَّاعَۃِ وَفی کُلِّ ساعَۃٍ وَلِیّاً وَحافِظاً وَقائِداً
تیری رحمت نازل ہو ان پر اور ان کے آباؤ اجداد پر اس لمحہ میںاور ہر آنے والے لمحہ میں، ان کا مددگاربن جا نگہبان پیشوا،
وَناصِراً وَدَلِیلاً وَعَیْناً حَتَّی تُسْکِنَہُ ٲَرْضَکَ طَوْعاً وَتُمَتِّعَہُ فِیھا طَوِیلاً پھر یہ کہے :
حامی، راہنما اور نگہدار بن جا یہاں تک کہ تو لوگوں کی چاہت سے انہیں زمین کی حکومت دے اور مدتوں اس پر برقرار رکھے
یَا مُدَبِّرَ الاَُمُورِ، یَا باعِثَ مَنْ فِی القُبُورِ، یَا مُجْرِیَ البُحُورِ، یَا مُلَیِّنَ الحَدِیدِ
اے کاموں کو منظم کرنے والے، اے قبروں سے اٹھا کھڑا کرنے والے، اے دریائوں کو رواں کرنے والے، اے دائود (ع)کے لیے
لِداوُدَ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلَ مُحَمَّدٍ وَافْعَلَ بِی کَذا وَکَذا ان الفاظ کی بجائے اپنی حاجتیں
لوہے کو موم بنانے والے، محمد(ص) وآل محمد(ص) پررحمت نازل فرما اور کر دے میرے لیے یہ اور یہ میرے لیے ایسے ایسے کر دے
طلب کرے: اَللَّیْلَۃُ اَللَّیْلَۃُ اپنے ہاتھ بلند کرے اور کہے: یَا مُدَبِّرَ الاَُمُورِ
اسی رات اسی رات اے کاموں کو منظم کرنے والے ۔
اس دعا کو حالت رکوع سجود، قیام اور قعود میں بار بار پڑھے علاوہ از ایںاس دعا کو ماہ رمضان کی آخری رات میں بھی پڑھے:
*﷽*
شب قدر کی فضیلت
🤲 شب قدر میں تقدیریں لکھی جاتی ہیں
🔷 امام جعفر صادق عليہ السلام:
التَّقديرُ في لَيلَةِ تِسعَ عَشرَةَ والإبرامُ في لَيلَةِ إحدى و عِشرينَ و الإمضاءُ في لَيلَةِ ثلاثَ و عِشرينَ
📃 انسان کی تقدیر شب انیسویں رمضان میں طے ہوتی ہے، اور شب اکیسویں رمضان میں تائید ہوتی ہے اور شب تئیسویں رمضان میں اس پر دستخط ہوتے ہیں۔
📚 اصول كافى، ج 4، ص 159
*شب قدر مقدر کو بدلنے والی رات:*
قال الصادق عليه السلام
*راس السنة ليلة القدر يكتب فيها ما يكون من السنة الي السنة.*
ترجمہ:
*انسان کے اعمال کے حساب کی رات، شب قدر ہو گی، اس رات میں آنے والے سال تک کے تمام مقدرات لکھے جاتے ہیں۔*
(وسائل الشيعه، ج 7 ص 258 ح 8)
شب قدر مشترک اعمال
نوٹ : یہ شب قدر کے وہ اعمال ہیں جو تینوں راتوں 19, 21, 23 کو انجام دیے جاتے ہیں۔
1: شب قدر میں غسل انجام دینا
سوال:شب قدر کا غسل کس وقت انجام دیا جائے؟؟
جواب: علامہ مجلسی فرماتے ہیں بہتر ہے اس غسل کو غروب آفتاب کے وقت انجام دیا جائے اور اس کے ساتھ مغربین کی نماز پڑھی جائے۔
اج کے غسل کو مغرب کے قریب قریب کریں یا پھر رات میں کریں۔
اس غسل کے بعد وضو کی ضرورت نہیں یہ غسل قربتہ الی اللہ کی نیت سے کیا جاے گا ۔۔
اس غسل کو شروع کرنے سے پہلے یہ اس غسل کے ثواب میں سب کو شامل کر لیں ۔جو بیمار ہیں ۔بزرگ ہیں ۔یا جن کو توفیق نہیں ملتی سب کو شامل کریں ۔اور غسل کے بعد اس کے ثواب کو معصومین اور مرحومین کو ھدیہ کر کے 70 گنا ثواب حاصل کریں 🤲🏼 اس ہی طرح اعمال میں کو بھی ہدیہ کریں اور سب مومنوں کو اعمال کے ثواب میں شامل کریں ۔🌹غسل میں دعا کری خدا میرے جسم کو اور روح ہر گناہ کی نجاست سے پاک کرے 🤲🏼
2: دو رکعت نماز شب قدر
نماز پڑھنے کا طریقہ
جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد سات مرتبہ سورہ توحید اور نماز کے بعد 70 مرتبہ اَسْتَغْفِرُ اللّه وَاَتُوبُ اِلَیه پڑھی جائے۔
یہ نماز پڑھنےکا فائدہ
رویت نبوی ہے کہ: نبی (ص) ارشاد فرماتے ہیں انسان اپنی جگہ سے اٹھے گا نہیں کہ اس کے اور اس کے ماں باپ کے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے۔
3: شب بیداری اور عبادات کی حالت میں رات گزارنا
شب بیداری اور عمل صالح کا فائدہ
روایت میں وارد ہوا ہے کہ ہر شب قدر کو شب بیداری کرے اس کے ذریعہ آپ کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے چاہے آپ کے گناہ آسمان کے ستاروں کے برابر کیوں نہ ہو چاہے آپ کے گناہ پہاڑوں کے وزن کے برابر کیوں نہ ہو اور چاہے پیمائش کے لحاظ سے آپ کے گناہ سمندکے برابر کیوں نہ ہو معاف کر دئیے جائے گے۔
4: سو مرتبہ مولا علی علیہ السلام کے قاتلوں پر لعنت کریں
اَللَّھُمَّ الْعَنْ قَتَلَۃَ اَمِیٰرِالْمُوْمِنِیْنَ
اے معبود: لعنت فرما امیرالمومنین(ع) کے قاتلین پر
5: دعائے جوشن کبیر پڑھنا
اس دعا کے پڑھنے کی فضیلت
اس دعا کو ماہ رمضان المبارک میں پڑھنا بےحد ثواب رکھتا ہے۔
روایت میں اس مقدس دعا کی فضیلت میں بیان ہوا ہے کہ جو شخص ماہ رمضان المبارک میں اس دعا کو ۳ مرتبہ پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کی آگ حرام کردے گا۔ اور جنت اس پر واجب کردے گا اور اس کے ساتھ 2 فرشتوں کو مأمور کردیا جائے گا جو اسے گناہ کرنے سے روکنے میں مدد کریں گے اور وہ پوری زندگی اللہ کی حفاظت میں رہے گا اور اس روایت کے آخر میں امام حسین علیہ السلام نے فرمایا : میرے والد امام علی(ع) نے مجھے یہ دعا یاد کرنے کی وصیت فرمائی اور مجھ سے اپنے کفن پر بھی لکھنے کو کہا اور ساتھ ہی یہ تأکید بھی فرمائی کہ میں اپنے اہل بیت میں سے ہر ایک کو اس دعا کو تعلیم دوں اور انہیں یہ دعا پڑھنے کی تأکید کروں چونکہ اس دعا میں اللہ تعالٰی کے ایک ہزار نام ہیں جنہیں اسم اعظم کہا جاتا ہے۔
6: ،زیارت امام حسین(ع) پڑھنا
فضیلت زیارت امام شب قدر میں
روایت ہے کہ شب قدر میں ساتویں آسمان پر عرش کے نزدیک ایک منادی ندا دیتا ہے کہ حق تعالیٰ نے ہر اس شخص کے گناہ معاف کر دئیے جو زیارت امام حسین(ع) کے لیے آیا ہے۔
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اللہِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِالْمُؤْمِنِینَ،
آپ پر سلام ہو اے رسول ؐ خداکے فرزند آپ پر سلام ہو اے امیرالمومنینؑ کے فرزند
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الصِّدِّیقَةِ الطَّاھِرَةِ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِساءِ الْعالَمِینَ،
آپ پر سلام ہو اے فاطمہؑ کے فرزند جو بہت سچی پاکیزہ اور تمام جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ یَا أَباعَبْدِ اللہِ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکاتُہُ،
آپ پر سلام ہو اے میرے مولا اے ابا عبداللہؑ خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہوں
أَشْھَدُ أَنَّکَ قَدْ أَقَمْتَ الصَّلاةَ، وَآتَیْتَ الزَّکاةَ، وَأَمَرْتَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَھَیْتَ عَنِ الْمُنْکَرِ،
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی آپ نے نیک کاموں کا حکم دیا اور برے کاموں سے منع کیا
وَتَلَوْتَ الْکِتابَ حَقَّ تِلاوَتِہِ، وَجاھَدْتَ فِی اللہِ حَقَّ جِھادِہِ، وَصَبَرْتَ عَلَی الْاَذیٰ فیْ جَنْبِہِ مُحْتَسِباً حَتّٰی أَتَاکَ الْیَقِینُ،
آپ نے تلاوت قرآن کی جو تلاوت کا حق ہے آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کیا جو جہاد کا حق ہے اور آپ نے خدا کی خاطر دکھوں پر صبر کیا امید اجر میں حتی کہ آپ نے شہادت پائی
أَشْھَدُ أَنَّ الَّذِینَ خالَفُوکَ وَحارَبُوکَ وَالَّذِینَ خَذَلُوکَ وَالَّذِینَ قَتَلُوکَ مَلْعُونُونَ عَلٰی لِسانِ النَّبِیِّ الْاُمِیِّ وَقَدْ خابَ مَنِ افْتَریٰ،
میں گواہی دیتا ہوں کہ جنہوں نے آپکی مخالفت کی اور آپ سے لڑے نیز جنہوں نے آپکا ساتھ نہ دیا اور جنہوں نے آپکو قتل کیاوہ سب ملعون قرار دیئے گئے نبی امی کی زبان سے یقینا وہ ناکام رہا جس نے جھوٹا دعویٰ کیا
لَعَنَ اللہُ الظَّالِمِینَ لَکُمْ مِنَ الْاَوَّلِینَ وَالْاَخِرِینَ وَضاعَفَ عَلَیْھِمُ الْعَذابَ الْاَلِیمَ،
خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے آپ پر ظلم کیا ہے اولین و آخرین میں سے اور دگنا ہو ان پر درد ناک عذاب
أَتَیْتُکَ یَامَوْلایَ یَابْنَ رَسُولِ اللہِ زائِراً، عارِفاً بِحَقِّکَ، مُوالِیاً لِاَوْلِیائِکَ، مُعادِیاً لِاَعْدائِکَ، ،
میں آیا آپ کے ہاں اے میرے مولا اے رسول خدا ؐ کے فرزند زیارت کرنے آپکاحق پہنچاتے ہوئے آپکے دوستوں سے دوستی آپکے دشمن سے دشمنی رکھتے ہوئے
مُسْتَبْصِراً بِالْھُدَی الَّذِی أَنْتَ عَلَیْہِ، عارِفاً بِضَلالَةِ مَنْ خالَفَکَ فَاشْفَعْ لِی عِنْدَ رَبِّکَ۔
اس راستے کو درست ہدایت جانتے ہوئے جس پر آپ چلے اور اسے گمراہ سمجھتے ہوئے جس نے آپ سے مخالفت کی پس اپنے رب کے ہاں میری سفارش کریں ۔
اس کے بعد زائر خود کو قبر مبارک سے لپٹائے اور اپنا منہ اس پر رکھے پھر سرہانے کی طرف جائے اور کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ اللہِ فِی أَرْضِہِ وَسَمائِہِ، صَلَّی اللہُ عَلٰی رُوحِکَ الطَّیِّبِ وَجَسَدِکَ الطَّاھِرِ،
آپ پر سلام ہو اے خدا کی حجت اس کی زمین اور اسکے آسمان میں خدا رحمت کرے آپ کی پاکیزہ روح پراور آپ کے جسم پاک پر
وَعَلَیْکَ السَّلَامُ یَا مَوْلایَ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکاتُہُ۔
اور آپ پر سلام ہو اے میرے مولا خدا کی رحمت ہو اور اس کی برکات ہو۔
اب پھر سے خود کو قبر شریف سے لپٹائے اس پر بوسہ دے اور اپنا چہرہ اس پر رکھ دے‘ اس کے بعد سرہانے کیطرف چلا جائے اور دو رکعت نماز زیارت ادا کرے اسکے بعد وہاں مزید جتنی چاہے نماز پڑھے پھر قبر مبارک کی پائنتی کی طرف جائے اور حضرت علی اکبر ؑ کی زیارت کرے اور کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلایَ وَابْنَ مَوْلایَ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکاتُہُ، لَعَنَ اللہُ مَنْ ظَلَمَکَ، وَلَعَنَ اللہُ مَنْ قَتَلَکَ، وَضاعَفَ عَلَیْھِمُ الْعَذابَ الْاَلِیمَ۔
آپ پر سلام ہو اے میرے مولا اور میرے مولا کے فرزندخداکی رحمت ہو اور اسکی برکات ہوں خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ پر ظلم کیا اور خدا لعنت کرے اس پر جس نے آپ کو قتل کیا نیز ان کے درد ناک عذاب میں کئی گنااضافہ کرے۔
اب جو دعا چاہے مانگے اور پھر دیگر شہدائے کربلاء کی طرف متوجہ ہو جب کہ قبر کی پائنتی سے قبلہ کی طرف ہو پس یوں کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَیُّھَا الصِّدِیقُونَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ أَیُّھَا الشُّھَداءُ الصَّابِرُونَ،
سلام ہو آپ سب پر اے سچو سلام ہو آپ پر اے شہیدو جو بہت صبر کرنے والے ہو
أَشْھَدُ أَنَّکُمْ جاھَدْتُمْ فِی سَبِیلِ اللہِ، وَصَبَرْتُمْ عَلَی الْاَذیٰ فِی جَنْبِ اللہِ، وَنَصَحْتُمْ لِلہِ وَلِرَسُولِہِ، حَتّٰی أَتَاکُمُ الْیَقِینُ،
میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کیا اور خدا کی خاطر دکھ تکلیف پر صبرسے کام لیا آپ نے خدا و رسول ؐ سے خلوص برتا حتیٰ کہ دنیا سے گزر گئے
أَشْھَدُ أَنَّکُمْ أَحْیاءُٗ عِنْدَ رَبِّکُمْ تُرْزَقُونَ، فَجَزاکُمُ اللہُ عَنِ الْاَسْلامِ وَأَھْلِہِ أَفْضَلَ جَزاءِ الْمُحْسِنِینَ، وَجَمَعَ بَیْنَنا وَبَیْنَکُمْ فِی مَحَلِّ النَّعِیمِ۔
میں گواہی دیتا ہوں کہ ضرور آپ اپنے رب کی ہاں زندہ ہیں رزق پاتے ہیں پس خدا تمہیں جزا دے اسلام اور اہل اسلام کی طرف سے بہترین جزا جو نیکو کاروں کے لیے ہے اور یکجا کرے ہمیں اور تم کونعمتوں والی جنت کے مکانوں میں ۔
اب حضرت عباس ابن امیر المومنین کی زیارت کیلئے جائے اور جب وہاں پہنچے تو حضرت کی ضریح مبارک کے پاس کھڑے ہو کر کہے:
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ أَیُّھَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الْمُطِیعُ لِلہِ وَلِرَسُولِہِ،
آپ پر سلام ہو اے امیر المومنین کے فرزند آپ پر سلام ہو اے بندہ خوش کردار خدا اوراس کے رسول ؐ کے اطاعت گزار
أَشْھَدُ أَنَّکَ قَدْجاھَدْتَ وَنَصَحْتَ وَصَبَرْتَ حَتّٰی أَتَاکَ الْیَقِینُ،
میں گواہی دیتا ہوں کہ ضرور آپ نے جہاد کیا خیر اندیشی کی اور صبر سے کام لیا حتی کہ آپ دنیا سے چل بسے
لَعَنَ اللہُ الظَّالِمِینَ لَکُمْ مِنَ الْاَوَّلِینَ وَالْآخِرِینَ، وَأَلْحَقَھُمْ بِدَرْکِ الْجَحِیمِ۔
خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے آپ پر ظلم ڈھایا اولین و آخرین میں سے اور خدا ان کو جہنم کے نچلے درجے میں پھینکے۔
7: قرآن سروں پر رکھنا اور خدا کو چودہ معصومین ع کا واسطہ دینا
قرآن کو کھول کر اپنے سامنے رکھے اور کہے:
اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَسْأَ لُکَ بِکِتابِکَ الْمُنْزَلِ وَمَا فِیہِ وَفِیہِ اسْمُکَ الْاَکْبَرُ وَأَسْماؤُکَ الْحُسْنیٰ وَمَا یُخافُ وَیُرْجیٰ أَنْ تَجْعَلَنِی مِنْ عُتَقائِکَ مِنَ النّارِ
اس کے بعد جو حاجت چاہے طلب کرے
پھر قرآن پاک کو اپنے سر پر رکھے اور کہے:
اَللّٰھُمَّ بِحَقِّ ہذَا الْقُرْآنِ وَبِحَقِّ مَنْ أَرْسَلْتَہُ بِہِ وَبِحَقِّ کُلِّ مُؤْمِنٍ مَدَحْتَہُ فِیہِ وَبِحَقِّکَ عَلَیْھِمْ فَلاَ أَحَدَ أَعْرَفُ بِحَقِّکَ مِنْکَ
اسکے بعد دس دس مرتبہ یہ جملے کہیں
بِکَ یَا اللهُ:ا ے الله تیرا واسطہ
بِمُحَمَّد ٍ:محمدکاواسطہ
بِعَلِیٍّ :علی (ع) کا واسطہ
بِفاطِمَةَ :فاطمہ (ع) کا واسطہ
بِالْحَسَنِ : حسن(ع) کاواسطہ
بِالْحُسَیْنِ حسین(ع) کا واسطہ بِالْحُسَیْنِ
بِعَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ : علی بن الحسین(ع) کا واسطہ
مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ :محمد بن علی(ع) کا واسطہ
بِجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ:جعفر(ع)بن محمد(ع) کا واسطہ
بِمُوسَیٰ بْنِ جَعْفَر :ٍموسی (ع)بن جعفر (ع)کا واسطہ
بِعَلِیِّ بْنِ مُوسی: علی(ع)بن موسی(ع)کاواسطہ
بِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ :محمد بن علی (ع) کاواسطہ
بِعَلِیِّ بْنِ مُحَمَّدٍعلی(ع) بن محمد (ع)کاواسطہ
بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ :حسن بن علی(ع) کا واسطہ
بِالْحُجَّةِ: حجت القائم (ع)کا واسطہ
پھر اپنی حاجات طلب کرو
(بالخصوص مولا صاحب الزمان (عج) کے ظہور کے لیے دعا کریں)
8: سورکعت نماز بجا لائے
جسکی بہت فضیلت ہے اسکی ہررکعت میں الحمد کے بعد دس مرتبہ سورۃ توحید کا پڑھنا افضل ہے۔
(اگر کسی کی قضاء نمازیں ہیں تو وہ اس نما زکی بجائے قضا نمازوں کو پڑھے)
شب قدر کی راتوں میں زیارت امین اللہ پڑھے :
السلام علیک یا بقیتہ اللہ فی ارضہ!!!✨
﴿ زیارت امین اللہ ﴾
👈🏻یہ زیارت امین اللہ کے نام سے معروف ہے اور انتہائی معتبر زیارت ہے جو زیارات کی تمام کتب اور مصابیح میں منقول ہے
﴿ علامہ مجلسی ﴾ فرماتے ہیں یہ متن اور سند کے لحاظ سے بہترین زیارت ہے اور اسے تمام مبارک روضوں میں پڑھنا چاہیے
✨زائرین حضرات کو چاہیے کہ امیر المؤمنینؑ کے علاوہ اگر کسی اور امام کی زیارت کر رہے ہیں تو امیر المؤمنین علیہ السلام کے بجائے اس معصوم امامؑ کا نام لے مثلًا امام علی رضاؑ کی زیارت کر رہا ہے تو کہے: السلام علیك یا علی ابن موسی رضا ۔ مترجم✨
اس کی کیفیت یہ ہے کہ معتبر اسناد کے ساتھ جابر نے
امام محمد باقر علیہ السلام کے ذریعے امام زین العابدین علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آنجناب نے قبر امیر المؤمنین علیہ السلام کے قریب کھڑے ہو کر روتے ہوئے ان کلمات کے ساتھ آپ کی زیارت کی: 🕌🫡
✍🏻اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا ٲَمِیْنَ ﷲِ فِیْ ٲَرْضِہٖ
آپ پر سلام ہو اے خدا کی زمین میں اس کے امین
وَحُجَّتَہٗ عَلٰی عِبَادِہٖ
اور اس کے بندوں پر اس کی حجت
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَا ٲَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ
سلام ہو آپ پر اے مومنوں کے سردار
ٲَشْھَدُ ٲَنَّكَ جَاھَدْتَ فِی ﷲِ حَقَّ جِھَادِہٖ
میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے خدا کی راہ میں جہاد کا حق ادا کیا
وَعَمِلْتَ بِكِتَابِہٖ وَاتَّبَعْتَ سُنَنَ نَبِیِّہٖ صَلَّی ﷲُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
اس کی کتاب پر عمل کیا اور اس کے نبیؐ کی سنتوں کی پیروی کی خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آلؑ پر
حَتّٰی دَعَاكَ ﷲُ اِلٰی جِوَارِہٖ
پھر خدا نے آپ کو اپنے پاس بلا لیا
فَقَبَضَكَ اِلَیْہِ بِاخْتِیَارِہٖ
اپنے اختیار سے آپ کی جان قبض کر لی
وَٲَلْزَمَ ٲَعْدَائَكَ الْحُجَّۃَ مَعَ مَا لَكَ
اور آپ کے دشمنوں پر حجت قائم کی
مِنَ الْحُجَجِ الْبَالِغَۃِ عَلٰی جَمِیْعِ خَلْقِہٖ۔
جبکہ تمام مخلوق کے لئے آپ کے وجود میں بہت سی کامل حجتیں ہیں
اَللّٰھُمَّ فَاجْعَلْ نَفْسِیْ مُطْمَئِنَّۃً بِقَدَرِكَ
🤲🏻اے اللہ میرے نفس کو ایسا بنا کہ تیری تقدیر پر مطمئن ہو
رَاضِیَۃً بِقَضَائِكَ، مُوْلَعَۃً بِذِكْرِكَ وَدُعَائِكَ
تیرے فیصلے پر راضی و خوش رہے تیرے ذکر کا مشتاق اور دعا میں حریص ہو😭🙏🏻
مُحِبَّۃً لِصَفْوَۃِ ٲَوْلِیَائِكَ
تیرے برگزیدہ دوستوں سے محبت کرنے والا
مَحْبُوْبَۃً فِیْ ٲَرْضِكَ وَسَمَائِكَ
تیرے زمین و آسمان میں محبوب و منظور ہو
صَابِرَۃً عَلٰی نُزُوْلِ بَلَائِكَ
تیری طرف سے مصائب کی آمد پر صبر کرنے والا ہو
شَاكِرَۃً لِفَوَاضِلِ نَعْمَائِكَ
تیری بہترین نعمتوں پر شکر کرنے والا
ذَاكِرَۃً لِسَوَابِغِ اٰلَائِكَ
تیری کثیر مہربانیوں کو یاد کرنے والا ہو
مُشْتَاقَۃً اِلٰی فَرْحَۃِ لِقَائِكَ
تیری ملاقات کی خوشی کا خواہاں
مُتَزَوِّدَۃً التَّقْوٰی لِیَوْمِ جَزَائِكَ
یوم جزا کے لئے تقوی کو زاد راہ بنانے والا ہو
مُسْتَنَّۃً بِسُنَنِ ٲَوْلِیَائِكَ
تیرے دوستوں کے نقش قدم پر چلنے والا
مُفَارِقَۃً لِاَخْلَاقِ ٲَعْدَائِكَ
تیرے دشمنوں کے طور طریقوں سے متنفر و دور
مَشْغُوْلَۃً عَنِ الدُّنْیَا بِحَمْدِكَ وَثَنَائِكَ۔
🤲🏻اے خدا اور دنیا سے بچ بچا کر تیری حمد و ثناء میں مشغول رہنے والا ہو۔
پھر اپنا رخسار قبر مبارک پر رکھا اور فرمایا:
اَللّٰھُمَّ اِنَّ قُلُوْبَ الْمُخْبِتِیْنَ اِلَیْكَ وَالِھَۃٌ
اے معبود!بے شک ڈرنے والوں کے قلوب تیرے لئے بے تاب ہیں
وَسُبُلَ الرَّاغِبِیْنَ اِلَیْكَ شَارِعَۃٌ
شوق رکھنے والوں کے لئے راستے کھلے ہوئے ہیں
وَٲَعْلَامَ الْقَاصِدِیْنَ اِلَیْكَ وَاضِحَۃٌ
تیرا قصد کرنے والوں کی نشانیاں واضح ہیں
وَٲَفْئِدَۃَ الْعَارِفِیْنَ مِنْكَ فَازِعَۃٌ
معرفت رکھنے والوں کے دل تجھ سے کانپتے ہیں
وَٲَصْوَاتَ الدَّاعِیْنَ اِلَیْكَ صَاعِدَۃٌ
تیری بارگاہ میں دعا کرنے والوں کی آوازیں بلند ہیں
وَٲَبْوَابَ الْاِجَابَۃِ لَھُمْ مُفَتَّحَۃٌ
اور ان کے لئے دعا کی قبولیت کے دروازے کھلے ہیں
وَدَعْوَۃَ مَنْ نَاجَاكَ مُسْتَجَابَۃٌ
تجھ سے راز و نیاز کرنے والوں کی دعا قبول ہے😭🙏🏻
وَتَوْبَۃَ مَنْ ٲَنَابَ اِلَیْكَ مَقْبُوْلَۃٌ
جو تیری طرف پلٹ آئے اس کی توبہ منظور و مقبول ہے
وَعَبْرَۃَ مَنْ بَكٰی مِنْ خَوْفِكَ مَرْحُوْمَۃٌ
تیرے خوف میں رونے والے کے آنسوؤں پر رحمت ہوتی ہے
وَالْاِغَاثَۃَ لِمَنِ اسْتَغَاثَ بِكَ مَوْجُوْدَۃٌ
جو تجھ سے فریاد کرے اس کے لئے داد رسی موجود ہے
وَالْاِعَانَۃَ لِمَنِ اسْتَعَانَ بِكَ مَبْذُوْلَۃٌ
جو تجھ سے مدد طلب کرے اس کو مدد ملتی ہے
وَعِدَاتِكَ لِعِبَادِكَ مُنْجَزَۃٌ
اپنے بندوں سے کیے گئے تیرے وعدے پورے ہوتے ہیں
وَزَلَلَ مَنِ اسْتَقَالَكَ مُقَالَۃٌ
تیرے ہاں عذر خواہوں کی خطائیں معاف
وَٲَعْمَالَ الْعَامِلِیْنَ لَدَیْكَ مَحْفُوْظَۃٌ
اور عمل کرنے والوں کے اعمال محفوظ ہوتے ہیں
وَٲَرْزَاقَكَ اِلَی الْخَلَائِقِ مِنْ لَدُنْكَ نَازِلَۃٌ
مخلوقات کے لئے رزق و روزی تیری جانب سے ہی آتی ہے
وَعَوَائِدَ الْمَزِیْدِ اِلَیْھِمْ وَاصِلَۃٌ
اور ان کو مزید عطائیں حاصل ہوتی ہیں
وَذُنُوْبَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ مَغْفُوْرَۃٌ
طالبانِ بخشش کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں
وَحَوَائِجَ خَلْقِكَ عِنْدَكَ مَقْضِیَّۃٌ
ساری مخلوق کی حاجتیں تیرے ہاں سے پوری ہوتی ہیں
وَجَوَائِزَ السَّائِلِیْنَ عِنْدَكَ مُوَفَّرَۃٌ
تجھ سے سوال کرنے والوں کو بہت زیادہ ملتا ہے
وَعَوَائِدَ الْمَزِیْدِ مُتَوَاتِرَۃٌ
اور پے در پے عطائیں ہوتی ہیں
وَمَوَائِدَ الْمُسْتَطْعِمِیْنَ مُعَدَّۃٌ
کھانے والوں کیلئے دستر خوان تیار ہے
وَمَنَاھِلَ الظِّمَاءِ مُتْرَعَۃٌ۔
اور پیاسوں کی خاطر چشمے بھرے ہوئے ہیں
اَللّٰھُمَّ فَاسْتَجِبْ دُعَائِیْ، وَاقْبَلْ ثَنَائِیْ
🤲🏻اے معبود ! میری دعائیں قبول کر لے اس ثنا کو پسند فرما😭🙏🏻
وَاجْمَعْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ ٲَوْ لِیَائِیْ
مجھے میرے اولیاء کے ساتھ جمع کر دے🙏🏻
بِحَقِّ مُحَمَّدٍ وَعَلِیٍّ وَفَاطِمَۃَ وَالْحَسَنِ وَالْحُسَیْنِ
کہ واسطہ دیتا ہوں محمدؐ و علیؑ و فاطمہؑ و حسنؑ و حسینؑ کا
اِنَّكَ وَلِیُّ نَعْمَائِیْ، وَمُنْتَھٰی مُنَایَ
بے شک تو ہے مجھے نعمتیں دینے والا، میری آرزوؤں کی انتہا،
وَغَایَۃُ رَجَائِیْ فِیْ مُنْقَلَبِیْ وَمَثْوَایَ۔
دنیا و آخرت میں میری امیدوں کا مرکز۔
کامل الزیارۃ میں اس زیارت کے بعد ان جملوں کا اضافہ ہے:
ٲَنْتَ اِلٰھِیْ وَسَیِّدِیْ وَمَوْلَایَ، اغْفِرْ لِاَوْلِیَائِنَا
تو میرا معبود میرا آقا اور میرا مالک ہے ہمارے دوستوں کو معاف فرما
وَكُفَّ عَنَّا ٲَعْدَائَنَا، وَاشْغَلْھُمْ عَنْ ٲَذَانَا
دشمنوں کو ہم سے دور کر ان کو ہمیں ایذا دینے سے باز رکھ
وَٲَظْھِرْ كَلِمَۃَ الْحَقِّ وَاجْعَلْھَا الْعُلْیَا
کلمہ حق کا ظہور فرما اور اسے بلند قرار دے
وَٲَدْحِضْ كَلِمَۃَ الْبَاطِلِ وَاجْعَلْھَا السُّفْلی
🤲🏻کلمہ باطل کو دبا دے اور اس کو پست قرار دے
اِنَّكَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۔
کہ بے شک تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
اس کے بعد
﴿ امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا﴾ ہمارے شیعوں میں سے جو بھی اس زیارت اور دعا کو ضریح امیر المؤمنین علیہ السلام کے نزدیک یا ان کے جانشین ائمہ میں سے کسی مزار کے پاس پڑھے گا تو حق تعالیٰ اس کی پڑھی ہوئی اس زیارت و دعا کو ایک نورانی نوشتہ میں عالم بالا تک پہنچا کر اس پر حضرت رسولؐ کی مہر ثبت کرائے گا۔ وہ نوشتہ اسی صورت میں محفوظ رہے گا اور ظہور قائم آل محمد علیہ السلام کے وقت ان کے حوالے کر دیا جائے گا۔ آنجناب علیہ السلام جنت کی بشارت، سلام خاص اور عزت کے ساتھ اس کا استقبال فرمائیں گے انشاء اللہ۔
مؤلف کہتے ہیں کہ یہ باشرف زیارت زیاراتِ مطلقہ میں بھی شمار ہوتی ہے اور روز غدیر کی زیارات مخصوصہ میں بھی شمار ہوتی ہے۔ نیز یہ زیارت جامعہ کے طور پر بھی معروف ہے کہ جو سبھی ائمہ کے مزارات پر پڑھی جاتی ہے۔
📒مفاتیح الجنان مع اردو ترجمہ
التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
شہر بانو ✍
اللھم عجل لولیک الفرج والعا فیتہ والنصر 🤲🏻✨
10: شب قدر کی راتوں میں یہ دعائیں پڑھے :
۔ یہ دعا پڑھے:
(اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلى ما وَهَبْتَ لِي مِنْ انْطِواءِ ما طَوَيْتَ مِنْ شَهْرِي، وَانَّكَ لَمْ تُجِنْ فِيهِ أَجَلِي، وَلَمْ تَقْطَعْ عُمْرِي، وَلَمْ تُبِلْنِي بِمَرَضٍ يَضْطَرُّنِي إِلى تَرْكِ الصِّيامِ، وَلا بِسَفَرٍ يَحِلُّ لِي فِيهِ الإفْطارُ، فَأَنَا أَصُومُهُ فِي كِفايَتِكَ وَوِقايَتِكَ، أطِيعُ أَمْرَكَ، وَاقْتاتُ رِزْقَكَ، وَأرْجُو وَأؤَمِّلُ تَجاوُزَكَ.فَأَتْمِمِ اللَّهُمَّ عَلَيَّ فِي ذلِكَ نِعْمَتَكَ، وَاجْزِلْ بِهِ مِنَّتَكَ،وَاسْلَخْهُ عَنِّي بِكَمالِ الصِّيامِ وَتَمْحِيصِ الاثامِ، وَبَلِّغْنِي آخِرَهُ بِخاتِمَةِ خَيْرٍ وَخَيْرَهُ، يا أَجْوَدَالْمَسْؤُولِينَ، وَيا أَسْمَحَ الْواهِبِينَ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ الطَّاهِرِينَ۔
۔اس دعا کو بھی پڑھے:
(يا ذَا الَّذِي كانَ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ، ثُمَّ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ، ثُمَّ يَبْقى وَيَفْنى كُلُّ شَيْءٍ، يا ذَا الَّذِي لَيْسَ فِي السَّمواتِ الْعُلى وَلا فِي الْأَرَضِينَ السُّفْلى، وَلا فَوْقَهُنَّ وَلا بَيْنَهُنَّ وَلا تَحْتَهُنَّ إِلهٌ يُعْبَدُ غَيْرُهُ، لَكَ الْحَمْدُ حَمْدا لا يَقْدِرُ عَلى إِحْصائِهِ إِلّا أَنْتَ، فَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، صَلاةً لا يَقْدِرُ عَلى إِحْصائِها إِلّا أَنْتَ). 5۔ اس دعا کو بھی پڑھے: (اللَّهُمَّ اجْعَلْ فِيما تَقْضِي وَتُقَدِّرُ مِنَ الْأَمْرِ الْمَحْتُومِ وَفِيما تَفْرُقُ مِنَ الْأَمْرِ الْحَكِيمِ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَفِي الْقَضاءِ الَّذِي لا يُرَدُّ وَلا يُبَدَّلُ، أَنْ تَكْتُبَنِي مِنْ حُجّاجِ بَيْتِكَ الْحَرامِ، الْمَبْرُورِ حَجُّهُمْ، الْمَشْكُورِ سَعْيُهُمْ، الْمَغْفُورِ ذُنُوبُهُمْ، الْمُكَفَّرِ عَنْهُمْ سَيِّئَاتُهُمْ، وَاجْعَلْ فِيما تَقْضِي وَتُقَدِّرُ أَنْ تَطِيلَ عُمْرِي، وَتُوَسِّعَ عَلَيَّ فِي رِزْقِي، وَتَفْعَلَ بِي كَذا وَكَذا).
۔اس دعا کو بھی پڑھے
اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَمْسَیْتُ لَکَ عَبْداً داخِراً لاَ أَمْلِکُ لِنَفْسِی نَفْعاً وَلا ضَرّاً وَلا أَصْرِفُ عَنْہا سُوءً أَشْھَدُ بِذلِکَ عَلَی نَفْسِی وَأَعْتَرِفُ لَکَ بِضَعْفِ قُوَّتِی وَقِلَّةِ حِیلَتِی فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَ نْجِزْ لِی مَا وَعَدْتَنِی وَجَمِیعَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ مِنَ الْمَغْفِرَةِ فِی ہذِہِ اللَّیْلَةِ وَأَتْمِمْ عَلَیَّ مَا آتَیْتَنِی فَإِنِّی عَبْدُکَ الْمِسکِینُ الْمُسْتَکِینُ الضَّعِیفُ الْفَقِیرُ الْمَھِینُ اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلْنِی ناسِیاً لِذِکْرِکَ فِیما أَوْلَیْتَنِی وَلا غافِلاً لاِِِحْسانِکَ فِیما أَعْطَیْتَنِی وَلاَ آیِساً مِنْ إِجابَتِکَ وَإِنْ أَبْطَأَتْ عَنِّی فِی سَرَّاءَ أَوْ ضَرَّاءَ أَوْ شِدَّةٍ أَوْ رَخاءٍ أَوْ عافِیَةٍ أَوْ بَلاءٍ أَوْ بُؤْسٍ أَوْ نَعْماءَ إِنَّکَ سَمِیعُ الدُّعاءِ
شیخ کفعمی سے روایت ہے کہ امام زین العابدین (ع)اس دعا کو تینوں شب قدر میں قیام و قعود اور رکوع سجود کی حالت میں پڑھتے تھے۔
علامہ مجلسی(علیہ الرحمہ) فرماتے ہیں کہ ان راتوں کا بہترین عمل یہ ہے کہ اپنی بخشش کی دعا کرے ، اپنے والدین، اقرباء اور زندہ ومردہ مومنین کی دنیا وآخرت کے لیے دعا مانگے ۔
اَللّٰھُمَّ إِنِّی أَمْسَیْتُ لَکَ عَبْداً داخِراً لاَ أَمْلِکُ لِنَفْسِی نَفْعاً وَلا ضَرّاً وَلا أَصْرِفُ عَنْہا سُوءً أَشْھَدُ بِذلِکَ عَلَی نَفْسِی وَأَعْتَرِفُ لَکَ بِضَعْفِ قُوَّتِی وَقِلَّةِ حِیلَتِی فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَأَ نْجِزْ لِی مَا وَعَدْتَنِی وَجَمِیعَ الْمُؤْمِنِینَ وَالْمُؤْمِناتِ مِنَ الْمَغْفِرَةِ فِی ہذِہِ اللَّیْلَةِ وَأَتْمِمْ عَلَیَّ مَا آتَیْتَنِی فَإِنِّی عَبْدُکَ الْمِسکِینُ الْمُسْتَکِینُ الضَّعِیفُ الْفَقِیرُ الْمَھِینُ اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلْنِی ناسِیاً لِذِکْرِکَ فِیما أَوْلَیْتَنِی وَلا غافِلاً لاِِِحْسانِکَ فِیما أَعْطَیْتَنِی وَلاَ آیِساً مِنْ إِجابَتِکَ وَإِنْ أَبْطَأَتْ عَنِّی فِی سَرَّاءَ أَوْ ضَرَّاءَ أَوْ شِدَّةٍ أَوْ رَخاءٍ أَوْ عافِیَةٍ أَوْ بَلاءٍ أَوْ بُؤْسٍ أَوْ نَعْماءَ إِنَّکَ سَمِیعُ الدُّعاءِ
شیخ کفعمی سے روایت ہے کہ امام زین العابدین (ع)اس دعا کو تینوں شب قدر میں قیام و قعود اور رکوع سجود کی حالت میں پڑھتے تھے۔
علامہ مجلسی(علیہ الرحمہ) فرماتے ہیں کہ ان راتوں کا بہترین عمل یہ ہے کہ اپنی بخشش کی دعا کرے ، اپنے والدین، اقرباء اور زندہ ومردہ مومنین کی دنیا وآخرت کے لیے دعا مانگے ۔
اور جس قدر ممکن ہومحمدوآل محمد(ع)پر صلوات بھیجے اور بعض روایات میں ہے کہ شب قدر کی تینوں راتوں میں دعائے جوشن کبیر پڑھے
روایت میں آیاہے کہ کسی نے رسول الله صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کیا کہ اگر مجھے شب قدر کا موقع ملے تو میں خدا سے کیا مانگوں؟ آپ نے فرمایا: کہ خدا سے صحت و عافیت مانگو۔
11: مجرب عمل ☝️
بسمہ اللہ الرحمن الرحیمہ🪄✒️
آیت اللہ فاطمی فرماتے ہے کہ ایک ایسا عمل جو اس رات ضرور کریں اس میں ایک ایسا راز پایا جاتا ہے کہ جسے میں کھول کر بیان نہیں کرسکتا
ایک مرتبہ سورہ واقعہ
ایک مرتبہ سورہ اخلاص
اس کے بعد سات مرتبہ کہے یااللہ
جو چاھئے اللہ تعالیٰ سے طلب کریں بہت مجرب ہے
اللھم عجل لولیک الفرج 💐
Comments
Post a Comment