👈 07 شعبان ولادت شہزادہ علی قاسم علیہ السلام 🙏
اسلام علیکم یا امیر قاسم علیہ السلام 🙏
👈 09 شعبان ولادت شہزادہ علی قاسم علیہ السلام کی آمد کے پر مسرت موقع پر تمام مئومنین و مئومنات، علماء و زعماء، مراجع عظام، ولی فقیہ آیت اللہ خامنہ ای، اور بالخصوص حجت پروردگار امید مظلومین جہاں یوسف زہرا حضرت امام حجت ابن الحسن العسکری علیہم السلام کی خدمت میں تبریک و تہنیت عرض کرتی ہوں ⚘⚘*🎂🌹
التماس دعا ظہور امام زمانہ عج علیہ السّلام 🤲🏻
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
🌸🍃🌸🍃🌸
آمدِ مولا قاسمؐ پر یا غازیؐ بلالیں کرب و بلا
مل کر ہم شبیرؐ کے سنگ منائیں گے جشن امیرؐ کا
التماس دعا شھادت
7 شعبان المعظم ولادت با سعادت شہزادہ قاسم ابن الحسن علیہ السلام کے پُر مسرت موقع پر آئمہ اہلبیت علیہم السلام بالخصوص امام وقت حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور آپ سب کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں۔ پروردگار سے دعا ہے شہزادہ قاسم ع کے توسّل سے ہمارے جوانوں کو تقویٰ اور خدا کی راہ میں استقامت نصیب ہو! 🤲 💛🎊🌸🎊🌸🎊🩷
سلام و دعا🤲
شہزادہ قاسم علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے دن اہلبیت علیہم اور بالخصوص امام زمانہ عج کی خدمت میں مبارک باد عرض ہے اور تمام مومنین کی خدمت میں مبارک باد پیش کرتے ہیں🪻
قاسمؑ حسنؑ کے نور کا بھی نورِعین ہے
فروہؑ کا لاڈلا ہے تو زینبؑ کا چین ہے
لڑنے میں ہے عباسؑ تو چلنے میں علیؑ ہے
کردار محمدؐ سا، حُسن میں حسینؑ ہے
#7شعبان جشن ولادت شہزادہ قاسم۴ مبارک
🥰💐🌸🪷🪻🌹
*💐7 شعبان شبِ ولادت باسعادت دِل تسکین امام حسنِ المُجتبٰی و گُل حضرت اُم فروا علیہ سلام حضرت شھزادہ قاسم اِبن امام حسن علیہ سلام آپ تمام مومنین و مومنات کو بلخصوص امام زمانہ عج کو بہت بہت مبارک ہو😍🥳❣️*
🌹 ولادت باسعادت شہزادہ قاسمؑ 🌹
قاسمؑ کربلا کا عجب انتخاب ہے
طفلی میں بھی حسنؑ کا مکمل شباب ہے
قاسمؑ کربلا میں وہ جوہر دکھا گئے
بھگوڑوں کی اولادوں کو علیؑ یاد آگئے
شہزادہ قاسمؑ نے آنکھ کھولی ولی خدا حسن مجتبیٰؑ کی گود میں، امام نے نام رکھا "قاسمؑ" پرورش پائی ہادی برحق امام معصوم امام حسینؑ کی آغوش مبارک میں، فنون جنگ کی تعلیم ملی اشجع عرب قمر بنی ہاشم حضرت عباسؑ ابن علیؑ سے۔
حضرت قاسمؑ ابن امام حسن علیہ السلام نے جس ماحول میں پرورش پائی وہ خدا پرستی کا ماحول تھا- جہاں شب و روز خدا پرستی کا درس ہوتا تھا۔ وحی قرآن کا مفہوم بیان ہوتا تھا۔ اخلاق حسنہ اور اعمال صالح کی تعلیم دی جاتی تھی۔ بچپن میں پھوپهی زینبؑ اور دادی زہرا سلام الله علیھا کا خطبہ فدک سناسنا تھا جو شہزادہ قاسم علیہ السلام کو پورا یاد تھا۔ حسینؑ ابن علیؑ سے حضرت ابو طالب علیہ السلام کے اشعار سنتے تو حافظے میں محفوظ رہ جاتے۔ کمسنی سے قران حفظ تھا۔ مسجد نبوی میں جب قرآن کی تلاوت فرماتے تو لوگ آپ کی پرسوز تلاوت، لحن داؤدی سے مشتاق ہو کر مسجد میں جمع ہو جاتے۔
محمد و آل محمد علیھم السلام کی شجاعت کی جیتی جاگتی تصویر شہزادہ قاسمؑ وہ عظیم کمسن مجاہد ہیں جو میدانِ کربلا میں اہلبیتؑ کے جوانوں کی چند شہادتوں کے بعد جہاد کے قصد سے میدان میں اس عالم میں وارد ہوئے کہ آپؑ کا چہرہ چاند کی مانند چمک رہا تھا، زرّہ کی بجائے عربی لباس زیب تن کر رکھا تھا، پائے مبارک میں نعلین اور ہاتھ میں تلوار تھی۔ آپؑ کا زرّہ نہ پہننا اپنے جدِ بزرگوار حضرت علیؑ ابن ابی طالبؑ کی تاسی میں تھا جو ایک جنگ میں معمولی قمیض پہن کر دشمن پر حملہ آور ہوئے تو ایک سوال کے جواب میں اپنے بڑے فرزند حسن مجتبیٰؑ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ بیٹا حسنؑ تیرے بابا علیؑ کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ موت مجھ پر آپڑے یا میں موت پر جا پڑوں، مجھے موت سے اسی طرح محبت ہے جس طرح بچے کو ماں کے دودھ سے ہوتی ہے۔
پس شہزادہ قاسمؐ کی ولادت کے وقت جتنا بدن مولا امام حسنؐ کے ہاتھوں پہ تھا۔ اتنا ہی مولا امام حسینؑ عاشور کے روز خیام میں گٹھڑی میں لے کر آئے۔
لاکھوں درود و صلوات مولا امام حسنؑ کے اس 13 سالہ شہزادے پر۔
قاسم بن حسنؑ (شہادت: سنہ 61 ھ)، امام حسن مجتبٰیؑ کے فرزند ہیں جو کربلا میں شہید ہوئے۔ آپؑ نے شب عاشور امام حسینؑ کے موت سے متعلق سوال کے جواب میں موت کو شہد سے میٹھا قرار دیا۔ مجالس عزا میں میدان کربلا میں امام حسینؑ کی بیٹی سے آپ کی شادی کا ذکر کیا جاتا ہے۔ محققین اس موضوع کے متعلق شک کا اظہار کرتے ہیں اور بعض اسے صحیح نہیں مانتے ہیں۔ پاکستان و ھندوستان میں عام طور پر سات محرم اور ایران میں عام طور پر چھ محرم قاسمؑ بن حسنؑ کی شہادت کا ذکر ہوتا ہے۔
تعارف
آپؑ کی تاریخ ولادت کتب میں مذکور نہیں ہے۔ مقتل خوارزمی میں نقل ہوا ہے کہ آپ سن بلوغ تک نہیں پہچے تھے۔[1] لباب الانساب میں بیہقی نے شہادت کے وقت آپ کی عمر 16 سال ذکر کی ہے۔[2]
شیخ مفید نے مادر قاسمؑ بن حسنؑ، عبدالله بن حسن و عمرو بن حسن کو کنیز ذکر کیا ہے۔[3] مقاتل الطالبین کے مطابق قاسمؑ بن حسنؑ اور ابوبکر بن حسنؑ کی والدہ ایک ہی ہیں۔[4]
واقعہ کربلا میں
شب عاشور سنہ 61 ھ، جس وقت امام حسینؑ نے اپنے اصحاب کو یہ خبر دی کہ کل سب شہید ہو جائیں گے تو قاسمؑ بن حسنؑ نے امامؑ سے سوال کیا کہ کیا مجھے بھی شہادت نصیب ہوگی؟ امام حسینؑ نے قاسم سے پوچھا: موت تمہارے نزدیک کیسی ہے؟ قاسمؑ نے جواب دیا: موت میرے لئے شہد سے زیادہ شیریں ہیں۔[5]
روز عاشورا قاسمؑ امام حسینؑ کی خدمت میں آئے اور دشمنوں سے جنگ کی اجازت طلب کی۔ امامؑ نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا اور کچھ دیر گریہ کیا۔ قاسمؑ اصرار کرتے رہے اور امام کے ہاتھوں کا بوسہ لیتے رہے یہاں تک کہ امام نے انہیں اجازت دے دی۔ قاسمؑ اس حالت میں کہ ان کی آنکھوں سے اشک جاری تھے، میدان کا رخ کرتے ہیں اور اس طرح رجز پڑھتے ہیں:
اگر مجھے نہیں پہچانتے تو میں حسن مجتبٰیؑ کا فرزند ہوں، جو نواسہ رسول مصطفٰی و امینؑ ہیں۔
یہ حسینؑ اغوا شدہ کی طرح اسیر ہیں، ایسے لوگوں کے درمیان کہ خدا انہیں آب باران سے سیراب نہ کرے۔[6]
شہادت
ابو الفرج اصفہانی نے قاسم بن حسنؑ کے قاتل کا نام عمرو بن سعید نفیل ازدی نقل کیا ہے۔[7] ابومخنف کی روایت کے مطابق جو انہوں نے حمید بن مسلم سے نقل کی ہے: حمید ابن مسلم ازدی (مؤرخ کربلا) کا بیان ہے کہ میں نے ایک ایسے نوجوان کو میدان کارزار کی طرف آتے دیکھا جس کا چہرہ چودہویں کے چاند کی مانند چمک رہا تھا، اس کے ہاتھ میں تلوار تھی، اس نے ایک بلند پیراہن پہنا ہوا تھا، وہ میدان میں داخل ہوا اور اپنے نعلین کا تسمہ باندھنے کے لئے رک گیا۔ اسے بہت سے لوگوں نے گھیرا ہوا تھا مگر اسے پرواہ نہیں تھی۔ اسی وقت عمر بن سعید بن نفیل ازدی نے حمید سے کہا: میں اس پر سخت حملہ کروں گا۔ حمید کہتا ہے: میں اس سے کہا جو لوگ اسے گھیرے ہوئے ہیں وہ اس کے لئے کافی ہیں۔ حمید کہتا ہے کہ خدا کی قسم اگر وہ میرے اوپر حملہ کرے تو میں اس کی طرف ہاتھ نہیں اٹھاوں گا۔ ابن نفیل ازدی کہتا ہے: لیکن میں اس نوجوان پر سخت حملہ کروں گا۔ قاسم جنگ میں مشغول ہوگئے اور ابن نفیل ازدی نے کمین سے ان کے سر پر حملہ کیا اور قاسم کا سر شگافتہ ہوگیا۔[8] قاسم منہ کے بل زمین پر گر گئے اور آواز دی: یا عمّاه! (اے میرے چچا) حسینؑ ایک باز کی مانند جو بڑی تیزی سے شکار کو دیکھ کر آسمان کی بلندیوں کو چھوڑ کر نیچے جھپٹتا ہے، اس کی طرف لپکے اور آپ نے ایک بپھرے ہوئے غضبناک شیر کی مانند حملہ کیا ۔۔۔۔ آپ نے قاسم بن حسن کا لاشہ سینے سے لگا کر اٹھایا۔ امامؑ نے اس کے لاشے کو بنی ہاشم[9] کے دیگر شہدا کے اور اپنے بیٹے علی اکبر کے پاس لٹا دیا۔[10]
شادی
عشرۂ محرم الحرام میں پڑھے جانے والے واقعات میں سے ایک قاسمؑ بن حسنؑ کی امام حسینؑ کی بیٹی سے شادی ہے۔ بعض محققین اس واقعہ کے صحیح ہونے میں تردید کرتے ہیں اور بعض اسے صحیح نہیں مانتے ہیں۔ شہید مرتضٰی مطہری کے مطابق، ان امور میں سے جو قدیم الایام سے ہماری عزاداری اور مجالس کا حصہ ہیں، ان میں سے ایک جناب قاسمؑ کی شادی ہے۔ جبکہ یہ واقعہ ہماری کسی بھی معتبر تاریخی کتاب میں موجود نہیں ہے۔ وہ محدث نوری سے نقل کرتے ہیں کہ سب سے پہلے اس واقعہ کو اپنی کتاب میں نقل کرتے والے ملا حسین کاشفی ہیں۔ جنہوں نے اسے اپنی کتاب روضۃ الشہداء میں نقل کیا ہے۔ جبکہ اصل واقعہ سو فیصدی چھوٹ ہے۔[11]
📚 حوالہ جات
1۔ خوارمی، مقتل الخوارزمی، ۱۴۱۸ق، ج۲، ص۳۱.
2۔ بیہقی، لباب الانساب، ج1 ص 401
3۔ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۶ق، ج۲، ص۲۰.
4۔ ابو الفرج اصفهانی، مقاتل الطالبیین، ۱۴۱۶ق، ص۹۲.
5۔ مطهری، مجموعہ آثار، ۱۳۷۷ش، ج۱۷، ص۸۱-۸۲.
6۔ مجلسی، بحار الأنوار، بیروت، ج۴۵، ص۳۴.
7۔ ابو الفرج اصفهانی، مقاتل الطالبیین، ۱۴۱۶ق، ص۹۳.
8۔ وقعة الطف، ص۲۴۴.
9۔ سید بن طاووس، اللهوف، ۱۴۱۴ق، ص۶۸–۶۹.
10۔ ابو الفرج اصفهانی، مقاتل الطالبیین، ۱۴۱۶ق، ص۹۳.
11۔ مطهری، مجموعہ آثار، ۱۳۷۷ش، ج۱۷، ص۷۷.
التماس دعا ظہور وفلسطین 🤲🏻🙏😭 💔
اللھم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجھم
شہر بانو ✍
Comments
Post a Comment