👈 ماہ رمضان المبارک کے نویں دن کی دعا مع اردو ترجمہ و مختصر تشریح

 


ماہ رمضان المبارک کے نویں دن کی دعا مع اردو ترجمہ و مختصر تشریح

 منتخب پیغام:️خدائے متعال دو رحمت کا مالک ہے: 1-  عام اور مطلق رحمت ؛کہ جو بہت وسیع ہےاور تمام موجودات کو اپنے دائرۂ اختیار میں سمیٹے ہےچاہے مؤمن ہو یا کافر،اچھا ہو یا برا «وَ رَحْمَتی وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ؛ اور میری رحمت (کا یہ حال ہے کہ وہ) ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے [6]» «رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَ عِلْماً؛اے ہمارے پروردگار تو اپنی رحمت اور اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔» اس بیکراں رحمت کے بالمقابل کسی طرح کا کوئی غیظ و غضب نہیں ہے۔

 
ماہ رمضان المبارک کے نویں دن کی دعا

أَللّهُمَّ اجْعَلْ لى فيهِ نَصيباً مِنْ رَحْمَتِكَ الْواسِعَةِ وَ اهْـدِنى فـيهِ لِبَراهيـنِكَ السّـاطِـعَةِ وَ خُذْ بِناصِيَتى اِلى مَرْضاتِكَ الْجامِعَةِ بِمَحَبَّـتِكَ يا أَمَـلَ الْمُشْـتاقينَ۔


ماہ رمضان المبارک کے نویں دن کی دعا کا ترجمہ 

ترجمہ: اے معبود! آج کے دن میرے لئے اپنی وسیع رحمت میں سے، ایک حصہ قرار دے، اور اپنے تابندہ برہانوں سے میری راہنمائی فرما، اور جہاں کہیں بھی تیری رضااور خوشنودی ہو،میرا رُخ اسی جانب موڑ دے، تجھے تیری محبت کا واسطہ، اے مشتاقوں کی آرزو۔

اہم کلمات
اس دعا میں تین بنیادی باتوں کی جانب اشارہ کیا گیا ہے:
 (1)پروردگار کی وسیع رحمتدز
(2)خدا کے دلائل و براہین
(3)خدا کی رضا میں قدم آگے بڑھانا۔

دعائیہ فِقرات کی مختصر تشریح

۱– أَللّهُمَّ اجْعَلْ لى فيهِ نَصيباً مِنْ رَحْمَتِكَ الْواسِعَةِ:
خدا کی رحمت کے سلسلہ میں گفتگو بہت زیادہ ہے لہٰذا اس سے قطع نظر کرتے ہوئے رحمت کے چند زاویوں کوذکر کرتے ہیں:امام سجاد علیہ السلام سے عرض کیا گیاکہ حسن بصری کہتا ہے:" اس شخص پر تعجب ہے جو گمراہی کے کثیر اسباب کے باوجود نجات کا راستہ اپنا لیتا ہے؛
امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: میں یوں کہتا ہوں کہ: "لَیْسَ الْعَجَبُ مِمَّنْ نَجَى کَیْفَ نَجَى، وَ اِنَّما الْعَجَبُ مِمَّنْ هَلَکَ کَیْفَ هَلَکَ مَعَ سِعَةِ رَحْمَةِ اللهِ؟!" اس شخص پر تعجب نہیں جو نجات کا راستہ اپناتا ہے، بلکہ اس شخص پر تعجب ہے کہ اللہ تعالی کی بے پناہ رحمتوں کے باوجود گمراہی کے راستے کو پکڑ لیتا ہے[1]۔ ۔۔۔ مثبت زاویۂ دید رکھنے والے انسان کو رحمت الٰہی کبھی مایوس نہیں کرتی۔۔۔۔ دونوں اقوال کے زاویۂ دید پر غور فرمائیں اور خود ہی کچھ نکات کشید فرمائیں۔۔۔رحمت وہی عنایت الٰہی ہے جو بندگی اور یاد خدا سے حاصل ہوتی ہے امیر المومنین Aارشاد فرماتے ہیں:ذکر و یاد خدا کے ساتھ رحمت کا نزول ہوتا ہے؛ببذل الرحمۃ تستنزل الرحمۃ[2]۔
۲– وَ اهْـدِنى فـيهِ لِبَراهيـنِكَ السّـاطِـعَةِ:
برہان کے معنی دلیل اور حجت کے ہیں، ارشاد ربانی ہے: أَمِ اِتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ آلِهَةً قُلْ هٰاتُوا بُرْهٰانَكُمْ هٰذٰا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ وَ ذِكْرُ مَنْ قَبْلِي بَلْ أَكْثَرُهُمْ لاٰ يَعْلَمُونَ اَلْحَقَّ فَهُمْ مُعْرِضُونَ؛ کیا ان لوگوں نے اس کے علاوہ اور خدا بنالئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ ذرا اپنی دلیل تو لاؤ،یہ میرے ساتھ والوں کا ذکر اور مجھ سے پہلے والوں کا ذکر سب موجود ہے لیکن ان کی اکثریت حق سے ناواقف ہے اور اسی لئے کنارہ کشی کررہی ہے[3] ۔
راغب اصفہانی نےبرہان کے معنیٰ کو قوی ترین دلیل کے طور پر جانا ہے[4]؛اور برہان ساطع بھی وہی حجت اور روشن دلیل ہےاور چونکہ یہ بذاتہ بہت قوی ہوتی ہے اس لئے اگر طرف مقابل عناد سے کام نہ لے تو سر تسلیم خم کر ہی دیگا اسی لئے تاریخ شاہد ہے کہ انبیاء ومرسلینEکےسامنے باطل کی ایک نہ چلتی تھی اسی طرح آئمۂ معصومین Eخدا کے ایسے زندۂ جاوید چمکتے دلائل و براہین تھےجوطرف مقابل کے عناد کی وجہ سےظلم و ستم کا نشانہ بنتے رہے کیونکہ طرف مقابل کے پاس کوئی چارہ ہی نہ تھا۔۔۔امام باقر Aارشاد فرماتے ہیں : برہان رسول خدصلی اللہ علیہ و آلہ ہیں [5]؛اور امیر المؤمنینA ارشاد فرماتے ہیں:رسول خدا 1سے بڑھکر محکم حجت کوئی نہیں؛ انہ لم یکن للہ سبحانہ حجۃ فی ارضہ اوکد من نبینا محمد ؛ اسی طرح امیر المؤمنینAکے وصف میں زیارت روز غدیر میں ہم پڑھتے ہیں:انت الحجۃ البالغۃ و المحجۃ الواضحہ؛ مولا آپ حجت اور روشن برہان ہیں۔۔۔دلائل و براہین کو قبول نہ کرنے کے متعدد اسباب ہوسکتے ہیں جیسے: دنیا طلبی، ریاست طلبی،خود خواہی،حجاب نفس۔۔۔

۳– وَ خُذْ بِناصِيَتى اِلى مَرْضاتِكَ الْجامِعَةِ:
یہاں اس جملہ میں ایک توفیق اجباری مقصود ہے؛لیکن اسکے معنی ہرگز یہ نہیں ہیں خدا کسی کو اپنی بندگی کے لئے مجبور کرتا ہے، بلکہ دعا کے ذریعہ ہم جو خود درخواست کررہے ہیں کہ ہمیں اپنی مرضی کا مالک نہ بننے دینا کہ بلا سوچے سمجھے جس طرف چاہیں منھ اٹھائے چل پڑیں۔۔۔ کیونکہ ہم تو نادان ہیں ہمیں کیا سمجھ ۔۔ہم تو بس جب چڑیا کھیت چُگ جاتی ہے تو بیٹھے کف افسوس ملنے والے افراد ہیں ہماری سرشت ہماری فطرت لغزشوں والی ہے اس لئے خدایا یہ تیرا لطف رہیگا اگر تو ہمیں بھٹکنے نہ دےپھسلنے نہ دے بہکنے نہ دے۔۔۔۔بچپن میں بزرگوں کی تنبیہ گرچہ بری لگتی ہے لیکن وہی آگے چل کر زہرآلود زندگی کے لئے تریاق کا کام کرتی ہے۔۔۔درحقیقت اس دعا کے ذریعہ ہم خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمیں اچھائی اور بھلائی کا زمینہ فراہم کردےتاکہ ہمیشہ ایسے کام میں مشغول رہیں جو ہر طرح سے اسکی خوشنودی کا سبب بنا رہے۔

۴– بِمَحَبَّـتِكَ يا أَمَـلَ الْمُشْـتاقينَ:
جس طرح ایک گاڑی کو ایک شہر سے دوسرے شہر تک پہنچنے کے لئے اسکے غذائی مواد کی فراہمی کی ضرورت پڑتی ہی ویسے ہی شہر گناہ سے اے خدا تیری بارگاہ تک پہنچنے کے لئے مجھے تیری محبت درکارہے ، اے!!!!!

نتائج

دعا کا پیغام :
1- خدا کی رحمت واسعہ سے فائدہ اٹھانے کی درخواست؛
2- خدا کے واضح اور روشن دلائل براہین کی جانب رہنمائی؛
3۔- خدا کی خشنودی حاصل کرنے والی چیزوں کی جانب قدم آگے بڑھانا؛4- بندوں کی بہ نسبت خدا کی دوستی و محبت۔

منتخب پیغام:️خدائے متعال دو رحمت کا مالک ہے: 1- عام اور مطلق رحمت ؛کہ جو بہت وسیع ہےاور تمام موجودات کو اپنے دائرۂ اختیار میں سمیٹے ہےچاہے مؤمن ہو یا کافر،اچھا ہو یا برا «وَ رَحْمَتی وَسِعَتْ کُلَّ شَیْءٍ؛ اور میری رحمت (کا یہ حال ہے کہ وہ) ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے [6]» «رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَةً وَ عِلْماً؛اے ہمارے پروردگار تو اپنی رحمت اور اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے[7]۔» اس بیکراں رحمت کے بالمقابل کسی طرح کا کوئی غیظ و غضب نہیں ہے۔
2- خاص رحمت: اس قسم کی رحمت ایک خاص طرح کے غیظ و غضب کے بالمقابل ہےاور جو صرف اہل ایمان اور نیک افراد سے مخصوص ہےجس سے کافر اور منافق بے بہرہ ہیں:«إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ؛ بے شک اللہ کی رحمت نیکوکاروں سے قریب ہے۔[8]» «وَ کانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيم؛ اور وہ اہلِ ایمان پر بڑا رحم کرنے والا ہے۔[9]» دعائے كميل میں ہم پڑھتے ہیں: «بِرَحْمَتِكَ الَّتی وَسِعَتْ كُلُّ شَیء»اور دعائے ابوحمزہ ثمالی میں بھی ہم کہتے ہیں: «اَيْنَ رَحْمَتَكَ الْواسِعَة»۔

[1]– سفینة البحار، جلد 1، صفحه 517

[2]– عیون الحکم والمواعظ ص190

[3] – الأنبياء، 24

[4]– المفردات فی غریب القرآن،ص45، مادہ 'برہ'

[5]– مستدرک سفینۃالبحار، ج1 ص347

[6]– اعراف‌،آیۀ ۱۵۶

[7]– غافر، آیۀ ۷.

[8]– اعراف‌،آیۀ ۵۶.

[9]– احزاب‌، آیۀ ۴۳

 


2nd


ماہ رمضان کے نویں دن کی دعا 

خلاصہ

خدا اس پر رحم کرتا ہے جو مخلوق پر رحم کرتا ہے

 ارحم ترحم 

یعنی تم رحم کرو خدا تم پر رحم کرے گا

انسان قبر میں بھی اللہ سے رحم مانگے گا

انسان کو اپنے سے چھوٹوں پر رحم کرنا چاہئیے گھر ہو یا کاروبار حتی کہ نجس جانور ہر بھی رحم کرنا چاہئیے

جیسا ایک شخص نے نجس جانور اور اس کے بچوں پر رحم کیا اور اپنے کھانے کو اس جانور کو دیا اس نیکی کا صلہ یہ ملا کہ اسے امام سجاد ع خواب میں آکر بتاتے ہیں کہ ایک شخص جو تمہیں شہر دینا چاہ رہا تھا اس کا ارادہ بدل گیا یہ بلا  اس نیک عمل کی وجہ سے دور ہوئ

ہمیں ماہ رمضان میں ایسے گھرانے ڈھونڈ نے چاہئیں جو مانگتے نہیں سفید پوش ہیں

ائمہ ع ان لوگوں کو مال پہنچاتے تھے جو خاموشی سے زندگی گذار رہے ہوتے ہیں

خدا کو یہ بہت پسند ہے

انسان اللہ سے ہدایت مانگتا ہے 

اور خدا انسان کو ہدایت دیتا ہے اور اس کتاب کی طرف لے جاتا ہے

اور انسان کہتا پروردگار بس تو مجھے پکڑ لے تیری رضا جہاں ہے مجھے وہاں لےجا 

اس کی شرط یہ ہے مال حلال ہو 

بس خدا اس کے امور اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے 

اگر کسی کا دل دکھایا ہے تو اس کو راضی کرو خدا راوی ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اگر کسی کو ناراض کردیا چاہے گھر والے ہوں تو چاہے جتنی عبادت کرلو خدا راوی نہیں ہوگا

اللہ کی رضا اس کی مخلوق سے محبت اور اس کی رضا ہے

بس پروردگار ہماری حاجات کو اپنی بارگاہ میں مقبول فرما

الہی آمین🤲

شہر بانو 


3rd



 
دعائیں
نویں روز کی دعا
کرو مہربانی تم اہل زمین پر
خدا مہربان ہو گا عرش بریں پر
بحثیت انسان ہمیں سب کے ساتھ رحم والا سلوک کرنا چاہیے
حیوانات کے ساتھ بھی
ھل جزا ء الاحسان الا الاحسان
احسان کا بدلہ احسان اور
نیکی کا بدلہ نیکی ہے
ہمیں راہ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمین


 

Comments

Popular posts from this blog

 👈 دعائے کمیل (مفاتیح الجنان مع اردو ترجمہ)

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ

ماہِ صفر میں پیش آنے والے اہم واقعات اور مناسبتیں: