👈عید غدیر ( نظم)

  بزم ہستی میں جلال کبریائی ہے غدیر


بہر امت امر حق کی رو نمائی ہے غدیر



اے مسلماں دیکھ یہ دولت کہیں گم هونہ جائے


مصطفےٰ کی زندگی بھر کی کمائی ہے غدیر



دامن تاریخ میں انساں کی دولت ہے غدیر


بیکسوں کی شان کمزوروں کی طاقت ہے غدیر



اک ذرا سا ذکر آیا اور چہرے فق ہوئے


دشمنوں کے واسطے روز قیامت ہے غدیر



عظمت دین الٰہی کا منارہ ہے غدیردو


 پہر میں جو تھا روشن وہ ستارہ ہے غدیر



Comments

Popular posts from this blog

 👈 دعائے کمیل (مفاتیح الجنان مع اردو ترجمہ)

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ

ماہِ صفر میں پیش آنے والے اہم واقعات اور مناسبتیں: